تحریک انصاف اور بدتمیزی —— فرنود عالم

1
  • 367
    Shares

کیا ہی شام تھی۔ جب کپتان نے مینارِ پاکستان پہ نعرۂ مستانہ بلندکیا اور انسانی سروں کا ایک ہجوم امڈ آیا۔ سیاست کے آسمان پر پھیلی تاریکی میں امید کا ایک ستارہ چمکا۔ مائیں اپنے شیرخوار بچوں کو لیکر دوڑیں۔ سیاست کو گالی سمجھنے والے نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے۔ بزرگ شہری اولاد کا سہارا لیے پہنچے۔ معذور لوگ بیساکھیوں پہ ناتواں وجود گھسیٹتے ہوئے آئے۔ قوم کی بکھری ہوئی تصویرکے ٹکڑے یکجا ہونے لگے۔ تصویر میں رنگ ابھرنے لگا۔ ملا اور مسٹر، زاہداور فاسق، امام اور راہب، مفتی اور پنڈت، نعت خواں اور موسیقار، لیفٹ اور رائٹ، شیعہ اور سنی، پختون اور مہاجر، اکثریت اور اقلیت، ترقی پسند اور رجعت پسند، جدت اور قدامت، سکرٹ اور عبایا، کیپ اور عمامہ، جینز اور قبا، شیو اور داڑھی، فیشن اور روایت غرضیکہ زندگی کے سب رنگ ایک ہی گراؤنڈ میں سما گئے۔  دوری نہ رہے باقی آج اتنے قریب آؤ — میں تم میں سماجاؤں تم مجھ میں سماجاؤ۔

سو مجھے پوچھنے دیجیے کہ خان عبدالغفار خان سے لیکر ذوالفقار علی بھٹو تک اور بے نظیر بھٹو تک پھر وہاں سے لیکر میاں محمد نواز شریف تک کیا ایک بھی ایسا لیڈر پیدا ہوا جس نے ایک جھنڈے تلے پوری قوم کو جمع کر دیا ہو۔ پاکستان پیپلز پارٹی خود کو وفاق کی پارٹی کہتی ہے، مگر آج بھی اس کی سیاست سندھ کارڈ پہ انحصار کرتی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ایک قومی سیاسی جماعت کے طور پہ اپنا شمار رکھتی ہے، مگر پنجاب سے آگے بڑھتے ہوئے اس کے پر جلتے ہیں۔ اس کے علاوہ تو کسی جماعت کا کیا شمار ہی کیا۔ کراچی سے خیبر تک میں ایک نگاہ دوڑاتا ہوں اور پھر اپنے دل پہ ہاتھ رکھتا ہوں تو دھڑکنوں کو اس فیصلے پہ مجبور پاتا ہوں کہ قومی مسلکی لسانی اور سیاسی تعصب سے بالا تر ایک لیڈر اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ ایک ہزار خامیوں کے باوجود کپتان کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ کپتان، جو غلطیاں تو کرتا ہے جرائم نہیں کرتا۔

کراچی سے خیبر تک میں ایک نگاہ دوڑاتا ہوں اور پھر اپنے دل پہ ہاتھ رکھتا ہوں تو دھڑکنوں کو اس فیصلے پہ مجبور پاتا ہوں کہ قومی مسلکی لسانی اور سیاسی تعصب سے بالا تر ایک لیڈر اگر کوئی ہوسکتاہے تو وہ ایک ہزار خامیوں کے باوجود کپتان کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ کپتان، جو غلطیاں تو کرتاہے جرائم نہیں کرتا۔

کسی کی نظرمیں ایک سیاسی لیڈر کی منزل وزارت عظمی کا منصب ہو سکتا ہے۔ میری نظر میں لیڈر کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ وہ معاشرے کا جمود توڑ کے رکھ دے۔ عصبیت کو نہیں، قوم کو پکارے، شعور بیدار کر دے۔  سیاہ کو سفید سے الگ کردے۔  کپتان کامیاب ہو گیا، اس نے بائیس خاندانوں کے بیچ مک مکا کے لیے کھودی گئی زیر زمین سرنگ پر سے قالین ہٹادیا ہے۔  اس نے دو بڑی جماعتوں کے باحجاب رومانس کو بے حجاب کر دیا ہے۔  اس نے دوہرے نقاب میں لپٹے منصفوں کے چہرے آشکارا کر دیئے ہیں۔  اس نے میثاق جمہوریت کی مقفیٰ و مسجع عبارتوں میں لپٹی ہوئی نوسر بازی کو عیاں کر دیا ہے۔  اس نے پارلیمنٹ میں ساٹھ برسوں سے لڑی جانے والی نورا کشتی کو طشت ازبام کر دیا۔  اس نے دین فروشوں کی جعل سازیوں کو چیلنج کر دیا ہے۔

کیا یہ کم ہے کہ کپتان نے ایک نوجوان کو اس کی اپنی ہی آنکھ پر افشاں کر دیا۔  ایک بے بس و لاچار نوجوان کو احساس دلا دیا کہ گر بازو پہ بھروسہ ہے تو انصاف نہ مانگو۔  اس دور میں پچھتاو گے زنجیر ہلا کر۔  نوجوان کو اپنے زورِ بازو کا ادراک ہوگیا۔  اس نے بے حسی کا دامن جھاڑا اور اٹھ کھڑا ہوا۔  مگر اسٹیٹس کو کی خیمہ بستیوں میں مقیم راہنماؤں کو نوجوانوں کا اس ترنگ سے اٹھنا بہت ناگوار گزرا۔  خوف کی ایک لہر دوڑ گئی، یہ سارے اپنے مفادات کی دستار سنبھالنے کے لیےایک دوسرے سے چمٹ گئے۔

آخری آپشن کے طور پہ ان رہنماؤں نے اپنے جرائم کا نام جمہوریت اور نوجوان کی بے باکی کا نام بدتمیزی رکھ دیا۔ یہی بدتمیزی تو ہے جس کو علامہ اقبال نے دل کا سوز اور نگاہ کی پاکی قرار دیا ہے۔ دل سوز سے خالی ہے نگاہ پاک نہیں ہے۔ پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے۔
شرافت سے تنگ آیا ہوا یہ دور اسی ’’بدتمیز‘‘ کی تلاش میں تھا۔ کیوں؟
کیونکہ حالات کے مارے ہوئے انسان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ’’شرافت‘‘ کا مجسم پیکر ہوتا ہے۔  یہ شریف جب تک زندہ رہتاہے اشرافیہ پہ کوئی زوال نہیں آتا۔ اس شریف انسان کو قیمے کا ایک نان دے دو یہ اپنا ووٹ دے دے گا۔ اس کی بجلی کاٹ دو یہ جنریٹر لگوا لے گا۔ جنریٹر پہ ٹیکس عائد کر دو یہ یو پی ایس خرید لے گا۔ یو پی ایس مہنگے کر دو یہ موم بتی جلالے گا۔ پیٹرول مہنگا کرد و یہ سی این جی ٹینک لگوالے گا۔ پیٹرول بند کر دو یہ سی این جی کی لائن میں لگ جائے گا۔ سی این جی بھی بند کر دو تو یہ پانی سے چلنے والی گاڑیاں ایجاد کرنے کی کوشش کرلے گا۔ اضافی ٹیکس عائد کردو تو یہ وجہ نہیں پوچھے گا۔ جو بھی ہوگا ادا کر دے گا۔ اس کے منہ سے نوالہ چھین لویہ خود کشی کر لے گا۔ اس کے سرسے چھت چھین لو یہ خیمہ لگالے گا۔ خیمہ بھی چھین لو یتیم خانے چلاجائے گا۔ یتیم خانے میں جگہ نہ ملی فٹ پاتھ پہ لیٹ جائے گا۔ وہاں سے دھتکار دو تو یہ بچے نیلام کر دے گا۔ اس کی نوکری چھین لو یہ ریڑھی لگالے گا۔ ریڑھی بھی قانون کی نوک پہ رکھ کر الٹ دو تو ہوٹل میں ٹیبل صاف کرلے گا۔ ہوٹل میں بھی جگہ نہ ملی تو یہ ٹرین کی پٹری پہ لیٹ جائے گا۔ اس سے تعلیم چھین لو یہ بچے کو کم سنی میں مزدوری پہ لگا دے گا۔ اس سے صحت چھین لو یہ بچے کو زہرکی شیشی پکڑا دے گا۔ یہ بھیک مانگ لے گا۔ یہ خیراتی اداروں کے باہرکھڑے ہوکر آٹے کی بوری لے لے گا۔ یہ سی این جی لائن میں چھ گھنٹے کھڑا ہو جائے گا۔ یہ بچوں کا گلا دبا دے گا۔ یہ پنکھے سے لٹک جائے گا۔ مر جائے گا برباد ہو جائے گا مگر اف نہیں کرے گا۔ اپنے حق کے لیےآواز بلند کرکے کسی وزیر کو ڈسٹرب نہیں کرے گا۔

آخری آپشن کے طور پہ ان راہنماؤں نے اپنے جرائم کا نام جمہوریت اور نوجوان کی بے باکی کا نام بدتمیزی رکھ دیا۔شرافت سے تنگ آیا ہوا یہ دور اسی ’’بدتمیز‘‘ کی تلاش میں تھا۔ کیوں؟ کیونکہ حالات کے مارے ہوئے انسان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ’’شرافت‘‘ کا مجسم پیکر ہوتا ہے۔یہ شریف جب تک زندہ رہتاہے اشرافیہ پہ کوئی زوال نہیں آتا۔

بدتمیزکا معاملہ مگر اور ہے۔۔۔۔
بدتمیز جانتا ہے کہ کہ سیر اگر مدِ مقابل ہو تو سوا سیر کیسے بنیں گے۔ یہ جانتا ہے کہ ہوشیاری دکھانے والے کو ڈیڑھ ہوشیاری کا معجون مرکب کتنی چمچ دیا جائے گا۔
یہ جانتا ہے کہ پولیس گردی کا مرتکب ایک اہلکار دیوار پھلانگ رہا ہو تو اس کی ٹانگ کھینچنے کے لیے کون سا داؤ کھیلا جائے گا۔
یہ جانتا ہے کہ طبقہ اشرافیہ ٹیکس چوری کرے گا تو اس سے کون سی زبان میں حساب مانگا جائے گا۔
یہ جانتا ہے کہ کسی رحمن ملک کی وجہ سے فلائٹ تاخیرکا شکار ہو رہی ہو تو اسے جہازسے کیسے آف لوڈ کیا جائے گا۔
یہ جانتا ہے کہ لاہور کے ظہور الٰہی روڈ کو پنڈی کے مری روڈ کو اور کراچی کی شاہراہ فیصل کو کسی سیاست دان کسی وزیر اعلی اور کسی ٹریفک آفیسر کے لیے بلاک کیا جائے گا تو ان کو روک کر آئینہ کس طرح دکھایا جائے گا۔
یہ جانتا ہے کہ بجلی کا اضافی بل اگر وصول لیا جائے تو پھر واپس کیسے نکالا جائے گا۔
یہ جانتا ہے کہ اگرعدل گاہوں نے چوروں سے ساز باز کرکے عوام کو قانون کی شقوں میں الجھا دیا، تو اس الجھن کو سلجھانے کا بے باک حل کیسے نکالا جائے گا۔
اگر تکنیکی مار دے کر کچھ نوسر بازوں نے عوام کے ووٹ پہ ڈاکہ ڈالا ہو تو اس ٹیکنیک کا پردہ کیسے چاک کیا جائے گا۔
یہی بدتمیزی ہے، مجھے شرافت سے اختلاف تھا اور اسی بدتمیزی کی تلاش تھی۔ کیونکہ رائج شرافت میں اپنے حق کے لیےحلق سے آواز نکالنا بداخلاقی ہے اور بدتمیزی کے باب میں جابرکے حلق میں انگلیاں ڈال کر اپنا حق نکلوانا عین ایمان ہے۔

میرے لیے کپتان کی یہ کامیابی بہت ہے کہ اب انسان مرے گا نہیں، لڑے گا۔ خود سوزی نہیں، خود سازی کرے گا۔ خود کشی کی طرف نہیں، خودشناسی کی طرف جائے گا۔ قرضہ نہیں، حق مانگے گا۔ لوڈ شیڈنگ کا شیڈول درست کرنے کا نہیں، بجلی کا مطالبہ کرے گا۔ سڑک کی نہیں، نظام کی بات کرے گا۔

اب یہی ہے ناں کہ کپتان سیاست دان نہیں ہے؟ تو سنیے! سیاست دانوں لیڈروں دانشوروں لکھاریوں عقلمندوں ارسطووں اور افلاطونوں نے ستر سال کی محنت سے اس ملک کی بنیادیں ہلائی ہیں۔ اب ان بنیادوں کی تعمیر کو کوئی معمار چاہیے۔ ایک معمار، جو سیاست کی سین کا ادراک نہ رکھتا ہو۔ وہ کون ہو سکتا ہے؟ میری نظرمیں تو کپتان ہوسکتا ہے۔ کپتان عمران خان۔ جو سمٹ جائے تو دلِ عاشق۔ اور پھیل جائے تو سارا زمانہ۔


یہ بھی ملاحظہ کیجئے: کیا اب بھی عمران کو ووٹ دینا چاہیے؟ آصف محمود

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: