عمران خان اور صنف نازک کا جنون —– ڈاکٹر مریم عرفان

1
  • 49
    Shares

امانت لکھنوی کی ’’اندر سبھا‘‘ اردو ادب کے قارئین کے لیے نئی نہیں ہے اور دیگر پڑھنے والوں کے لیے عرض ہے کہ یہ داستانوی قصہ راجہ اندر کی جمالیاتی کہانی ہے۔ راجہ اندر کا تخت اور اس کے گرد ناچتی، گھومتی اور چہچہے کرتی پریوں کا ٹھٹ تخیل کی کارفرمائیوں سے بھرپور ہے۔ لال، پیلی، نیلی اور سبز پریاں راجہ اندر کے دربارمیں اترتی ہوئی ایسے معلوم ہوتی ہیں جیسے جھیل سیف الملوک پر شام کے سائے پڑاؤ ڈال رہے ہوں۔ ایسے میں ذرا راجہ اندر کی خوبصورتی کا ایک منظر ملاحظہ ہو:

آمد راجا اندر کی بیچ سبھا کے
سبھا میں دوستو اندر کی آمد آمد ہے
پری جمالوں کے افسر کی آمد آمد ہے
خوشی سے چہچہے لازم ہیں صورت بلبل
اب اس چمن میں گل تر کی آمد آمد ہے
فروغ حسن سے آنکھوں کو اب کرو روشن
زمیں پہ مہر نور کی آمد آمد ہے

یہ تو تھا داستانوی ہیرو اندر، جس کی خوبصورتی پر پریاں لوٹ پوٹ تھیں اب ذرا سیاست کے راجہ اندر کو یاد کیا جائے تو آنکھوں کے سامنے عمران خان کا چہرہ آجاتاہے۔ کیا یہ درست نہیں کہ عمران خان پاکستانی سیاست کا راجہ اندر ہے جس کا زیادہ ووٹ بنک خواتین ہیں۔ دنیائے فن بے شمار خوب صورت چہروں سے وابستہ ہے لیکن جو پسندیدگی عمران خان کے حصے میں آئی ہے وہ سب کو ملنا ناممکن ہے۔ آخر ایسی کون سی وجوہات ہیں جنہوں نے عمران خان کو تاحال اسی خانے میں برقرار رکھا ہے۔ اس سلسلے میں، میں نے اپنے حلقہ احباب اور ان کے توسط سے بہت سی خواتین سے یہی سوال پوچھا۔ جن کے جوابات میں تین باتیں بہت تواتر اور مضبوط حوالوں سے موجود تھیں۔

عورتوں میں مقبولیت کی سب سے پہلی خوبی عمران خان کی شخصیت ہے۔ یعنی خواتین میں یہ ’’کرش‘‘ اس کی دل ربائی سے پیدا ہوتاہے۔ وہ کوئی ٹین ایجرنہیں بلکہ لگ بھگ ساٹھ سال کو پہنچا ہوا بزرگ ہے۔ اب یہ اس کی شخصیت کی خوبی ہی ہے جو وہ اس عمر میں بھی توانا اور چاک و چوبند لگتاہے۔ پرانی فلموں کے ہیروز کی طرح جن کے ہاتھوں کاسگار اور ہونٹوں سے نکلنے والا دھواں ان کی بڑی عمر اور لمبی توندوں کے عیب تک چھپا لیتاتھا۔ اسی زمانے میں وحید مراد کے پیچھے بھی ایسی ہی دیوانہ وار عورتوں کی قطاریں موجود تھیں۔ جب کہ عمران کی انگلیوں میں کوئی سگار نہیں ہے اور پھر بھی خواتین ووٹرز اس پر فدا ہیں۔ وہ اس نسل کی ماؤں کا بھی ہیرو تھا اور اب ان کی بیٹیوں کا بھی ہیرو ہے۔ شاید اس کی شخصیت کا یہ طلسم ہی بڑا ماورائی ہے جس نے صنف نازک کو اپنا دیوانہ بنا رکھا ہے۔ مجھے اپنے سکول کا وہ زمانہ یاد ہے جب عمران خان شوکت خانم ہسپتال کے لیے چندہ مانگنے آیا تو ہوسٹل کی لڑکیوں پر قابو پانا مشکل تھا۔ بپھری ہوئی لڑکیوں نے ہوسٹل کی چھت پر چڑھ کر اسے خوش آمدید کہا اور واپسی پر اس پہ اپنی سونے کی انگوٹھیاں اورگلے کی زنجیریں پھینکیں۔ اس وقت میں خود چھٹی جماعت میں تھی اس لیے زیادہ شعور نہیں تھا لیکن عمران خان کی ایک جھلک دیکھ کر دل بلیوں اچھلتا رہا۔ میری ایک رئیس ہم جماعت اسے اپنے ہاتھوں سے بھاری رقم کا چیک دے کر معزز بنی اور اس کے چہرے کا تفاخر میرے لیے بھی کسی کارنامے سے کم نہیں تھا۔ بحثیت کھلاڑی عمران نے اپنی مقبولیت کا جو گراف بنایا تھا وہ بھی آج تک قائم و دائم ہے۔ اسی گراف کے اوپر اس کی شخصیت کا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ ایچ۔ ای۔سن کالج سے فارغ التحصیل کھلنڈرا اور جانباز کھلاڑی عمر بھر پلے بوائے بنا رہا۔ عورتیں اپنے منہ سے اظہار محبت کرتی رہیں اور شادی کے پیغامات ملتے رہے۔ عمران کے لیے یہ وارفتگی اب بھی قائم و دائم ہے چاہے اس کی ازدواجی زندگی ناخوشگوار واقعات سے بھرپور ہے لیکن اس پہ مرنے والیوں میں کمی نہیں آئی۔ اب تو ہر روز عمران خان کی خبر بریک ہوتی ہے کہ کسی کارکن کو دھکا دے دیا کسی پر ہاتھ اٹھا لیا، میڈیا چیخیں مارتا ہے اور مجمعے کے منہ سے ہائے بھی نہیں نکلتی۔ گویا غالبؔ نے ٹھیک کہا تھا:

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب
گالیاں کھا کے بے مزہ نہ ہوا

دوسری خوبی ہے اس کی انسان دوستی اوراس کا سب سے بڑا فلاحی کام شوکت خانم ہسپتال، جس کی خاطر عورتوں نے اپنا زیور بھی دینے میں عار محسوس نہیں کیا۔ کسی بھی عورت کے لیے اپنا زیور کسی کو دینا ایسے ہی جیسے اپنی عزت پیش کر دینا۔ جن دنوں میں شوکت خانم ہسپتال بن رہا تھا اور عمران خان اپنی چندہ مہم چلانے میں مگن تھا صنف نازک نے اسے اس مقام پر بھی اکیلا نہیں کیا۔ سیاسی حریف اب اس کے اسی فلاحی کام کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں جیسے انھوں نے کوئی بڑے تیر مار لیے ہوں۔ وہ اگر اب بھی ہسپتال کے لیے چندہ مہم چلائے تو سب سے پہلے خواتین ہی اس کے نعرے پر لبیک کہیں گی۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے دامن پر کرپشن کی ایک بھی چھینٹ نہیں ہے۔ الزام تراشیاں تو بہت ہیں لیکن ثبوت مانگو تو صفر۔ ریحام خان اور گلالئی جیسی بیبیاں بھی ہیں جن کے تیر نشانے پر نہیں بیٹھے تو مرغابی کو ہی بے وفا کہہ کر شور مچا دیا۔ عمران خان غصیلہ ہے، طنطنہ اور انانیت اس کی پور پور میں رچی بسی ہے، وہ پٹھان بچہ غالبؔ کے اس جملے کی طرح ہے: ’’ہم مغل بچے بھی کمال کے ہوتے ہیں جس پر مرتے ہیں اسے مار رکھتے ہیں۔‘‘

اسے عمران خان کی طبیعت کی سادگی کہنا چاہیے یا پھر اس کی قسمت کہ اس نے جلد بازی میں ریحام خان کا انتخاب کر کے ٹھوکر کھائی۔ جہاں اتنی آپشنز ملتی ہوں وہاں انسان ڈر تو جاتاہے لیکن پنجابی میں ایک کہاوت ہے کہ سیانا کوا گندگی پر گرتاہے۔ (لفظ بہ لفظ لکھنے سے قارئین کاوقارنہ مجروح ہو جائے)۔ ریحام کاخان پر کتاب لکھنا کوئی بڑی بات نہیں ہے تاریخ میں اس سے بھی تلخ مثال موجود ہے جسے جوانانِ مرد ’’مینڈھا سائیں‘‘ کے نام سے پڑھ چکے ہوں گے۔ گلالئی کے شور سے یا ریحام کی کتاب سے بھی خان کی مقبولیت میں کمی واقع نہ ہونالمحہ فکریہ ضرور ہے۔

تیسری اور آخری خوبی بڑی جذباتی نوعیت کی ہے۔ ہمارے بڑوں نے بھٹو اور نواز لیگ کے ادوار دیکھے، ملک کو جس ترقی کی ریڑھی پر ڈالا گیا اسے گاہے بگاہے دھکیلا تو گیا لیکن اونٹ نے کوئی کروٹ نہیں لی۔ ایسے میں تحریک انصاف نے جنم لیا اور اب یہ نوزائیدہ بچہ ٹین ایج تو ہو ہی گیا ہے۔ عمران خان نے تبدیلی کا نعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ نعروں کی بہار کو جنم دیا۔ تبدیلی وقت کا تقاضا ہے اور قانون قدرت بھی ہے، خان کے اسی جذباتی وار نے عورتوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کروائی۔جب تقسیم ہند کے موقع پر یہ نعرہ لگا تھا کہ ’’لے کے رہیں گے پاکستان‘‘ اور ’’بن کے رہے گا پاکستان‘‘ تب بھی لفظوں کے تیر برسائے گئے تھے۔ جنہوں نے ہجرت کا دکھ اٹھایا کوئی ان سے پوچھے کہ اس نعرے کے پیچھے کرب کی سوئیاں اب بھی ان کی آنکھوں میں پیوست ہیں یا نکل گئیں۔

’نیا پاکستان‘ کانعرہ وہ جذباتی حربہ ہے جس نے خواتین کو سڑکوں پر نکلنے اور دھرنا دینے پر مجبور کیا۔ کیا کسی اور سیاسی جماعت کے خواتین میں اتنی طاقت اور مستقل مزاجی دیکھی جا سکتی ہے جو عمران کے جلسوں میں نظر آئی۔ یہاں ناقدین فوراً ان جلسوں کو فحاشی اور کنجرخانے سے تشبیہہ دے کر نفی کریں گے۔ یہاں یہ لطیفہ سنانا اشد ضروری ہے کہ جب ’’اس بازار‘‘ میں آگ لگ گئی تو عملہ آگ بجھانے گیا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد ہیڈ آفس اطلاع کی گئی کہ آگ پر تو قابو پا لیا گیا ہے لیکن مجمع پر قابو پانا مشکل ہے۔ رائے زنی کی اجازت ہے لیکن اس سمجھ دانی کے بعد:

میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسدؔ
سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا

Leave a Reply

1 تبصرہ

  1. ریحام خان کی کتاب کے بعد بھی مقبولیت میں کمی نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے ،جی ہاں بالکل درست بات فرمائی ،یہ مزاج اور تیور اور پلے بوائے ہونے کے باوجود عمران خان کی مقبولیت واضح کررہی ہے کہ واقعی نیا پاکستان بننے جارہا ہے جہاں پاکستانی تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی ۔رہے نام اللہ کا

Leave A Reply

%d bloggers like this: