عمران خان کی سربراہی میں نئے جمہوری دور کا آغاز۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی

0
  • 14
    Shares

الیکشن 2018ء اپنے اختتام کو پہنچا، صد شکر شدید قسم کی دھاندلی کا الزام کسی بھی سیاسی جماعت نے نہیں لگایا۔ البتہ نتائج کے اعلان میں تاخیر نے شکوک وشبہات پیدا کردیے۔ ہارنے والے تو چھری تیز کر کے بیٹھے ہی ہوتے ہیں کہ کوئی ایک نقطہ بھی انہیں میسر آجائے تو وہ رائی کا پہاڑ بنا دیں اور اس وقت کچھ ایسا ہی ہورہا ہے۔ شکست خوردہ جماتیں فارم 45 کے پیچھے دوڑ پڑی ہیں، جدید سہولیات اور ٹیکنالوجی جس قدر صاف شفاف اور برق رفتاری سے کام سر انجام دیتی ہے وہ اتنی ہی پھرتی سے انسان کو بے بس اور مجبور بھی کردیتی ہیں۔ انٹر نیٹ کی مثال دیکھ لیں ، کام کرتے کرتے کبھی کبھار ایک دم غائب ہوجاتا ہے ، ہم مجبور اور بے بس ہوکر ، کمپیوٹر بند کر دیتے ہیں، یہاں بھی یہی ہوا۔ یہ دور جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے، کمپیوٹرکے بعد لیب ٹاپ اور اب اسمارٹ فون نے ہر ایک کو یہ سہولت مہیا کردی ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی سے مستفیض ہو۔

ادارے بھی یہ کوشش کرتے ہیں کہ وہ جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات سے فائدہ اٹھائے۔ چنانچہ الیکشن کمیشن اور آف پاکستان نے نادرا (NADRA) کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جس کے تحت جدید ٹیکنالوجی کا ایسا نظام تیار کرایا جس کے توسط سے انتخابی نتیجہ برق رفتاری سے پریزائیڈنگ آفسر اپنے اسمارٹ فون سے فارم45پر کر کے الیکشن کمیشن کو سینٹ کر دے۔ اس کے لیے اسمارٹ فون لازمی شر ت تھا ، نیز تمام پریذائیڈنگ آفیسرز کو کہا گیا کہ وہ اسمارٹ فون لائیں اورسسٹم اس میں انسٹال کرالیں۔ ایسا ہی ہوا،پریزائیڈنگ آفیسرز ایساہی کیا ، جس کے پاس اسمارٹ فون نہیں تھا اس نے اپنے کسی جاننے والے سے مانگ تانگ کے کام چلانے کی کوشش کی۔ یہ نظام پاکستان میں 2013کے انتخابات میں بھی ناکام ہوچکا تھا، لیکن یہ ضروری نہیں کہ کسی چیز میں ایک بار ناکامی ہوجائے تو ہم اسی فرسودہ ڈگر پر ہی چلتے رہیں، دیگر اقوام بھی جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کررہی ہیں۔ ہوا یہ کہ جب پریذائیڈنگ آفیسرز نے اپنے اپنے پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ سینٹ کیا تو ابتدا میں تو RTS سسٹم نے کام کیا ۔ جوں ہی اس نظام پر لوڈ پڑا ، یہ نظام بیٹھ گیا۔ آرٹی ایس کا مطلب ہےResult Transmission System (RTS) ۔

اگر کسی نے انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ وزٹ کی ہو تو ہر حلقے کے مکمل تفصیل امیدواروں کے نام اور انتخابی نشان کے ساتھ موجود تھی صرف حاصل کردہ ووٹ ہر امیدوار کے نام کے سامنے پریزائیڈنگ آفیسرز کو لکھنا تھی۔ اگر یہ نظام بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا کسی بڑے بریک ڈاؤن کی مانند نہ بیٹھ جاتا تو انتخابی نتائج بہت جلد الیکشن کمیشن کو پہنچ جاتے لیکن کیا کیا جائے ، یہ جدید نظام پاکستان الیکشن کمیشن کے لیے شاباش اور تعریفی اسناد کے بجائے رسوائی کا باعث بنا

یہ سسٹم بطور خاص انتخابی نتائج آن لائن سینٹ کرنے کی غرض سے ہی بنوایا گیا تھاجس پر21 ارب روپے خرچہ آیا تھے، اخراجات تویو ایس ایڈ کی امداد سے ادا کئے گے۔لیکن افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ کثیر رقم خرج کر کے بھی الیکشن کمیشن نیک نامی نہ کماسکا، وہ خود تو مورد الزام ٹہرا ، آنے والی حکومت کو بھی اس کو خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ اگر کسی نے انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ وزٹ کی ہو تو ہر حلقے کے مکمل تفصیل امیدواروں کے نام اور انتخابی نشان کے ساتھ موجود تھی صرف حاصل کردہ ووٹ ہر امیدوار کے نام کے سامنے پریزائیڈنگ آفیسرز کو لکھنا تھی۔ اگر یہ نظام بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا کسی بڑے بریک ڈاؤن کی مانند نہ بیٹھ جاتا تو انتخابی نتائج بہت جلد الیکشن کمیشن کو پہنچ جاتے لیکن کیا کیا جائے ، یہ جدید نظام پاکستان الیکشن کمیشن کے لیے شاباش اور تعریفی اسناد کے بجائے رسوائی کا باعث بنا۔ اب الیکشن کمیشن لاکھ یقین دلائے کہ سسٹم بیٹھ گیا جیسے بجلی کا بریک ڈاؤن ہوجاتا ہے لیکن جو جیت کی آس لگائے بیٹھے تھے،مرکز میں حکومت بنانے کے خواب اپنے دل میں سجائے ہوئے تھے،بعض تو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانے کے دعوے کرچکے تھے۔ نتائج میں بری طرح ناکام ہوئے تو اپنی شکست کو آرٹی ایس نظام کی ناکامی میں چھپانے کی کوشش میں لگ گئے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان کو جمہوریت کی نہیں، ایک وطن پرست آمر کی ضرورت ہے؟ — احمد اقبال

 

اس کالم نگار نے 1977 کے انتخابات سے مسلسل 2008 کے انتخابات تک ہر الیکشن میں پریذائیڈنگ آفیسر کی خدمات انجام دی ہیں۔ پولنگ کے عمل سے واقف ہی نہیں بلکہ عملی طور پر یہ کام کرتا رہا ہوں۔اس لیے بھی میں فارم 45 کے معاملے کو اس قدر سیریس تصور نہیں کرتا جتنا شکست کھا جانے والی سیاسی جماعتوں نے اس کا حوا بناڈالا ہے۔ اُس وقت فارم45کا کچھ اور نمبر رہا ہوگا۔ اس فارم میں صرف امیدواروں کے نام اور نشان لکھ کر حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد لکھنا ہوتی ہے ۔ پریذائیڈنگ آفیسراس پر دستخط کردیتا ہے ۔ اگر سادہ کاغذ پر بھی امیدواروں کے نام اور انتخابی نشان کے سامنے حاصل کردہ ووٹ لکھ کر پریذائیڈنگ آفیسرپولنگ ایجنٹس کو دیدے تو بھی بات وہی ہوتی ہے۔ دستخط کے نیچے پولنگ اسٹیشن کی مہر لگا دی جاتی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی یہ غلطی ضرور ہے کہ جوں ہی اس کے علم میں یہ بات آئی تھی کہ RTS کام نہیں کررہا، فوری طور پر میڈیا کے سامنے آکر تفصیل بتا دی جاتی کہ برقی نظام خراب ہوچکا ہے اب تمام نتائج مینول طریقے سے حاصل کیے جائیں گے اور اس طریقہ کار میں وقت لگے لگا۔ دوسری جانب تمام پریذائیڈنگ آفیسرز کوہدایت جاری کردیتے کہ وہ نتیجہ مکمل کرنے کے بعد فوری طور پر متعلقہ ریٹرننگ آفیسر ز کے دفتر پہنچیں اور نتائج جمع کرادیں۔ دوسری خرابی ہمیشہ سے رہی ہے وہ اب بھی تھی کہ پریذائیڈنگ آفیسرز نتیجہ مکمل کر کے اپنے پولنگ اسٹیشن پر بیٹھے رہے کہ جب گاڑی آئے گی تو سیکوریٹی کا عملہ انہیں آر او کے آفس تک لے کر جائے گا، سیکیورٹی کے اعتبار سے یہ بہتر ہے کہ پولنگ کا عملہ حفاظت میں پولنگ اسٹیشن سے آر او کے دفتر پہنچے لیکن اس میں صبح ہوگئی گاڑی نہیں پہنچی ، یعنی اتنا وقت پولنگ اور نتیجہ تیار کرنے میں نہیں لگا جتنا گاڑی کے انتظار میں لگ گیا۔ کراچی کے ایک پولنگ اسٹیشن پر جہاں میرا بیٹا ڈاکٹر نبیل پریزائیڈنگ آفیسر تھا گاڑی صبح سات بجے پہنچی، نتیجہ لیٹ تو ہونا ہی تھا۔یہ بد انتظامی تھی، سیکریٹری الیکشن کمیشن صاحب رات دوبجے میڈیا پر جلوہ افروز ہوتے ہیں وہ بھی اس وقت جب میڈیا شور شرابا کرتا ہے۔ اس پر بروقت توجہ دے دی جاتی تو مسئلہ سنگین نہ ہوتا۔ اس کے علاوہ دھاندلی کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ یہ میڈیا کا دور ہے، اگر کسی جگہ کوئی شکایت ہوتی تو وہ چھپنے والی نہیں تھی۔

اس کالم نگار نے کراچی کے حلقے این اے 243 میں اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ کراچی کے اس حلقے سے پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان پاکستان پیپلز پارٹی کی شہلہ رضا، مسلم لیگ نون کے شیخ محمد شاہ جہاں، ایم ایم اے کے اسامہ رضی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے علی رضا عابدی، پی ایس پی کے مزمل قریشی، مہاجر قومی موومنٹ کے کامران علی رضوی، اللہ اکبر تحریک کے ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی، تحریک لبیک کے سید نواز اللہ اور چند آزاد امیداوار شامل تھے ۔ پولنگ اسٹیشن جس میں میَں نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا کراچی پبلک اسکول ، گلشن اقبال بلاک 6 تھا۔ پولنگ اسٹیشن کے باہر چند قدم پر ہر سیاسی جماعت کے کیمپ لگے تھے، لوگ آزادی سے اپنے ووٹ کی پرچی لیتے رہے، پولنگ اسٹیشن کے گیٹ پر فورسیز موجود تھیں، جامہ تلاشی، موبائل لے جانے پر پابندی، پولنگ بوتھ کے گیٹ پر ایک فوجی، ایک فوجی اندر کمرے میں مستعد باری باری ، مروجہ طریقہ کار کے مطابق تمام مراحل بہت اطمینان اور سکون کے ساتھ طے کیے جارہے تھے، نہ شور ، نہ ہنگامہ، پولنگ ایجنٹ تہذیب اور شائستگی کے ساتھ ووٹر لسٹ پر ووٹر کا نام کاٹتے رہے۔ ووٹنگ کے عمل کو دیکھ کر اطمینان ہوا، اس دوران دیگر پولنگ اسٹیشن کا بھی جائزہ لیا وہاں بھی پر امن طریقے سے انتخابی عمل جاری و ساری دکھائی دیا۔ اس قسم کی رپورٹنگ میڈیا بھی رپورٹ کرتا رہا۔ اگر الیکشن کمیشن تھوڑی سے حکمت اور دانائی سے کام لے لیتا تو فارم 45کو لے کر جو شور کھڑا کیا گیا ہے وہ بھی نہ اٹھتا لیکن اب بھی یہ شکایات ایسی شدید اور خطرناک نہیں شکست کھانے والے نے اپنی موجودگی کا احساس تو دلانا ہی ہے کیوں کہ اس کے تو تمام خواب چکنا چور جو ہوگئے ۔سارے سیاست داں اے این پی کے غلام احمد بلور جیسے صاف ستھری سیاست اور سچائی پسند تو نہیں جنہوں نے اپنے حلقے کا نتیجہ جو کہ غیر حتمی اور غیر سرکاری تھا سنتے ہی میڈیا پر کہا کہ وہ اپنی شکست قبول کرتے ہیں۔ سلام ہو ایسے سیاست داں پر۔ بلور خاندان دہشت گردی کی شدید لپیٹ میں ہے کئی اہم شخصیات کی شہادت ہوچکی ہے ، ہارون بلور اسی انتخاب میں خود کش حملے میں شہید ہوئے۔

جن لوگوں نے 1977 کے انتخابات دیکھے وہ گواہی دیں گے کہ جب نتائج آ رہے تھے اور عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف تمام سیاسی جماعتوں کوشکست دیتی ہوئی ذوالفقار علی بھٹو کی سربرہی میں فتح کی جانب بڑھ رہی تھی مجھے تو 1977 کے وہ انتخابات یاد آگئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی پورے پاکستان میں اسی طرح فتح حاصل کی تھی۔ اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابل مذہبی جماعتوں کا ایک اتحاد نو ستاروں (پاکستان قومی اتحاد)سے مشہور ہوا ، کیونکہ اس میں نو مذہبی اور سیاسی جماعتیں شامل تھیں۔ یہ ملک میں ہونے والے چوتھے انتخابات تھے جو 7 مارچ 1977ء کو ہوئے تھے ۔ قومی اتحاد نے شکست قبول نہیں کی اور بھٹو صاحب پر اس قدر پریشر ڈالا کہ بھٹوصاحب کو چین ہی نہ لینے دیا۔ اللہ کرے عمران خان مخالف طاقتوں کا مقابلہ کر سکے، ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے میں کامیاب ہوجائے۔ عمران خان کی 22 سالہ جدوجہد بار آور ثابت ہوئی ، اب تک کے نتائج کے مطابق مرکز میں بہ آسانی حکومت تشکیل پاجائے گی، اسی طرح خیبر پختونخواہ کے علاوہ بلوچستان میں اتحادیوں کے ساتھ اور پنجاب میں بھی آزاد اراکین اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے میں کامیاب تو ہوجائیں گے لیکن مخالف سیاسی جماعتیں ان کے خلاف محاذ بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ کیونکہ عمران خان نے نواز شریف اور آصف علی زرداری کو خوب خوب دوڑایا یہاں تک کہ ایک کو اڈیالہ جیل پہنچا دیا دوسرے کے ساتھ کیا ہوتا ہے کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔

عمران خان نے جو وکٹری اسپیچ کی وہ ایک منجھے ہوئے اور اعتدال پسند سیاست داں کے خیالات تھے۔ گفتگو میں انکساری اور عاجزی دکھائی دی، جو اقتدار کی کرسی پر بیٹھنے جارہا ہو ، اس قدر نرمی، شفقت ، بردباری کا اظہار کرے، یقینا قابل تعریف بات ہے۔ انتخابات مہم والا عمران خان نظر نہیں آیا ، یہ ایک اچھی علامت اور رویت ہے ۔ مخالفین اسے جو نام بھی دیں لیکن یہ اس کی کشادہ دلی ہے ۔ عمران خان نے اپنی تقریر میں سب ہی اچھی باتیں کیں۔ پاکستان کو وہ ملک بنا نے کا کہا کا خواب قائد اعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا ، انتخابی کے دوران شہید ہوجانے والے اکرام اللہ گنڈا پور، ہارون بلور ، سراج رئیسانی اور دیگر لوگوں کی شہادت کا ذکر کیا،سادگی اختیار کرنے اوراخراجات کم کرنے کی بات کی، ٹیکس کلچر بنانے کا کہا، اداروں کو مضبوط کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا، مسئلہ کشمیر پر بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی،بھارت کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر افسوس کا اظہار بھی کیا،چین سے تعلقات کو اور مضبوط کرنے اور سی پیک کے استعمال کا کہا، ایران ، سعودی عرب، مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا ذکر بھی کیا، ٹیکس کے پیسوں کی حفاظت کا یقین دلا یا، غرض داخلی، خارجی، کرپشن، گورننس ، سادگی، قانون کی بالا دستی، تعلیم، تارکین وطن، انوسٹمنٹ، دھاندلی اور دیگر اہم مسائل پر مثبت گفتگو کی ۔ مخالفین کو انتقام کا نشانہ نہ بنانے کی باتیں حوصلہ افزا ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گزشتہ سالوں میں ان کی ذات کو نشانہ بنایا گیا، وہ ان سب باتوں کو بھول چکے ہیں، سیاسی مخالفین کے خلاف انتقامی کاروائی نہیں کریں گے۔ الیکشن میں دھاندلی پر ان کا کہنا تھا کہ جو کوئی کسی جگہ بھی کسی قسم کی دھاندلی کی نشاندھی کرے گا وہ اس حلقے کے نتائج کھولنے میں اس کے ساتھ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اور نگراں حکومت نواز لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ملکر تشکیل دیں تھی۔

انتخابات میں بڑے بڑے سیاسی پنڈت اپنی آبائی سیٹ بھی نہ بچا سکے ، پی ٹی آئی کے امیدواروں کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔ بعض جماعتیں تو ایک بھی سیٹ نہ لے سکیں۔ مولانا فضل الرحمٰن، سراج الحق، انجینئر امیر مقام، بلاول بھٹو زرداری لیاری کی سیٹ کھو بیٹھے، لیاری کی سیٹ 1970سے پیپلز پارٹی کے پاس تھی، گویا نصف صدی سے جو سیٹ پیپلز پارٹی کے پاس تھی وہ ان انتخابات میں بلاول کے ہاتھوں پی ٹی آئی کے امیدوار شکور شاد کے پاس چلی گئی، اسی طرح شہباز شریف، آفتاب شیر پاؤ، یوسف رضا گیلانی، منطور وٹو، خاقان عباسی، فاروق ستار، اسفند یار ولی، مصفیٰ کمال، رعنا افضل، بلیغ الرحمٰن، سائرہ افضل، چودھری نثار کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ تحریک پاکستان کو جیت تو حاصل ہوگئی ہے ساتھ ہی اس پر بہت بھاری ذمہ داری بھی آن پڑی ہے کہ وہ کس طرح انصاف کرتے ہیں،عمران خان صاحب نے انتخابی مہم میں جو وعدے کیے وہ انہیں یاد رکھتے ہیں یا بھول جاتے ہیں، ملک کے معاشی حالات بہت ہی دِگرَ گوُں ہیں، خزانہ خالی ہوچکا ہے، ملک مقروض ہوچکا ہے، ڈالر کی بھڑتی حیثیت کو کس طرح کنٹرول کیا جاسکتا ہے، بے روز گاری ہے،نئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے، غربت کاخاتمہ، صحت کے مسائل، پانی کا مسئلہ ، ڈیم بنانے کے مسائل ایسے گھمبیر اور برس ہا برس سے چلے آرہے ہیں کہ ان پر توجہ دینا ضروری ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، اس کے لیے کسی جہاں دیدہ پڑھی لکھی شخصیت کو خارجہ کے امور سونپے جائیں۔

دیکھا جائے تو عرضہ دراز کے بعد ملک میں مختلف سیاسی جماعت کو حکمرانی کا موقع ملا ہے ، اس سے قبل فوجی حکمرانوں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی ہی حکمرانی کرتی رہی ہیں۔ تحریک انصاف اپنی22 سالہ سیاسی جدجہد کے نتیجے میں یہ کامیابی حاصل کرسکی ہے۔ اس کامیابی کو ذائع کرنے کے بجائے ملک اور ملک کے عوام کی حالت کو بہتر سے بہتر بنانے کی پوری کوشش کرنا ہوگی۔انتخابی معرکہ ختم ہوچکا ہے ساتھ ہی عمران خان کا کڑا امتحان شروع ہوگیا ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ وہ جس طرح انتخابی مہم میں کامیاب رہا ، ملک و قوم کو مشکلات سے نکالنے میں بھی کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ عمران خان سے لوگوں کو بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ امید ہے کہ وہ پاکستانی عوام کو مایوس نہیں کریں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: