دو انتخابی معرکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سید صفدر گردیزی

0
  • 9
    Shares

قیام پاکستان کی کٹھن جدوجہد کا ثمر 1946 کے الیکشن میں ہی ملا تھا۔ مرکزی اسمبلی کی 30 کی 30 نشستیں مسلم لیگ کے نام رہیں۔ صوبائی اسمبلیوں میں 495 میں سے 464 پر مسلم لیگ کے نمائندے فاتح قرار پائے۔ ان ہنگامہ خیز انتخابات میں حصول پاکستان کے یک نکاتی ایجنڈے کی حامل مسلم لیگ نے چومکھی لڑائی لڑی۔ ایک طرف تقسیم کی مخالف کانگرس تھی تو دوسری طرف برطانوی استعمار بھی اسے برداشت کرنے کو تیار نہ تھا۔ اغیار کی ریشہ دوانیوں کے پہلو بہ پہلو اپنوں کی مخاصمت کا کوہ گراں بھی راستے میں حائل تھا۔ قوم پرست حلقوں کے پر فریب نعروں کے علاوہ مذہبی رجعت پسندوں کی ’’مذہبی تعبیر‘‘ کے ترکش کے تیروں کا رخ بھی مسلم لیگ کی طرف تھا۔ نتائج نے تمام مخالفین کی سیاسی بساط لپیٹ دی۔ مسلم لیگ کے 1,93,787 ووٹوں کے مقابلے میں تمام مخالفین محض 24983 ووٹوں تک محدود رہے۔ ان انتخابات کی خاص بات یہ تھی کہ بابائے قوم قائد اعظم کے انتخابی مخالف عناصر نے مسلمانوں کے اندر مسلکی اور فرقہ وارانہ تقسیم کے ذریعے نقب زنی کی ناکام کوشش کی۔ یوں مطالبہ پاکستان کے لیے یک زبان قوم کو عقیدے اور مسلک کی بنیاد پر تقسیم کی کوشش کی۔

بدقسمتی سے موجودہ انتخابات نے مذہبی فوائد اور من پسند سیاسی نتائج کے حصول کے لیے ایک بار پھر مذہبی فتوئوں کا عفریت انگڑائی لے رہا ہے۔ نئے ناموں سے منصئہ شہود پر نمودار ہونے والے بعض مذہبی گروہ مذہب، توہین مذہب اور مخالفین کے ذاتی عقائد کو لے کر سیاسی اتھل پتھل برپا کیے ہوئے ہیں۔ ان گروہوں کے نعروں اور طرز سیاست نے ماضی کے دو انتخابی معرکوں کی یاد تازہ کر دی ہے

انتخابات 2018 کے سیاسی ہنگاموں میں مذہبی سیاست کا نیا رخ اور نعرہ ملکی افق پر اضطراب کی لہریں پیدا کر رہا ہے۔ اب کی بار مذہبی جذبات کو برانگیختہ کرنے والے عناصر کا بیانیہ سیاسی اسلام سے زیادہ مسلکی اپیل پر مبنی ہے۔ جس کے پیچھے فکری سے زیادہ فرقہ وارانہ عوامل اور محرکات پوشیدہ ہیں۔ پاکستان میں مذہبی سیاست کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ 1946 کے الیکشن مذہبی سے زیادہ سیاسی حقوق اور علیحدہ وطن کے مطالبے کے گرد گھومتے ہیں۔ مذہب کی محدود اور مخصوص تعبیر و تشریح کے ذریعے سیاست کرنے والی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام ہو گئیں۔ قیام پاکستان کے بعد ریاست کی اسلامی شناخت اور سیاسی نظام کے اسلام کے تابع ہونے کے فکری نظام کے نعرے کے ساتھ یہ جماعتیں سیاسی میدان میں کود پڑیں۔ 70برس کی انتخابی تاریخ میں ہمیں دو طرح کی جماعتیں نظر آتی ہیں۔

اولاً مذہبی سیاست کے منشور کی حامل اور سیاسی اسلام کی راہ ہموار کرنے والی۔ ثانیتا مخصوص مسلکی سوچ اور عقائد کو انگیخت کر کے سیاسی طاقت کشید کرنے والی۔ اول الذکر نے بہت حد تک حالات کے جبر کے تحت جمہوری اصولوں اور رویوں کو اپنا لیا جب کہ ثانوی گروہ نے متشدد اور سخت گیر حکمت عملی کا سہارہ لے کر نمایاں ہونے کی کوشش کی۔

1970 کے الیکشن میں پہلی بار مذہبی سیاست کو ایک نعرے کے طور پر اپنایا گیا۔ اسلام بمقابلہ سوشلزم اگر ایک فکری اور سیاسی جنگ تک محدود رہتا تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔ ستم ظریفی یہ ہوئی کہ سوشلزم کو کفر قرار دینے کے فتوئے نے سیاسی تقسیم کی تلخی میں مذہب کو ایک عمل انگیز کے طور پر استعمال کیا۔ نتیجتا پہلے سے منقسم معاشرہ میں مذہبی اور سیاسی طور پر تقسیم در تقسیم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بدقسمتی سے موجودہ انتخابات نے مذہبی فوائد اور من پسند سیاسی نتائج کے حصول کے لیے ایک بار پھر مذہبی فتوئوں کا عفریت انگڑائی لے رہا ہے۔ نئے ناموں سے منصئہ شہود پر نمودار ہونے والے بعض مذہبی گروہ مذہب، توہین مذہب اور مخالفین کے ذاتی عقائد کو لے کر سیاسی اتھل پتھل برپا کیے ہوئے ہیں۔ ان گروہوں کے نعروں اور طرز سیاست نے ماضی کے دو انتخابی معرکوں کی یاد تازہ کر دی ہے۔ جن کا تذکرہ اور احوال ماضی کی گرد میں چھپا ہے۔

ہماری قومی زندگی میں قائد اعظم اور علامہ اقبال کی ذات، فکر و عمل اور سعی و جہد کے حوالوں کو ایک سند اور دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان سے منسوب واقعات اور تعلیمات کو اجتماعی زندگی کی صورت گری میں ایک محرک اور مظبوط حوالے کے طور پر لیا جاتا ہے۔ مگر ان کی انتخابی سیاست کا تذکرہ خال خال ہی بیان کیا جاتا ہے۔ ان دو عظیم ہستیوں نے اپنی زندگی میں انتخابی سیاست کی دشت کی سیاحی کی اور کارزار سیاست کے ہنگاموں کا مزہ بھی چکھا۔ ان کے انتخابی معرکوں کا تذکرہ تاریخ کے طالب علموں اور موجودہ مدوجزر کا مطا لعہ کرنے والوں کے لیے یقینا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا۔ قارئین کے لیے یہ امر حیرت کا باعث ہو گا کہ ان دو قابل احترام ہستیوں کو انتخابی میدان میں سیاسی سے زیادہ مسلکی مخاصمت کا سامنا کرنا پڑا۔ آج کے سیاسی منظر نامے پر وقوع پذیر مخصو ص حالات اور نموپذیر واقعات کے تناظر میں ماضی کا سفر شائد ہمیں الجھنوں اور مخمصوں کی دھندسے نکالنے میں معاون ہو۔

حضرت علامہ اقبال عملی سیاست کے بکھیڑوں سے گریزاں رہتے تھے 1927میں پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے الیکشن میں اہلیان لاہور کے اصرار پر انتخابی میدان میں اتر آئے۔ ان کے مدمقابل ملک محمد دین بار ایٹ لاء امیدوار تھے۔ مسلم زعماء نے انھیں دستبردار ہونے اور علامہ اقبال کی ملی اور قومی خدمات کے باعث بلا مقابلہ منتخب کروانے کا مشورہ دیا۔ ملک صاحب نے صوبائی انتظامیہ او ر چند جی حضوریوں کی شہہ پا کر انتخابی معرکے سے دست کش ہونے سے انکار کر دیا۔ لاہور کا پڑھا لکھا طبقہ حضرت اقبال کی الیکشن مہم میں پیش پیش تھا۔ پاکستان کی سیاست میں آج بھی قبیلائی عصبیتوں کو انتخابی فوائد میں بدلنے کا رجحان موجود ہے۔ شائد ایک صدی کا سفر بھی تہذیب اور شعور کو اس انسانی جبلت پر حاوی ہونے سے نہیں روک سکا۔ مخالفین نے جب فضا ء بدلتے اور عوامی ہمدردیوں کا رخ اقبال کی جانب مڑتے دیکھا تو انہوں نے ذات برادری کا روائتی او ر آزمودہ نسخہ اپنایا۔ برادری اور ذات کا یہ قدیمی جھگڑا اور ٹکراو اور لاہور کی سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی میں پہلے سے گہری جڑیں رکھتا تھا۔ آنے والے الیکشن میں الیکٹیبلز اور دھڑوں کی سیاسی جادو گری کے افسانے موضوں بحث ہیں ایسی خصوصیات کی حامل ایک شخصیت علامہ اقبال کو مقابلے سے باہر کرنے کے لیے اس وقت بھی سرگرم تھی۔ سیاسیات لاہور کے گرو کہلانے والے منشی محرم علی چشتی جیسے جغادری سیاست دان کی طرف سے ملک محمد دین کی حمایت نے سیاسی ارتعاش اور کشمکش کے حجم میں مزید اضافہ کر دیا۔ شاعر مشرق کے مقابل یہ معرکہ صرف ذات برادری تک محدود رہتا تو خیر تھی مگر مسجد وزیر خان کے خطیب مولانا سید دیدار علی شاہ علامہ اقبال کے خلاف کفر کے فتووں کے ساتھ سامنے آئے تو انتخابی معرکے میں مذہبی منافرت بھی در آئی۔ ان کا استدلال تھا کہ حضرت اقبال کی نظم شکوہ میں کفریہ کلام شامل ہے اقبال جب تک کفر سے توبہ نہ کریں انہیں ووٹ دینا حرام ہے۔ جب کہ ان کا مخالف متشرع اور پرہیز گار ہے جس کی وجہ سے وہ ووٹ کا زیادہ حق دار ہے۔

30 کی دہائی میں زمیندار اور انقلاب جیسے معتبر اخباروں سے وابستہ رہنے والے نامور صحافی اشرف عطاء نے اپنی کتاب ’’کچھ شکستہ داستانیں کچھ پریشان تذکرے‘‘ نے لاہور کے اس الیکشن کی روداد رقم کی ہے۔ 90برس بعد بھی آج انہی کفر کے فتوئوں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کا جواز اور ذاتی عقائد کو انتخاب میں حمایت یا مخالفت کا معیار بنانے کی روش بدستور نظر آتی ہے۔ حضرت اقبال کے متوالوں نے مسجد وزیر خان کے سامنے چوک پرانی کوتوالی میں جلسہ کیا تو اہلیان لاہور کا جم غفیر پنڈال میں امنڈ آیا۔ اقبال نے جلسے میں مولانا کے اعتراضات او ر فتووں کا مسکت جواب دیا اور کہا کہ شکوہ کے بعد اگر وہ جواب شکوہ پڑھ لیتے تو انہیں کفر کی گردان کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ 30نومبر 1926 انتخاب کے دن لاہور کے گلی کوچوں میں یہ نعرہ گونج رہا تھا ’’پتلون پوش ولی کو یاد رکھنا‘‘ جب نتیجہ آیا تو پتلون پوش ولی 5675 ووٹ لے کر فاتح رہے۔ ان کے حریف تمام تر کوششوں کے باوجود 2478 ووٹ لے پائے۔

بابائے قوم قائد اعظم 1946 کے الیکشن میں مرکزی اسمبلی کے لیے بمبئی کے حلقے سے امیدوار تھے۔ عام خیال یہ تھا کہ وہ بلامقابلہ منتخب ہو جائیں گے۔ مگر ایک عرصہ تک تامل اور تذبذب مسٹر حسین بھائی لال جی شیعہ پولیٹکل کانفرنس کے نمائندے کے طور پر انتخابی معرکے میں جلوہ گر ہوئے۔ وہ اپنے تئیں شیعان ہند کے خود ساختہ نمائندے بن کر مقابلے میں کود پڑے۔ یہی حسین بھائی 1923 میں محمد علی جناح کے مقابلے سے دست بردار ہو چکے تھے۔ اس بار وہ اپنی کمیونٹی کی مخالفت اور رضامندی کے علی الرغم مسلم لیگ کی حریف قوتوں کی خفیہ شہ پر قائد اعظم جیسی قد آور شخصیت کو ہرانے کے لیے اغیار کی فریب کاری کے نقشوں میں رنگ بھرنے پر آمادہ ہو گئے۔ شمس العلماء خواجہ حسن نظامی کے لال جی سے درینہ مراسم تھے۔ اکتوبر 1945میں جب لال جی نے مذہبی اور سیاسی عصبیت ابھارنے کے لیے لکھنوء میں شیعہ کانفرنس منعقد کی تو خواجہ صاحب نے انہیں خط لکھ بھیجا۔ قائد اعظم سے سیاسی اختلاف رکھنے والے ایک صحافی اور عالم کا ان کی دیانت اور اصول پسندی کا اعتراف اس خط کے مندرجات میں موجود تھا۔ خواجہ صاحب نے اپنی جماعت کے ہزاروں چشتیوں کی طرف سے مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے لال جی کو منافرت سے گریز اور ذاتی اغراض کو ملی مفاد پر قربان کرکے مسلمانوں کی وحدت کو بچانے کی تلقین کی۔ لیکن ایک مخلص دوست کی اپیل رائیگاں گئی اور لال جی اپنی ضد پر قائم رہے۔

انتخابات سے ایک دن پہلے یہ افواہ اڑائی گئی کہ سر آغا خان نے اسماعیلی جماعت کو ہدایت کی ہے کہ وہ مسٹر جناح کے مقابلے میں لال جی کو ووٹ دیں۔ لیکن مشہور آغاخانی رہنما حبیب ابراہیم رحمت اللہ نے آگرہ میں آغا خان کو ٹیلی فون کر کے حقیقت حال دریافت کی۔ سر آغاخان نے بڑے اضطراب کے ساتھ اس کی تردید کی۔ اور انہیں ہدایت کی کہ وہ فوراً اس کی تردید کریں اور یہ اعلان بھی کر دیں کہ میں مسلم لیگ کی کامیابی کا متمنی ہوں۔ نامور مورخ اور محقق رئیس احمد جعفری کی کتاب ’’قائد اعظم اور ان کا عہد‘‘میں اس معرکے کی جزیات او ر تفصیلات موجود ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ 26 نومبر کو صبح سے ہی مسلم لیگ کے خیموں میں قائد اعظم کے عقیدت مندوں کا ہجوم تھا۔ لال جی جس حلقے سے کھڑے ہوئے تھے وہاں شیعہ ووٹوں کی غیر معمولی اکثریت تھی۔ وہ بنفس نفیس شہر میں موجود تھے۔ جب کہ قائد اعظم بمبئی سے باہر مسلم لیگ کی انتخابی مہم میں مشغول تھے۔ پھر بھی کیفیت یہ تھی کہ قائد اعظم کے کیمپ میں شیعہ رضاکاروں کا انبوہ کثیر امنڈ آیا۔ دوسری طرف لال جی کے کیمپ میں سوائے چند کانگرسی کارکنوں کے کوئی اور موجود نہ تھا۔ 14 دسمبر کو جب نتائج کا اعلان ہوا تو لال جی شرمناک ہزیمت سے دو چار ہو چکے تھے۔ قائد اعظم نے 3602 ووٹ لیے جب کہ ان کے حریف کی ضمانت صرف 127 ووٹ لینے کی وجہ سے ضبط ہو گئی۔

یہ دو یاد گار انتخابی معرکے ہماری تاریخ کا سبب ہیں مسلمانوں کے اجتماعی شعور اور قومی مفاد نے کبھی بھی فرقہ وارانہ اور ذاتی عقیدے کو سیاسی رنگ دینے والوں کو قبول نہیں کیا۔ 25جولائی کے انتخابات میں ماضی کے برعکس مخصوص مسلکی نعروں اور فرقہ وارانہ نفرت کا عنصر زیادہ متحرک اور موثر نظر آرہا ہے۔ ہمارا آئین ہر فرد کو انتخاب لڑنے اور اپنی سیاسی سوچ کے ابلاغ کا حق دیتا ہے۔ مگر یہی آئین تقسیم و تفرقہ اور قومی سوچ اور وحدت کو پارا پارا کرنے والے عوامل اور عناصر کی حوصلہ شکنی بھی کر تا ہے۔ درج بالا دو واقعات، ان کے محرکات اور نتائج محض تاریخ میں رقم ہونے والی حکایات نہیں ہیں۔ ہم نے اگر پاکستان کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان بنانا ہے تو ان دو انتخابی معرکوں کا سبب ہماری سیاسی ترجحات کا محور ہونا چاہیے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: