عمران خان: توقعات اور خدشات ۔۔۔۔۔ مبارک انجم

0
  • 20
    Shares

عمران خان کا اگر کھیل ریکارڈ دیکھا جائے تو اس میں ایک آدھ بال ٹیمپرنگ اور ایک آدھ ہی منشیات سکینڈل ضرور موجود ہے، مگر سیاست میں اسکی بائیس سالہ ریاضت کو دیکھتے ہوئے پورے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ الیکشن میں کسی بھی طرح کی دھاندلی میں عمران خان کا نہ تو ہاتھ ہے او نہ ہی اسکی خواہش۔ سیاست میں الیکٹیبلز کہلانے والے دوسری پارٹیوں سے درآمد شدہ لوگ آگے لانا اگر چہ ایک متنازعہ عمل کہا جا سکتا ہے، مگر یہ بھی ایک سیاسی رائج طریقوں میں سے ہی ہے۔ الیکشن میں، یوں دھاندلی کرنا کھلے عام اور ڈنکے کی چوٹ پر ریزیلٹ بدلنا،  یہ مقامی امیدواروں کے بس کی بھی بات نہیں ہوتی، وہ دھاندلی ضرور کروا سکتے ہیں، مگر اتنے بڑے پیمانہ پر نہیں کہ تیس تیس ہزار ووٹوں کے فرق ڈلوا لیں اور ریزیلٹ روک کر بدلنا تو کلی طور پر ہی اس مقتدر قوت کے ہاتھ میں ہوتا ہے جو اس الیکشن گیم کی انتظامیہ ہوتے ہیں۔

یہ بظاہر نگران حکومت اور الیکشن کمیشن ہوتے ہیں مگر حقیقت میں کوئی بھی نگران حکومت یا کوئی غیر عسکری ادارہ کبھی بھی اتنا طاقت ور نہیں ھوتا کہ وہ سیاسی بڑی طاقتوں کے ساتھ گیم کر جائے، تو یقیناً پھر یہ گیم اسٹیبلشمنٹ ہی ساری دنیا میں کھیلتی ہے۔ اس بار بھی اسی مقتدر طاقت نے ڈبل گیم کھیلی ہے۔ ایک طرف تو دھاندلی کے ذریعہ سے ہارنا پسندیدہ فرد کو ایوانوں میں پہنچنے سے روک دیا گیا اور دوسری طرف اسی دھاندلی کے ذریعہ سے عمران خان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو بھی لگام دے دی گئی۔

اگر ان الیکشن میں دھاندلی نہ کی جاتی تو بھی یہ عین ممکن بلکہ طے تھا کہ عمران خان کی پارٹی الیکشن میں کافی مناسب کامیابی حاصل کرے گی اور یقیناً کرتی بھی۔ اگر بہت ہی فرق پڑتا تو بھی دس بیس سیٹوں سے زیادہ کا نہیں پڑ سکتا تھا اور یہ دس بیس سیٹیں بھی ن لیگ ہی کی نہ ہوتیں بلکہ مختلف پارٹیوں کی ہوتیں اور عمران خان پھر بھی دوسری پارٹیوں سے مل کر ایک مستحکم حکومت بنا لیتے اور کسی بھی طرح سے متنازعہ بھی نہ ہوتے اور پھر اپنی کارکردگی دکھا کر آنے والے وقت میں مزید پسندیدگی پا سکتے تھے مگر ایک مستحکم حکومت شائد اس مقتدر قوت کو بھی منظور نہیں ہے اور نہ ہی عمران خان کی اتنی مقبولیت کہ وہ پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو جیسے مقبول لیڈر بن سکیں۔

اس لئے مقتدر ظاقتوں نے سب کے ساتھ گیم کھیلا اور من مانے نتائج بھی حاصل کر لئے۔ اب ایک طرف تو دینی طبقات بھی احتجاجی تحریک میں ھونگے اور ساتھ ہی دوسرے لبرلز طبقات بھی شامل ھونگے اور مشکلات پیدا ہونگی۔ نئی حکومت کے لئے جن سے نپٹنا اسٹیبلشمنٹ اور فوج کی مدد کےبغیر عمران خان کے لئے ممکن نہ ہوگا۔ اس طرح عمران خان ہمیشہ ہی اس طاقت کا محتاج رہے گا۔

ایک صورت یہ بھی ممکن ہے کہ جو زیادہ گھمبیر ہے، یہ تو طے ہے کہ عمران خان کے چاہنے والے بھی بہت زیادہ ہیں اور اسے ایک مناسب تعداد میں تبدیلی کے لئے بہت جذباتی جنریشن کی پوری سپورٹ و حمائیت بھی حاصل ہے جو اسکی حکومت بننے کے حق کو عین درست سمجھتے ہیں اور اس پر کسی طرح کا بھی کوئی اعتراض یا احتجاج بالکل برداشت نہیں کرینگے اور اسے الیکشن جیت کر حکومت سے روکے جانے پر لازماً بھڑک اٹھیں گے۔

دوسری طرف تمام دینی جماعتوں کے لوگ اپنے قائدین کے لئے پہلے ہی بہت زیادہ جذباتی ہیں اوپر سے الیکشن کمیشن نے ریزلٹ میں ردو بدل کر کے انکو شدید غصہ بھی دلایا ہے اور اس پر بھی مزید دوبارہ گنتی کی درخواستیں رد کر کے احتجاج پر بھی مجبور کر رکھا ہے، ساتھ ہی دینی جماعتوں کے کارکن کے ذہن میں یہ بھی پہلے سے بٹھایا جاچکا ہے کہ عمران خان عالمی اسٹیبلشمنٹ اور یہودی و قادیانی ملک دشمن و اسلام دشمن لابی کا نمائندہ ہے۔ ان سب کے جھگڑے اور سڑکوں پر نکلنے سے حالات اتنے زیادہ مخدوش ہو سکتے ہیں کہ فوج کو  مداخلت کا موقع مل سکتا ہے، ایسی ساری صورتحال کو سمجھنا خود عمران خان کے لئے بھی ضروری ہے اور اسکا مناسب حل نکالنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ عمران خان اس ساری صورت حال کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں۔ یہ انکے لئے الیکشن جیتنے سے زیادہ بڑا امتحان ہے۔ دعا ہے کہ رب تعالی اس ملک پاکستان کو مزید کسی آزمائش سے دوچار نہ کرے اور حالات ملک و ملت کی بہتری والا رخ ہی اختیار کریں۔ آمین

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: