نواز شریف: خرم مراد کی نظر میں —– سمیع اللہ خان

0
  • 100
    Shares

پاکستانی رائے عامہ آج جس “شریفانہ طوفان” کی زد میں ہے وہ کم از کم میرے لیے حیران کن نہیں ہے۔ کیونکہ عین انتخابات کے ہنگام “شریفوں” کے ترکش سے جو نت نئے تیر پاکستانی دل ودماغ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ماضی میں ایسے تیروں سے پہلے پیپلز پارٹی اور بعد میں جماعت اسلامی کا جو حشر ہوا وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ قومی شعور کو مفلوج کرنے کا ملکہ جس طرح ہمارے عہد کے ان شریف سامریوں کو حاصل ہے اس بناء پر ہر دور کے نمرود کی یہ یقینی آرزو رہی ہوگی کہ کاش اس سامریت سے وہ بھی مستفید ہوتا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ مئی 1993ء میں جماعت اسلامی نے آنےوالے انتخابات (اکتوبر 1993) میں حصہ لینے کے لیے ایک وسیع تر پلیٹ فارم پاکستان اسلامک فرنٹ یعنی (PIF) بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس پلیٹ فارم کا مقصد توسیع اور تنظیم کے ذریعے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد کو اپنےمشن کی ادائیگی کے لیے متحرک اور منظم کرنا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب جماعتِ اسلامی اور اس کے امیر، محترم قاضی حسین احمد کے خلاف ن لیگی سامریوں کی جانب سے وہ مہم برپا کی گئی جس کے نتیجے میں بالآخر جماعت اسلامی نہ صرف یہ کہ فکری طور پر تقسیم ہوئی بلکہ عملاً تنظیمی طور پر بھی تقسیم ہوئی اور جماعت کے بطن سے تحریک اسلامی نے جنم لیا جس کے روح رواں جناب نعیم صدیقی صاحب تھے اور اتفاق سے آج بھی جن دو صدیقین کی دامے، درمے اور سخنے حمایت میاں نوازشریف کو حاصل ہے، وہ دونوں محترم نعیم صدیقی صاحب کے خانوادے سے بتائے جاتے ہیں۔

جماعت اسلامی، 1993ء کے انتخابات کے لیے جماعت کا تشکیل کردہ پلیٹ فارم اسلامک فرنٹ اور پاسبان کے خلاف شریف سامریوں نے جن مورچوں سے بیٹھ کر پروپیگنڈے کا طوفان برپا کیا تھا ان میں نمایاں جنگ اخبار اور کراچی سے سید صلاح الدین صاحب کی ادارت میں شائع ہونے والا ہفت روزہ تکبیر تھا۔ جماعت کا دفاعی محاذ روزنامہ جسارت اور ماہنامہ ترجمان القرآن نے سنبھالا تھا، ترجمان القرآن کی ادارت جناب خرم مراد مرحوم کے ذمے تھی۔ شریف سامریوں کے روازنہ کی بنیاد پرمبنی مسلسل پروپیگنڈے کا سب سے موثر جواب خرام صاحب کے تحریر کردہ اشارات ہوتے تھے مگر مسلہ یہ تھا کہ ترجمان القرآن ماہنامہ تھا اس کے آنے تک جماعت اسلامی کا مخلص اور بے لوث کارکن خون کے آنسو روتا۔
آج کے سیاسی منظرنامے اور “جمہور کی بالادستی” کے بیانیے کو سمجھنے کے لیے ہمیں ماضی میں جانا پڑے گا۔ سہولت اور بہتر تفہیم کی خاطر یہ وضاحت ضروری ہے کہ ماضی میں ن لیگی سامریوں نے جس طرح پیپلز پارٹی کو ایک شیطان کی صورت میں پیش کیا آج اسٹیبلشمنٹ، عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کو پیش کیا جارہا ہے۔

آج کی طرح کل بھی ن لیگی سامریوں کے پاس جو سب سے بڑی دلیل تھی وہ خرم صاحب کے الفاظ میں یہ تھی کہ،
“1970 ء سے لے کر آج تک کے سارے انتخابات پیپلزپارٹی کے محور پر ہی لڑے جاتے رہے ہیں۔ اب تک تحریک (جماعت اسلامی) کی انتخابی پالیسی میں اسی عامل کو فیصلہ کن حیثیت حاصل رہی ہے۔ آج بھی لوگوں کا یہ اصرار قابلِ فہم ہے کہ تحریک اپنا وزن پیپلزپارٹی کے خلاف، مسلم لیگ کے پلڑے میں’ ڈالے۔ وہ (نواز شریف و مسلم لیگ) بہت اچھے نہ سہی لیکن بہرحال چھوٹی برائی ہیں’اور بڑی برائی(پیپلز پارٹی) کی راہ روکنے کے لیےاس چھوٹی برائی کا ساتھ دینا ضروری ہے۔ ان کی یہ بات بھی بالکل بے وزن نہیں کہ بصورتِ دیگر پیپلز پارٹی کا پلڑا بھاری ہوسکتا ہے۔”

آگے چل کر خرم صاحب فرماتے ہیں کہ پیپلز پارٹی (یا آج کی اسٹیبلشمنٹ) کو شکست دینے کے لیے ان (نوازشریف) کا ساتھ دینا ہو تو ‘یہ جاننا ضروری ہے کہ ان کا ساتھ دےکریہ ہدف حاصل ہوگا؟ اس سلسلے میں چند باتیں سامنے رکھنا ضروری ہیں:

1۔ پہلی بات یہ ہے کہ کیا اب تک وہ (نواشریف) پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں’جو اس مقصد کے لیےآئیندہ کے لیے بھی ان کا ساتھ دیا جائے؟ 1990ء کے انتخابات میں ان کی سربراہی میں اسلامی جمہوری اتحاد نے پیپلزپارٹی کو شکست دی’بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی’پارلیمنٹ میں ان کو دوتہائی حمایت حاصل ہوگئی’اور انھوں نے ایک بڑی مستحکم حکومت بنالی۔ لیکن ان کا اصل امتحان تو یہ تھا کہ وہ انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کو اسی مقام پر رکھتے جس مقام پر اسے انتخاب میں پہنچا دیا گیا تھا۔ اس امتحان میں ان کی ناکامی بالکل عیاں ہے۔ دوسال کے مختصر عرصے میں وہ پشت پناہ قوتوں کی حمایت کھو بیٹھے۔ حلیفوں کو ضائع کردیا اور پیپلز پارٹی کا سائز بڑھا دیا تھا۔ اس کے بعد وہ مقابلے کی دہائی دے کر اپنے زخم خوردہ حلیفوں پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بلا چون وچرا ان کے دست و بازو بن جائیں کہاں معقول رویہ ہوسکتا ہے؟

2۔ دوسری بات یہ ہے کہ پیپلزپارٹی (یا اسٹیبلشمنٹ) سے ان کی اقتدار کی جنگ ہے’اصولوں اور پالیسی و پروگرام کی نہیں۔ جو سماجی، معاشی، تعلیمی اور ابلاغی پالیسیاں انھوں نے بنائیں، پیپلزپارٹی کے نگراں وزیرخزانہ نے انھیں من وعن برقرار رکھا۔ اداروں کے استحکام کی خاطر یہ پیپلز پارٹی سے بحیثیت حزب اختلاف معاملہ کرنے پر تیار نہ ہوئے جو ہماری نظر میں انھیں کرنا چاہیے تھا۔

خرم سے مزید لکھتے ہیں کہ،
“جن سے ہمارا سیاسی اختلاف ہوا ‘ہم نے ان کے خلاف بات کرنے میں عدل و احسان کے تقاضے یاد نہ رکھے۔ ہم بھی بلا ثبوت مخالفین کو غدار قراردیتے رہے اور ان پر ہر نوع کے الزام عائد کرتے رہے۔ ان (پیپلزپارٹی) پر ظلم ہوا’ ہم نے اپنے سیاسی مفاد میں اس ظلم کے خلاف زبان نہ کھولی۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت گرانے کے لیے نوازشریف نے ہارس ٹریڈنگ کی توہم خاموشی اختیار کیے رہے۔ 88ء اور 90ء میں نگراں حکومتوں نے اپنا اقتدار اور وسائل کھلم کھلا ایک جماعت (آئی جے آئی) کو کامیاب کرانے کے لیے استعمال کیے’تو یہاں سے کوئی صدائے احتجاج بلند نہ ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے خلاف سارے الزامات تسلیم لیکن کسی پارٹی کی دشمنی کو ایمان و عقیدے کا جز بنالیناخلافِ ایمان ہے، اور اس کے خلاف نفرت کا زہر گھول گھول کر پلانا دعوت کے مقام و اخلاق کے منافی۔ بلکہ یہ سیاسی حکمت کے بھی منافی ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے ساتھ مستقل نفرت وعداوت کا تعلق ہو۔ ہم یہ کام بھی کرتے رہے ‘یہاں تک کہ ایک دن آگیا کہ جب ہم نےاپنے ووٹ بینک کو سیاسی دشمنی اور دوستی سے بالاتر ہو کر اصول اور ملی مفاد میں اپنا ساتھ دینے کے لیے پکارا ‘تو پیپلزپارٹی کی دشمنی میں خود جماعت اسلامی کے ووٹر نےجماعت اسلامی کو ووٹ دینے سےانکار کر دیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ 1993ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے اپنے ووٹ بینک کے ایک بڑے حصے نےجناب نوازشریف کے حق میں ووٹ دیا۔ ان میں ارکان جماعت بھی شامل ہیں۔ ۔ ۔ کوئی منصف مزاج آدمی اس سے انکار نہیں کرسکتا کہ اگر جماعت اسلامی اپنے پروگرام اور تشخص کی بنیاد پر الیکشن لڑ رہی ہوتی تو بھی نتیجہ یہی نکلتا۔ اگر اسلامک فرنٹ نہ ہوتا، اگر پاسبان اوراس کے کام نہ ہوتے، اگر انتخابی مہم میں ثقاہت سے گرے ہوئے انداز و اطوار اور پروگرام نہ ہوتے، اگر سرخ پٹی والے پرچم کے بجائےکلمہ طیبہ والا پرچم ہوتا، اگر ہم مہم بالکل1970ء کے انداز میں چلاتے، تب بھی نتائج آج یا 1970ء سے مختلف نہ ہوتے۔

1977ء’ 1988ء اور 1990ء میں ہمارے ان ووٹروں کے دل جنھوں نےآج سارے الزامات کے بہانے نوازشریف کو ووٹ دیے، اس بات سے شق نہ ہوئے کہ اب ان کے ہاتھوں میں کلمہ طیبہ کے بجائے نوستاروں کا پرچم ہے جس میں نیشل عوامی پارٹی جیسی سوشلسٹ اور قوم پرست پارٹی کی لیڈر بیگم (نسیم) ولی خان اور اصغر خان صاحب جیسے سیکولر بھی شامل ہیں۔ یہ بات ان کے دین و ایمان پر گراں نہ گزری کہ ہم ان کو ووٹ دے رہے ہیں اور دلوارہے ہیں جو صرف پایہ ثقاہت سے گری ہوئی حرکات کے مجرم نہیں بلکہ شرابی، بدکار، سمگلر، تارکِ فرائض، مرتکبِ کبائر، فاسق اور فاجر مسلمان ہیں۔ اُن انتخابات میں فوٹو بھی تھے اور قدآدم تصاویر بھی’ بلکہ گانے بھی تھے اور رقص بھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور یہ سب “ہمارے” پاکستانی قومی اتحاد (PNA) اور اسلامی جمہوری اتحاد (IJI) کے نمائندے تھے۔ لیکن ہمیں ان منکرات کو نظر انداز کرنے میں کوئی تامل نہ ہوا۔

1988اور1990 میں ہمارے ارکان کے قدآدم پورٹریٹ اور ہورڈنگ ان کے حلقوں میں آویزاں تھے’ان پر کوئی صدائے احتجاج بلند نہ ہوئی۔ 1990ء میں بھی مدمقابل ماں بیٹی(نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو) کے بارے میں غلیظ الفاظ استعمال کیے گئے, مجھے صرف ایک دبا دبا احتجاج موصول ہوا تھا۔

خدا کے لیے، آپ کوئی بھی موقف اختیارکریں، تضاد اور منافقت سے خود کو پاک رکھیں کہ سید مودودی رح کی دعوت کا ایک بنیادی نکتہ یہی تھا۔ میں کہتا ہوں کہ وہی سب کچھ ہوتاکہ جس کے خلاف آج کالم سیا ہ کیے جارہے ہیں’ لیکن صرف اگر قاضی حسین احمدصاحب’ جناب نواز شریف کے ہاتھ میں ہاتھ دے کرکھڑے ہو جاتے’تو ان سارےگناہوں پر پردہ پڑ جاتا’ فرنٹ بھی قبول ہوتا اور اس کا پرچم بھی، پاسبان بھی اور اس کے نوجوان بھی۔ ۔ ۔ ظالم، بدکار و شرابی اور حرام کھانے والے امیدوار بھی سر آنکھوں پر ہوتے (بلکہ اب بھی اس کردار کے لوگوں کو (جماعت اسلامی کے) ارکان تک نے ووٹ ڈالے)۔
اس بات کا احساس ضروری ہے کہ ان انتخابات میں حب و بغض کا معیار اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تھے، ان کے احکامات بھی نہیں، بلکہ صرف پیپلز پارٹی کی نفرت اور نواز شریف کی محبت تھی۔”

اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا۔ ( 93′ البقرۃ)
اسی لیے،
“ہم نے سن لیا، مگر مانیں گے نہیں” (ایضاً) کی روش بھی اختیار کیے رکھی۔”

خرم صاحب مزید لکھتے ہیں کہ،
“مومن کو ایک سوراخ سے دوبار تو نہیں ڈسا جانا چاہیے۔ وہ (نوازشریف) قول وقرار کےلحاظ سے ناقابلِ اعتبار ثابت ہوئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ (نوازشریف) بہت اونچا اُڑرہے تھے۔ وہ اس خیال میں مست تھے کہ جماعت اسلامی ساتھ آئے نہ آئےان کو دو تہائی اکثریت مل جائے گی۔ (پچھلی اسملی میں جماعت کے) آٹھ ممبران ہی دردِسر تھے’مان کر نہ دیتے تھے ‘بڑھ گئے تو دردِسر اور بڑھ جائے گا۔ ان کے حلقہ یاراں نے بھی ان کے دل میں یہ بات بٹھادی تھی ‘کہ مفاہمت جماعت اسلامی کی اپنی ضروت ہے۔ وہ خود سات سیٹ کی خاطر سر کے بل چلی آئے گی۔ آخر 1977ء سے وہ ایسا ہی نہیں کرتی چلی آرہی؟ 1984ء میں کچھ نہ ملا تو بھی اس نے جنرل ضیاءالحق مرحوم کے ریفرنڈم میں ووٹ دیا۔ نہ آئی تو پھر کیا؟اس کے اکابرین اور قلم کار ہمارے ساتھ ہیں۔ ان کا ووٹر 1977ء سے ہماری جیب میں ڈالا جاچکا ہے۔ ان سب کے دباؤ سے آئے گی۔ امیر جماعت (قاضی صاحب)پھر بھی نہ جھکے توووٹر خود ون تو ون مقابلہ کردیں گے۔ جماعت اسلامی کے غبارے سے ہوا نکل جائے گی۔ پھر ایک نئی جماعت اسلامی بنے گی’جو کبھی آپ کے لیے دردِسر نہ بنے گی۔ اس کا فلسفہ یہ ہوگا کہ ہم تو آئندہ پچاس سال بھی زمام کار نہیں سنبھال سکتے ‘اس لیے مسلم لیگ کا دامن تھامے رہواور جو ملتا ہے وہ لے لو۔ وہ (نوازشریف) اس بھرے میں آگئے۔”

یہاں سے آگےخرم مراد صاحب شریف سامریوں کا سب سے کارگر ہتھیارکا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں، یاد رہے کہ آپ نے پیپلز پارٹی کی جگہ آج کے تناظر میں اسٹیبلشمنٹ یا پی ٹی آئی پڑھنا ہے’خرم صاحب لکھتے ہیں کہ،

“اب (یہ) اعتراض بھی لیجیے۔ ۔ ۔ ہم نے ان کی15 تا 19 سیٹیں چھین لیں’اور پیپلزپارٹی کو حکومت دلوادی، اس سلسلے میں بھی چند باتین عرض ہیں:

1۔ پیپلزپارٹی کو اقتدار سے باہر رکھنے کی ذمہ داری صرف جماعت اسلامی ہی کی تو نہیں تھی’اب اگر یہ کوئی اہم دینی ذمہ داری رہ گئی تھی۔ پیپلز پارٹی (یا اسٹیبلشمنٹ)کواقتدارسے باہررکھنے کی فکر اور ذمہ داری ان کی ہم سے کہیں زیادہ تھی کہ ان کا ذاتی مفاد اور ملک وملت کا مفاد اس پر منحصر تھا۔ ہمارے دوست (اور آج کے نواز پرست دانشور)ان سے کیوں نہیں پوچھتے اور ان کا احتساب کیوں نہیں کرتےکہ انھوں نے پیپلزپارٹی کو کیوں آنے دیا؟۔ ۔ ۔ پیپلزپارٹی کو پھر سے قوت کیوں بنوایا؟

2۔ کچھ ایسا لگتا ہے کہ سیٹیں ان کی جاگیر تھیں’جو ان سے چھین لی گئیں۔ حالانکہ انتخابات میں ہر پارٹی اپنا منشور پیش کرتی ہے’اپنے ووٹ لیتی ہے۔ برطانیہ میں کوئی لبرل پارٹی پرالزام نہیں لگاتا کہ تم نے ہماری سیٹیں خراب کردیں۔

3۔ ہمارے ساتھ مفاہمت کرنے کی صورت میں ان (نوازشریف) کو جو کچھ مل سکتا تھا وہ ویسے بھی مل گیا۔ اکابر کی حمایت مل گئی’قلم کار مل گئے۔ اب یہ فرض کرنے کا کیا جوازہے کہ جماعت اسلامی کہ جماعت اسلامی کا ہرووٹ لازماًان کے حق میں پڑجاتااور جن بچے کھچے ووٹروں نے ہمیں ووٹ دیے’ہم میدان میں نہ ہوتے تو وہ لازماً انھیں ووٹ دیتے۔ ہمارے ہاں خاضی قابلِ لحاظ تعداد ایسی ہے جو ان کے ماضی’کرداراور رویوں کو دیکھ کران کے نمائندوں کو کسی صورت میں ووٹ دینے کو تیار نہیں۔

4۔ کیا ہم مفاہمت کرلیتے تو یقیناً جیت جاتے؟واقعاتی شہادت اس کے خلاف ہے۔ 1988ء میں تو امیر جماعت (قاضی صاحب) ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر قریہ قریہ گھومے تھے۔ پھر بھی وہ (نوازشریف) بمشکل پنجاب میں وزارت بنا سکتے تھے۔ وہ بھی اس لیے بن سکی کہ صدراور کمانڈر انچیف ان کی پشت پر تھے۔ (تحریکِ اسلامی، اہداف، مسائل، حل۔ ترجمان القرآن)

تو پیارے پاکستانیو! یہ جال اور حربے نئے نہیں، اس میں سٹیٹس کو کے یہ پروردہ جمہور کے ابلیس تاک ہوچکے۔ ان کا مقابلہ ووٹ ہی سے ممکن ہے۔ اسی ووٹ سے جس کی عزت تارتار کرکے الیکشن کے ہنگام اس کی عزت کے طلبگار ہیں۔ ان حربوں کو اگر ناکام بنانا ہے تو فقط یہ ذہن میں رہے کہ یہ جمہور کے ابلیس ہمارے آزمائے ہوئے ہیں اور آزمائش میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ نئی صبح کے لیے نئی سوچ اور نئی قیادت کا انتخاب ناگزیر ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے سٹیٹس کو کا زور کم ہوگا اور اسٹیبلشمنٹ کے کردارکو محدود کیا جاسکتا ہے۔ انشاءاللہ

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: