سندھی سیاست اور پاکستان ۔۔۔۔۔۔۔۔ جاوید راو

0
  • 38
    Shares

جس نے اعتزاز احسن کی انڈس ساگا نہیں سمجھی، اس نے پاکستانی سیاست کے اسرار و رموز کا بڑا حصہ کھو دیا۔ مجھے انڈس ساگا کے بنیادی تھیسس سے اتفاق ہو یا اختلاف، اس کتاب کے ذریعے پاکستان میں کام لیا جا سکتا ہے۔ لیکن نہیں لیا گیا۔ جن لوگوں کا خیال تھا کہ یہ کتاب محکمہ زراعت نے لکھوائی ہے، انہیں یہ بھی یقین ہونا چاہیئے کہ اس سے وہ کام نہیں لیا جاسکا۔ یہ بعد کی کہانی ہے کہ اس میں کوتاہی لکھنے والے کی تھی، لکھانے والوں کی تھی یا پھر کام لینے والوں کی۔ لیکن اصل سوال آج بھی یہ ہے کہ کیا سندھ کی سیاست میں اس کے بنیادی فلسفے سے کام لیا جاسکتا ہے؟

جن لوگوں نے سندھی عوام کی بنیادی خصوصیت کو سمجھا، وہ اسے خوب جانتے ہیں۔ محمد بن قاسم، سندھی قوم پرستی، بھٹو کی محبت اور دریائے سندھ کا پانی۔ جنہوں نے اس سے درست کام نہیں لیا، وہ ناکام ہوگئے۔ بلاول تینوں کو ساتھ لیکر چلنے میں ناکام ہوگئے۔ اعتزاز احسن کی کہانی ان تینوں سے کام لیکر سندھ کو پاکستان کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔ سندھ کا پانی بیاس کے آخری مقام سے لیکر ٹھٹہ تک اور کابل کے پہاڑوں سے بہنے والے پانی سے لیکر بحیرہ عرب تک ایک پیالہ نما وادی کا حصہ ہے۔ اعتزازا احسن اسے پاکستان کہتے ہیں۔ اس پانی کے اصل وارث یا اس پر اپنا حصہ جتانے والے سندھی خود کو سندھ ڈیلٹا تک محدود کرلیتے ہیں۔ سندھیوں میں وسعتِ نظری کیلئے پیپلز پارٹی کو کام کرنا چاہیئے تھا۔ لیکن یہ کام نہ کیا جاسکا۔ اب اس کام کیلئے کون میسر آئیگا۔

سندھیوں میں اسلام پسندی اجاگر کرنے کے ذمہ دار پیرپگاڑا اور انکے حر تھے۔ حر جماعت پرانا سیاسی ادارہ ہےاور ابھی تک موجود ہے۔ مستحکم نہ بھی ہو تو کام کرنے کے قابل ضرور ہے۔ لیکن حروں کے بڑے رہنماؤں نے اس کیلئے اپنی ڈرائنگ روم پالیٹکس کو کافی سمجھا۔ اسلام کے حقیقی بازو اور امام مسجد کو غیر اہم جانا۔ آج وہ خود سندھی سیاست کے ایک کونے میں موجود ہیں۔ جی ڈی اے کو آگے بڑھکر سندھی سیاست میں اسلام اور محمد بن قاسم کا کردار ادا کرنا تھا تو متحدہ مجلسِ عمل، تحریک لبیک اور اللہ اکبر تحریک کو ساتھ ملانا چاہیئے تھا۔ اگراس کیلئے مذہبی جماعتوں میں سے کوئی ایک بھی آگے بڑھتا تو سندھی سیاست میں کچھ نیا پن آجاتا۔ اس کام کیلئے درست وقت اتخابات سے کم از کم تین سال قبل کا تھا جب میدان خالی تھا۔ اب یہ موقع بھی ہاتھ سے گیا۔ اب چند سیٹوں پر سیاست بازی کا کوئی فائدہ نہیں۔ بے وقت کی راگنی سے وسائل ہی ضائع کیئے جاسکتے ہیں۔ لیکن شرط یہ ہے کہ جاگیردار پیروں کے پاس جاگیر میں سے کچھ باقی رہ گیا ہو۔ جاگیریں الاماشاء اللہ تقسیم در تقسیم کے بعد بینک قرضوں کیلئے باقی رہ گئی ہیں۔ دریائے سندھ کے پانی میں کمی کے بعد زمینوں کی آمدن میں بھی خاصی کمی آچکی ہے۔ سیاست میں وسائل کے علاوہ مقامی کارکنان کی کھیپ تیار کرنا تھی۔ امام مسجد تو ہر گوٹھ میں موجود ہیں لیکن ان سے اصلاحِ معاشرہ اور اصلاحِ سیاست کا کام لینے والا کوئی نہیں۔ جاگیردار کو ائمہ سے کام لینے کیلئے کچھ حرکت اور کچھ برکت اور کچھ محنت کی ضرورت تھی۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ عام مذہبی سندھی خالی بنجر زمین، خشک سالی، کھارا پانی اور سیاسی بدمزاجی جھیلنے کیلئےزندہ ہیں۔ کوئی والی وارث نہیں۔ کوئی بھی سندھی سلطان نہیں۔ نہ ہی مستقبل میں اسکی کوئی امید ہے۔

سندھ کے دو بڑے شہر اسی مقصد کیلئے تھے جس کیلئے شہر ہوتے ہیں۔ شہروں کی آبادیاں اخلاقیات و تہذیب کی ترویج و اشاعت کی ذمہ داری ادا کرتی ہیں۔ شہروں کو دیہاتوں سے لڑانے کیلئے نہیں بنایا جاتا۔ لیکن افسوس کہ شہری حاکم اس مقصد کو نہ سمجھ سکے۔ سندھ بلوچستان کو اپنے بڑے شہروں سے تہذیب و اخلاقیات کی درست ترویج و تحفظ پر کام کرنا نہ آیا۔ آج یہ مقاصد ضائع ہوچکے ہیں۔ بے وقت کی ٹکریں مارنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جنہوں نے کراچی سے درست کام نہ لیا اور کراچی والوں نے جب اپنے مقصد کو ہی نہ سمجھا، تو کیاحاصل۔ سندھی بلوچ، براہوی بلوچ ، بلوچی بلوچ یا مکرانی بلوچ اور مچھیروں کے علاوہ تمام سندھی اقوام کی بنیادی تہذیبی و تعلیمی ذمہ داری کراچی پر عائد ہوتی تھی۔ بڑے شہراپنی ذمہ ادا نہ کریں تو قوموں کیساتھ وہی ہوتا ہے جو آدھے پاکستان کیساتھ ہوا ہے۔ (سندھ اور بلوچستان آدھا زمینی اور مکمل بحری پاکستان ہیں)۔ اس ذمہ داری کیلئے کسی سیاسی یا مذہبی جماعت نے کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی کسی کا ارادہ ہے۔ کچھ جماعتیں اس کام کو غیر ضروری سمجھتی ہیں۔ کچھ سیاسی افراد اس سے صرفِ نظر کرتے ہوئے شارٹ کٹ سے کام چلاتے ہیں۔ کچھ اس فکر و فلسفہ سے اغماز برتتے ہوئے غیر اعلانیہ کام کئے جارہے ہیں۔ لیکن اپنے شہروں کو دیہاتوں کی تہذیبی و سماجی اور تعلیمی ترقی کیلئے استعمال کرنے کا ہنر کم ہی لوگوں کو ہے۔ یہ خاصا بڑا مسئلہ ہے۔ سندھ بلوچستان میں کچھ زیادہ ہی ہے۔

عمران خان میں کچھ اچھی صفات ضرور تھیں لیکن انہیں بیس کیمپ میسر نہ آیا۔ بھٹو کو مزدور یونین نے بنیاد فراہم کی۔ عمران کو کھیل، فلاح و بہبود اور ہوائی قلعے ملے ہیں۔ مزدور یونین کے کارکن جان جوکھوں کا کام کرتے تھے اور سردی گرمی میں متحرک رہتے تھے۔ مزدور کماتے تھے جبکہ یہ کھلنڈرے نوجوان رقم خرچ کرنے کی مشینیں ہیں۔ مزدور پنے لیڈر کو چندہ جمع کرکے دیتے تھے اور ٹھوس نظریاتی بحث کیلئے مطالعہ کرتے تھے۔ یہ لڑکے فیس بکی دانشور ہیں۔ زمین ٹھوس پن سے عبارت ہے۔ اس لئے سب کچھ ہوائی اور سافٹ ہے۔ کچھ بھی ہارڈ نہیں۔ ہواؤں سے قومیں تعمیر نہیں ہوتیں۔ پاکستان میں بیروزگار نوجوانوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن انہیں نوکری دینے کی کوشش کئی طرح سے خطرناک ہے۔ نوکری پاکر بھاگ جاتے ہیں۔ نہ ملنے پر ناراض ہوجاتے ہیں۔ انہیں نوکری دینے کے بعد رہنما احتساب بھگتتا ہے اور وہ دوبارہ بیروزگاری۔ اس لئے بھٹو زیادہ خوش قسمت تھا۔ ہماری نسل کم قسمت ہے۔

عمران کا دوسرا بیس کیمپ فلاحی ادارے تھے۔ یہ ادارے حکومت اور فوج دونوں کی نظروں میں آئے تو انکا بھرکس نکل گیا۔ کون کہتا ہے کہ محکمہ زراعت عمران کی مدد کررہا ہے۔ چوہدری نثار اور محکمے نے بری طرح سے عمران کے بیس کیمپ کو برباد کیا ہے۔ عمران نے اس بنیاد کو بچانے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ نہ ہی فلاحی اداروں نے اسے سنجیدگی سے بنیاد فراہم کی۔ اس لئے یہ بنیاد کسی کام کی نہ رہی۔ تیسری بنیاد عام مذہبی کارکن ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نے اپنی جماعت کو چھوڑا ہی نہیں۔ کسی میں ایسی ہمت ہی نہ تھی۔ ائمہ مساجد کی تنخواہوں کا پروگرام کسی نتیجے تک نہ پہنچا۔ اس لئے مذہبی حلقے میں عمران خان خاموش پرچھائیں ہے۔ نہ مذہبی حوالہ، نہ ہی ٹھوس کردار اور نہ ہی جماعت اسلامی جیسی کسی سنجیدہ جماعت کے مقاصد کیساتھ زیادہ الفت۔ کسی کا غیر ضروری ہمسفر تو کسی کا وقتی ہیرو۔ جب تک چکریاں کاٹتا رہا، قابلِ قبول، وگرنہ ناخوشگوار ماضی کا حصہ۔

سندھی سیاست میں کچھ بھی اچھا نہیں ہؤا۔ اس الیکشن سے انہیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا۔ عمران خان سندھ کے شہری علاقے میں جاکر ٹکرگئے جہاں پہہلے سے ہی بے تحاشا ٹکراؤ اور ٹریجڈی تھی۔ سندھ کے قوم پرست اپنے مقاصد کا درست احاطہ نہ کرسکے۔ انکی محبوب پیپلز پارٹی غیر نظریاتی ہو چکی ہے۔ وہ سندھیوں میں اعتزاز احسن کے فلسفے کو اجاگر کرکے پورے پاکستان کو ایک بڑا سندھ ماننے پر تیار نہیں کرسکی۔ سندھی حیران و پریشان اور تنہا رہ گئے ہیں۔ وہاں کا کمیونسٹ چین کے سی پیک سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اس کو اپنا مخلاف سمجھتا ہے حالانکہ سی پیک ماؤ کی کوششوں کا اہم نتیجہ ہے۔ سی پیک عالمی استعمار کیلئے بہت بڑا تھپڑ ہے۔ یہ عالمی سرمایہ دار کا خاطر خواہ علاقائی علاج ہے۔ لیکن سندھ کا سیکولر طبقہ اپنے نظریئے کی درست بنیاد کو سمجھنے کی بجائے خواب آور نظریاتی بحث میں الجھ گیا ہے۔ اسے چینی سی پیک مزدوروں کیساتھ ملکر چھوٹے سندھ اور بڑے سندھ کی حقیقی عملی بنیادیں اٹھانا تھیں۔ کسی حقیقی ڈائیلاگ پر کام کرنا تھا۔ سندھ کا پیر ایک جاگیردار بن کر بیٹھ گیا ہے اور اپنی بنیاد سے دور ہے۔ امام مسجد کو مرکز و محور ماننے اور مذہبی سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر چلنے کا قائل نہی رہا۔ مذہی جماعتیں اپنے محدود دائرے میں ایک دوسرے کے خلاف سینہ سپر ہیں۔ کوئی بھی محمد بن قاسم کا حقیقی جانشین نہیں بن سکا۔ بکھرتے معاشروں کو درست فکری راہ دینا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔ انکی پرانی راہوں کے سراغوں کو سمجھنا اور نئے دور کیلئے نئی ترجیحات کا تعین کس قدر دشوار ہوتا ہے۔

اس کیلئے کسی بڑی عقل کی ضرورت نہیں کہ عالمی ادارے اور بڑے شہر کیسے چلتے ہیں۔ اگر کراچی ایک کروڑ افراد پر مشتمل ہے اور لاہور اپنے گردونواح سمیت کچھ کم پر تو لاس اینجلس، واشنگٹن اور نیویارک جیسے بڑے عالمی شہر ان سے پانچ گنا بڑے ہیں۔ امریکہ پانچ پانچ کروڑ کی ایسی پانچ بڑی شہری آبادیوں پر مبنی ہے۔ ہر بڑی آبادی ایک بڑا کام کرنے کیلئے وجود میں آتی ہے۔ دنیا کے بڑے شہر غریب ممالک کے انقلابات سے توانائی حاصل کرکے زندہ رہتے ہیں۔ یہاں کے انقلابات، وہاں کا پیٹ بھرتے ہیں۔ یہاں کی تحریکیں وہاں سے فکری غذا پاتی ہیں یا انکے علیٰ الرغم تحریکات برپا کرکے سیاسی توانائی فراہم کرتی ہیں۔ دونوں صورتوں میں سرمایہ دار اور بڑی شہری آبادی غریب ممالک کے انقلابات یا انقلابات کے نتائج سے تحفظ کے فلسفے سے فائدہ اٹھا کر زندگی گزارتی ہے۔ سیاسی طلبہ اس انحصار سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ یہ محبت نما دوستی اور دوستی نما دشمنی خاصا تکلیف دہ رشتہ ہوتا ہے۔ اس سے تمام معاملات پیچیدہ رہتے ہیں۔ لیکن انہی انقلابات کی فکری و مالی امداد انہی بڑی شہری آبادیوں سے حاصل ہوتی ہے۔ وہیں سے انکے سیاسی و سماجی و تعلیمی تجزیئے کئے جاتے ہیں اور وہیں سے انکے تمام معاملات کی کھوج لگائی جاتی رہتی ہے۔ جب غریب غرباء اپنے گھر اور معاشرے کی بہتری سے بیزار ہوجاتے ہیں تو بڑی شہری آبادیاں غرق ہوجاتی ہیں۔ معاشی سست روی واقع ہوتی ہے اور سماجی خرابیاں بڑھ جاتی ہیں۔ قومی مقاصد نقصان میں جاتے ہیں اور ادارے بگڑتے ہیں۔ یہی غریب غرباء جب اپنے یہاں انقلابات کیلئے سر اٹھاتے ہیں تو بڑی شہری آبادیاں ان میں کسی نہ کسی انداز میں منفی یا مثبت سرمایہ کاری کرتی ہیں ۔ وہاں کی سیاسی توانائی سے فائدہ اٹھاتی ہیں اور دنیا آگے بڑھتی ہے۔ اس لئے یہ اہم ہے کہ غریب غرباء کن مقاصد کو مقصد بناتے ہیں۔ کن معاملات پر وقت صرف کرتے ہیں اور کن انداز و اطوار کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ ایسے میں عام کارکن سے لیکر اسکے دنیا کی بڑی آبادیوں تک ایک غیر مرئی زنجیر کام کرتی ہے۔ مقاصد، اخلاقیات، معاش و سیاست تمام اس زنجیر سے جڑے ہوتے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے کسی ایک مقصد کیلئے مکمل محنت کوشش اور لگن کیساتھ کام نہیں کیا اور وقت ضائع کیا، وہ اپنے لئے تو نقصان دہ ہیں ہی، لیکن تمام عالم کیلئے بھی زیاں کا باعث ہوتے ہیں۔ ہمارے یہاں کے رہنماؤں کو اپنے نظریات، مقاصد اور درست راہوں کا مکمل شعور نہیں ہوتا۔ کچھ کو اپنے ہی نظریات حتیٰ کہ اپنی ہی ذات پر یقین نہیں ہوتا۔ الجھے اور بے یقین رہنما یہ فیصلہ ہی نہیں کرسکتے کہ کب کس عالمی ایجنڈے کا ساتھ دینا ہے اور کب اس اسے جان چھڑانی ہے۔ جب کسی بڑی شہری آبادی سے کچھ حاصل کرنا ہے اور کب کیسے اپنے وسائل تیار کرنے ہیں۔ شہر یونہی بے ہنگم ہجوم نہیں بنتے۔ ممالک بلاوجہ بے سمت نہیں ہوتے۔ آئین و منشورات یونہی بے فائدہ و بیکار نہیں ہوجاتے اور تحریکات بے طور ہوکر اپنا تحرک نہیں کھودیتیں۔

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: