وبائی راہنما ——- عابد آفریدی

0
  • 168
    Shares

نئے لوگ نئے چہرے، مونچھیں بڑھائے، سینہ پھیلائے پیٹ نکالے، اپنی گاڑی پر اپنی تصاویر لگائے، کوئی ہاتھ اٹھائے، کوئی مکا دکھائے تو کوئی وکٹری کا نشان بنائے محلہ محلہ گلی گلی گھوم رہے ہیں۔

ہمارے غریب علاقوں میں ان کی پراڈو، ڈبل کیبن ویگو، لینڈ کروزر، ایسے چڑھ دوڑی ہیں جیسے ہم سب کھانے کے بعد دو سے پانچ کے اوقات میں ڈیزل و پیٹرول خارج کرتے ہیں اور آپ سب ہمارا ٹھیکہ لینے کی نیت سے یہاں منڈلا رہے ہیں۔

ان نئے راہنماوں کی ہر ادا نئی ہے، ان کی ٹوپی نئی، ان کے ہاتھوں میں تسبیح نئی، حتی کہ اکثریت کی نمازیں تک نئی ہیں۔

یہ حضرات ان دنوں اتنے مہربان ہے کہ “وہ شخص جو عید کے دن صرف اس لئے مسجد جاتا ہے کہ واپسی پر نئی چپلیں چرائے، اسں کو بھی “حاجی صاحب” بول کر مخاطب کرتے ہیں۔ اور آفرین اس برائے نام حاجی صاحب پر وہ بھی اس شان سے اپنے فاقہ زدہ نتھنوں کو پھیلا کر ملتا ہے جیسے سات حج اور چونتیس عمرے ادا کرکے آیا ہو۔ ۔

ان وبائی راہنماؤں نے زندگی میں اس سے پہلے کبھی کچھ پڑھا ہو تو ہو البتہ ان دنوں اقبالیات کا مطالعہ ضرور کرتے ہیں بلکہ باقاعدہ گردان کرتے ہیں۔

نکڑ پر بیٹھے موالیوں کو جن کے مشاغل آوازیں کسنا، اور چرس پینے کے سوا کچھ نہیں ہوتے “انھیں تواتر سے اقبال کے شاہین بلاتے ہیں” وہ جنہوں نے ساری زندگی محلے کی رضیہ پر ڈورے، اور گلی میں گزرتی بجلی کے تاروں پر کنڈے ڈالے ہیں انھیں بار بار ہر راہنما ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اور اس اصرار سے دعوت دے رہے ہیں، مانو یہ ستارے ان کے نانا جان کے پلاٹ میں ٹنگے ہیں لہذا کوئی بھی جاکر وہاں کمند ڈال کے آجائے۔

ان کا ہم سے ملنا، باہیں پھیلا کر ہمیں گلے لگانا، کان کے نیچے سے بوسہ لینا، ، اخلاقیات کا اعلی مظاہرہ کرنا، چہرے پر غم زدگی لاکر علاقہ مکینوں کو سننا، یہ سب دیکھ کر ایک لمحے کو محسوس ہوتا ہے کہ ہم سب گونتا ناموبے سے چھوٹ کر آئے ہیں۔ ۔ اور آپ ہماری بے گناہی کے قصے سن کر امریکی مظالم پر آبدیدہ ہونے کے قریب ہوگئے۔ ۔

روزانہ رات کو علاقے میں تلاوت قرآن پاک سے موسیقی کی محافل کا آغاز کیا جاتا ہے۔ خوب ہلا گلا برپا ہوتا ہے۔ وفاداریاں بدلنے والے علاقہ مکین اپنے ہوش ٹھکانے آنے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ پچھلی وفاداریوں کو جہل سے تعبیر کرتے ہیں۔

پہلے وقتوں میں سیاسی امیدواران بہترین مقرر ہوا کرتے تھے۔ ان کی تقریر سن کر جی چاہتا تھا کہ بندہ قبروں میں دفن اپنے مردوں کو بھی نکال کر ووٹ ڈالنے کے لئے لائن میں کھڑا کردے۔ جبکہ آج ان وبائی راہنماوں کی تقریر سنئے۔ ۔ ۔ اللہ اکبر!!! بندہ وہ تقریر ان سے چھین کر کسی تھرڈ کلاس قوال کو دے دے اور فرمائش کرے کہ “عجیب عجیب شکلیں بدلتے لب و چشمان سے گندے گندے اشارے کرتے، منہ سے گٹکے و پان کی پیکیں پچکارتے ہوئے اس تقریر کو پڑھے، اور بیچ بیچ میں وقفے وقفے سے گھٹنوں کے بل اٹھ کر دونوں ہاتھوں سے اس امیدوار کو لعنتیں بھی دی جائیں۔

الیکشن کے دنوں میں ملک کے تمام امیر لیڈر ایک کلاس یعنی محمود و ایاز بن جاتے ہیں۔ راہنما حضرات غریب سے ہاتھ ملانے کے بعد ہاتھوں کو رومال سے نہیں پونچھتے۔ ڈانٹ ڈپٹ کے بدلے ان غریبوں کا انکاونٹر یا پولیس مقابلے میں نہیں مرواتے۔ سب ساتھ ساتھ موٹرسائیکل و رکشہ گاڑی پر سوار سفر کرتے ہیں۔ علاقے میں جھاڑو دیتے ہیں، کچرا اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

وقت کافی بدل گیا، نااہل سیاستدانوں نے لوگوں کو بہت مایوس کیا ہے جس کی وجہ ووٹر کو بھی یہ یقین ہوگیا ہے کہ بعد میں ان راہنماؤں نے ملک کے وسیع تر مفاد میں اسقدر غریق ہوجانا ہے کہ میرے اور آپ کے مفاد والی فائل اوپر آنے آنے میں پانچ سال پورے کر جائے گی۔ ۔ ۔ لہذا خطرے کے پیش نظر بقول انہی راہنماؤں کے اقبال کے وہ شاہین شام کو ایک کے جلسے تو رات کو دوسرے جلسے میں سلامی دیتے نظر آتے ہیں۔ ۔ ان سے مال بٹورتے ہیں، اور سب کو آسرا دیتے ہیں۔ ۔

چاچا موسی جن کو اپنی پیدائشی بیمار و معذور کم عمر پوتی کے علاج نہیں کہیں کا نہیں چھوڑا تھا ان دنوں ان کی وہ بیمار پوتی انتقال کرگئی۔ ۔

جب وہ زندہ تھی تو چاچا موسی روز کسی نا کسی سے علاج کے لئے رقم مانگتے پوتی کو خون چوس سنڈی کہتے، ہوئے ہاتھ پھیلا پھیلا کر اس کے مرنے کی دعائیں مانگتے۔

بچی کے موت کی یہ خبر جب لوگوں نے سنی تو ناراض ہونے کے بجائے سب خوش ہوئے، شکر ادا کیا۔ حق تو یہ تھا کہ سب لوگ جاتے اور چاچا موسی کو مبارکباد دے کر گلے لگاتے اور اچھال اچھال کر کہتے سنڈی مرگئی سنڈی مرگئی۔

مگر حیرت کی انتہا اس وقت نہ رہی جب سب نے چاچا موسی کو سینہ پیٹتے دھاڑیں مارتے روتے دیکھا، اس موت پر اپنے برباد ہونے کی دہائیوں دیتے سنا۔

لوگوں نے حیرانی کے عالم میں اپ کو دلاسہ دیا مگر اپ چپ نہ ہوئے زمین پر پاوں رگڑتے گئے، روتے ہوئے اپنی قسمت و تقدیر کو کوستے کوستے بات کو اس مہارت سے سابقہ ایم این اے اور ایم پی اے کے جانب لے ائے کہ یقین ہونے لگا جیسے اس موت کے زمہ دار وہ ایم پی اے و ایم این اے جنہوں نے پچھلے سال ووٹ لیا تھا۔

لوگوں کے ذریعے موجودہ امیدواروں کو پیغام بھجوایا کے سابقہ ممبران صوبائی و قومی اسمبلی نے اس غریب آدمی بہت دفعہ امداد کے نام پر جھانسہ دیا ہے اس کی زندگی کے ساتھ کھیلا ہے، لہذا اپ ازالہ فرما کر اہلیان محلہ کی ہمدردیاں حاصل کرکے اپنے ووٹ بینک میں اضافہ کریں۔

تمام امیدواروں نے چاچا موسی کی خوب مدد کی، چاچا نے بھی کسی کو روکا نہیں جو آیا اس سے مال لیا۔

ہم جب تعزیت کے لئے گئے تو چاچا موسی ہمیں دیکھ کر کھڑے ہوئے، گلے لگنے کے لئے اگے بڑھے اور بڑھتے ساتھ ہی رونے والا منہ بنایا، اس سے پہلے کہ وہ کہتے کہ میں برباد ہوگیا، ہم نے پہلے ہی اپنا گھٹنا اس کی ٹانگوں کے درمیان اس زور سے مارا کہ آپ کے منہ سے بس ایک “ہیییک” کرکے آواز برامد ہوئی اور زبان دانتوں میں دے کر دونوں ہاتھ مقام متاثر پر لیجا کر بت بن کر کھڑے رہے۔ ہم نے آپ کو گلے لگایا صبر کی تلقین کی، آزمائش کی اس گھڑی کو برداشت کرنے کا کہا۔ ثابت قدمی کی دعا دی۔

پہلے برے لوگوں کو برے حکمران ملا کرتے تھے، اب مزید اضافہ یہ ہوا ہے کہ برے حکمرانوں کو ان سے زیادہ برے عوام مل رہے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: