جمہوریت کا اونٹ اور دھاندلی کا کوہان —– شاہد اعوان

1
  • 58
    Shares

جمہوریت کے اونٹ پہ سواری کے شوقین شرفا، غربا اور طبقۂ زہاد کو ہر بار دھاندلی کے کوہان کی شکایت کرتے دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اس اونچی سواری کے شوق میں کجاوہ نشین ہوتے سمے کوہان کیوں نہیں دکھتا؟ اسکی بے حیا دُم پہ نظر کیوں نہیں پڑتی جو اپنے حجم کے باعث ستر پوشی سے معذور نظر آتی ہے۔ بعد میں یہ جانور جب منہہ کے بل گراتا ہے تو کوہان کو الزام دیتے ہیں اور کبھی اس کی ناموجود سیدھی کَل کو۔

اے عزیزانِ سفید پوش! اے پسرانِ خرقہ و گلیم! اے وارثانِ اشہب و اسپ! آپ کہ اونچے اونٹ کی سواری کے پست شوق میں مبتلا ہوگئے ہو تو جان رکھو کہ جب تک اونٹ کی رسی آپکے ہاتھ میں نہ ہو، اس شوق سے باز رہو یا پھر کوہان کا واویلا مت کرو۔

دھاندلی اور انتخابات اس جمہوری اونٹ کی کَلیں ہیں، انکے سیدھا ہونے پہ اصرار بے بصیرتی ہی نھیں مفلسی کی حد تک سادگی ہے، یا شاید دیوانہ کی ہشیاری کا وفور۔

بنا کسی لیپا پوتی اور مصنوعی اخلاق و اصولی ملمع کاری کے، سو باتوں کی ایک بات یہ کہ “منتخب” ہونے کا شوق ہے تو دھاندلی کرنا بھی سیکھو کہ یہ اس کارِ جہانبانی و جہاں سازی کا حصہ ہے۔ ویسے جتنا ممکن ہو آپ کوشش تو کرتے ہو مگر کہیں اصولی نقاب آڑے آتا ہے اور کہیں پُرکھوں کی تربیت۔ کبھی حلیہ حجاب بن جاتا ہے تو کبھی اپنی ہی کہی ہوئی باتیں اور مواعظ۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔

آپکی اس لاشعوری کشمکش اور شعوری خواہش کی آسانی کے لیے حل پیش کرتا ہوں۔ جتنی کوشش آپ جمہور کے ووٹ کے حصول کے لیے کرتے ہو اس سے زیادہ سعی گھاگ جمہوریوں کی دھاندلی روکنے کے لیے کرو۔ دھاندلی کرنا تو باوجود کوشش کے اپنے فطری علائق اور وجودی غرائب کے باعث آپ نھیں سیکھ پائے، روکنا تو سیکھ لو۔

دھاندلی تو ہر انتخاب میں ہوتی ہے، کم یا زیادہ، یوں ہو یا ووں، آپ کا رونا بھی مستقل، تو اسے روکنا کیوں نا سیکھ پائے آج تلک؟ اس میں تو کچھ خرچ بھی نھیں آتا۔ ہاں قوت و حکمت درکار ہے۔ اول الذکر آپکے ہاں موجود دوسری کا کال، مگر قابل حصول۔

اگلے انتخاب کے لیے ابھی سے تیاری کرلو۔ اس جمہوری اونٹ جیسی کُڈھب سواری کے لیے اپنے لاشعور میں موجود گھڑسوار کے انداز ترک کرنا ہوں گے۔ کوہان کا واویلا بند کرنا ہوگا۔ گھوڑے کی پیٹھ پہ بیٹھ کر بحر ظلمات میں دوڑنا اور اونٹ کے رنگین و منقش کجاوے میں دھنس کر ساحل سمندر کی سیر میں فرق ہوتا ہے۔ اس فرق کو جان لو، زمانے کی مان لو، فرزندی تو اختیار کرہی چکے اسکی، چلو یونہی سہی۔ کہیں تو پورے کے پورے داخل ہو جاو۔


یہ بھی ملاحظہ کیجئے:
مارکیٹنگ اور سرمایہ دارانہ جمہوریت : محمد عثمان

جمہوریت: منظم اقلیت کی حکمرانی؟ — داود ظفر ندیم

جمہوریت کی تقدیس پر کچھ چون چرا: عثمان سہیل

پاکستان کو جمہوریت کی نہیں، ایک وطن پرست آمر کی ضرورت ہے؟ — احمد اقبال

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. زبردست

    یہ واویلا کرنے والے خود ہی اسکے ذمہ دار ہیں. انہوں نے اپنی سہولت کے لئے سسٹم ہی ایسا بنایا ہے کہ اس میں داؤ لگا رہے.بیہ اور بات کہ داؤ کوئ دوسرا لگائے تو پیٹنا شروع کر دیتے ہیں.

    عمران خان تو 2013 الیکشن سے چیخ رہا ہے کہ اس سسٹم کو تبدیل کرو. ای ووٹنگ پہ او. الیکشن کمشن کو بدلو. لیکن ان کی تو موجیں لگی ہوئ تھیں. اب جب اس نے انہی کے پلینگ گراؤنڈ میں انہیں مات دی ہے . اور دن دیہاڑے سب کے سامنے سب کو چت کیا ہے تو انکی چیخیں نکل رہی ہیں

Leave A Reply

%d bloggers like this: