ضلع مظفرگڑھ ایک بار پھر لاڑکانہ ثابت ہوا — گل ساج

0
  • 3
    Shares

تین سیٹس پہ پیپلزپارٹی کے امیدوار جنہیں انتخاب کی دوڑ میں تیسرے چوتھے نمبر کے کھلاڑی سمجھا جارہا تھا پی ٹی آئی پی ایم ایل این اور دس سال سے ناقابل شکست جمشید دستی کو ہرا کر میدان اپنے نام کر گئیے
میرے خیال میں پورے پنجاب سےپیپلزپارٹی سے انکے علاوہ صرف راجہ پرویز اشرف کامیاب ہوسکے۔۔۔ اب حنا ربانی کھر کی مخصوص نشست ملا کر پی پی پی کے پانچ میں سے چار امیدوار مظفرگڑھ سے ہونگے۔

2018 کے الیکشن میں مظفرگڑھ کی پانچ کی پانچ نشستیں پیپلزپارٹی نے جیتی تھیں۔
اور مشرف دور میں پنجاب میں پیپلزپارٹی کا واحد ضلعی ناظم بھی مظفرگڑھ سے تھا۔

اس الیکشن کی خاص بات یہ کہ جمشید دستی خود بھی کسی سیٹ پہ کامیاب نہ ہو سکا مگر چار نشستوں پہ پی ٹی آئی کی یقینی جیت کو شکست میں بدل گیا۔
دو نشستوں پہ دستی رنراپ رہا 1800 اور 2300 ووٹ سے ہارا اور پی ٹی آئی کو تیسرے نمبر پہ دھکیل دیا پی ایم ایل این تو کس شمار میں آتی۔

مظفرگڑھ کی اس بار قومی اسمبلی کی چھ نشستوں میں سے پی ٹی آئی صرف ایک سیٹ حاصل کر سکی۔ دلچسپ بات یہ کہ این اے 181 سے نوجوان شبیر قریشی جو پانچ سال سے پی ٹی آئی جوائن کئیے تھا الیکشن کے دنوں میں یکدم اسے نظرانداز کر کے مصطفی کھر (اپنے تئیں الیکٹیبل) کو ٹکٹ دیا شبیر قریشی نے ہمت نہ ہاری اور آذاد کھڑا ہوا اسکے مقابلے میں پی ایم ایل این بعد ازاں آذاد امیدوار سدا بہار مضبوط ترین سلطان ہنجرا اور شیر پنجاب مصطفی کھر (پی ٹی آئی) تھے حیرت انگیز طور پہ شبیر قریشی نے دونوں برج گرا دئیے اور ریکارڈ 70 ہزار ووٹ لئیے۔

2013 کے الیکشن میں نوجوان دستی نے اسی شیر پنجاب مصطفی کھر اور وزیرخارجہ حنا ربانی کھر کو عبرتناک شکست دی تھی مصطفی کھر کی ضمانت ضبط کرادی تھی اب شبیر قریشی نے بھی یہی تاریخ رقم کر دی ہے۔

اسی طرح ضلع مظفرگڑھ سے پہلی بار قیوم جتوئی چار بار ایم این اے دو بار وفاقی وزیر چیف آف جتوئی سردار قیوم خان جتوئی کو نو وارد نوجوان خرم خان نے بڑے مارجن سے شکست سے دو چار کیا، مظفر گڑھ میں یہ دو نوجوان سیاست میں نیا جھونکا ثابت ہونگے معظم جتوئی سابق وفاقی وزیر (موجودہ پی ٹی آئی) بمعہ بردران و پسران جتوئی گروپ کا مکمل صفایا ہو گیا۔

خرم خان: چیف آف جتوئی قبیلہ قیوم خان کو ہرانے والا نوجوان

اسی طرح ہارون بخاری تین بار ایم پی اے مسلسل صوبائی وزیر کو اپنے ہی بھائی نے دھول چٹا دی اسکے اقتدار کا سورج بھی غروب ہوا۔۔

سب سے غیر متوقع جمشید دستی کی شکست رہی غیر جانبدار مبصرین کے مطابق دستی کو اسکے ہوم گراونڈ پہ شکست دینا بہت مشکل تھا مگر پی پی پی کے مہر ارشاد سیال جو 2008 میں دستی کی صوبائی ونگ پہ تھا 2018 میں دستی کو نیشنل اسمبلی پہ چت کر گیا (ووٹ کا فرق 1800 ہے جسکے لئیے دستی نے دوبارہ گنتی کی درخواست دی ہے ممکن ہے دستی جیت جائے)۔

دوسرے حلقے سے نوابزادہ افتخار (نوابزادہ نصراللہ کے فرزند) نے دستی کو 2300 ووٹ سے شکست دی۔ مہر ارشاد اور نواب افتخار کو بہرحال یہ کریڈت جاتا ہے کہ یہ سابقہ دو الیکشنز اور موجودہ میں پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے رہے۔

دستی سے پی ٹی آئی نے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرنا چاہی تھی مگر غیر مناسب فارمولے اور جہانگیر ترین کی مخالفت کی وجہ سے نہ ہوسکی جسکا نقصان دستی کو اپنی سیٹ گنوا کے تو ہوا ہی مگر پی ٹی آئی نے بھی 4 سیٹوں سے شکست کی صورت میں اسکا خمیازہ بھگتا یہ غالبا واحد ضلع ہے جہاں پی ٹی آئی کی کارکردگی نہایت مایوس کن رہی۔

نمبرز گیم پوری نہ ہونے کی صورت میں ممکن ہے پی ٹی آئی پیپلزپارٹی سے الحاق کرے وگرنہ سیناریو یہ بنتا ہے کہ مظفر گڑھ کے مقدر میں ایک بار پھر اپوزیشن میں بیٹھنا ہے۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: