تبدیلی کی نئی صبح کا سلام ۔۔۔۔۔۔۔۔ ثمینہ رشید

0
  • 198
    Shares

خوشی سے تیز دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ آنکھوں میں امیدوں کے چراغ جلائے، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں لوگ اپنے اپنے ٹی وی اسکرینز کے سامنے، موبائل کی اسکرینز کو اسکرول ڈاؤن کرتے یا اپنے لیپ ٹاپ پر لائیو نشریات پر نظر جمائے اپنے خوابوں کو تعبیر ہوتا دیکھ رہے تھے۔

یہ عام دن تھا نہ یہ کوئی عام سی شب۔ پچیس جولائی کے دن کے خوشگوار اختتام پر یہ رات بہت خاص تھی ۔ ستر سال گزرے لیکن دو ہزار اٹھارہ کی پچیس جولائی کو ایک نئی تاریخ رقم ہونے جارہی تھی۔

ایک طرف اشرافیہ تھی ان کی دولت و حشمت اور کرپشن کے پیسوں کا ایک سیل رواں تھا جو میڈیا ہاؤسسز کو بھاری قیمت ادا کرتا تو کبھی دانشوروں کی دانش کو مول لے لیتا تھا۔ کبھی یہ اشرافیہ طاقت کا استعمال کرکے اداروں کو یرغمال بنا لیتا تھا تو کبھی راہ میں آنے والے ہر شخص کو کچلتا ہوا گزر جاتا۔

جب ایسا سورج طلوع ہوا جو ڈوبنے سے پہلے دنیا کو یہ پیغام دے گیا کہ پاکستانی قوم ایک ایک آزاد اور زندہ قوم ہے۔ جو کرپٹ عناصر، ساہوکاروں اور سوداگروں سے نجات حاصل کرنا جانتی ہے۔

تو دوسری طرف زنجیروں سے جکڑی سوچ سے پیچھا چھڑا کر آزادی کی اڑان بھرنے کے خواہشمند پنچھی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہیں سوچ کی آزادی کی ایک سنہری جھلک نے دیوانہ بنادیا تھا۔ اور سوچ کی آزادی کا یہ تحفہ دینے والا جیسے ایک ساحر تھا جو اپنی سچائی سے چمکتی آنکھوں سے، اپنے آہنی ارادے سے اور ناقابلِ شکست اور پر عزم لہجے صدیوں کے غلام سوچ کے غلاموں کو غفلت کی نیند سے بیدار کرتا جاتا ہے۔

اشرافیہ کا وہ طاقتور ٹولہ جو اس ملک کے طول و عرض میں پھیلا تھا ہر طرح سے اس پرعزم کھلاڑی اور لوگوں کے کپتان کو روکنے کو تیار تھا۔ اور جب خود کو اسکے مقابلے میں کمزور پاتا تو ایسا سرمئی دھواں ہر طرف پھیلا دیتا جو بصیرت و بصارت پر اثر کرسکے۔

یہ بھی پڑھیے: کیا پاکستان، اشرافیہ کے مستقل سرکس کے لئےقائم ہوا تھا؟ نعمان علی خان

 

اس اشرافیہ نے بہت چاہا کہ صدیوں سے غلام اور جھکے ہوئے سر اسی طرح رہیں۔ لیکن کپتان کے لہجے کی سچائی سب کو اسیر کرتی جاتی تھی اور ان کے سارے حربے ناکام ہوئے جاتے تھے۔ ہر کوشش کے باوجود روز کپتان کی ٹیم میں لوگ بڑھتے چلے جاتے اور اشرافیہ کے سارے وار خالی چلے جاتے۔

پھر چشم فلک نے پچیس جولائی کا دن بھی دیکھا جب ایسا سورج طلوع ہوا جو ڈوبنے سے پہلے دنیا کو یہ پیغام دے گیا کہ پاکستانی قوم ایک ایک آزاد اور زندہ قوم ہے۔ جو کرپٹ عناصر، ساہوکاروں اور سوداگروں سے نجات حاصل کرنا جانتی ہے۔ جنہیں آگہی کا تحفہ مل چکا ہے اور وہ اشرافیہ کے بچھائے جال سے نکل کر آزاد پرندوں کی اُڑان بھرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ جو غلام بن کر نہیں آزاد اور خود مختار شہری بن کر رہنا اور جینا چاہتے ہیں۔ آئین میں درج بنیادی حقوق کے شیڈول میں درج سارے حقوق کے ساتھ ۔ نہ کم نہ زیادہ۔

اور یہ تبدیلی کا وہ قافلہ ہے جو پچیس جولائی کو اپنی منزل کی جانب پہلا قدم بڑھا چکا ہے جب چھبیس جولائی کا سورج طلوع ہوگا تو بڑے بڑے برج گر چکے ہونگے منافقتوں کے برج، دین فروشوں کے برج اور سب سے بڑھ کر اپنی شکست کو تسلیم کرنے سے گریزاں صدیوں سے مسلط حکمرانوں کےبرج۔ جو نعرہ لگاتے ہیں کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ لیکن جب بات آتی ہے کپتان کے ووٹوں کی تو ان کے اصول لمحہ بھر میں بدل جاتے ہیں ۔

انہیں لگتا ہے کہ جس طرح وہ لوگوں کی گردنوں پر پاؤں رکھتے اقتدار کی مسند تک پہنچے تھے شاید کپتان بھی اسی راستے کا مسافر ہے ۔ لیکن وہ یکسر غلط ہیں ۔ ان کی شکست خوردگی کا یہ عالم ہے کہ یہ آنکھوں دیکھی سچائی دیکھنے سے قاصر ہیں۔ اور دیکھ بھی لیں تو تسلیم کے ظرف سے محروم۔

لیکن ہر اقتدار کا اختتام ہے اور ہر ظلم کا ایک انجام ہے۔ ان کے تسلیم نہ کرنے سے نہ اختتام بدل سکتا ہے نہ انجام۔ موقع پرست دانشوروں کا وہ ٹولہ جو کل اس اشرافیہ کے دائیں بائیں موجود تھا آج ایک نئے دروازے کی تلاش میں ہے۔ اور اپنی وفاداریوں کا رخ جلد از جلد بدلنے کا خواہشمند ہے ۔

اقتدار کا ظلِ ہما حکمرانوں کے سر سے اُڑ چکا ہے اور ان کی چیخیں آسمان سے باتیں کرتی سنائی دیتی ہیں۔ نہ انہیں اپنے ظلم یاد ہیں، نہ ناانصافیاں اور نہ سیاہ اعمال نامے۔ یاد ہے تو اقتدار چھن جانے کا دکھ۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ جلد تسلیم کر لیں کہ شکست ان کا مقدر ہے۔ حقیقی فتح نہیں مل سکتی کہ جب تک لوگ آپ کے ساتھ نہ ہوں ورنہ پچیس جولائی کا سورج ایک انقلاب نہ دیکھ پاتا ۔

تبدیلی جس کو ثبات ہے
تبدیلی جو سوچ تبدیل کرنے کی طاقت رکھتی ہے

آج سوچ کی آزادی کے رستے پر گامزن قافلہ خوش امیدی کے چراغ جلائے اپنی منزل کی جانب پہلا قدم رکھ چکا ہے۔

یہ پچیس جولائی تاریخ میں امر ہے اور سنہرے حروف میں لکھی جائے گی۔

اس قافلے کے ہر مسافر کو
کپتان کے ہر کھلاڑی کو
تبدیلی کی اس نئی صبح کا سلام

نئی صبح ، نئی امید ، نئے خواب کے رنگ
میری زمین پہ اترے ہیں سب بہار کے رنگ

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: