اب آگ انکے گھروں تک پہنچ چکی ہے —- ارشد محمود

0
  • 41
    Shares

کچھ دنوں سے کچھ آقاوں کے منہ سے دبی دبی چیخیں نکل رہی ہیں۔ اور سچ کہوں تو یہ درد بھری چیخیں سن کر عجیب کمینی سی خوشی محسوس ہورہی ہے (اللہ اس پر مجھے معاف فرمائے)۔ لیکن کیا کروں انسان ہوں اور وہ بھی بہت کمینہ سا، منتقم سا۔ کل تک مجھے عذاب میں مبتلا کر کے میری چیخ و پکار کی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ان زمینی خداوں کو اپنی جلائی آگ کا سیک پہنچنے پر تڑپتا دیکھ کر اگر اس آگ پر تیل نہیں ڈال سکتا تو کم از کم خوش تو ہو ہی سکتا ہوں کہ اور یقیناً یہ کمینگی کا ادنیٰ درجہ ہے۔

آئیۓ انسان کے روپ میں ان آقاوں (زمینی خداوں) سے ملتے ہیں:

یہ خدائے سیاست ہیں۔ یہ ہم پاکستانیوں کے ان داتا اور قاسم رزق ہیں۔ جو ہرچند سال بعد ہم سے روٹی کپڑا مکان، سڑکیں پل، نوکریاں، چھوکریاں اور ٹوکریاں دینے کا وعدہ کر کے ووٹ کا خراج وصول کرتے ہیں اور پھر اپنی خدائی کو مضبوط بنانے میں مگن ہو جاتے ہیں۔
یہ خراج دینے اور نہ دینے والوں کو یکساں نشان عبرت بناتے ہیں۔ پہلے یہ خدا ایک یا دو تھے اب اس خدائ کاروبار کو منافع بخش دیکھ کر خداوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوگیا ہے اور ان میں کچھ بہت ہی گھٹیا ذہنیت کے خدا بھی آن ملے ہیں۔ کمپیٹیشن کی وجہ سے یہ خدا رعایا کے ساتھ ساتھ اپس میں بھی لڑ رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں۔ جس کی دم پر سیک پہنچتا ہے وہ چیخ کر دوسروں کو گالی دیتا ہے اور اس خدا کو ماننے والے اس کی ہمدردی میں کورس کی شکل میں اپنے خدا کے مخالف خداوں اور عام انسانوں کو گالیوں سے نوازتے ہیں۔ مجھے بہر حال سیاسی خداوں اور انکے ہمدردوں سے محض ہمدردی ہی ہے دشمنی کوئ نہیں۔ کہ یہ نادان اس قابل بھی کہاں۔

یہ خدائے حکومت ہیں۔ یہ حکومت کو بناتے ہیں اور بدلے میں حکومت انکو بناتی ہے۔ پہلے کس نے کس کو بنایا یہ سوال ہنوز آنڈے اور مرغی کی سبقت والے معاملہ کی طرح بحث طلب ہے۔ یہ وقت پر انویسٹ کرتے ہیں اور وقت پر منافع کما لیتے ہیں۔ پر اب انکے منافع کمانے پر قدغن لگ رہی ہے تو یہ چیخ رہے ہیں۔ کہ ہماری بلی ہمی کو میاوں۔ بھائی بلی کا کیا ہے کس بھی وقت بھوکی یا خوفزدہ ہو کر صرف میاں ہی نہیں حملہ بھی کر دیتی ہے۔ بلیوں کو گوشت خور بنایا ہے تو اب بھگتو۔

یہ خدائے صحافت ہیں۔ کل یہ خدا صاحب بھی ایک صحافی کی لاش ہسپتال کے سامنے رکھ کر بین کر رہے تھے۔ کہ غافل و ظالم طبیب نے مار ڈالا۔ بھائی خدائے صحافت یہ جو باقی سینکڑوں لوگ روز ان قصابوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں کیا وہ انسان نہیں ہیں بھلا؟ ان خدا صاحب کو صحافتی کارڈ دکھانے پر ہر جگہ پروٹوکول اور وی آئی پی ٹریٹمنٹ ملتا رہا ہے۔ اب قوم کے پاس پروٹوکول کی مقدار کم ہونے کی وجہ سے ان کا کوٹہ کم ہو رہا ہے تو یہ چیخ رہے ہیں۔ معاشرہ میں میرٹ کے قتل، بد عملی اور بد نظری جسی آگ انہی کی لگائی ہوئی ہے۔

یہ جو شیطانوں کے مجلس میں جذباتی سی پریس کانفرنس کر رہے ہیں ناں یہ خدائے عدالت ہیں۔ پریس کی آزادی کا کچھ تو فائدہ ہوا ناں۔ ویسے حیرت ہے عدالت کے سینے میں تو دل نہیں ہوا کرتا، پھر یہ جذبات کہاں سے آگئے؟ دروغ بر گردن راوی چند سال ادھر ایک تعلیمی بورڈ کی خاتون چیئر پرسن سے ری چینکنگ کی آڑ میں بیٹی کا گریڈ تبدیل کروانے کے عوض ایک فیصلہ سنا ہے آپ نے بھی انکی مرضی پر کیا تھا۔ تب تو مداخلت بری نہیں لگی تھی ناں ؟

یہ سب خدا ایک بڑے خدا کی مان کر چلنے والے ہیں اور اب اسی پر الزام لگا رہے ہیں۔ اگر یہ سب جو اس خدا کے آلہ کار ہیں کہہ رہے ہیں تو یقینآ سچ کہہ رہے ہونگے۔ میں تو اللہ کا ماننے والا ہوں اس لیۓ اس زمینی خداء بزرگ کو دیکھ سکتا ہوں نہ اس سے کلام کر سکتا ہوں۔ کیوں کہ اس خدا تک رسائ انہی خداوں کو میسئر ہے۔ ہاں یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اپنے پاؤں جلنے پر ان بچونگڑے خداوں کو کر خدائے بزرگ نے پنجوں تلے لے لیا ہے تو زمین پر سیکھ بہت بڑھ گیا ہوگا۔ اس خدا کو بھی جان لینا چاہیۓ کہ ایسا بھی کب تک ؟

عوام کو خوشخبری ہو کہ اب یا تو یہ آگ بجھے گی یا ہمارے گھروں کی طرح انکے گھروں کو بھی راکھ کر دے گی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: