ڈپریشن سے خودکشی تک —- ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 157
    Shares

کیٹ اسپیٹ کامیاب تھی، خوبصورت تھی، اس کا خاندان تھا، نام تھا، شہرت تھی مگر اس نے بالآخر اپنی جان لے لی۔

انتھونی بورڈائن معروف تھا، پیسے والا تھا، کامیاب تھا، ہزاروں لوگوں کے لیے وہ ایک مثال تھا مگر اس نے بالآخر اپنی جان لے لی۔

روبن ولیم کو کون نہیں جانتا، روبن نے اپنی جان لے لی، سارہ شگفتہ نے اپنی جان لے لی، سلویا پلاتھ نے اپنی جان لے لی، کتنے نام لکھوں، کتنے نام؟ صرف 2014ء میں امریکا میں 45,000 لوگوں نے خودکشی کی۔ کیا 45,000 نام اس مضمون میں لکھے جا سکتے ہیں؟ اور یہ تو صرف امریکا کے صرف ایک سال کے اعداد و شمار ہیں، ساری دنیا کے اعداد و شمار کیا ہیں، کیا آپ اور میں جانتے ہیں؟ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق آج دنیا میں سب سے بڑی سب سے ہولناک بیماری ٹی بی یا ایڈز نہیں، کینسر یا ڈینگی نہیں بلکہ مایوسی کی بیماری یعنی طبی ڈپریشن (Clinical Depression) ہے۔

جب 2007ء میں ہماری طبی نفسیات کی تربیت شروع ہوئی تو ہمیں ابتداء میں سائیکوسس (Psychosis) کے شکار افراد کے علاج کا موقع ملا۔ عمومی طور پر نفسیات کے ہر طالب علم کے لئے سائیکوسس کی مختلف صورتوں کا علاج کرنا کسی عذاب سے کم نہیں ہوتا۔ مگر جب ہمیں پہلا ڈپریشن کا مریض علاج کرنے کے لئے ملا تو ہمارے ہوش ٹھکانے آ گئے۔ مایوسی کسی خوفناک اژدہے کی طرح انسان کو نگل لیتی ہے، لوگ اوپری طور پر مسکراتے رہتے ہیں، اپنی زندگی جیتے رہتے ہیں۔ جب وہ اپنی دکھ، اپنی تکلیفیں کسی کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں تو لوگ نیم دلی سے آدھی بات سن کر ہی کہہ دیتے ہیں کہ ’’ارے مضبوط بنائو۔ قوت ارادی (Will Power) کو مضبوط بنائو‘‘ یا یہ کہ ’’ارے کچھ نہیں ہوتا، سب خود ہی ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔ مگر سب اس طرح خود ہی سے ٹھیک نہیں ہوتا اور قوت ارادی کوئی جادو نہیں ہے۔ نتیجہ یہ کہ مایوسی کا مریض اپنے غم کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے، بقول شاعر۔

کسی کا حال کوئی رک کے پوچھتا بھی نہیں
کسی کی سمت کوئی مڑ کے دیکھتا بھی نہیں

زمانہ اپنے کاموں میں مصروف ہے۔ جو غریب ہے اسے لگتا ہے کہ امیر آدمی کیونکر مایوس ہو سکتا ہے؟ اس کے پاس کس چیز کی کمی ہے؟ لوگ سننے کو تیار نہیں ہوتے اور سن لیں تو ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ پھر خاندان کا سپورٹ سسٹم مغرب میں مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے اور اس جدید مسابقت بھری زندگی میں روحانیت کا خلاء ہے۔ ایک ایسا خلاء کہ جس کو نہ شراب اور عیاشیوں سے پاٹا جا سکتا ہے نہ اینٹی ڈپرسنٹ (Anti-Depressant) دوائوں سے۔ جب انسان کا تعلق نہ خدا سے رہے، نہ انسانوں سے تو صرف اور صرف دولت، طاقت، شہرت کی دوڑ بھی آخر کس کام کی؟ دولت کس کے لئے؟ طاقت اور شہرت کس لئے؟اگر کوئی رشتہ ہی نہیں، اگر کوئی دوسرا ہے ہی نہیں کہ جو آپ کی کامیابیوں پر خوش ہو، ایسے میں انسان کے ہر طرف خلاء ہی خلاء ہوتا ہے اور یہ خلاء یہ خالی پن (emptiness) انسان کو آخر میں اتنا بیزار، اتنا تنگ کر دیتاہے کہ وہ اپنی جان لے لیتا ہے۔

مگر ایسا نہیں کہ لوگ مایوسی کا شکار ہو کر صرف اپنے ارد گرد لوگوں سے ہی مشورے ہی لیتے ہیں۔ لوگ نفسیاتی معالجین کے پاس بھی جاتے ہیں۔ مگر ان معالجین کی کثیر تعداد ان کے ساتھ وہ کرتی ہے کہ جو عام لوگ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہ نفسیاتی معالجین وقتی طور پر مایوس شخص کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیتے ہیں اور بائیو سائیکو سوشل (Bio-Psyche-Social) ماڈل کے تحت مریض کو دوا بھی دلوا دیتے ہیں اور اس کی سماجی سرگرمی (بلکہ معاشی سرگرمی) کے حوالے سے بھی کام چلائو رہنمائی کر دی جاتی ہے۔ اب بیچارہ مریض بالکل کسی مرمت شدہ گاڑی کی طرح دوبارہ اسی ماحول میں پہنچا دیا جاتا ہے، اسی ماحول میں کہ جس نے اسے مایوس کیا تھا۔ اب اس پر ایک نیا مایوس کن انکشاف ہوتا ہے، اور وہ یہ کہ ماحول کو نہیں اسے اور صرف اسے بدلنا ہے۔ اسے سب کچھ برداشت کرنا ہے اور مسکرانا ہے۔ اسے اسی خلاء میں زندگی گزارنی ہے، اسے اپنے خواب تیاگ دینے ہیں۔ مگر یہ خواب بڑی عجیب چیز ہے۔ اسٹیفن زویگ نے جب دیکھا کہ ہٹلر اور موسولین نے اس یورپ کو مکمل طور پر بدل دیا ہے جو اس کا خواب تھا تو اس نے لاطینی امریکا کی عافیت کو بھی اپنے لئے گراں سمجھا اور اپنی جان لے لی۔ زویگ کے ناول ’’ترس سے ہوشیار‘‘ کی ہیروئن نے خود کشی کر لی، اس لئے کہ اس کا خواب ٹوٹ گیا۔ لیوٹالسٹائی کی آننا کرنینا نے خود کشی کر لی، سلویا پلاتھ نے خودکشی کر لی اور دوستوئفسکی کے کریلوف نے خودکشی کر لی۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ خودکشی میں بھی ایک قاتل ضرور ہوتا ہے، بقول شاعر۔

آدمی خود کبھی نہیں مرتا
دوسرے لوگ مار دیتے ہیں

چند سال قبل کچھ پرانی تصویروں کے درمیان اپنی ایک استانی کی تصویر پر نظر پڑی۔ رنج ہوا۔ محترمہ ایک عرصہ تک نفسیاتی مریضوں کا علاج کرتی رہیں اور طبی نفسیات پڑھاتی رہیں اور تنہا زندگی گزارتی رہیں اور بالآخر انھوں نے حالات سے تنگ آ کر اپنی جان لے لی۔ خود فائر فائٹر کے گھر میں بھی تو آگ لگ سکتی ہے؟ اور نفسیاتی معالج کا علاج کون کرے گا؟ مرا ہوا انسان تو محض ایک نمبر ہی ہے۔ آپ نے پڑھا کہ صرف 2016 میں 45,000 افراد نے صرف امریکا میں خود کشی کی. آپ پر اس عدد 45,000 کو پڑھ کر کیا اثر ہوا؟ کچھ بھی نہیں تو پھر آپ پر کیا فرق پڑتا ہے کہ کیٹ اسپیٹ، سارہ شگفتہ، روبن ولیم، انتھونی بوڑائن وغیرہ وغیرہ نے خود کشی کر لی؟ آپ لوگوں کی شکلیں دیکھ کر ان کے بارے میں اتھلی رائے قائم کرتے رہیے. ان کے رونے پر، کمزور ہونے پر ہنستے رہیے اور اپنی مضبوطی پر غرور کیے جائیے۔ یہ انسان تھوڑی ہیں، محض اعداد و شمار ہیں، صرف نمبرز، اس لئے آپ خوش رہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: