ووٹ کا فیصلہ: اہلیت، کارکردگی اور نظریہ و جذبات —– عامر منیر

0
  • 29
    Shares

قومی منظر نامہ کو دیکھئے تو سیاسی جماعتیں بھی ووٹر کی رائے کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی حکمت عملی انہی چاروں عوامل کی بنیاد پرتشکیل دیتی ہیں۔ حلقے کی سطح پرتمام پارٹیاں اپنے امیدواروں کو برادری/ اہلیت کی بنیاد پر ووٹ کے مطالبے کی سپیس مہیا کرتی ہیں، کوئی پارٹی یہ دعوی نہیں کرتی کہ وہ برادری ازم کی روایت کا خاتمہ کر دے گی یا تھانے کچہری کے موجودہ نظام میں اصلاحات کرے گی، اگر رسمی طور پر کسی پارٹی نے اپنے منشور میں ایسے کوئی نکات رکھے بھی ہوں تو کوئی سمجھدار امیدوار اپنے حلقے میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے اس حوالے سے پرجوش تقریرں اور جذباتی دعوے نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ انہیں ذاتی ووٹ اسی نظام کے تسلسل کی توقع اور اسے ووٹر کے حق میں manipulate کرنے کی امید کے ساتھ ملتا ہے۔

(۱) شناخت :
یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کی چھیانوے فیصد آبادی مسلمان ہے اور اسلام اپنے اند ر کچھ ایسی شناختی حرکیات رکھتا ہے کہ ہر قسم کی شناخت پر غالب آ جانے کی صلاحیت رکھتا ہے،  اس وجہ سے داخلی سطح پر قومی شناخت کے ایک بحران کے باوجود قومی سیاست کی سطح پر کوئی بھی جماعت اور قومی سطح کا کوئی بھی امیدوار ’’ہم میں سے ایک‘‘ کے احساس سے محروم نہیں ہوتا،  خواہ اس کا تعلق سندھ سے ہو جیسے بینظیر بھٹو یا آصف زرداری، خواہ خیبر پختونخواہ سے جیسے فضل الرحمن اور سینٹر سراج الحق،  خواہ بلوچستان سے ہو جیسے میر ظفر اللہ جمالی،  خواہ میانوالی سے ہو جیسے عمران خان،  خواہ وسطی پنجاب سے ہو جیسے نواز شریف،  جماعتی او ر قومی سطح پر کسی ووٹر کو یہ اعتراض نہیں ہوتا کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے۔  شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ’’ہم میں سے ایک‘‘ کا سوال جب ۹۷۰ ۱ میں اٹھا تھا تو ملک کو دولخت کرنے پر منتج ہوا تھا۔  پاکستان ابھی تک سقوط مشرقی پاکستان کے ٹراما سے نکلا نہیں اور اس سانحہ کے پوسٹ ٹرامیٹک اثرات بڑی حد تک پاکستانی قوم کے داخلی شناختی بحران کے منفی مضمرات کا تدارک کئے رکھتے ہیں۔ قوم پرست حلقے شناخت کی بنیاد پر سیاست کا ڈول ڈالے ضرور رکھتے ہیں لیکن مندرجہ بالا عوامل،  دیگر عملی سیاسی حقائق کے ساتھ مل کر ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔  فرقہ وارانہ بنیادوں پر استوار جماعتیں بھی شناخت کی سیاست کھیلنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں،  جو چند حلقوں میں کچھ اثر  بھی رکھتی ہے لیکن قومی سطح پر ان کی سیاسی اہمیت قوم پرستوں سے بھی کم ہے۔

(۲) اہلیت/ کارکردگی :
سیاسی جماعتوں کے مابین بیشتر معرکے اسی میدان میں رونما ہوتے ہیں اور اس وقت یہی میدان ہے جہاں جماعتیں اصل الیکشن کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔  یہاں ایک بار پھر یاد دہانی بے جا نہ ہو گی کہ اہلیت سے مراد کوئی اخلاقی معیار یا کارکردگی کا کوئی معروضی پیمانہ نہیں،  بلکہ ووٹر کے ذہن میں یہ تصور ہے کہ وہ سیاسی قیادت سے کیا چاہتا ہے اور کوئی جماعت کس حد تک اس کی ضرورت/ خواہش کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ جہاں حلقہ جاتی سطح پر ووٹر کے لئے اپنی ضروریات/ خواہشات کا تعین ایک ذاتی اور نسبتاً آسان امر ہے،  وہاں قومی سطح پر وہ اپنی ضروریات/ خواہشات کے تعین کے لئے بھی بڑی حد تک سیاسی جماعتوں اور دانشوروں کی راہنمائی کا محتاج ہوتا ہے۔  اسی لئے ہر جماعت کے پاس ایک اپنا تصور، ایک اپنا منشور ہے کہ ملک کو کس چیز کی ضرورت ہے اور پھر یہ جتلانے کی پالیسی اور دلائل ہیں کہ کس طرح صرف وہی اس ضرورت کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔   ووٹر کے لئے جماعت کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ کرنےسے زیادہ اہم امر یہ ہے کہ وہ کس جماعت کے منشور کو اپنی امنگوں سے قریب تر پاتا ہے۔  پیپلز پارٹی کے پاس بھٹو کے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کی بنیاد پر منشور میں ظاہر کرنے کے لئے بہت کچھ ہے، لیکن اپنی اہلیت ؍ کارکردگی جتانے کے معاملے میں ان کے پاس کوئی خاص سیاسی اثاثہ دکھائی نہیں دیتا۔  مسلم لیگ نون نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی خامیاں اور نا اہلی نمایاں کرنے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ خود پیپلز پارٹی کے موجودہ کارپردازوں کو بھی بدعنوانی اور نا اہلی پر مشتمل اپنے امیج کا مقابلہ کرنے کی کوئی خاص فکر نہیں رہی۔

پاکستانی سیاست میں ایک عرصے سے کارکردگی کا پیمانہ انفرا سٹرکچر کے پراجیکٹس جیسے بجلی گھر،  سڑکیں وغیرہ اور ملک کی مجموعی معاشی صورتحال،  افراط زر کی شرح اور کاروباری حالات چلے آ رہے ہیں،  عام آدمی نہ صرف ان سے براہ راست مستفید اور متاثر ہوتا ہے بلکہ ناخواندہ اور نیم خواندہ آبادی کی اکثریت قانون سازی، خارجہ معاملات اور انتظامی اصلاحات وغیرہ کی ماہیت اور اہمیت کا سرے سے ادراک نہ کر پانے کے سبب ان معاملات سے آگے دیکھنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتی۔  نون لیگ کے پاس موجودہ سیزن میں لوڈ شیڈنگ میں بہت نمایاں کمی اور انفرا سٹرکچر ل پراجیکٹس کی ایک فہرست اپنی کارکردگی کے ثبوت کے طور پر موجود ہیں، دوسری طرف تحریک انصاف بھی خیبر پختونخواہ میں ترقیاتی کاموں کا دعویٰ رکھتی ہے اور اس کے پاس اس ضمن میں اپنی جگہ پولیس اصلاحات،  تعلیم و صحت کے شعبہ میں بہتری اور بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں کی فہرست موجود ہے،  لیکن سیاسی حالات کچھ ایسے ہیں کہ نون لیگ اپنے اس گراؤنڈ پر کھیل نہیں پا رہی جس کی پچ ہموار کرنے میں اس نے گزشتہ چار برس صرف کئے۔  مسلم لیگ نون کا جماعتی تشخص نواز شریف  کے ساتھ وابستہ ہے،  پانامہ لیکس کے منظر عام پر آنے اور اس کے بعد نواز شریف کے عدالت سے سزا پانے کے نتیجہ میں مسلم لیگ نون کو شدید سیاسی دھچکا پہنچا ہے۔ اپنے تشخص کے از سر نو تعین کی اہلیت سے محروم ہونے اور طوعاً و کرہاً نواز شریف کے تحفظ کی خاطر یہ سول بالادستی کو ملک کی سب سے اہم ضرورت ثابت کرنے اور اس کی بنیاد پر ووٹر کو متحرک کرنے کے لئے مجبور ہے،  مصیبت یہ ہے کہ اس ضمن میں نہ تو پاکستان کے اندر کوئی علمی اور فکری کام موجود ہے جس کی بنیاد پر ایک مستحکم منشو ر ترتیب دیا جا سکے، نہ ہی اس ضمن میں نون لیگ کے پاس کوئی سیاسی اثاثے ہیں جنہیں الیکشن مہم میں انویسٹ کیا جا سکے بلکہ مسلم لیگ نون کی قیادت کے اندرونی اختلافات کے سبب یہ ایشو کسی واضح اور مضبو ط پارٹی موقف میں بھی نہیں ڈھل سکا۔  نواز شریف کے قریبی ساتھیوں اور میڈیا کی کچھ آوازوں کے سوا نہ کوئی اس موقف کو اتنے زور و شور سے اٹھا رہا ہے،  نہ ہی سول بالا دستی کے قیام کا کوئی روڈ میپ دیا جا سکا ہے سوائے کسی طرح نواز شریف کو واپس اقتدار میں لانے کے۔ مسلم لیگ نون کے لئے یہ خاصی مشکل صورتحال ہے کہ جس امر کو وہ ملک کی سب سے اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں،  اس کے باب میں ووٹر کو کنوینس کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی سیاسی اثاثہ نہیں اور جس باب میں ان کے پاس سیاسی اثاثے موجود ہیں،  اسے وہ ملک کی اہم ترین ضرورت نہیں قرار دے پا رہے۔ اس کمی کے ازالے کی خاطر تمام سیاستدانوں کی مانند ان کے پاس بھی براہ راست عوامی جذبات کو اپیل کرنے کا آپشن ہے اور سر دست نون لیگ کی تمام تر انتخابی حکمت عملی اس تاثر کو پختہ کرنے پر مرکوز ہے کہ نواز شریف کو persecute کیا جا رہا ہے،  ان کے ساتھ زیادتی اور ظلم کیا جا رہا ہے اور بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت حلقہ جاتی سطح پر امیدواروں کی ذاتی کوشش کے علاوہ قومی سطح پر مسلم لیگ نون کی تمام نہیں تو بیشتر توقعات عوامی ہمدردی کے ووٹ سے ہی وابستہ ہیں۔  کارکردگی کے ضمن میں مسلم لیگ نون کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے ملک کی معاشی زبوں حالی کامنظر عام پر آنا اور ڈالر کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کی ضرورت ایک اضافی نقصان ہے،  جو ہمیشہ سے نون لیگ کے حامی کاروباری طبقے میں ایک اینٹی نون لیگ سوچ جنم دینے کا باعث ضرور بنا ہے،  لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سوچ موجودہ الیکشن پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔

تحریک انصاف کے دامن میں تبدیلی کے نام پر اگر کچھ ہے تو یہی ہے کہ یہ واحد جماعت ہے جس کا سپورٹر اپنے لیڈر کے خلاف بولنے،  کھل کر بولنے اور اس کے فیصلوں پر کھلے عام تنقید کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے اور یہ جماعت اس رویے کو قبول بھی کرتی ہے

تحریک انصاف کا موقف ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ضرورت کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ ہے اور اس ضمن میں ان کے پاس سیاسی اثاثے کے طور پر پانامہ لیکس کے کیس میں نواز شریف کو عدالت تک لے جانا اور عدالت پر سیاسی دباؤ قائم کرنے کی نون لیگی کوششوں کو ناکام بنانا موجود ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ  اپنی اصل میں کرپشن کا ایشو مسلم لیگ نون اور دائیں بازو کی جماعتوں کا سیاسی اثاثہ تھا۔ کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف مہم شروع سے مسلم لیگ نون کی پیپلز پارٹی کے خلاف حکمت عملی کا حصہ رہی ہے۔ کرپشن کے خلاف موجودہ فضا مسلم لیگ نون نے آصف علی زرداری کے پانچ سالہ دور اقتدار میں،  پہلی مرتبہ پرائیویٹ ٹیلیویژن چینلز کی دستیابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نہایت بلند بانگ مہم کے ذریعے قائم کی تھی جس کا فائدہ اب تحریک انصاف اٹھا رہی ہے۔  پانامہ لیکس کا معاملہ آؤٹ آف کنٹرول ہو جانے کے بعد اس فضا کو دھیما کرنے اور کرپشن کو نارملائز کرنے کے لئے مسلم لیگ نون نے اپنی سی سعی کی ہے،  لیکن اپنی گزشتہ پچیس برس کی مساعی کو خود ہی مسمار کرنا اور اس کی بنیاد پر ساتھ وابستہ ووٹر کی وابستگی کو برقرا رکھنا نہ ہی آسان تھا اور نہ ہی اتنی جلد بازی میں ممکن۔  البتہ بدعنوانی کے خلاف موقف کے حوالے سے تحریک انصاف کا ’’ تبدیلی‘‘ کا دعویٰ پچھلے چند ماہ میں ایک سوالیہ نشان ضرور بن گیا ہے،  پانچ سال روایتی سیاست کے خلاف نعرے بازی اور عشروں سے اسمبلی میں براجمان چلے آتے لوگوں کو کرپٹ اور بدعنوان کہتے رہنے کے بعد عین الیکشن کے قریب انہی لوگوں کو ساتھ ملا لینا ایک ایسا اقدام ہے جس سے اتفاق کسی غیر جانبدار مبصر کے لئے تو کیا،  خود پی ٹی آئی کے حامیوں کے لئے بھی ناممکن ہے۔ اس صورتحا ل کے ازالے کے لئے تحریک انصاف کی حکمت عملی کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف قائم شدہ فضا کی مضبوطی اور شدت میں اضافے پر مرکوز ہے۔ ووٹر کو اس نکتے پر قائل کرنے  پر مرکوز ہے کہ اس وقت کی سیاسی فضا میں تحریک انصاف کی حمایت سے ہاتھ اٹھانے کا تمام تر فائدہ مسلم لیگ نون کو پہنچتا ہے۔ تحریک انصاف کو یہ ایڈوانٹیج حاصل ہے کہ وہ تمام دلائل جو تحریک انصاف کو ووٹ دینے کے مانع ہیں،  اتنی ہی شدت سے نون لیگ کو ووٹ دینے کے مانع بھی ہیں۔  تحریک انصاف کی حمایت اگر کنواں ہے تو مسلم لیگ نون کی حمایت کھائی ہے۔ پیپلز پارٹی سرے سے آپشن ہی نہیں ہے۔ روایتی سیاست سے بیزار ا ووٹر کے لئے دو ہی آپشن ہیں،  یا خاموش ہو کر گھر بیٹھ رہے، یا ایک موہوم سی آس لئے عمران خان کے نام کا ووٹ ڈال آئے۔  تحریک انصاف کے دامن میں تبدیلی کے نام پر اگر کچھ ہے تو یہی ہے کہ یہ واحد جماعت ہے جس کا سپورٹر اپنے لیڈر کے خلاف بولنے،  کھل کر بولنے اور اس کے فیصلوں پر کھلے عام تنقید کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے اور یہ جماعت اس رویے کو قبول بھی کرتی ہے،  اس کلچر کے بل پر قیادت کو اپنے وعدے پورے کرنے پر مجبور کر دینے کی توقع کتنی حقیقت پسندانہ ہے،  یہ تو پچیس جولائی کے بعد کا وقت ہی بتا سکے گا لیکن فی الحال تحریک انصاف کا وفادار ووٹراسی طرح کے تنکوں کا سہارا لئے جماعت سے وابستہ ہے ۔  البتہ یہ امر طے ہے کہ کارکردگی اور ایجنڈے کی بنیاد پر صف بندیاں پچھلے سال میاں صاحب کی نا اہلی کے بعد ہی تشکیل پا چکی تھیں اور اس بنیاد پر ووٹ دینے والے ووٹر کی وابستگی میں ایک سال کے دوران کم ہی فرق پڑا ہے، سوئنگ ووٹ کا سارا معاملہ جذباتی عوامل کے ہاتھ میں آ گیا ہے اور سوئنگ ووٹر اس بنیاد پر ووٹ نہیں دے گا کہ وہ کس کی کارکردگی کو بہتر سمجھتا ہے۔  کارکردگی اس کے لئے محض ایک جواز اور ایک عذر کی حیثیت رکھتی ہے۔  سوئنگ ووٹ اس معاملے پر پڑے گا کہ کیا نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور اس کے ساتھ ہمدردی کی جانا چاہئے یا  بد عنوانی اور کرپشن کی علامت کے طور پر اس سے نفرت کی جانی چاہئے اور جس جماعت سے اس کا تشخص وابستہ ہے،  اسے ووٹ نہیں دینا چاہئے۔

(۳) نظریاتی ووٹ:
جہاں تک پارٹی ووٹ کا معاملہ ہے،  یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ سوائے جماعت اسلامی کے اس وقت پاکستان میں کوئی نظریاتی جماعت نہیں ہے۔  نون لیگ کا تو کوئی نظریہ خیر کبھی رہا ہی نہیں،  تحریک انصاف کے نظریاتی سپورٹر سے بھی اگر پوچھ لیجئے کہ تحریک انصاف کا نظریہ کیا ہے تو وہ آپ کا منہ دیکھنے لگے گا۔  لیکن جماعت اسلامی کا سیاسی منہج ایسا ہے کہ یہ ووٹر کی رائے پر اثر انداز ہونے والے پہلے ہی factor یعنی شناخت سے متصادم ہے۔  جماعت اسلامی کا صالح اور متقی ہونے کا دعویدار امیدوار،  ووٹر کے دل میں اپنے لئے احترام اور تقدیس کے جذبات تو جگا سکتا ہے،  لیکن یہ احترام اسی طرح ووٹر کو امیدوار سے alienate کر دیتا ہے، جیسے روایتی گھرانوں میں احترام کی ایک دیوار باپ بیٹے کے درمیان حائل رہتی ہے،  ووٹر جماعت اسلامی کے امیدوار کو ’’ہم میں سے ایک‘‘ نہیں سمجھتا،  اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا امیدوار اور کارکن اس اجنبیت کو اپنے راہ راست پر ہونے کی علامت سمجھتا ہے اور اس کے نزدیک یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔  ا س صورتحال کے اسباب عملی سے زیادہ فکری ہیں،  اسلامی تہذیب اور جدید ریاست کے مابین حائل ایک نظریاتی خلیج کی پیداوار ہیں،  شاید ستر کی دہائی میں یہ نظریہ اپنے ووٹ بھی رکھتا ہو لیکن اس وقت تلخ حقیقت یہی ہے کہ عملاً کوئی سیاسی جماعت انتخابات کے میدان میں جماعت اسلامی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتی ہے نہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی تشکیل دینے کا تردد کرتی ہے۔ اس منظر نامے میں نظریاتی سیاست کی گنجائش کم ہی بچتی ہے،  یہ ایک خوش کن نعرہ تو ہو سکتا ہے لیکن عملاً تمام پارٹیاں شناخت اور اہلیت کی بنیاد پر ہی انتخابی عمل میں حصہ لیتی ہیں۔ مسلم لیگ نون شروع سے ہی کوئی نظریاتی جماعت نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی نظریاتی سیاست سے خائف، حلقہ جاتی اثر و رسوخ کے حامل امیدواروں (آج کی زبان میں الیکٹ ایبلز کہہ لیجئے) کا ایک اکٹھ تھا، جسے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی ضروریات نے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ سیاسی پارٹیاں نہیں تشکیل دے سکتی،  یہ اپنی ضرورت کے مطابق سیاستدانوں کے اکٹھ تو تشکیل دے سکتی ہے لیکن انہیں ایک پاپولرسیاسی جماعت نہیں بنا سکتی۔  یہ اکٹھ مسلم لیگ قاف کی مانند اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ ختم ہوتے ہی اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔  مسلم لیگ نون کو سیاسی جماعت بنانے والا امر تحریک نفاذ نظام مصطفی کے نام پر وجود میں آنے والی اینٹی بھٹو لہرکا ضیاء الحق کے توسط سے نواز شریف کی جھولی میں آ گرنا تھا،  خواہ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، مسلم لیگ نون کا سب سے اہم  سیاسی اثاثہ جنرل ضیاء الحق کی وراثت تھا او ر ہے۔

اسی طرح پیپلز پارٹی اگر سیاسی حرکیات کے اعتبار سے نظریاتی جماعت تھی بھی تو محترمہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت کے ساتھ ہی اس نظریاتی تاریخ کا خاتمہ ہو گیا۔  یہ بات بڑی حد تک وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ۱۹۹۳ کا الیکشن آنے تک پیپلز پارٹی نے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے سیاستدانوں کے ایک اکٹھ کی سی حیثیت اپنا لی تھی۔  اپنے نظریاتی ماضی اور بھٹو ناسٹلجیا سے پھوٹنے والاایک وسیع نظریاتی ووٹ بینک البتہ اسے میسر رہا اور تب سے لے کر ۲۰۱۳ کے الیکشن تک لگ بھگ بیس برس ملکی سیاست کی نظریاتی جہت یہی پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو ووٹ کا مقابلہ رہا ہے،  لیکن یہ مقابلہ دو نظریات کے مابین نہیں بلکہ ماضی کے نظریاتی معرکے سے پھوٹنے والی وابستگیوں کے درمیان ہوتا رہاہے۔  یہ تقریباً طے رہا ہے کہ پرو بھٹو ووٹ پیپلز پارٹی کو اور اینٹی بھٹو ووٹ مسلم لیگ کو ملے گا،  جبکہ پرو بھٹو؍ اینٹی بھٹو حرکیات سے ہٹ کر فیصلہ کرنے والے یا عین انتخاب کے قریب آ کر امیدوار کا چناؤ کرنے والے ووٹر کو لبھانے کے لئے دونوں پارٹیوں کی سطح پر انتخابی سیاست اہلیت ؍ کارکردگی اور جذباتی عوامل کو اپیل کرنے کی بنیاد پررہی ہے۔  نظریاتی عوامل گو ہمیشہ بالواسطہ انداز میں سیاسی عمل پر اثر انداز ہوتے ہیں،  لیکن کوئی نظریاتی جہت اس وقت براہ راست قومی سطح پر سیاسی عمل میں اپنا کردار نہیں ادا کر رہی۔  ماضی کی وابستگیاں وقت کے ساتھ ساتھ مدہم پڑتی اور تحلیل ہوتی جا رہی ہیں او یہ شاید بھٹو مرحوم کی پھانسی کے بعد پاکستان کے پہلے انتخابات ہوں گے جن میں پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو ووٹ کا کردار فیصلہ کن نہیں ہو گا۔

(4) جذباتی عوامل:
ووٹر کے جذبات کو براہ راست اپیل کرنا آج سے نہیں بلکہ انتخابی سیاست کی تاریخ کے آغاز سے ہی سیاستدانوں کی اہم ترین حکمت عملی رہی ہے۔ ووٹر کی امید، اس کی ہمدردی، اس کی محبت، اس کی نفرت سیاسی عمل کے بے رنگ منطقی پن کو جاندار اور شوخ انسانی رنگوں میں ڈھالتے ہیں۔ جذبہ کارفرما ہو تو نظریے، جماعت یا امیدوار اور ووٹر کے مابین تعلق کتابی یا میکانکی نہیں رہتا، ذاتی اور شخصی بن جاتا ہے۔ ووٹر بھی محض ووٹر نہیں رہتا، کارکن اور فالوور بن جاتا ہے۔ سیاست ایک مسلسل جاری و ساری عمل ہے، الیکشن جس کا ایک اہم سنگ میل اور موڑ ہے لیکن منتہیٰ نہیں، ووٹر سے ایک شخصی نوعیت کا تعلق سیاستدان یا جماعت کے لئے الیکشن کے بعد در پیش مراحل میں بھی ایک اہم سیاسی اثاثہ رہتا ہے، اس لئے کتنا ہی مقبول نظریہ کیوں نہ ہو یا کیسی ہی شاندار کارکردگی نہ ہو، ووٹر کے جذبات کو اپیل کرنا سیاسی جماعتوں کے لئے ہر حال میں اہم رہتا ہے۔ یہ جذباتی عوامل کے سیاسی عمل میں ملوث ہونے کا مثبت پہلو ہے۔ منفی پہلو یہ ہے کہ انسانی جذبات کے منطقی فکر پر غالب ہونے کی صلاحیت کا استحصال ممکن ہے، ووٹر کے جذبات کو اس حد تک بھڑکایا جانا ممکن ہے کہ جذبات کے عالم میں ایک ووٹرنظریے کی عدم موجودگی، سیاسی غلطیاں، منشور میں موجود منطقی خلا اور اس کی راہ میں حائل عملی رکاوٹیں، سابقہ بر ی کارکردگی اور وعدہ خلافیاں سب کچھ نظر انداز کر دے۔کسی امیدوار یا جماعت کو صرف اس لئے ووٹ دے دےکہ ان کی کوئی بات، کوئی نعرہ اس کے دل میں ہمدردی، امید، خوف، محبت، نفرت یا غصہ کی ایک شدید لہر جگانے میں کامیاب رہے ہیں۔شخصیت پرستی میں الجھی، نظریاتی اعتبار سے بانجھ اور کارکردگی کے اعتبار سے بد عنوانی اور اقربا پروری کی دلدل میں پھنسی پاکستانی سیاست کی بیشتر حرکیات اس وقت جذباتی عوامل کے استحصال پر مبنیٰ ہیں۔ ہر جماعت عوام کے جذبات کو زیادہ سے زیادہ بھڑکانے کی کوشش کرتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ جذبات کے عالم میں ووٹر اس کی کوتاہیوں، کمزوریوں، داخلی تضادات اور وعدہ خلافیوں کو نظرانداز کر دے گا۔ جذباتی عوامل کے اعتبار سے دیکھئے تو ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے سبب پیپلز پارٹی کو ہمدردی کی بنیاد پر بھاری تعداد میں ووٹ ملتا رہا ہے۔ برسوں اپنی قیادت سے ناراض رہنے والا ووٹر انتخابی مہم میں ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کا قصہ سن کر بھرے ہوئے دل کے ساتھ الیکشن کے روز تیر پر مہر لگا آتا رہا ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد بھی پیپلز پارٹی کو ہمدرد ی کی بنیاد پر خاصی کثیر تعداد میں ووٹ ملے جن کی بنیاد پر آصف علی زرداری چاہتے تو مزید بیس برس کے لئے پیپلز پارٹی کی سیاست چلا سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایک ہی ٹرم میں یہ تمام ہمدردی ضائع کر دی۔اب بھی پیپلز پارٹی کا انحصار بھٹو کے نام پر ووٹ لینے پر ہی ہے اور اس کے لئے بلاول زرداری کے نام میں بھٹو لگا کر انہیں اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کا چہرہ بنا کر رکھا گیا ہے۔

مسلم لیگ نون کے لئے سب سے بڑا مسئلہ اپنے کندھوں پر لدے نواز شریف نامی اس بوجھ کا ہے جو بیک وقت اس کے لئے ایک بہت بڑی سیاسی liability بھی ہے اور سیاسی اثاثہ بھی،اگر مسلم لیگ میاں نواز شریف کو liability سمجھتے ہوئے ان سے چھٹکارا پانے چاہے تو اس کا جماعتی تشخص ہی برقرار نہیں رہتا، اگر انہیں ایک اثاثے کے طور پر استعمال کرنا چاہے تو ان کا ایک سزا یافتہ مجرم ہونا آڑے آتا ہے

تحریک انصاف کی بیشتر انتخابی حکمت عملی تبدیلی کا نعرہ لگا کر روایتی سیاست کے موید امیدواروں کو پارٹی میں بھر لینے کے داخلی تضاد کا مداوا کرنے پر مرکوز رہی ہے۔ اس کے لئے ان کی سٹرٹیجی کا ایک رخ عمرا ن خان کا دامن کرپشن کے الزامات سے پاک ہونے کے دعوے کو لے کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کے دلوں میں عمران خان کی محبت جگانا اور بحیثیت کرکٹر ان کے لئے قوم میں پائی جانے والی پسندیدگی کی لہر capitalize کرتے ہوئے ایسی فضا تشکیل دینا رہا ہے جس میں لوگ یقین کر لیں کہ عمران خان تحریک انصاف میں در آنے والے الیکٹ ایبلز کو قابو میں رکھنے اور بد عنوانی سے باز رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حالانکہ عملی حقائق ایسے کسی بھی دعوے پر یقین کی کم ہی گنجائش پیدا کرتے ہیں۔ اس سٹرٹیجی کا دوسرا پہلو شریف خاندان کی کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف عوام میں زیادہ سے زیادہ غم وغصہ پیدا کرنا ہے جو تحریک انصاف سے بد گمانی کے باوجود ووٹر کو کسی دوسرے انتخاب سے باز رکھے۔ بادی النظر میں یہ سٹرٹیجی کمزور ہونے کے باوجود مؤثر رہی ہے کیونکہ تحریک انصاف پہلے کبھی اقتدار میں نہیں رہی اور اس کے کندھوں پر ماضی کی وعدہ خلافیوں اور کوتاہیوں کا ایسا بوجھ نہیں کہ اسے معذرت خواہانہ انداز میں عوام کے پاس جانا پڑے۔ تحریک انصاف اپنے حریفوں کی نسبت زیادہ بلند آہنگ میں عوام سے مخاطب ہو سکتی ہے، زیادہ پر اعتماد انداز میں ان سے کوئی بھی وعدہ کر سکتی ہے اور اگر یہ انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے تو اس میں اس کی حکمت عملی سے زیادہ اس نئے پن کے تاثر کا کردار ہو گا جو ابھی تک تحریک انصاف کا سب سے بڑا سیاسی اثاثہ ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ نون کے لئے سب سے بڑا مسئلہ اپنے کندھوں پر لدے نواز شریف نامی اس بوجھ کا ہے جو بیک وقت اس کے لئے ایک بہت بڑی سیاسی liability بھی ہے اور سیاسی اثاثہ بھی،اگر مسلم لیگ میاں نواز شریف کو liability سمجھتے ہوئے ان سے چھٹکارا پانے چاہے تو اس کا جماعتی تشخص ہی برقرار نہیں رہتا، اگر انہیں ایک اثاثے کے طور پر استعمال کرنا چاہے تو ان کا ایک سزا یافتہ مجرم ہونا آڑے آتا ہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ سیاستدان کو سزا ملنے اور جیل جانے کا فائدہ ہوتا ہے، لیکن یہ تب درست ہے جب سیاستدان کو سزا سیاسی وجوہ کی بنا پر ہوئی ہو،اخلاقی وجوہ کی بنیاد پر ملنے والی سزا سیاستدان کا قد بڑھاتی نہیں چھوٹا کرتی ہے۔ اسی لئے جذباتی عوامل کے اعتبار سے نون لیگ کی انتخابی حکمت عملی میں سب سے زیادہ زور اس نکتے پر ہے کہ یہ سزا میاں صاحب کو کرپشن کی وجہ سے نہیں ہوئی اوراس بنیاد پر ووٹر کے اندر میاں صاحب کے لئے ہمدردی کا احساس بیدا ر کرنا ان کی انتخابی حکمت عملی کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ بدقسمتی سے یہی ان کی حکمت عملی کا سب سے کمزور پہلو بھی ہے، پاناما کیس کی تفتیش اور سماعت کے دوران اسے سیاسی بنانے کی بھرپور کوشش کا مسلم لیگ نون کو یہ نقصان ہوا کہ ان کے خلاف جانے والے دلائل منی ٹریل کی فراہمی میں ناکامی،قطری خط اور کیلیبری فونٹ وغیرہ بھی سیاسی ایشو بن گئے جسے مخالفین نے نواز شریف کو بدعنوان ثابت کرنے کے لئے بھرپور انداز میں استعمال کیا ۔ مسلم لیگ نون کی حکمت عملی فیصلے سے ہونے والے سیاسی نقصان کے ازالے پر مرتکز ہے جبکہ اصل سیاسی نقصان انہیں دوران سماعت ہی ہو چکا تھا۔نون لیگ سے پرانی جذباتی وابستگی رکھنے والا کارکن میاں صاحب کے لئے ہمدردی ضرور رکھتا ہے اور اسی مناسبت سے اپنے آس پاس کے لوگوں پر بھی کسی حد تک اثرانداز ہو سکتا ہے لیکن مجموعی طور پر عوام میں میاں صاحب کے لئے ہمدردی کی ایسی کوئی لہر نہیں پائی جاتی جو اس سیاسی نقصان کا ازالہ کر سکے جو پاناما کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ نون کو ہو چکا۔ اس حکمت عملی کا دوسرا پہلو میاں صاحب کو مظلوم جتانے کے لئے بظاہر اسٹیبلشمنٹ اور در حقیقت عسکری اشرافیہ کو ظالم ثابت کرنا اور یہ جتلانا ہے کہ طاقتور سے ٹکر لینے کی پاداش میں میاں صاحب کو یہ سب جھیلنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے ہاں انتظامیہ کے سول اور عسکری دھڑے ہمیشہ ہی ایک دوسرے سے سینگ پھنسائے رکھتے ہیں اور یہ صورتحال لگ بھگ ساٹھ برس سے اسی طرح چلی آ رہی ہے۔ بادی النظر میں ہوا یہ کہ تیسری دنیا کے ممالک میں سیاستدانوں نے قانون کے شکنجے سےگلو خلاصی کے لئے عدالتی اور قانونی نظام میں چور راستے پہلے سے تیار رکھے ہوتے ہیں۔ پاناما لیکس کے وقت سول ملٹری کشمکش باہم کسی ایسے موڑ پر تھی کہ عسکری انتظامیہ نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے میاں صاحب کو ایسے کسی چور راستے کا استعمال نہیں کرنے دیا اور شاید پہلی مرتبہ انہیں عدالتی پراسیس کا ایک غیر مراعات یافتہ انداز میں سامنا کرنا پڑا۔ اگر اشرافیہ کے نکتہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ان کے ساتھ عام شہری کا سا سلوک ہی ان کی حق تلفی ٹھہرتا ہے اور اس پر غم و غصہ میں آنے کو وہ اپنا فطری حق سمجھتے ہیں۔ اسی غم و غصہ اور کسی چور راستے سے اب بھی پاناما کیس کی کوٹھڑی سے فرار کی خواہش نے” ووٹ کو عزت دو” کا نعرہ تخلیق کیا۔ پاناما کیس کے سیاسی ہونے سے متعلق اپنے موقف کو عسکری اشرافیہ کے نواز مخالف ہونے کے ساتھ ملا کرنون لیگ کا قائم کردہ تاثر یہ ہے کہ پاناما کیس اس لئے قائم کیا گیا کہ میاں نواز شریف کو عسکری اشرافیہ سے ٹکر لینے کی سزا دی جا سکے۔ واقعاتی اعتبار سے دونوں موقف اپنی جگہ کمزور اور حقیقت سے بعید تر ہونے کے باوجود اکٹھے مل کر ایک مخصوص جذباتی فضا قائم کرتے ہیں جس میں میاں نواز شریف کے ساتھ ہمدردی کی گنجائش نہ بھی نکلے تو مزعومہ ولن یعنی عسکری اشرافیہ کے خلاف غم و غصہ پیدا کرنے کی گنجائش، خود عساکر پاکستان کے کندھوں پر لدے ماضی کی سیاسی لغزشوں کے بوجھ کے سبب، بہت زیادہ ہے۔ مسلم لیگ نون نے موجودہ انتخابی مہم کے دوران اس گنجائش کا بھرپور استعمال کیا ہے اور اس امر میں کوئی شک نہیں کہ عوام الناس کے اندر اس وقت عسکری اشرافیہ کی سیاست میں مداخلت کے خلاف غم و غصے کی ایک طاقتور لہر موجود ہے، لیکن بحیثیت ایک ادارہ اب بھی پاکستانی فوج عوام کا سب سے زیادہ معتمد اور محبوب ادارہ ہے۔ یہ پیچیدہ صورتحال کیا رنگ دکھلائے گی، اس کا فیصلہ کل ہو جائے گا۔

 

اس سلسلہ کا پہلا مضمون اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: