دفاعی بجٹ کی چھُری ۔۔۔۔۔۔۔۔ لالہ صحرائی

0
  • 157
    Shares

ایک مشہور قلمدان کی پوسٹ سے یہ اقتباس دیکھیے۔

“یہ ہماری اپنی آئی۔ایس۔آئی کے کرتوت ہیں کہ ملک کے انتخابی نظام کیساتھ یہ بے رحمانہ سلوک کرنیوالا ادارہ انتخابات کے بعد پانچ سال اپنے ہی “چمچوں” سے پھر یہ پروپیگنڈہ بھی کرواتا ہے کہ

دیکھا! سیاستدان ڈیلیور ہی نہیں کر سکتے۔

جن سیاستدانوں کے آپ “دفاعی بجٹ کی چُھری” سے ہاتھ پاؤں کاٹ لیں وہ مسائل کے سمندر میں چیلنجز کی اٹھتی ہوئی لہروں سے لڑے بھی تو کیسے؟۔”

اس زرگشت کے جواب میں گزارش ہے کہ:
جسے قومی بجٹ اور دفاعی بجٹ کے باہمی فرق کا پتا ہی نہ ہو، اس کا اس بات کو ملامت کیلئے دلیل بنانا ایک حماقت ہی ہے اور اگر پتا ہو مگر کم فہم عوام کو گمراہ کرنے کیلئے پوز مار کے فوج کیخلاف نفرت پھیلائے تو وہ بلاشبہ بددیانت ہے۔

آئیے ہم آپ کو اس ایگزاربیٹینٹ “دفاعی چھری” کا پھل ناپ کے دیتے ہیں، اس کے بعد آپ کو بخوبی پتا چل جائے گا کہ دفاعی بجٹ ایگزاربیٹینٹ نہیں بلکہ سیاسی نا اہلی اور ہزاروں ارب کی کرپشن کو دفاعی بجٹ کی آڑ میں چھپانے والے ہی حقیقی ایگزارزسٹ ہیں۔
اس تمہید کے بعد پیش خدمت ہے:

“دفاعی بجٹ کی چُھری‌” اور اس کے طول و عرض کی پیمائشیں۔
رواں مالی سال کیلئے
ہمارے مرکز کا کل بجٹ راؤنڈڈ۔آف۔ٹو 5300 ارب روپے ہے جبکہ آمدنی کا تخمینہ 5660 ارب ہے جس میں سے 4400 ارب فیڈرل ٹیکسز اور باقی رقوم کیپیٹل پروسیڈز سے حاصل ہوں گی۔

وفاقی محصولات میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، ایکسائز و کسٹمز اور کیپیٹل پروسیڈز میں دیگر قومی املاک کا منافع شامل ہے۔

اگر یہ آمدنی واقعی 5660 ارب ہوگئی تو پھر آخری ماہ میں بجٹ ریوائز ہوکے بڑھ جائے گا جس میں صوبوں کا حصہ اور دفاعی بجٹ بھی اپنی اپنی مخصوص شرح سے بڑھ جائیں گے، اگر کلیکشن کم ہوئی تو یہ سب بھی کم ہو جائیں گے۔

فنڈز کی تقسیم ایسے نہیں ہوتی کہ جو بجٹ مختص کیا گیا ہے وہ اگلے ہی دن سب کے حوالے کر دیا جائے بلکہ ہر سہہ ماہ میں جو کلیکشن ہوتی ہے وہ ہر سہہ ماہی کے اختتام پر مرکز، دفاع اور صوبوں میں اپنی اپنی مخصوص شرح سے تقسیم کر دی جاتی ہے۔

رواں سال کے اختتام تک اس متوقع 5660 میں سے 2600 ارب روپے صوبوں کا حصہ جائے گا جس میں اپنے صوبائی محصولات اور صوبائی املاک کا منافع جمع کرکے صوبے اپنا انتظام چلائیں گے، اس کے بعد مرکز کے پاس 3060 ارب روپے بچیں گے جس میں محکمہ داخلہ، خارجہ اور دفاع کا انتظام چلے گا، چند ایک گرانٹس اور کچھ چھوٹے موٹے صوابدیدی شو بھی اسی میں ہوتے ہیں۔

اب خیبر سے کراچی تک ملکی معاملات چلانے کیلئے مرکز کے پاس 3060 ارب، پَلس پنجاب کا بجٹ 1900 ارب، پَلس سندھ کا بجٹ 1100 ارب، پَلس کے پی کے 700 ارب اور بلوچستان کا 350 ارب روپے جس کا کل میزان 7110 ارب روپے بنتا ہے، یہ فیگرز راؤنڈڈ۔آف ہیں۔

اس طرح پاکستانی قوم رواں سال کے دوران 7110 ارب کا 84.53 فیصد یعنی 6010 ارب اپنے اوپر اور 15.47 فیصد یعنی 1100 ارب اپنے دفاع پر خرچ کرے گی۔

اب اس “دفاعی بجٹ کی چُھری” کو فی کس شراکت داری کے حساب سے بھی دیکھ لیتے ہیں۔

ہمارا کل بجٹ 7110 ارب روپے اگر اکیس کروڑ عوام سے وصول کیا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس میں ہر فرد نے 33857 روپے کا حصہ ڈالا ہے جس میں سے ہر ایک فرد کی طرف سے 28619 روپے سرکاری ملازمین، سرکاری اخراجات، صحت، تعلیم اور ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوں گے اور باقی 5238 روپے دفاعی ضروریات پر خرچ ہوں گے۔

اس کی شرح بھی وہی بنتی ہے یعنی قوم نے اپنی سہولیات کیلئے جو رقم فراہم کی اس میں سے 84.53 فیصد سیاسی انتظامیہ اور 15.47 فیصد دفاعی انتظامیہ کو جائے گا۔

اب اس “دفاعی بجٹ کی چُھری” کو فی یوم کے حساب سے بھی دیکھ لیتے ہیں۔

سیاستدان رواں سال میں قوم پر 6010 ارب روپے خرچ کرنا چاہیں تو یہ رقم 16 ارب 47 کروڑ روپے یومیہ بنتی ہے جبکہ قومی دفاع پر صرف 3 ارب 1 کروڑ روپے یومیہ خرچ ہوتے ہیں۔

اب اس “دفاعی بجٹ کی چُھری” کو فی کس آمدنی کے حساب سے بھی دیکھ لیتے ہیں۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل صاحب کی بجٹ تقریر کے مطابق پاکستانیوں کی فی کس سالانہ آمدنی 180,000 ہزار روپے ہے، اس آمدنی کا وہ صرف 19 فیصد ٹیکس میں دیں گے یعنی 33857 روپے اور باقی 81 فیصد یعنی 146,143 روپے فی کس عوام خود کھائے گی۔

اس 19 فیصد ٹیکس میں سے آپ 16 فیصد یعنی 28619 روپے فی کس عوامی سہولیات پر اور باقی کا 3 فیصد یعنی 5238 روپے فی کس اپنے دفاع پر خرچ کریں گے۔

اب اس کا ایک دوسرا رخ دیکھیں:
بعض حضرات یوں بھی گمراہ کرتے ہیں کہ فوج 80 فیصد بجٹ کھا جاتی ہے، یہ شوشہ بھی اپنی نالائقی کو چھپانے کیلئے ہی چھوڑا گیا تھا، فوجی بجٹوں کی ایوب خان سے لیکر اب تک پوری لسٹ موجود ہے، یہ کبھی بھی 80 فیصد نہیں بنتے۔

اگر ہم کل میزان کو چھوڑ کر فوجی بجٹ کو صرف مرکز کیساتھ کنٹراسٹ کریں تو بھی یہ 5660 ارب کا محض 19.44 فیصد بنتا ہے۔

اگر ہم تقسیم کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرکے صوبوں کا حصہ منہا کرنے کے بعد حساب نکالیں تو بھی یہ 3060 ارب کا 35.94 فیصد بنتا ہے۔

اگر ہم اکاؤنٹنگ رُولز کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے مرکز کے پاس باقی بچنے والے 1960 ارب سے کنٹراسٹ کریں تو بھی یہ 56 فیصد بنتا ہے مگر فائنانس کو سمجھنے والے ان آخری دونوں جوابات کو احمقانہ ہی قرار دیں گے۔

اصولی بات یہ ہے کہ افواج پاکستان کے ذمے صرف فیڈرل ایریا کا دفاع نہیں بلکہ زمین، عوام، املاک اور اکانومی سب کا دفاع فوج کے ذمے ہے اسلئے ان کے بجٹ کا تناسب بھی کل اکانومی کیساتھ لیا جائے گا لہذا وہ پہلا فیگر 15.47 فیصد ہی درست ہے، باقی چیزیں صرف غلط فہمی دور کرنے کیلئے پیش کی گئی ہیں۔

اب ایک اہم بات یہ ہے کہ:
یہ 1100 ارب روپیہ ایک تو یکمشت نہیں دیا جاتا کہ جاؤ اور سیاسی نظام کو فتح کرلو بلکہ یہ چار سہہ ماہی ٹرانچز میں دیا جائے گا۔

پھر یہ آرمی چیف کے پاس جائے گا نہ جوائینٹ چیف اور نہ آئی۔ایس۔آئی کے پاس بلکہ یہ ایک سیاستدان کے پاس ہی جائے گا جسے وزیر دفاع کہتے ہیں۔

وہ صاحب اسے تینوں افواج کی ضروریات کے مطابق ان میں تقسیم کرتے ہیں، پھر تمامتر دفاعی اخراجات کا مکمل آڈٹ ہوتا ہے جس کی رپورٹ دفاعی کمیٹی کے سامنے بھی پیش کی جاتی ہے۔

اس بجٹ کا صرف وہ حصہ آڈٹ نہیں ہوتا جو تینوں فورسز کی انٹرنل اور مرکزی انٹیلیجنس کیلئے مختص ہوتا ہے اور درج ذیل اخراجات کا اندازہ کرکے یہ بھی دیکھ لیں کہ وہ مخفی حصہ بھی کتنا باقی بچتا ہوگا۔

[اب 1100 ارب والوں کی کارکردگی]
آرمی، نیوی، ائیرفورس
اور پیرا ملٹری فورسز کی تنخواہیں
تینوں فورسز کے ٹریننگ سینٹرز
تینوں فورسز کا روٹی پانی
تینوں فورسز کی وردی، “بوٹ” اور جرابیں
تینوں فورسز کی ایڈمن، اسٹیشنری، مواصلات
تینوں فورسز کی وار ٹول مشینری، وار گیجٹس، وہیکلز، سپئیر پارٹس، ریپئیر اینڈ مینٹینینس اور فیولز کا خرچہ
چار انٹیلیجنس اداروں کا انلینڈ خرچہ
ورلڈ وائڈ انٹیلیجنس ارینج کرنے کا خرچہ
اسلحہ سازی کے کارخانے، میزائل سازی کا خرچہ
بیرون ملک سے اسلحہ، وار ٹولز، مشینری، ایکؤپمنٹس، گیجٹس اور ریڈارز کی خریداری
بیرون ملک سے بحری و فضائی راکٹس اور گائیڈڈ میزائلوں کی خریداری
اسکول، ہسپتال اور چھاؤنیوں کا خرچہ

جرنیلوں کی کرپشن، اِف اینی
کرنیلوں کی عیاشیاں، اِف اینی
سپاہیوں کا موج میلہ، اِف اینی
سیاست میں دخل اندازیوں کا خرچہ، اِف اینی

اس گیارہ سو ارب روپے میں یہ سب کچھ کرنے کے بعد فوج اگر انتخابی عمل سے لیکر سارے سیاسی نظام کو بھی اپنے سینگوں پہ اٹھائے پھر رہی ہے تو پھر پروفیشنل سینس میں اسے قابلیت نہ کہیں تو اور کیا کہیں۔

امیزنگ، ویری امیزنگ۔

[اب آجائیں 6010 ارب والوں کی طرف]
بجٹ کا اصول یہ ہے کہ مرکز سے صوبوں کو ملنے والا حصہ فی کس آبادی کے حساب سے دیا جاتا ہے، اس میں چھوٹے صوبوں کیلئے کچھ پسماندگی الاؤنس و دیگر گرانٹس بھی شامل ہوتی ہیں۔

پھر صوبوں کا اصول یہ ہے کہ وہ اس رقم میں اپنے محصولات و منافع جات شامل کرکے اپنے صوبے کے ہر ضلعے کو اس ضلع کی فی کس آبادی کے حساب سے فنڈ ٹرانسفر کریں گے جس میں وہ پسماندگی کی گرانٹس بھی صوبائی اضافے کیساتھ شامل ہوں گی۔

پھر ان اضلاع کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس میں اپنے لوکل محصولات شامل کرکے ضلع کونسل کا بجٹ بنائے اور اپنی تحصیلوں کو اور وہ اپنی یونین کونسلز کو فی کس آبادی پلس پسماندگی الاؤنسز سمیت ان کا حصہ ٹرانسفر کریں۔

اب جو بڑے سوالات پیدا ہوتے ہیں وہ یہ ہیں:
کیا چاروں صوبوں کے ضلعوں، تحصیلوں اور یونین کونسلوں تک بالترتیب ان کی آبادی ضرب 28619 روپے پلس پسماندگی الاؤنسز ملا کر صوبوں کی طرف سے ان علاقوں تک پہنچائے جاتے ہیں یا نہیں؟
ہرگز نہیں!
بلکہ ان غریبوں کی صحت و تعلیم اور علاقائی ترقی کا حصہ بھی صوبائی دارالخلافوں اور ڈویژنل سطح کے شہروں پر ہی خرچ ہوجاتا ہے اور ریموٹ ایریاز میں میک۔اپ کیلئے اکا دکا کام کر دیے جاتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت ان غریبوں سے نمائشی کاموں اور جاگیرداری رعب سے ووٹ ہتھیا لیا جائے۔

پھر 6010 ارب روپے کے اس بجٹ میں تعلیم، صحت، روزگار، ٹرانسپورٹ، مواصلات، پولیس، یوٹیلیٹیز اور دیگر عوامی سروسز کا جو حال ہے، یہاں تک کہ نقد پیسے لے کر سودا دینے والے محکمے نادرا، پاسپورٹ، پانی اور بجلی والے بھی عوام کو کیسے کیسے رُلاتے ہیں وہ سبھی کو معلوم ہے، بلکہ بجلی والے بھی چوروں کو پکڑنے کی بجائے اپنا نقصان باقی سب بے قصوروں پر یکساں تقسیم کر دیتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: عسکری کاروبار اور رئیل اسٹیٹ کی بحث: کچھ پہلو —- محمد خان قلندر

 

سرکاری تنخواہوں، سرکاری خرچوں اور چھوٹے موٹے ترقیاتی کاموں کے علاوہ یہ 6000 ارب سالانہ کہاں جاتا ہے کہ محکمہ تعلیم کے بعض حلقوں اور دیگر کئی محکموں کو تنخواہیں بھی رلا رلا کے ملتی ہیں اور بارش، سیلاب اور آفات میں کرائسس مینجمنٹ بھی ان سے نہیں ہوتی۔

پھر تمام پارٹیوں کے برانڈڈ ترقیاتی پروگرام سارے غیرملکی قرضے لیکر بنائے جاتے ہیں بلکہ ملکی اداروں کی عمارتیں و سڑکیں تک گروی رکھ دیتے ہیں، پچھلے دس سالہ سیاسی دور میں ڈیڑھ دو سو کھرب روپے قرضہ لیا گیا ہے وہ اتنا بڑا فنڈ ان بسوں کے علاوہ کہاں کھپایا گیا ہے، کون حساب دے گا؟

پچھلے پانچ بجٹوں کی کل مالیت تقریباً 20,000 ارب تھی جو سیاستدانوں نے پتا نہیں کہاں استعمال کئے اور وزیر دفاع نے تقریباً 3,200 ارب الگ سے قومی دفاع پر استعمال کئے۔

پھر بھی جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ 15.50 فیصد “لمبی چوڑی چھری” رکھنے والوں نے 84.50 فیصد “ننھی منی سی چھری” رکھنے والوں کو شکست دے دی تو ہمیں ان پر کوئی ترس نہیں آتا اسلئے کہ جو چھ گنا زیادہ بجٹ رکھ کے اور دوگنا زیادہ مراعات لیکر بھی اپنے ہنر کی لاج نہ رکھ سکیں وہ اپنی پسپائی کے خود ہی ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔

نام نہاد سیاستدانوں نے عوام کا پیسہ ذاتی خزانوں اور نااہل قلمدانوں میں بھرنے کی بجائے عوام پر لگایا ہوتا تو آج انہیں یہ دن نہ دیکھنے پڑتے نہ ہی یہ اتنے بے آسرا ہوتے۔

محترم کالم نگار نے افواج پاکستان کی حمایت کرنیوالوں کو “چمچہ” قرار دیا ہے لیکن ہم انہیں ایسا کچھ نہیں کہیں گے جو معیوب لگے مگر اتنا ضرور کہیں گے کہ سیاستدان کچھ ڈیلیور نہیں کر پاتے یہ ایک پرانا الزام ہے، تازہ الزام یہ ہے کہ انہیں تو پکے پاؤں 85.50 فیصد بجٹ لوٹنا بھی نہیں آتا، جس منصوبے کا ریکارڈ جلانا بھول جائیں اسی میں یہ پھنس جاتے ہیں، ویسے یہ حقیقت بھی کچھ پرانی ہے۔

نااہلی کی اس سے بھی تازہ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے لئے لابسٹ بھی ایسے ہائر کر رکھے ہیں جو نہ صرف حساب کتاب سمجھنے سے عاری ہیں بلکہ فوج کیخلاف دلائل قائم کرنے میں بھی شدید کرپشن کے قائل ہیں، یقین نہ آئے تو ان کا الزام اور اس کا جواب دوبارہ پڑھ کے فرق دیکھ لیں۔

باقی چمچوں کو آئی ایس آئی سے پیار نہیں عشق ہے، وہ ہماری پہلی ڈیفینس لائن ہے تو یہ اس کے ڈیفینڈرز ہیں اور ان دونوں کی قابلیت روز روشن کی طرح عیاں ہے … چشمِ بَد دُور…!

۔اینجوائیز۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: