1928-1980، خراج تحسین ابن صفی ۔۔۔۔۔۔۔۔ عمارہ خان

0
  • 69
    Shares

جو کہہ گئے وہی ٹھہرا ہمارا فن اسرار!!
جو کہہ نہ پائے نہ جانے وہ چیز کیا ہوتی

ابن صفی کیا ہی خوبصورت نام ہے، جس کے ساتھ نصف صدی کے لوگوں کی حسین ترین یادیں جڑی ہوئی ہیں۔ خاص طور پہ انیس سو ساٹھ سے لے کے انیس سو نوے کی دہائی کے لوگوں کی۔ اس زمانے کے بچے اور نوخیز لڑکے لڑکیوں کی زندگی کا اہم ترین حصہ ابن صفی کی کتابوں پہ مشتمل تھا، یہ الگ بات ھے کہ بڑھتی عمر کے لوگ بھی ان کے قلم سے نکلے ہوئے سحر انگیز الفاظ کے نشے کی حد تک عادی تھے لیکن ماننے سے عار تھا، بظاہر ابن صفی کی جاسوسی دنیا، ایک ایڈونچر، رومانوی، مزاح اور سسپنس کہانیوں پہ مشتمل ہوتی تھی لیکن اس میں ایک جہاں آباد رہا ھے۔ جس کے پڑھنے والے بھی لاتعداد رہے۔ انہی پڑھنے والے لوگو ں میں مجھ جیسے دیوانے بھی شامل ہیں جو ٹارزن اور عمرو عیار کی کہانیوں کے بعد سیدھا ابن صفی تک جا پہنچے اور آج تک نہایت سنجیدگی سے بحث کرتے ہیں کہ علی عمران زیادہ بہتر تھا یا احمد کمال فریدی۔

ہماری زندگی کی پہلی نوخیز محبت جاسوسی دنیا ٹھہر گئی تھی۔

ابن صفی ہمیشہ بولتے تھے میری کتابیں لوگوں کے سرہانے ملے گی تکیوں کے نیچے ملے گی نہ کے الماریوں میں، اور آج الحمداللہ میرے خاندان کی تیسری نسل اسی ذوق شوق سے عمران کو پڑھتی نظر آتی ھے۔ ان کی مکمل صلاحیتوں کا احاطہ کم از کم میرے بس کی بات نہیں، جس کے لکھنے کا فن ابھی پنگھوڑے میں ھے، لیکن یہ بات سولہ آنے سچ ھے کہ صاحب تحریر نے ابن صفی کی کتابوں کو پڑھ کے اردو سیکھی ھے، کیسے جاسوسی کہانیوں میں مزاح کا تڑکا لگانا ھے، کیسے مہذب انداز میں اپنی بات بیان کرنی ھے کہ بڑوں کے ساتھ بچے بھی باآسانی آپ کو پڑھ سکیں بلکہ کھلے عام بنا چھپائے آپ کی کتابیں پڑھ سکیں، یہ بھی جانا ھے کہ لکھتے ہوئے احتیاط لازم ھے، ورنہ کہیں آپ کے لکھے ہوئے الفاظ آپ کے لیے ہی باعث شرم نا بن جائیں۔

آج ان کو خراج تحسین دینے کا وقت آیا تو، نوے کی دہائی والی ، چھوٹی سی ساتویں کلاس کی قاری عمارہ نے، آج کی لکھاری عمارہ خان کو یاد دلایا، اب تمہارے قلم کا فرض ھے اس بندے کو یاد کرنا جس کی بدولت آج کچھ لوگ تمہیں جانتے ہیں۔ اس ٹوٹی پھوٹی تحریر میں کچھ دل کی باتیں، کچھ بچپن کی یادیں، کچھ جوانی کے ان کہے اعتراف اور ایک قیمتی شخص ( میرے ابو) کا شکریہ ادا کرنے کی ادنی سی کوشش، جنہوں نے ابن صفی جیسے مہذب لکھاری سے تعارف کرایاان کی کتابیں پڑھ کے معلوم ہوا، اگر جنسی مواد نا بھی ہو تو شاہکار کیسے وجود میں لایا جاسکتا ھے، صاف ستھرا مزاح مرد اور عورت کے جسمانی خدوخال کا مذاق اڑائے بغیر بھی ہوسکتا ھے، قتل و غارت کے بناء بھی جاسوسی کہانیاں تخلیق ہوسکتی ہیں۔ پہاڑوں سے چھلانگ لگائے یا سو دو سو گولیوں کو کھائے بغیر بھی ایڈونچر لکھا جاسکتا ھے، مختصر یہ ھے کہ، ایک ادنی سی کاوش، ابن صفی جیسے استاد کے لیے پیش خدمت ھے۔

جب ابن صفی نے ایسا ادب تخلیق کرنے کی ٹھانی جو بہت جلد لاکھوں پڑھنے والوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ عباس حسینی کے مشورے سے اس کا نام جاسوسی دنیا قرار پایا اور اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکے نہیں دیکھا بلکہ تاریخ رقم کردی۔

ابن صفی کا اصل نام اسرار احمد تھا جبکہ ابن صفی، تغرل فرغان، اسرار ناروی، سنکی سولجر تخلص کے ساتھ قلمی نام بھی رہے۔ شاعری کی اور بڑی نفیس کی، اسی کے ساتھ نفسیات پہ بھی ایک کتاب لکھنا شروع کی تھی لیکن اپنی بیماری کے باعث پوری نہ کرسکے اور ادھوری رہ گئی۔

ابن صفی، یہ وہ نام ھے جورہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں نقش رہے گا ،جب تک ایک بھی انسان علی عمران کے ساتھ احمد کمال فریدی کو یاد رکھے گا۔ جی ہاں یہ وہ دو لازوال کردار ہیں جنہوں نے ایک وقت نا صرف پاکستان بلکہ انڈیا میں بھی دھوم مچا رکھی تھی ، ان کی ہر کتاب بلیک ہوتی تھی اور ہاتھوں ہاتھ بک جاتی تھی، لوگ منہ مانگے داموں ان کی کتابیں لینے کو تیار رہتے تھے۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ھے ابن صفی 1970ء میں پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس (ISI) کو جاسوسی کے حوالے سے لیکچر بھی دیتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ابن صفی کی جاسوسی ناول نگاری: حبیبہ طلعت

 

بات کی جائے ان کے تخلیق کردہ زندہ جاوید کرداروں کی جو ان کے گزر جانے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں پہ نقش ھے تو سورج کو روشنی دکھانے والی بات ہوگی۔ ایک دنیا گواہ ھے ابن صفی نے مجھ سمیت بہت سے لوگوں کو نہ صرف لکھنا سکھا دیا بلکہ ان کو بہترین انداز سے پیش کرنے کے طریقے بھی بتائے۔

1951ء کے اواخر میں بے تکلف دوستوں کی محفل میں کسی نے کہا تھا کہ اردو میں صرف فحش نگاری ہی مقبولیت حاصل کرسکتی ہے۔ ابن صفی نے اس بات سے اختلاف کیا اور کہا کہ کسی بھی لکھنے والے نے فحش نگاری کے اس سیلاب کو اپنی تحریر کے ذریعے روکنے کی کوشش ہی نہیں کی ہے، اس پر دوستوں کا موقف تھا کہ جب تک بازار میں اس کا متبادل دستیاب نہیں ہوگا، لوگ یہی کچھ پڑھتے رہیں گے، اور یہی وہ تاریخ ساز لمحہ تھا جب ابن صفی نے ایسا ادب تخلیق کرنے کی ٹھانی جو بہت جلد لاکھوں پڑھنے والوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ عباس حسینی کے مشورے سے اس کا نام جاسوسی دنیا قرار پایا اور اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑکے نہیں دیکھا بلکہ تاریخ رقم کردی۔

اگست 1955ء میں ابن صفی نے خوفناک عمارت کے عنوان سے عمران سیریز کا پہلا ناول لکھا اور عمران کے کردار کو راتوں رات مقبولیت حاصل ہو گئی۔ علی عمران ایم ایس سی، ڈی ایس سی (آکسن)، ایک ایسا خوبصورت جوان ،دل کش محب وطن ہیرو جو خود کو احمقوں کا سردار کہتے نہیں جھجکتا، جس کے اپنے اسٹاف ممبر ہی اسے بے عزت کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہو اور وہ بنا کسی پروٹوکول کے، بنا کسی شرم کے اپنی ماں کی چپل سر پہ رکھ کے نظریں جھکا لے۔ یہ سب ابن صفی کی اپنی تربیت بھی دکھاتی ھے، بہن سے شرارت، ماں سے محبت اور باپ کا احترام، ملک سے وفاداری، دوستوں کامان سلامت رکھنا، بھرپور اور مکمل ہیرو۔

ذہن میں رہے، یہ اس زمانے کی بات ھے جب ہر جگہ ماچو مین قسم کے ہیرو چھائے ہوئے تھے ،سستا رومانس اپنے عروج پہ تھا، ایسے وقت اس طرح کا ناول مارکیٹ میں لانا جس کا ہیرو نہ تو لڑکیوں کے پیچھے بھاگتا ہو اور نہ ہی وہ کھلے عام شراب پیتا ہو، ایک عجیب فیصلہ تھا، ناول میں نہ تو طوائفوں کی بھر مار تھی اور نہ ہی اس میں جنسی مواد شامل تھا، اس کے برعکس کہانی کا ہیرو مخصوص حماقت کے تاثرات سجائے، ٹیکنکی کلر کے مبلوسات پہنے اعلی تقریبات میں جا پہنچے اور مشکل سے مشکل کیس کو با آسانی حل کرکے شہر کی پولیس کے حوالے کر کے چلتا بنے، اس وقت کے ماہرین کی رائے میں سراسر گھاٹے کا کاروبار تھا۔ کہانی کے ہیرو کا اپنا باپ ہی اسے کسی قابل نہیں سمجھتا تھا تو لوگ کیسے اسے سر آنکھوں پہ بٹھا سکتے تھے۔ لیکن۔۔۔۔ لیکن، علی عمران ایم ایس سی، پی ایچ ڈی آکسن، راتوں رات لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں کیونکر چھا سکا، اس کا جواب اکیسویں صدی میں بھی کسی کو سمجھ نہیں آسکی ہے۔

ابن صفی کے تخلیق کردہ کردار کس قدر مضبوط تھے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ھے کہ، وہ خود اپنے ہی لکھے ہوئے کرداروں کی دنیا میں تین سال تک کھو گئے۔ (۱۹۶۰۔۱۹۶۳)۔۔ وہ ایک ایسی بیماری کا شکار ہوگئے تھے، جس کا مریض حقیقی اور خیالی دنیا میں تفریق نہی کرپاتا، اس مریض کا منطقی انداز میں سوچ بچار اور تجزیہ کرنا ختم ہوجاتا ھے ، مختصر یہ کہ اس بندے کی اپنی اندر کی دنیا باہر کی دنیا پہ حاوی ہوجاتی ھے۔۔ اب ہم قاری اندازہ لگاسکتے ہیں کہ، وہ کردار جس کی ایک دنیا عاشق ھے اس کا اپنا تخلق کردہ ماسٹر ہی اس کا گرفتار ہوجائے تو کیا کہنے۔

ابن صفی کے تین سالہ بیماری کے مشکل اور تکلیف دہ دور میں بہت سے ایسے لوگوں کی چاندی ہوگئی تھی جنہوں نے اپنے اپنے ناموں کے آگے، صفی، لکھ کے بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا شروع کردیا تھا۔۔ کسی نے علی عمران کو ایک بھانڈ بنا دیا تو کسی نے فریدی کو کہوٹے تک پہنچا دیا۔ کسی نے اپنے ہی بنائی ہوئی فورس عمران کے ساتھ نتھی کردی تو کسی نے عمران کے خاندانی ملازم کو ادھیڑ عمر بنا ڈالا۔۔ ابن صفی کی جدائی میں لوگوں نے ان دھوکہ بازوں اور گھٹیا کہانیوں کو بھی ویلکم کہا۔ لیکن اصلی ابن صفی نے اپنی واپسی کا شاندار دھماکہ کیا۔ ڈیڑھ متوالے سے واپسی ہوئی اور اسی کے ساتھ وہ تمام لوگ جو عمران کی مٹی پلید کر رہے تھے ان کو منہ کی کھانی پڑی، ان لوگوں میں کچھ ایسے کم ظرف بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنی ساری زندگی ابن صفی کے کرداروں کو لکھ کے روزی روٹی کمائی، شہرت حاصل کی لیکن ایک لفظ کا کریڈٹ بھی اصلی مالک کو نہ دیا، کچھ لوگوں نے عدالتی سمن کے بعد بھی توبہ نہ کی اور جعلی ۔صفی۔ بن کے کماتے رہے ۔۔ابن صفی کو اپنے قلم پہ اتنا بھروسہ تھا کہ انہوں نے شاید ہی کسی کو اس جرم کی پاداش میں آخر ی انجام تک پہچایا ہو۔۔ اور ان کا یہ یقین کچھ ایسا غلط بھی نا تھا۔۔ جو لوگ ابن صفی کے ڈسے ہوئے ہیں وہ آج بھی علی عمران کے نام پہ اپنے چہرے پہ ایک خوبصورت مسکراہٹ چہرے پہ سجی دیکھتے ہیں۔۔ ابن صفی کے لکھے ہوئے کرداروں کے عاشق اتنے جذباتی تھے کہ انہوں نے فلم دھماکہ میں اپنے وقت کے نامی گرامی ہیرو کو بھی ان کرداروں میں دیکھنا پسند نہیں کیا، جبکہ اس فلم کا سکرین پلے خود ابن صفی ہی نے لکھا تھا۔

خیر، بات کریں اکیسویں صدی کی جاسوسی اور سائنسی فلموں کی تو ہم باآسانی اس کا کچھ کریڈٹ ابن صفی کو دے سکتے ہیں۔ان کی ذہانت سے کون انکاری ہو سکتا ھے جب شوگر بینک نامی ناول میں احمق نظر آنے والے علی عمران نے موسیقی کے تختے پہ چھیبس تاروں کی مدد سے کوڈ ورڈ لینگویج وضع کیا تھا۔۔ اگر ہم آئرن مین کو طوفان کا اغواء کے فولادی کے پس منظر میں دیکھیں تو باآسانی اس کا کریڈٹ بھی ابن صفی کو دیں گے، موت کی آندھی ناول بھی زہن میں رکھا جاسکتا ھے۔ جاسوسی کا بہترین طریقہ منارہ والی میں پڑھا جاسکتا ھے جہاں اونچے جوڑے کی مدد سے ایک مقام کی آواز کہی اور سنی جارہی تھی۔۔ ان گنت جگہ انہوں نے نت نئے طریقے ایجاد کرکے اپنی ذہانت کے ڈنکے بجوائے ہیں۔

جاسوسی کے علاوہ بھی ابن صفی کے پاس کافی ایسے کردار ہیں جو بتاتے تھے ان کا معاشرتی مطالعہ کتنا وسیع تھا۔۔مثال کے طور پہ، زہریلا آدمی کا اذیت پسند شخص، جنسی جنونیت میں مبتلا لیڈی سیتا رام، بوغا، عامرہ جیسی معصوم لڑکی، ہدہد جیسا ہکلاتا ہوا یادگار جاسوس اور وہ کبڑا جو ادھورے جسم کے ساتھ بھی ہار ماننا گوارا نہیں کرتا تھا، علامہ دہشت ناک ، ہمبگ دی گریٹ، اس کے علاوہ، روشی جو جسم فروشی کے باوجود لوگوں کے دل پہ راج کرگئی، عمران کی خون کی پیاسی تھریسا جو بعد میں اسی کی چاہت کا شکار ہوگئی تھی، یہ وہ چند یادگار کردار ہیں جو ایک ناول کے لیے تخلیق کیئے گئے تھے۔ اگر ان کے ساتھ عمران کی اپنی بنائی ہوئی پارٹی کے بارے میں بات کریں تو وہ بھی اپنی مثال آپ تھی۔۔خود کو سات پردوں میں چھپائے ہوئے اپنے ملک سے وفاداری نھبانے والا علی عمران، جس کا موٹو تھا، جب کام احمق بن کے ہوسکتا ھے تو خوامخواہ کی بہادری دکھانے کا فائدہ، جب کہ اس کے برعکس ایک دوسرا لازوال کردار اپنے اصولوں پہ جان دینے والا جو جھکنا نہی جانتا۔ انسپکٹر فریدی۔ سوٹ بوٹ پہنے بغیر اپنے بیڈ روم سے باہر نہیں نکلتا اس کا شرارتی چلبا اسٹنٹ، حمید اپنے برجستہ جملوں کے ساتھ قدم قدم پہ عمران کا مقابلہ کرتے دکھائی دیتا ھے۔۔ لیکن علی عمران کے چاہنے والوں نے اس مقابلے کو کبھی نہیں ماننا۔ ہر جگہ علی عمران کو بلا مقابلہ جتوا دیا گیا۔

(لکھنے والے کا قلم بھی علی عمران کا شیدائی ھے اسی لیے، کم از کم اس تحریر میں تو حمید کے جیتنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا)

جس زمانے میں کسی لکھاری کا ایک آدھ کردار ہی مقبولیت تک جاتا تھا وہی ابن صفی جیسے شاہکار لکھنے والے بھی تھے جن کے لکھے ہوئے منفی کردار کی بھی اپنی ایک فالوؤنگ رہی۔۔ سر فہرست سنگ ہی، وہ چائینز لمبا آدمی، جو اپنی شراب نوشی اور عورتوں کا رسیا ہونے کے باوجود چاچا سنگ کے نام سے شہرت پاگیا۔ گولیوں کی بارش سے بچتا ہوا وہ چائینز جو اردو کی مخصوص گالیاں اہل زبان کی طرح بول کے لبوں پہ دل کش مسکراہٹ دوڑا دیتا تھا، اسی کے ساتھ تھریسا ( ٹی تھری بی) جو حسن میں یکتا او ر عمران کی چاہنے والی لیکن علی عمران اسے بھی چٹکیوں میں اڑانے کا ماہر تھا۔ الفانسے، لیونارڈ، جابِر، جیسے طاقتور ترین منفی کرداربھی زندہ و جاوید ہیں۔ علامہ دہشنک ناک بھی بھولنے والا کردار نہیں ھے اسی کے ساتھ ایک دیوقامت کردار قاسم جو حمید کا کھلونا تھا، اس کی ش ق کے بے قاعدگی بھی اپنی مثال آپ تھی۔ مجھے یقین ھے اس وقت آپ کے زہن کے کسی گوشے میں قل قل کرتی ہنسی گونج رہی ہو گی۔

اب جہاں ابن صفی کے ہیرو اور ولن کی بات ہو رہی تو ایسا کیسے ممکن ھے ان کے پیش کردہ جانووں اور زیرہ لینڈ کو بھول جائیں۔۔ جی ہاں، کیپٹن حمید کی و ہ چوھیا کو کون بھول سکتا ھے جس کا خیال اس کو گن پوائنٹ پہ بھی رہا۔ اگر میں مر گیا تو وہ بھی بھوکی مر جائیگی۔ طارق کا نیولہ، فریدی کے وہ مختلف نسل کے کتے اور نایاب و نادر اقسام کے سانپ، زیرولینڈ کی وہ تصوراتی دنیا جس کے لیے پہلی بار ۱۹۸۵ میں ابن صفی نے باقاعدہ معافی مانگی تھی اپنے پڑھنے والوں سے کیونکہ انہوں نے، زمین کے بادل، لکھ کے علی عمران اور فریدی کے چاہنے والوں میں جنگ چھیڑ دی تھی، عرصے تک ان کو خطوط کے زریعے دھمکیاں ملتی رہیں آئندہ ایسا تجربہ کرنا ہو تو عمران کو ہیرو دکھانا ھے جبکہ آفریدی کے چاہنے والے خوش ہوتے رہے کہ علی عمران کو پچھاڑ دیا۔ شکرال کے وہ خونی جنگل جہاں قبیلوں کا راج تھا، گھمسان کی جنگیں بھی یاداشت میں کھلبلی مچانے تیار رہتی ہیں۔۔ کیا لکھیں تو کیا چھوڑیں۔

مزے کی بات تو یہ تھی، جہاں ابن صفی کی کہانیاں مقبول تھیں وہی ان کے پیش رس بھی بے انتہا دلچسپ ہوتے تھے، بے تکلفی سے وہ لوگوں کو جواب دے کے ان کے دلوں میں مزید گھر جاتے، کیا پان والا تو کیا ہی یونی ورسٹی کا پی ایچ ڈی پروفیسر، ہر ایک کے پاس ابن صفی کی کتاب ہونا اس بات کی دلیل ہوتی تھی کہ وہ اپنے دعوی میں کس قدر کامیاب ہو چکے ہیں، جس انسان نے اپنے چند بے تکلف دوستوں میں بیٹھ کے عہد کیا تھا، جنسی اور ذومعنی کلچر کا خاتمہ کروں گا اللہ نے انہیں سرخرو کیا ۔اگر آپ کے پاس ان کے ناولز موجود ہیں تو ایک نظر ان کے پیشرس دیکھیں، نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی ان کے کہے ہوئے جملوں کی تازگی، کھنک اور خوبصورتی کم نہی لگے گی۔ اس پہ ان کی انکساری، میٹھے بول اور اپنے قارئین سے کھل کے دل کی بات کہہ دینا، آج کے زمانے میں ڈھونڈنے سے بھی نہی ملتی۔

اگر کھلے دل سے جائزہ لیا جائے تو ابن صفی ہمارے پاس ایک ایسا سرمایہ تھے جن کی قدر نہیں ہوسکی، ان کو وہ مقام نہیں دیا گیا جو ان کا حق تھا۔ اگر وہ کسی دوسرے ملک کے باسی ہوتے تو اب تک کئی لائبریریاں ان کے نام ہو چکی ہوتیں اور وہ سر کا خطاب پاچکے ہوتے یا کم از کم یونی ورسٹی کا ایک ڈیپارٹنمٹ ان کے نام ہوچکا ہوتا۔

جاتے جاتے ابن صفی کی پوری ٹیم (علی عمران، احمد کمال فریدی، حمید، انور ، رشیدہ، صفدر، جولیانا، ظفرالملک، جمن، جوزف، صف شکن، شہباز، ہدہد، روشی، جولیانا، سلیمان، بلیک زیرو (طاہر)، تنویر، کیپٹن خاور، لیفٹینٹ صدیقی، لیفٹینٹ چوہان، کیپٹن جعفری، سارجنٹ ناشاد، سرسلطان ، کیپٹن فیاض، تھریسا، سنگ ہی) کو ایک خوبصورت بچپن اور دل کشں یادیں دینے کے لیے بے حد شکریہ، اور اس عظیم بے مثال تخلیق کرنے والے کے لیے تہہ دل سے دعا۔

اللہ، ابن صفی کو ٹھنڈی اور پرسکون جگہ رکھیں، جیسے انہوں نے ہم عام لوگوں کی مشکل زندگی میں خوبصورت تحاریر کے زریعے کچھ پل ہنسنے مسکرانے کے دیئے ہیں ویسے ہی اللہ ان کے آگے کے سفر کو بھی آسان رکھے ۔۔ آمین

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: