کیا انتخابی نتا ئج متوقع ہو سکتے ہیں؟ وقاص افضل

0
  • 10
    Shares

فکر فردا
مجھے بہت اچھے سے یاد ہے تب سیکنڈری اسکول کا امتحان پاس کر نے کے بعد کالج کے ابتدائی ایا م تھے۔ اُن دنو ں سکو ل کے طالب علمو ں کا سیا سی شعور اتنا اچھا نہیں ہو اکرتا تھا۔ اب سولہ برس بعد بالی عمرکے نوجوانو ںکی سیا سی جما عتو ں کے ساتھ جذباتی وابستگی اور سیا سی فہم بہت بڑھ چکا ہے ۔ نوجوان اب یہ سمجھتے ہیں کہ وہ انتخابات میں عملی طور پر سنجیدگی سے شامل ہو ں گے تو ہی ملک کے حالا ت بدلیں گے ۔ اکتوبر 2002کے جنرل الیکشن سے پہلے کا سیا سی ماحول کس قدر یکطرفہ ہو گا یہ سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے ۔ شریف خاندان کی جلا وطنی کے بعد مشرف صا حب کی ایماپر مسلم لیگ قائداعظم گروپ کا قیا م عمل میں آیا ۔ میا ں محمد اظہر جو کہ اِس وقت بہت پس منظر میں جا چکے ہیں اُس جما عت کے روح رواں مانے جا تے تھے ۔ انتخابات سے ایک دن قبل تک وہ متوقع وزیراعظم سمجھے جا تے تھے ۔ گمان غالب ہے کہ اُن کی وزیر اعظم کا حلف لینے کے لیے پہنے جانے والی شیروانی بھی تیا ر تھی ۔ مگر پاکستا ن میں انتخا بات کبھی بھی اتنے متوقع نتا ئج نہیں دیتے اگر دے بھی دیں تو بھی بڑے بڑے برُج گرنا لازم ٹھہر جا تا ہے۔

2002 کے انتخابات میں میا ں اظہر لا ہور اور شیخوپورہ کے ایک ایک حلقے سے قومی اسمبلی کا الیکشن لڑ رہے تھے۔ یہ حلقے باہم متصل ہیں۔ لا ہور ون موجودہ این اے 123 تھا ۔جہا ں سے اُن کا مقا بلہ مسلم لیگ ن اور جما عت اسلامی کے متفقہ امیدوار ستا رہ کے انتخابی نشان والے حافظ سلمان بٹ سے تھا ۔ جبکہ شیخوپورہ کے حلقے میں اُن کا مقا بلہ ن لیگ کے امیدوار میا ں جلیل احمد شرقپو ری سے تھا جو بعد ازاں ق لیگ میں شامل ہو گئے اور ق لیگ کی حما یت سے ہی ضلع ناظم شیخوپورہ بھی رہے ۔ چشم فلک نے یہ معجزہ بھی دیکھا مسلم لیگ ق نے اپنے پہلے ہی الیکشن میں فقید المثا ل کامیابی حاصل کی جبکہ اس جما عت کے آن پیپر اہم ترین شخص اور وزیر اعظم کے امیدوار میاں محمد اظہر اپنے دونو ں حلقوں سے ہا ر گئے ۔ جس کے بعد بظاہر چودھری برادارن کے ہاتھ مسلم لیگ ق کی باگ دوڑ آ گئی۔

2013کے انتخابا ت کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ یہ کا فی حد تک متوقع نتیجے والے ا لیکشن تھے۔ مگر یہ بات بھی کلی طور پر درست نہیں ہے۔ آپ مئی 2013سے پہلے کے تبصرے اُٹھا کر دیکھ لیں یہ بات کُھلے بندوں کہی جا تی تھی کہ اب شاید کبھی پاکستا ن میں ایک سیا سی جماعت بھاری مینڈیٹ حاصل نہ کرسکے اور حکومتیں اب2008 کی طرز پر مخلوط ہی بنا کریں گی۔ بڑے سیا ست دانو ں کو بھی شراکت اقتدار برادشت کرنا ہی پڑے گا۔ لیکن ن لیگ نے سب کو سرپرا ئز کرتے ہوئے بھاری اکثریت حاصل کی ۔ در حقیقت ن لیگ بھی سابقہ انتخابات میں اس قدر کامیابی کا نہیں سوچ رہی تھی ۔ اس بات کو تقویت اقلیتی ارکان اور خواتین کی مخصو ص نشستو ں کے لیے جمع کرائی جانے والی فہرست سے ملتی ہے چونکہ یہ مخصوص نشستیں عام انتخابات میں حاصل کی جانے والی سیٹوں کے تنا سب سے دی جا تی ہیں ۔ الیکشن سے پہلے جو اقلیتی و خواتین ارکان کی فہرست جمع کرائی وہ انتخابات کے بعد کم پڑگئی اور ن لیگ نے نئی ترمیم شدہ فہرست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی ۔

حالیہ انتخابات تو اپنے انعقادسے پہلے ہی متنا زعہ ہو رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کے علا وہ تمام بڑی جماعتیں انتخابات پر تحفظات کا اظہا ر کر چکی ہیں ۔ تحریک انصا ف کے لیے بھی انتخابات میں کامیابی اتنی سہل نہیں ہے لیکن تحریک انصا ف کے قائد عمران خان سمیت پو ری جما عت کو بڑے مارجن سے کامیابی کی قوی امید ہے ۔ خان صا حب کے قول و فعل سے تو یہ عیا ں ہو تا ہے کہ اُن کے اور وزیر اعظم ہاوس کے درمیان صرف یہ چند دنو ں کا انتظار ہی حائل ہے ۔اس بات میں بھی شک نہیں ہے کہ تحریک انصاف اپنے لیے سا زگار فضا قا ئم کرنے میں کا میا ب ہو چکی ہے ۔جس کا ایک ثبوت ’’بلے‘‘ کے انتخانی نشان کی بہت زیا دہ مانگ بھی ہے ۔لیکن راقم یہ بات ہضم کرنے سے قاصر ہے کہ کیا پا کستا ن میں انتخابی نتا ئج اتنے زیادہ متو قع ہو سکتے ہیں ؟ کیا یہ ممکن ہے انتخابا ت سے قبل کے تجزیے،تبصرے من و عن درست ہو جا ئیں اور عمران خان وزیر اعظم پا کستا ن بن جا ئیں ؟

خان صا حب کے ساتھ 2002 کے انتخابات میں میا ں محمد اظہر والا سلو ک ہو نے کے تو بہت کم چا نسز ہیں۔کیو نکہ جتنے زیا دہ حلقوں سے وہ انتخاب لڑرہے ہیںیہ بہت مشکل ہے کہ وہ تما م حلقوں سے الیکشن ہار جا ئیں ۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے میں آزاد امیدوار بھی رکا وٹ بن سکتے ہیں ۔جیپ کا انتخابی نشان اہمیت حاصل کر رہا ہے ۔ چہ مگو ئیا ں یہ بھی ہو رہی ہیں، جیپ، والو ں کے طفیل چو ہدری نثا ر بھی وزیر اعظم کے متوقع امیدوار ہو سکتے ہیں۔ شنید ہے کہ پیپلز پا رٹی بہت زیا دہ نشستیں حاصل کرنے میں کامیا ب نہیں ہو سکے گی لیکن جو ڑ تو ڑ کی خداداد صلا حیتیو ں کے حامل آصف علی زرداری کی وجہ سے پیپلز پا رٹی بھی وزیر اعظم کی دوڑ میں عمران خان کو شاید کامیاب نہ ہو نے دے۔ ویسے بھی پا کستا ن پیپلز پا رٹی شا ید وہ واحد جما عت ہے جو اپنے قیا م کے بعد سے ہر الیکشن میں ہر صوبے سے عددی حیثیت قائم کرنے میں کامیا ب ہو ئی ہے ۔ ایک سوچ یہ بھی تقویت پا رہی ہے کہ تین دہا ئیو ں کے بعد ان عام انتخابات میں بھی مذہب و مسلک کو بنیا د بنا کر ووٹ ڈالیں جا ئیں گے۔ نو مو لود مذہبی سیا سی جما عتیں الیکشن نتا ئج پر کچھ نہ کچھ حد تک اثرانداز ہونے میں کا میا ب ہو جا ئیں گی۔دیکھیں حالات کس کروٹ بیٹھتے ہیں لیکن ہماری تا ریخ گواہ ہے کہ الیکشن سے پہلے جو مسند اقتدارکے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں، اُن کا اقتدار کے ایوانو ں سے باہر ہو جانا لازم ٹھہر جا تا ہے ۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: