پی ٹی آئی نے کے پی میں کیا کر لیا (آخری قسط)؟ محمد ندیم سرور

0
  • 49
    Shares

اگرچہ پی ٹی آئی کی پرفارمنس پر کئی اور اقساط لکھی جاسکتی تھی مگر وقت کے قلت کے پیشِ نظر موجودہ قسط میں تفصیلی بات کرنے کی بجائے، چیدہ چیدہ نکات کو بیان کرنے پر اکتفا کرتے ہوئے باقی بچ جانے والے کاموں پر بات کی جا رہی ہے۔

1۔ سکولوں میں ابتدائی جماعتوں سے ہی ترجمے کے ساتھ قرانِ پاک کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ اس قدم سے بچوں کی قران فہمی بہتر ہوگی اور وہ فرقہ واریت کا شکار ہونے سے بچیں گے۔

2۔ نجی سود پر نہ صرف قانونی طور پر پابندی لگائی گئی بلکہ اس پر عمل درامد کو یقینی بناتے ہوئے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاروائی بھی کی گئی۔ سودی نظام کو ختم کرنے کی طرف بلاشبہ یہ ایک ٹھوس اور حقیقی قدم ہے۔

3۔ آئین پاکستان میں درج ہدایات کی روشنی میں پاکستان کا سب سے بہترین بلدیاتی نظام نہ صرف بنایا، بلکہ نافذ بھی کیا گیا۔ ترقیاتی فنڈز ایم پی ایز کو دینے کی بجائے، بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ کئے گئے اور عوام کے ڈالے گئے ووٹ کا مکمل احترام کرتے ہوئے بلا تفریق تمام منتخب نمائندگان کو فنڈز جاری کیے گئے۔ واضح رہے کہ پیپلزپارٹی جو ضیاءالحق پر تنقید میں آگے آگے ہوتی ہے، نے ترقیاتی فنڈز کی شکل میں ایم پی ایز اور ایم این ایز کو دی جانے والی رشوت کو اپنے صوبے میں ابھی تک ختم نہیں کیا۔ اسی پارٹی کے زیرِ حکومت صوبے کے سب سے بڑے شہر، کراچی کے منتخب میئر ابھی تک اپنے آئینی اختیارات سے محروم ہیں۔

4۔ پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد کرکے اسے ایک خودمختار ادارہ بنایا گیا۔ ٹرانسفر پوسٹنگ کے تمام اختیارات آئی جی کو دیئے گئے اور ڈی پی اوز کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنی کارکردگی کے حوالے سے ضلعے کے بلدیاتی نمائندوں کو بریف کریں۔ سیاسی مداخلت کے خاتمے نے پولیس کے نظام کو اس قدر بہتر کیا کہ جہاں مخالفین بھی تعریفیں کرنے پر مجبور ہیں، وہیں صوبے کی عوام اپنی پولیس کے حق میں ریلیاں نکال کر پولیس کے جوانوں اور افسروں کو خراج تحسین پیش کرتی رہی ہے۔

5۔ ٹیچنگ ہسپتالوں کی طرز پر، تمام سرکاری یونیورسٹیوں کو اپنے داخلی معاملات میں مکمل خودمختاری دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سرکاری یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کے تقرری کےلیے ڈاکٹر عطاءالرحمان کی سربراہی میں ملک کے ممتاز ماہرین تعلیم کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس نے تمام خالی اسامیوں پر خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں کی ہیں۔ یہ وائس چانسلرز اب اپنی اپنی یونیورسٹیوں میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت سے آزاد ہوکر تعلیمی معیار کو بہتر سے بہترین کرنے کی کوششوں میں سرگرداں ہیں جن کے نتائج انشاء اللہ جلد ہی سب کے سامنے ہونگے۔

6۔ آسٹریلیا کے فنی و علمی تعاون سے ہری پور میں پاکستان کی جدید ترین انجینئرنگ یونیورسٹی مکمل کی گئی ہے جو اس سال سے داخلے شروع کررہی ہے۔ واضح رہے کہ اس کی منصوبہ بندی ڈاکٹر عطاءالرحمان صاحب نے کی ہے۔ اس منصوبے کے مطابق تمام انجینئرنگ یونیورسٹیوں کو دنیا کی جدید ترین جامعات سے منسلک کرکے ان کی لیبز، فیکلٹی اور ان کے کورس کو ان بہترین یونیورسٹیز کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے گا۔ یوں ہماری جامعات انہی خطوط پر چلیں گی جن پر دنیا کی بہترین جامعات عمل پیرا ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر یونیورسٹی کے ساتھ، اسی کی فیکلٹی کے زیرِنگرانی ایک جدید انڈسٹریل پارک بنایا جائے گا جہاں طلباء مختلف پراجیکٹس پر کام کرتے ہوئے نہ صرف اپنی تعلیم کا عملی اطلاق کرنا سیکھ سکیں گے بلکہ انہیں مناسب مشاہرہ بھی دیا جائے گا۔

6۔ قدرتی چشموں پر پانی کا بہاؤ تیز کرکے ان پر تین سو سے زائد منی/مائیکروہایڈل پراجیکٹس تعمیر کئے گئے ہیں جن کے ذریعے بجلی سے محروم علاقوں کے لاکھوں مکینوں کو بلاتعطل سستی اور ماحول دوست بجلی فراہم کی گئی۔ واضح رہے کہ اس بجلی کا ریٹ قریباً 5 روپے فی یونٹ ہے جو کہ روایتی سسٹم سے آنے والی بجلی سے کہیں سستی ہے۔

7۔ پانی کی کمی کا احساس کرتے ہوئے، چھوٹے ڈیمز کی تعمیر پر خصوصی توجہ دی گئی جس کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ اراضی زیرکاشت آئی۔ اس کی مکمل تفصیلات برادرم ظہیر صاحب کی ایک تحریر میں اسی ویب پر شائع ہوچکی ہیں، بازوق قارئین اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔

8۔ پنجاب میں شہبازشریف کی روایت کے بالکل برعکس، سرکاری پیسے کو اشتہارات اور ذاتی تشہیر پر ضائع کرنے کی بجائے، اسے عوامی فلاح کے منصوبوں پر خرچ کیا گیا۔ جو قارئین اخبارات کا باقائدگی سے مطالعہ کرتے ہیں وہ خود اس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں۔

9۔ وزیرِاعلیٰ جناب پرویز خٹک صاحب نے نہ صرف خود پروٹوکول نہیں لیا بلکہ وزراء کے پروٹوکول لینے کی بھی حوصلہ شکنی کی۔ اس سے نہ صرف پروٹوکول پر ضائع ہونے والے عوام کے اربوں روپے بچے، روٹس لگنے کی صورت میں ضائع ہونے والے بیش قیمت وقت کی بھی بچت ہوئی بلکہ آقا و غلام کا تصور بھی پاش پاش ہوا۔

10۔ آئندہ نسلوں کا خیال کرتے ہوئے نہ صرف ٹمبر مافیا کا جڑ سے خاتمہ کیا بلکہ تین سال کے قلیل عرصے میں ایک ارب سے زائد درخت لگا کر نہ صرف ساری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا بلکہ 5 لاکھ کے قریب نوجوانوں اور گھریلو خواتین کو روزگار بھی فراہم کیا۔ اس منصوبے کا آڈٹ بین الاقوامی ادارے ڈبلیو ڈبلیو ایف نے کیا ہے اور منصوبے کی کامیابی کی تصدیق آئی یو سی این نے بھی کی ہے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخواہ وہ واحد صوبہ ہے جس نے بون چیلنج مکمل کیا اور اس کامیاب ترین پراجیکٹ پر ورلڈ اکنامک فورم نے جنگلات کے اس منصوبے کو ’’سونا‘‘ قرار دیتے ہوئے دنیا کو خیبرپختونخواہ کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین گی (دیگر پارٹیز کے سپورٹرز ان کی پارٹیوں کا بیانا ہوا کوئی ایک منصوبہ ہی بتا دیں جس میں کسی بین الاقوامی ادارے نے دنیا کو پاکستان کی مثال دی ہو۔۔۔۔۔)

تعلیم اور صحت کے نظام میں غیر معمولی بہتری، بااختیار بہترین بلدیاتی نظام کا نفاذ، سیاسی مداخلت سے پاک پروفیشنل پولیس فورس کی تشکیل، پروٹوکول کلچر کا خاتمہ، سودی کاروبار پر پابندی، سکولوں میں ترجمے کے ساتھ قران پاک کی تعلیم، مساجد میں سولر سسٹم کی تنصیب، آبپاشی کے لیے چھوٹے ڈیمز کی تعمیر، پہاڑی چشموں کے قدرتی بہاؤ کو استعمال میں لاکر سستی بجلی کی پیداوار اور صوبے کے طول و عرض میں سولر پاور سے چلنے والے سینکڑوں ٹیوب ویلز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ اگرچہ وہ پراجیکٹس نہیں ہیں جنہیں روایتی زبان میں میگا پراجیکٹس کہا جاتا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ ان سب سے عوام اور بالخصوص نچلے طبقے کی زندگی میں بہت آسانیاں آئی ہیں۔ انہی اقدامات کی بدولت صوبے میں غربت میں واضح کمی ہوئی ہے جس کی تصدیق ادارہ شماریات کے ملک گیر سروے، پی ایس ایل ایم اور Household Integrated Economic Survey (HIES) سے کی جاسکتی ہے۔ اگر تو آپ کو لگتا ہے کہ ایسے کاموں سے آپ کی زندگی میں آسانیاں بڑھیں گی تو پھر بلے پر مہر لگا کر پی ٹی آئی کو کامیاب بنائیں، لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ بڑے شہروں میں کچھ اچھی سڑکیں اور کچھ بڑے پل بنا نا زیادہ ضروری ہے تو شیر یا تیر کا نشان بھی بیلٹ پیپر پر ہو گا۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ ہے۔

قسط نمبر 4 کے لیے اس لنک پر کلک کریں

قسط نمبر 3 کے لیے اس لنک پر کلک کریں

قسط نمبر 2 کے لیے اس لنک پر کلک کریں

قسط نمبر 1 کے لیے اس لنک پر کلک کریں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: