تِلّے والی کھیڑی، آبائی حلقہ اور عمران خان —– ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی

0
  • 177
    Shares

90ء کی دہائی مین عمران خان کی ایک تصویر اُس کے آبائی علاقے میانوالی میں بہت مقبول ہوئی۔ سفید شرٹ اور نیلی جینز میں ملبوس عمران خان کرسی پر نیم دراز ہے، پائوں میز پر ٹکا رکھے ہیں اور پائوں میں میانوالی کی مشہور روایتی تلّے والی کھیڑی ہے۔ یہ تصویر عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کے گیتوں کی طرح گھروں، دکانوں، بیٹھکوں، ٹرکوں اور بسوں میں گونجتی رہی۔ ایسا نہیں تھا کہ یہ کسی اخبار میں چھپنے والی اس کی پہلی تصویر تھی۔ وجیہ و شکیل عمران خان اس وقت بھی عالمی خبروں کی زینت تھا۔ آئے روز کسی نہ کسی ملکی یا غیر ملکی اخبار، رسالے میں اس کی کوئی تصویر چھپی ہوتی تھی۔ اس تصویر کی خاص بات میانوالی کی روایتی کھیڑی تھی جو اس کی طرف سے اپنے آبائی علاقے میانوالی سے وابستگی کا پہلا اعلانیہ اظہار تھا۔ ورنہ اس سے قبل یہاں کے لوگوں کو بس اتنا معلوم تھا کہ اس کا تعلق میانوالی کے ایک مشہور نیازی خاندان سے ہے اور وہ کبھی کبھار اپنے رشتہ داروں سے ملنے یا شکار کھیلنے میانوالی آتا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے اسے براہِ راست بہت کم دیکھا تھا۔ اس کے باوجود یہ لوگ اس سے دیوانہ وار محبت کرتے تھے۔ ۹۲ء کے کرکٹ ورلڈ کپ میں شاندار جیت نے اس کی شہرت کو ساتویں آسمان پر پہنچا دیا تو میانوالی کے لوگوں کا اس پر فخر اور اَن دیکھی محبت بھی ساتویں آسمان پر جا پہنچی ۔

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے اپنی مرحومہ ماں کے نام پر شوکت خانم کینسر ہسپتال بنانے کی ٹھانی۔ یہ ایک مشکل ہدف تھا جس کے حصول کے لیے وہ شہرت اور ناموری کے استھان سے اتر کر عام لوگوں کے درمیان زمین پر آکھڑا ہوا۔ وہ جھولی پھیلائے ملک ملک، قریہ قریہ پھرا۔ اور اسی سلسلے میں چندے کی غرض سے میانوالی بھی آیا۔ اس نے صرف میانوالی شہر کا دورہ کیا۔ یہاں کے لوگوں نے اسے مایوس نہیں کیا۔ مضافات اور دور دراز دیہاتوں کے لوگ اپنے پلے سے کرایہ دے کر بسوں اور ویگنوں میں میانو الی پہنچے اور حسب استطاعت ہسپتال کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالا۔ بچوں نے اپنا جیب خرچ اور غریب بوڑھوں نے اس کی خاطر اپنے کھیسے اُلٹ دیے۔ چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ جہاں بازاروں میں کبھی کوئی عورت نظر نہیں آئی تھی، وہاں شٹل کاک برقعہ پوش عورتوں نے اپنے ہاتھوں کے چھلے اتار کے اس کی جھولی میں ڈال دیے۔

۱۹۹۶ء میں اس نے پاکستان تحریک انصاف کے نام سے ایک سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی تو میدان سیاست کے سارے نا خدائوں کی بنیادیں ہلنے لگیں۔ شاید وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہاں سیاست محبتوں اور عقیدتوں کا نہیں مفادات اور مصلحتوں کا کھیل ہے۔ اس کے مد مقابل کارزارِ سیاست کے گھاگ کھلاڑی تھے، انھوں نے وقت سے پہلے ہی اس کی پوشیدہ طاقت کو پہچان لیا تھا، وہ چاروں طرف سے اس پر حملہ آور ہوئے مگر وہ ڈٹا رہا، یہاں تک کہ اپنی خوشحال خانگی زندگی کی قربانی بھی دے ڈالی۔ ۹۷ء کے الیکشن میں اس نے لاہور کے علاوہ اپنے آبائی علاقے میانوالی کو بہ طور حلقہ انتخاب منتخب کیا۔ شاید پہلی مرتبہ اس نے میانوالی کے گائوں، دیہاتوں کا دورہ کیا۔ وہ اپنے چند دوستوں کے ہمراہ ایک یا دو گاڑیوں پر مشتمل قافلے میں آتا، جلسے سے خطاب کرتا اور آگے بڑھ جاتا۔ جلسہ بھی کیا ہوتا، یہی سو، دو سو لوگوں کا ایک اکٹھ ہوتا جس میں ووٹ دینے والوں سے زیادہ تعداد اس کو دیکھنے والوں کی ہوتی۔ اس کا سیاسی مستقبل غیر یقینی تھا چناں چہ تمام تر محبت کے باوجود لوگوں نے اسے ووٹ دینے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا اور وہ یہاںسے صرف چند ہزار ووٹ ہی لے سکا۔ ۲۰۰۲ء میں وہ ایک بار پھر یہاں سے میدان میں اترا اور میدان مار لیا۔ اگلے پانچ سال بہ طور ایم۔ این۔ اے اس نے بہت کم یہاں کا دورہ کیا۔ اس نے گلیوں، نالیوں اور تھانہ کچہری کی سیاست سے خود کو دور رکھا۔ لوگ بہت شاکی ہوئے مگر محبوب کی ساری خطائیں معاف کرنا یہاں کی پرانی ریت ہے لہٰذا محبت میں کمی نہیں آئی۔ ۲۰۰۸ء میں اس نے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور ۲۰۱۳ء میں ایک بار پھر اسی حلقے سے میدان میں اترا۔ اب کی بار صورت حال مختلف تھی۔ اب وہ اکیلا نہیں تھا، اس کے ساتھ کارواں تھا۔ ۲۸ ْ/اکتوبر کا جلسہ اس کے روشن سیاسی مستقبل پر مہرِ تصدیق ثبت کر چکا تھا۔ سونامی کی لہریں پورے میانوالی سے ٹکرائیں اور تحریک انصاف قومی اسمبلی کی دونوں جب کہ صوبائی اسمبلی کی چار میں سے تین سیٹیں جیت گئی۔ واحد ہاری جانے والی سیٹ بھی مقامی قیادت کے اندرونی اختلافات کا نتیجہ تھی۔ عمران خان نے اپنے حریف عبید اللہ شادی خیل کو ۵۰ ہزار سے زائد ووٹوں کی لیڈ سے شکست دی تھی۔ میانوالی کے علاوہ اس نے پشاور اور راولپنڈی کی سیٹ بھی جیت لی تھی۔ آئین کے مطابق اب اس کے لیے دو سیٹیں چھوڑنا لازمی تھا۔ میانوالی کے بھرپور اصرار اور توقع کے برعکس اس نے یہاں کی سیٹ چھوڑ دی۔ اس کا یہ فیصلہ اس کے چاھنے والوں کے لیے شدید مایوسی کا سبب بنا۔ ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف نے عائلہ ملک کو ٹکٹ جاری کیا، وہ الیکشن لڑنے کے لیے نا اہل قرار پائیں اور نوابزادہ ملک وحید تحریک انصاف کی طرف سے میدان میں اترے لیکن عبیداللہ شادی خیل کے مقابل سیٹ بچانے میں ناکام ہوئے۔ یوں تحریک انصاف کے گڑھ میں یہ سیٹ بھی ن لیگ کے حصے میں چلی گئی۔ اس طرح ن لیگ کو یہاں اپنے پائوں جمانے کا موقع مل گیا۔ سیاسی تجزیہ کاروںکے مطابق آبائی حلقے کی سیٹ چھوڑنا عمران خان کی سنگین غلطی تھی جس کا خمیازہ بلدیاتی الیکشن میں بھگتنا پڑا۔

اب ۲۰۱۸ء کا معرکہ سر پر ہے۔ میانوالی کا طول و عرض لال سبز پھریروں سے رنگین ہے۔ عمران خان کے مد مقابل مضبوط امیدوار عبیداللہ شادی خیل ہیں۔ عبیداللہ شادی خیل دو بار یہاں سے ایم۔ این۔ اے منتخب ہو چکے ہیں۔ ان کے چھوٹے بھائی امانت اللہ شادی خیل بھی دو بار ممبر صوبائی اسمبلی اور صوبائی وزیر رہے ہیں۔ ان کے والد حاجی غلام رسول شادی خیل مرحوم بھی ایک سے زاید بار ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ گزشتہ دورِحکومت میں تحریک انصاف کا زور توڑنے کے لیے اس حلقے پر شہباز شریف کی خاص نظرِ کرم رہی ہے۔ شادی خیل برادران نے یہاں مرکزی شاہراہ کے علاوہ گلیوں، نالیوں کی پختگی جیسے متعدد ترقیاتی کام کرائے ہیں۔ جب کہ تحریک انصاف اور عمران خان اپوزیشن میں ہونے کی وجہ سے کوئی خاص کردار ادا نہیں کرسکے۔ علاوہ ازیں عبیداللہ شادی خیل مقامی سیاست کی حرکیات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ مقامی قبائل اور برادریوں کے ساتھ ان کے ذاتی تعلقات ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ آخری رات ووٹرز کو رام کرنے کا گُر بھی جانتے ہیں۔ دوسری طرف عمران خان کے پاس صرف محبتیں ہی محبتیں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ۲۵ جولائی کا سورج روایتی سیاست کے حق میں فیصلہ دیتا ہے یا محبت کے حق میں؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: