مخالفین! اک ذرا حوصلہ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمارہ خان

0
  • 107
    Shares

ہم سب کو اسلامی جمہوری پاکستان کا نیا وزیراعظم مبارک ہو۔ الیکشن دھندلی کے زیر سایہ تھے یا بائیکاٹ کے ساتھ بوٹوں کا آشیرواد تھا یا ڈالرز آگے پیچھے تھے۔ اب اس لکیر پیٹنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس وقت ضروری ھے تو سمجھدار ردعمل کی، صبر و تحمل کی تاکہ ملک ترقی کے سفر پہ گامزن ہو سکے ۔

ہمیں ہر صورت عمران خان کو کم از کم سال چھ مہینہ دینا ھے تاکہ وہ اندرونی و بیرونی ’’معاملات‘‘ سمجھ سکے، کل سے ہی یعنی حلف اٹھانے سے بھی پہلے راشن پانی لے کے اس پہ چڑھنا ایسا ہی ہوگا جیسے کسی ’’نئ نویلی دلہن کو گھر کے لاؤئج میں بٹھا کے درجن بھر بچوں کے نام پوچھنا‘‘ اور جب ’’نئ نویلی دلہن نام نا بتاسکے تو فوراً طلاق دینے کی دھمکی دینا‘‘ یا شادی کے پہلے ہی ہفتے بہو بیگم کے ہاتھ اچار کی پھانک دیکھ کے ’’نومولود کا نام سوچ لینا‘‘ اور جب رزلٹ حسب توقع نا ملے تو ’’خاندان کو اہمیت نہی دینا اور بانجھ پن‘‘ کے الزامات کی بوچھاڑ کر دینا۔

ہمیں بھولنا نہی چاہیے کچھ ہی ہفتوں بعد قرضے کی قسط جانی ہے، جہاں جہاں پچھلی حکومت گند کرا کے گئی تھی، ابھی اسکی سڑاند اٹھے گی، ساتھ ہی وہ اعلیٰ قیادت جو ابھی تک خفیہ عہدے اور مال مفت کا مزہ لے رہے تھے ان کو سرکاری و غیر سرکاری مراعات واپس کرنا، جان دینے کے مترادف لگے گا اس کے نتیجے میں یہ ’’بروکن ایرو‘‘ خلاء میں تیر چلاتے ہوئے اپنے مدار کو جائیں گے۔

اور ۔۔۔۔۔ اور یہ سب عمران خان کے بائیس سالہ جدوجہد کے بلکل الٹ ھے، کیونکہ اب اونٹ اصل پہاڑ کے نیچے آیا ھے، یقیناً بوکھلاہٹ میں کچھ نادانستگی میں تھوڑی بہت غلطیاں بھی ہونگی اور اس وقت ہمارا ظرف یہ ہونا چاہیئے کہ ہم بہ حیثیت ایک عاقل و بالغ پاکستانی ہونے کے ناطے ہم سب عمران خان کو انسان سمجھ کے ٹریٹ کریں۔

بجائے بچگانہ روئیے کو اختیار کرنے سے زرا شعور کے ساتھ فیصلہ کیجیے۔ وزیراعظم (عمران خان) کو جادو کی چھڑی (کرسی) دے کے 24 گھنٹوں میں معجزے کا انتظار نہیں کرنا۔ ہمیں نا ہی یہ تصور کرنا ہے کہ بس اب ملک سر پٹ دوڑےگا یا سورج کی اگلی کرن کے ساتھ ہی کڑوڑوں نوکریاں نکل آئیں گی۔ راتوں رات امریکہ و لندن پاکستان دوستی کے گن گانے لگیں اور انڈیا اپنی ازلی دشمنی بھول کے بارڈر پہ پھولوں کی پتیاں نچھاور کرنے کے بےتاب ہو جائے گا۔

جس طرح عمران خان نے اپنی کامیاب اور شہرت بھری زندگی کو 22 سال تیاگ کے ہماری خاطر 120 دنوں تک کنٹینر اور عام لوگوں کے ساتھ رہا ھے، ٹھیک اسی طرح اب ہمارا فرض ھے اس انسان کو کم از کم سال چھ مہینے حکومتی معاملات سمجھنے کا موقع دیں۔

انشاءاللہ زندگی رہی تو ہم سب دیکھیں گے عمران خان کیسے اپنے وعدے پورے کرتا ھے اور عوام کے لیئے پلان بناتا ھے، کس طرح پاکستان کو انٹرنیشنل پلیٹ فارم تک بہترین پالیسی کے تحت اپنے ازلی اعتماد کے ساتھ پیش کرتا ھے۔

مجھے اس بندے پہ پورا یقین ھے، انشاءاللہ یہ ہمارے اعتماد پہ کھڑا اترے گا۔ اس یقین اور بھروسے کی دو بنیادی وجوہات بھی آپ کے سامنے ہیں۔

پہلی وجہ
ہم اس بندے کا ماضی جانتے ہیں۔ کرکٹر اور اب سیاست دان ہونے کے باعث عمران خان کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہی جو ڈھکا چھپا ہو۔ پہلی شادی جس حسین، باوقار اور باوفا عورت سے ہوئی ایک دنیا جانتی ھے، جمائما کیسے اپنا ملک، آسائش اور مذہب کے ساتھ مغربی پہناوہ چھوڑ کے پاکستان جیسے دقیانوسی غریب ملک میں رہنے چلی آئی، کون نہیں جانتا اس امیر زادی پہ جو ’’ماربل کیس‘‘ دائر تھا اس کی حقیقت جان کے خود ہی ہنسی آ جاتی ھے۔ جب عمران خان اس دولت مند اور پرکشش خاتون کو پاکستان کے لیئے چھوڑ سکتا ھے تو کم از کم خان کو کوئی زنانہ وجود یا ڈالرز سے نہیں خرید سکتا۔

دوسری وجہ
نمل یونیورسٹی، جو بندہ نو سال ’’بیڈفورڈ یونیورسٹی‘‘ کا چانسلر رہا اور بدلے میں اسی یونیورسٹی کی ڈگڑی اپنے ملک میں متعارف کرا دی، آپ اسکو کیا کہیں گے، کونسا لالچ چھپا تھا اس کام کے پیچھے؟

عمران خان کے دو بیٹے ہیں جو اپنی ماں کے ساتھ شدید قسم کے صاحب جائیداد ہیں، ( یہودی نانا کا پیسہ ہی سہی) باہر رہنے کے باعث وہ پاکستان میں نہیں پڑھتے، عمران خان کو کیا ضرورت تھی اپنے انٹرویو میں یہ شرط رکھنے کی
’’میں آپ کی آفر اسی وقت قبول کرسکتا ہوں، جب آپ اپنی ڈگری میرے ملک میں متعارف کرائیں گے‘‘

اور دنیا نے دیکھا ایک اسکالر 1886 کے بعد نو سال تک یونی ورسٹی چانسلر رہا اور اپنے غریب ملک کے ہونہار جوانوں کے لیئے نمل یونیورسٹی بنا کے بیڈفورڈ کی ڈگری کھینچ لایا۔

کیا یہ دو وجوہات کافی نہیں تھی عمران خان کی سپورٹ کے لیئے اور اس کو ایک موقع دینے کے لیئے ’’وہ جب کچھ نہیں تھا تو کرکٹ ٹیم کا عام سا کپتان تھا، وہی کپتان جس نے تھرڈ ورلڈ کنٹری (پاکستان) کو ورلڈ کپ جتوایا تھا، جہاں نا فٹنس کلب نا معاشی سکون نا ہی ٹرانسپورٹ کی سہولت لیکن یہ اسی کی قیادت تھی کہ پرانے پٹے ہوئے کھلاڑیوں کے ساتھ ورلڈ کپ گھر لے آیا اور آج ایک بار پھر پاکستان کی امید بن کے وہ ابھرا ھے اور یقیناً ہر داغ دھو دے گا۔ نئی مزلیں ہماری منتظر ہیں، لیکن بس اک زرا حوصلہ درکار ھے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: