اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے —– عزیز ابن الحسن

0
  • 103
    Shares

الیکشن سے پہلے کی آخری پوسٹ کی رسم چل پڑی ہے جس میں احباب اپنے اپنے ذوق مزاج اور میلان کیمطابق فلاں کو ووٹ دیں فلاں کو نہ دیں قسم کے شذرے لکھ رہے ہیں تو سوچا ہم بھی اس میں اپنا حصہ ڈال دیتے ہیں😊
لیکن جی چاہ رہا ہے کہ آغا ز ایک پرانا، جی ہاں کم سے کم آٹھ برس پرانا قصہ طشت از بام کر کے کیا جائے. اسے انتخابی نتائج سے پہلے افشا کرنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ بات اگر بعد میں بتائ گئ اور کل کلاں واقعی وہی کچھ ظہور پذیر ہوگیا جو بذریعہ ہٰذا بتانا مقصود ہے تو کچھ “خیرخواہ” فوراً طعنہ زن نہ ہوں کہ مہم تو کچھ اور چلاتے رہے تھے مگر اب ہوا بدلی ہے تو پرانے مکشوفات کے سہارے کسی مفاد طلبی کی آس میں اپنا موقف تبدیل کر بیٹھے ہیں۔

جیسے مثلاً کل ہی کی بات ہے کہ ہمارے ایک امریکہ پلٹ دوست سے ملک کی سیاسی صورتحال پہ بات ہورہی تھی تو وہ مجھے عمران خان کیلئے قائل کرنے میں مبلغانہ جوش کے ساتھ ساتھ مجاہدانہ غیظ کا بھی مظاہرہ کرتے رہے. لیکن جب میں کسی طرح ا نکے مؤقف کا قائل نہ ہوا تو یکایک سنجیدہ ہوکر پوچھنے لگے کہ “تم نواز شریف کے دسترخان پہ کہیں سری پائے تو نہیں کھاتے رہے؟”
عرض کیا کہ
“پُرزور تبلیغ اور جہادی چنگھاڑ کے بعد آخر اب آپ نے اپنے ترکش میں سے نیت پہ شک کا تیر بھی چلا لیا!”
تو ذرا سے کھسانے ہو کر بولے کہ
“مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کوئ معقول آدمی نواز شریف کا حامی کیسے ہوسکتا ہے؟”
میں نے پوچھا کہ
“میں نے نواز شریف کی حمایت کب کی ہے؟ میں تو صرف ان نادیدہ قوتوں کیلیے اظہارِ ناپسندیدگی کررہا ہوں جو ایک طرف کے لوگوں کو ٹھکانے لگا کر دوسری طرف کیلیے راہ ہموار کررہی ہیں”.
جب کچھ نہ بن پڑا تو یہ کہتے ہوئے مایوس اٹھ کھڑے ہوئے کہ
“ایک ہی بات ہے. آپ چونکہ عمران کے مخالف ہیں اسلیے نواز شریف کے حامی ہیں بس”.

یہاں مزے کے بات یہ ہے کہ ۲۰۱۳ کے انتخاب میں ان صاحب نے نواز شریف کو ووٹ دیا تھا اور اس خاکسار نے عمران خان کو!
لیکن خیر…
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ “اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو پھر ہمارے دشمن ہیں” والا فسطائی تصور محض عالمی سیاست کا ماٹو نہیں، یہ انفرادی رویہ بھی بن چکا ہے. آپ ہمیشہ مشکوک ہی سمجھے جاتے ہیں۔

اس جملۂ معترضہ کے بعد اب آئیے آٹھ برس پرانے قصے کی طرف. لاھور میں یہ معمول تھا کہ ہر ہفتے پیر کے روز شام کے وقت ہم محمود گیلانی مرحوم کے کتاب گھر واقع ٹمپل روڈ پر چند احباب کے ساتھ بیٹھا کرتے تھے. میزبان محمود گیلانی کے علاوہ وہاں دیگر آنے والوں میں سب سے اہم شخصیت جناب محمد سلیم الرحمن کی تھی. سچ پوچھئے تو وہ محفل سجتی ہی سلیم صاحب کی بدولت تھی اور میں وہاں جایا بھی انہی کی زیارت اور ان سے کسبِ فیض کیلیے تھا۔ وہ نہ صرف عمر میں سب سے بزرگ تھے بلکہ اپنے ادبی مقام و مرتبہ کے لحاظ سے بھی سب سے ممتاز تھے. یہ انکی خوئے خورد نوازی تھی کہ ہم ایسے بے مایہ لوگوں پر بھی شفقت کرتے اور اپنے پاس بیٹھنے کی اجازت دیا کرتے تھے۔

مجلس کا کوئی موضوع طے نہ ہوتا تھا جو بات بھی چھڑ گئ سب خورد و کلاں اپنی اپنی بساط کے مطابق کچھ کہہ سن لیتے تھے. بیچ بیچ میں سلیم صاحب بھی اپنی دھیمی آواز اور مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ کچھ نہ کچھ ارشاد فرماتے رہتے تھے. سلیم صاحب تو علم کا خزانہ تھے ہی اسلیے سب میں نمایاں رہتے، محمود گیلانی مرحوم بھی اپنی میزبانی اور خوش بیانی کے سبب محفل میں خوب ہی رنگ بھرا کرتے تھے. میں انکی موسیقی شناسی اور راگ داری باتوں سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا. ایک روز گفتگو کا رخ سیاست کی طرف مڑ گیا اور عمران خان کا ذکر آگیا۔ اب یاد نہیں کہ سلیم صاحب نے یا گیلانی مرحوم نے بتایا کہ عمران خان کے بارے میں ایک پشین گوئی ہے کہ اپنی ہاتھ کی ریکھاؤں کیمطابق یہ ایک روز یہ شخص وزیر اعظم بنے گا۔ یاد رہے یہ ۲۰۱۰ کی بات ہے اور تب شاید پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اور یوسف رضا گیلانی وزیراعظم. عمران خان اپنی لمبی جدوجہد کے بعد بھی ابھی چند نشتیں ہی لے پاتا تھا. پرویز مشرف کا بڑا سپورٹر ہونے کا ماضی رکھنے کے سبب مجھے عمران سے کوئی ہمدردی نہ تھی لیکن چونکہ یہ اپنے کئے پر ندامت کا اظہار کرچکا تھا اسلیے اسکی مخالفت میں بھی میرے اندر کوئ ایسی شدت نہ تھی. ایک مختلف اور پُرعزم آدمی ہونے کے سبب قدرے دلچسپی ضرور تھی. مگر چونکہ پارلیمانی سیاست میں ابھی اسکا کوئی مقام نہ تھا اسلیے مجھے عمران کے بارے میں اس پیشین گوئی پر بہت حیرت ہوئی تھی اور میں نے تجسس کے مارے کرید کرید کر اسکی تفصیل جاننا چاہی تھی۔
میرے سامنے اس سے قبل بھی اسی طرح کا ایک واقعہ تھا جب میں نے ایک ایسے آدمی کے بارے میں بھی وزیرِاعظم بننے کی پیش گوئی کو سچ ہوتے دیکھا تھا جسکا ملکی سیاست میں کوئی ایسا نام بھی نہ تھا. وہ شخص تھا غلام مصطفیٰ جتوئی اور ۱۹۸۹ میں اسکی پیش گوئی کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ میرے بہت ہی محترم اور مشفق و مہربان سراج منیر تھے۔ ان کی اسی بات سے متاثر ہوکر ۱۹۹۰ میں جتوئی نے سراج بھائی کو اپنے مشیر کے طور پر اسلام آباد بلا لیا تھا۔

یہ تھا وہ پس منظر جس میں مجھے عمران کے متعلق اس پیش گوئی کا جان کر شدید تجسس ہوا اور میں نے ان حضرات سے اسکی کچھ تفصیل جاننا چاہی تھی۔ اب کچھ زیادہ تو یاد نہیں مگر انکی بتائی یہ بات ذہن پر نقش ہوکر رہ گئ کہ عمران خان کے بارے میں وزارتِ عظمی کی پیش گوئی اردو پنجابی کے معروف شاعر افسانہ نگار، فلم ساز گیت نگار اور مخفی علوم کے ماہر اور جنات کے عامل کے سلطان محمود آشفتہ نے کی تھی. میں نے اس وقت تک آشفتہ کا نام ہی سن رکھا تھا اور یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ زندہ ہیں یا فوت ہوچکے ہیں۔

بعد میں ادھر ادھر سے ان کے بارے میں جو معلومات اکھٹی کیں ان کے مطابق آشفتہ ایک میٹرک پاس شخص تھے مگر اپنے مطالعے اور روحانی علوم سے دلچسپی کی وجہ سے علمی اور ادبی دنیا میں انہوں نے خاصی عزت و شہرت پائ تھی. انکی آنکھوں میں ایک عجیب پُر اسراریت تھی جو دیکھنے والوں پر سحر طاری کردیتی تھی. حنیف رامے اور ڈاکٹر سہیل احمد خاں جیسے لوگوں سے انکی دوستی تھی. فلمی دنیا میں بھی انکی بڑی مانگ تھی متعدد فلموں کے اسکرپٹ مکالمے اور گانے لکھے تھے. اخبارات میں روحانی امور پر کالم لکھا کرتے تھے. انکے افسانوں و شاعری کے مجموعوں کے علاوہ “روحانیت کیا ہے؟” کے موضوع بھی انکی کتاب چھپ چکی ہے. کہتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے ضیاء محی الدین شو میں کچھ معروف مردہ لوگوں کی روحوں کو حاضر کر کے حاضرین پر ایک سراسیمگی طاری کردی تھی. زیرِبحث مسئلے کے اعتبار سے یہاں اہم بات یہ ہے کہ آشفتہ کا انتقال اگست ۱۹۹۵ میں ہوگیا تھا. اسکا مطلب یہ ہے کہ عمران خان کی وزارتِ عظمی کی پیش گوئ (اگر ایسی کوئ پیش گوئ تھی تو) لازماً ۱۹۹۵ یا اس سے کچھ پہلے کی گئ ہوگی۔

جیسا کہ میں پہلے بھی کہیں لکھ چکا ہوں، عمران خان کے بارے میں ۹۳-۱۹۹۲ سے میری رائے یہ ہے کہ اسے اول اول بینظیر بھٹو کی کاٹ کی خاطر سیاست میں لایا گیا تھا. اُس زمانے میں اس کی منہ دکھائ ایک دانشور سیاست دان کے طور پر کرائ گئ تھی اسلیے عمران کی اس کایا کلپ پر حیرت ہوتی تھی. ساری زندگی کرکٹ اور شوبز کی چمچماتی دنیا میں گزار کر یکایک کوئ آدمی انگریزی اردو اخبارات میں سیاست مذہب اور تاریخ اور معاصر سماجیات پر طول طویل مضامین لکھ کر رائے ظنی کرتا طلوع ہو تو اس کے اس پونرجنم پر تعجب تو ہوگا. سو میں بھی عمران کی اس کایاکلپ پر متحیر رہا کرتا تھا. لیکن اس دور میں بھی نواز شریف سے شدید چِڑ کے باوجود مجھے عمران کی سیاست سے قطعی کوئی دلچسپی نہ تھی. مزے کی بات یہ ہے کہ تب عمران کا اصل ہدف نواز شریف بلکل نہیں تھا بلکہ اس کے رویوں میں نواز کیلیے قدرے نرم گوشہ پایا جاتا تھا۔ تب اسکا بنیادی ہدف اسی شدت سے بینظیر بھٹو کی کرپشن ہوا کرتی تھی جیسے بعد ازاں MQM اور الطاف حسین اسکا نشانہ بنے. مگر پچھلے پانچ برس میں MQM اور PPP دونوں عمران خان کے اہداف سے یکایک نکل گئے اور انکی جگہ نواز شریف نے لے لی. اپنے مزاج کے اسی تلوّن کی وجہ سے عمران مجھے کبھی اچھا نہیں لگا. لیکن آج جب میں عمران کی سیاست کے ان بدلتے اہداف کو دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ عمران کو وہی لوگ کرپٹ نظر آتے ہیں جنہیں کرپٹ قرار دیکر سبق سکھانا اوپر والوں کو مطلوب ہوا کرتا ہے. خان صاحب مجھے قدم بہ قدم انہی کے نقوش پا پر سجدہ ریز نظر آتے ہیں جن پر اول روز سے چلانے والوں نے انہیں لگایا تھا۔

اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا خراب

لیکن شاید اب عمر بھر کی بیقراریوں کو قرار آیا چاہتا ہے. کیونکہ ۲۰۱۸ کے الیکشن سے زیادہ سازگار فضا عمران میاں کی پوری سیاسی زندگی میں کبھی نہیں آئ اور نا آئندہ آنے کا امکان ہے۔ بڑا حریف اڈیالہ جیل میں بند ہے، مقابل جماعتوں کے امیدوار چن چن کے نااہل کیے یا مارے جارہے ہیں. باقیوں کو بھی محکمۂ زراعت کے لوگ اچھی کھیتی باڑی نہ کرنے یا ان کے پسندیدہ بیل ثابت نہ ہونے کے سبب ڈرا دھمکا رہے ہیں. مرزا یار کے پھرنے کیلیے گلیاں ویران کرائ جاچکی ہیں. بیس پچیس برس پہلے سلطان محمود آشفتہ کی پیش گوئ کو پورا کرنے کیلیے بنی گالی کے گوشت خور جنات کو دان دیکر ہمنوا کیا جاچکا ہے. ظاہری اور باطنی سارے اسباب جمع ہیں گویا حاضرات و غائیبات سب کی تائید موجود ہے اب صرف کل رات تک اس کا اعلان ہونا باقی ہے.😊

دیکھیے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا
گنبد نیلو فری رنگ بدلتا ہے کیا!

اس شذرے کا آغاز “الیکشن سے پہلے کی آخری پوسٹ کی رسم چل” کے ذکر سے ہوا تھا جسکا کا اختام “فلاں کو ووٹ دیں فلاں کو نہ دیں” ہورہا ہے۔ آخر میں اب اپنے میلان کیمطابق ووٹ کے بارے میں کچھ طے کر ہی لیا جائے تو بہتر ہے۔ خان صاحب کی طویل ان تھک جدوجہد، جس میں جِد(ضد) انکی اور جہد خلا و ملا کے نادیدہ باسیوں کی بھی کم نہیں، کو دیکھتے ہوئے سچ پوچھئے تو اب تو مجھے بھی ان پر ترس آنے لگا ہے. اور پھر اب کے تو گھر کے پیروں کی تائیدی رائے بلکہ عملیاتی کوششیں اور گوشت کھلائی جناتی کاوشیں بھی اسی کی مؤید ہے۔ اور پھر سلطان محمود آشفتہ کی پچیس برس پرانی پیشگوئی کی داستان بھی میں لکھ ہی چکا ہوں!

مگر ان سب کے باوجود منکہ مسمی فلاں ابن فلاں، سکنہ موضع فلاں کا فیصلہ یہی ہے کہ اس دفعہ میں ووٹ خان صاحب کو نہ دیا جائے کہ اس مردِ خود سر و ہوڑ مت کا اعتبار نہیں۔ میرا سیاسی و سماجی مشرب پیشگوئیوں پر چلنے کے بجائے حواس سے پرکھے اور فہم سے جانچے آنکے حقائق و واقعات کے تجزیے پر عمل کا ہے. خان کی پچھلی پانچ سالہ بالک ہٹ سیاست اور عقل فکر سے عاری دیانت کے چرچوں نے مجھے سخت بے مزہ کیا ہے۔

آخری بات!
سلطان محمود آشفتہ کی پیش گوئی اگر درست ثابت ہوگئ اور خان بہادر صاحب وزیرِاعظم بن گئے تو پھر…؟؟؟
تو پھر اس سے زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوگا نا کہ قبلہ سلطان محمود آشفتہ (اللہ ان سے راضی ہو) کا علمِ قیافہ و دست شناسی درست تھا نہ یہ کہ عمران خان کوئی سمجھ دار آدمی ہے۔ حکمران تو، اللہ معاف کرے، چودھری شجاعت جیسے بھی بن ہی جاتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: