ووٹر کیسے فیصلہ کرتا ہے؟ سیاسی جماعتوں کی سطح پر —- عامر منیر

0
  • 1
    Share

حلقہ جاتی سطح سے اٹھ کر وسیع تر قومی سیاسی منظر نامہ کو دیکھئے تو وہاں بھی ووٹر کی رائے کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی حکمت عملی انہی چاروں عوامل کا مجموعہ ہوتی ہے۔ حلقے کی سطح پرتمام پارٹیاں اپنے امیدواروں کو برادری ؍ اہلیت کی بنیاد پر ووٹ کے مطالبے کی سپیس مہیا کرتی ہیں، کوئی پارٹی یہ دعوی نہیں کرتی کہ وہ برادری ازم کی روایت کا خاتمہ کر دے گی یا تھانے کچہری کے موجودہ نظام میں اصلاحات کرے گی، اگر رسمی طور پر کسی پارٹی نے اپنے منشور میں ایسے کوئی نکات رکھے بھی ہوں تو کوئی سمجھدار امیدواراپنے حلقے میں انتخابی مہم چلاتے ہوئے اس حوالے سے پرجوش تقریرں اور جذباتی دعوے نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ انہیں ذاتی ووٹ اسی نظام کے تسلسل کی توقع ا ور اسے ووٹر کے حق میں manipulate کرنے کی امید کے ساتھ ملتا ہے۔

(۱) شناخت:
یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اس کی چھیانوے فیصد آبادی مسلمان ہے اور اسلام اپنے اند ر کچھ ایسی شناختی حرکیات رکھتا ہے کہ ہر قسم کی شناخت پر غالب آ جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، اس وجہ سے داخلی سطح پر قومی شناخت کے ایک بحران کے باوجود قومی سیاست کی سطح پر کوئی بھی جماعت اور قومی سطح کا کوئی بھی امیدوار ’’ہم میں سے ایک‘‘ کے احساس سے محروم نہیں ہوتا، خواہ اس کا تعلق سندھ سے ہو جیسے بینظیر بھٹو یا آصف زرداری، خواہ خیبر پختونخواہ سے جیسے فضل الرحمن اور سینٹر سراج الحق، خواہ بلوچستان سے ہو جیسے میر ظفر اللہ جمالی، خواہ میانوالی سے ہو جیسے عمران خان، خواہ وسطی پنجاب سے ہو جیسے نواز شریف، جماعتی او ر قومی سطح پر کسی ووٹر کو یہ اعتراض نہیں ہوتا کہ یہ ہم میں سے نہیں ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ’’ہم میں سے ایک‘‘ کا سوال جب ۹۷۰ ۱ میں اٹھا تھا تو ملک کو دولخت کرنے پر منتج ہوا تھا۔ پاکستان ابھی تک سقوط مشرقی پاکستان کے ٹراما سے نکلا نہیں اور اس سانحہ کے پوسٹ ٹرامیٹک اثرات بڑی حد تک پاکستانی قوم کے داخلی شناختی بحران کے منفی مضمرات کا تدارک کئے رکھتے ہیں۔ قوم پرست حلقے شناخت کی بنیاد پر سیاست کا ڈول ڈالے ضرور رکھتے ہیں لیکن مندرجہ بالا عوامل، دیگر عملی سیاسی حقائق کے ساتھ مل کر ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو محدود رکھنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پر استوار جماعتیں بھی شناخت کی سیاست کھیلنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں، لیکن سوائے چند ایک حلقوں کے ان کی سیاسی اہمیت قوم پرستوں سے بھی کم ہے۔ تحریک لبیک بھی موجودہ انتخابات میں شناخت کی بنیاد پر ہی سیاست کر رہی ہے، لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ اس کی سیاست عارضی اور حادثاتی ہے۔ اس الیکشن میں شاید یہ تحریک کچھ ہلچل مچائے لیکن اگر سیاسی عمل معمول کے مطابق جاری رہا تو بہت جلد اس کی سیاست اپنا دم خم کھو کر روایتی سیاسی دھارے میں ضم ہو جائیگی۔

(۲) اہلیت ؍ کارکردگی:
سیاسی جماعتوں کے مابین بیشتر معرکے اسی میدان میں رونما ہوتے ہیں اور اس وقت یہی میدان ہے جہاں جماعتیں اصل الیکشن کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ ہر جماعت کے پاس ایک اپنا تصور، ایک اپنا منشور ہے کہ ملک کو کس چیز کی ضرورت ہے اور پھر یہ جتلانے کی پالیسی اور دلائل ہیں کہ کس طرح صرف وہی اس ضرورت کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے پاس بھٹو کے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کی بنیاد پر منشور میں ظاہر کرنے کے لئے بہت کچھ ہے، لیکن اپنی اہلیت ؍ کارکردگی جتانے کے معاملے میں ان کے پاس کوئی خاص سیاسی اثاثہ دکھائی نہیں دیتا۔ مسلم لیگ نون نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کی خامیاں اور نا اہلی نمایاں کرنے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیا اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ خود پیپلز پارٹی کے موجودہ کارپردازوں کو بھی بدعنوانی اور نا اہلی پر مشتمل اپنے امیج کا مقابلہ کرنے کی کوئی خاص فکر نہیں رہی۔ نون لیگ کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کے پاس موجودہ سیزن میں لوڈ شیڈنگ میں بہت نمایاں کمی اور بہت سے انفرا سٹرکچر ل پراجیکٹس اپنی کارکردگی کے ثبوت کے طور پر موجود ہیں، لیکن نواز شریف کے تحفظ کی خاطر یہ سول بالادستی کو ملک کی سب سے اہم ضرورت ثابت کرنے اور اس کی بنیاد پر ووٹر کو متحرک کرنے کے لئے مجبور ہے، مصیبت یہ ہے کہ اس ضمن میں نہ صرف اس کا اپنا ریکارڈ بہت خراب ہے بلکہ مسلم لیگ نون کی قیادت کے اندرونی اختلافات کے سبب یہ منشور کسی واضح اور مضبو ط پارٹی موقف میں بھی نہیں ڈھل سکا۔ نواز شریف کے قریبی ساتھیوں اور میڈیا کی کچھ آوازوں کے سوا نہ کوئی اس موقف کو اتنے زور و شور سے اٹھا رہا ہے، نہ ہی سول بالا دستی کے قیام کا کوئی روڈ میپ دیا جا سکا ہے سوائے کسی طرح نواز شریف کو واپس اقتدار میں لانے کے۔ مسلم لیگ نون کے لئے یہ خاصی مشکل صورتحال ہے کہ جس امر کو وہ ملک کی سب سے اہم ضرورت قرار دے رہے ہیں، اس کے باب میں ووٹر کو کنوینس کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی سیاسی اثاثہ نہیں اور جس باب میں ان کے پاس سیاسی اثاثے موجود ہیں، اسے وہ ملک کی اہم ترین ضرورت نہیں قرار دے پا رہے۔ اس ضمن میں مسلم لیگ نون کی حکومت ختم ہونے کے بعد سے ملک کی معاشی زبوں حالی کامنظر عام پر آنا اور ڈالر کی قیمت میں بے تحاشا اضافے کی ضرورت ایک اضافی نقصان ہے، جو ہمیشہ سے نون لیگ کے حامی کاروباری طبقے میں ایک اینٹی نون لیگ سوچ جنم دینے کا باعث ضرور بنا ہے، لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ سوچ موجودہ الیکشن پر کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی طرف آ جائیے تو ان کا موقف ہے کہ ملک کی سب سے بڑی ضرورت کرپشن اور بد عنوانی کا خاتمہ ہے اور اس ضمن میں ان کے پاس سیاسی اثاثے کے طور پر پانامہ لیکس کے کیس میں نواز شریف کو عدالت تک لے جانا اور عدالت پر سیاسی دباؤ قائم کرنے کی نون لیگی کوششوں کو ناکام بنانا موجود ہیں۔ اس ضمن میں دلچسپ بات یہ ہے کہ کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف مہم شروع سے مسلم لیگ نون کی پیپلز پارٹی کے خلاف حکمت عملی کا حصہ رہی ہے۔ کرپشن کے خلاف موجودہ فضامسلم لیگ نون نے آصف علی زرداری کے پانچ سالہ دور اقتدار میں، پہلی مرتبہ پرائیویٹ ٹیلیویژن چینلز کی دستیابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک نہایت بلند بانگ مہم کے ذریعے قائم کی تھی جس کا فائدہ اب تحریک انصاف اٹھا رہی ہے۔ پانامہ لیکس کا معاملہ آؤٹ آف کنٹرول ہو جانے کے بعد اس فضا کو دھیما کرنے اور کرپشن کو نارملائز کرنے کے لئے مسلم لیگ نون نے اپنی سی سعی کی ہے، لیکن اپنی گزشتہ پچیس برس کی مساعی کو خود ہی مسمار کرنا اور اس کی بنیاد پر ساتھ وابستہ ووٹر کی وابستگی کو برقرا رکھنا نہ ہی آسان ہے اور نہ ہی اتنی جلد بازی میں ممکن۔ انفرا سٹرکچر کے باب میں بھی تحریک انصاف کا موقف یہ رہا ہے کہ تعلیم اور صحت، سڑکوں اور مواصلات سے زیادہ اہم ہیں اور اس ضمن میں ان کے پاس اپنی کارکردگی جتلانے کے لئے کچھ سیاسی اثاثے بھی ہیں جن پر خیبر پختونخواہ کے رہائشی دوست ہی بہتر تبصرہ کرسکتے ہیں۔ البتہ بدعنوانی کے خلاف موقف کے حوالے سے تحریک انصاف کا ’’ تبدیلی‘‘ کا دعویٰ پچھلے چند ماہ میں ایک سوالیہ نشان ضرور بن گیا ہے، پانچ سال روایتی سیاست کے خلاف نعرے بازی اور عشروں سے اسمبلی میں براجمان چلے آتے لوگوں کو کرپٹ اور بدعنوان کہتے رہنے کے بعد عین الیکشن کے قریب انہی لوگوں کو ساتھ ملا لینا ایک ایسا اقدام ہے جس سے اتفاق کسی غیر جانبدار مبصر کے لئے تو کیا، خود پی ٹی آئی کے حامیوں کے لئے بھی ناممکن ہے۔ لیکن ان کی مجبوری یہ ہے کہ اس وقت کی سیاسی فضا میں تحریک انصاف کی حمایت سے ہاتھ اٹھانے کا تمام تر فائدہ مسلم لیگ نون کو پہنچتا ہے، وہ تمام دلائل جو تحریک انصاف کو ووٹ دینے کے مانع ہیں، اتنی ہی شدت سے نون لیگ کو ووٹ دینے کے مانع بھی ہیں۔ تحریک انصاف کی حمایت اگر کنواں ہے تو مسلم لیگ نون کی حمایت کھائی ہے۔ پیپلز پارٹی سرے سے آپشن ہی نہیں ہے۔ روایتی سیاست سے بیزار ووٹر کے لئے دو ہی آپشن ہیں، یا خاموش ہو کر گھر بیٹھ رہے، یا ایک موہوم سی آس لئے عمران خان کے نام کا ووٹ ڈال آئے۔ تحریک انصاف کے دامن میں تبدیلی کے نام پر اگر کچھ ہے تو یہی ہے کہ یہ واحد جماعت ہے جس کا سپورٹر اپنے لیڈر کے خلاف بولنے، کھل کر بولنے اور اس کے فیصلوں پر کھلے عام تنقید کرنے کا حوصلہ بھی رکھتا ہے اور یہ جماعت اس رویے کو قبول بھی کرتی ہے، اس کلچر کے بل پر قیادت کو اپنے وعدے پورے کرنے پر مجبور کر دینے کی توقع کتنی حقیقت پسندانہ ہے، یہ تو پچیس جولائی کے بعد کا وقت ہی بتا سکے گا لیکن فی الحال تحریک انصاف کا وفادار ووٹراسی طرح کے تنکوں کا سہارا لئے جماعت سے وابستہ ہے۔

(۳) نظریاتی ووٹ:
جہاں تک پارٹی ووٹ کا معاملہ ہے، یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ سوائے جماعت اسلامی کے اس وقت پاکستان میں کوئی نظریاتی جماعت نہیں ہے۔ نون لیگ کا تو کوئی نظریہ خیر کبھی رہا ہی نہیں، تحریک انصاف کے نظریاتی سپورٹر سے بھی اگر پوچھ لیجئے کہ تحریک انصاف کا نظریہ کیا ہے تو وہ آپ کا منہ دیکھنے لگے گا۔ لیکن جماعت اسلامی کا سیاسی منہج ایسا ہے کہ یہ ووٹر کی رائے پر اثر انداز ہونے والے پہلے ہی factor یعنی شناخت سے متصادم ہے۔ جماعت اسلامی کا صالح اور متقی ہونے کا دعویدار امیدوار، ووٹر کے دل میں اپنے لئے احترام اور تقدیس کے جذبات تو جگا سکتا ہے، لیکن یہ احترام اسی طرح ووٹر کو امیدوار سے alienate کر دیتا ہے، جیسے روایتی گھرانوں میں احترام کی ایک دیوار باپ بیٹے کے درمیان حائل رہتی ہے، ووٹر جماعت اسلامی کے امیدوار کو ’’ ہم میں سے ایک ‘‘ نہیں سمجھتا، اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی کا امیدوار اور کارکن اس اجنبیت کو اپنے راہ راست پر ہونے کی علامت سمجھتا ہے اور اس کے نزدیک یہ سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ ا س صورتحال کے اسباب عملی سے زیادہ فکری ہیں، اسلامی تہذیب اور جدید ریاست کے مابین حائل ایک نظریاتی خلیج کی پیداوار ہیں، شایدستر کی دہائی میں یہ نظریہ اپنے ووٹ بھی رکھتا ہو لیکن اس وقت تلخ حقیقت یہی ہے کہ عملاً کوئی سیاسی جماعت انتخابات کے میدان میں جماعت اسلامی کو اپنے لئے خطرہ سمجھتی ہے نہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی حکمت عملی تشکیل دینے کا تردد کرتی ہے۔ اس منظر نامے میں نظریاتی سیاست کی گنجائش کم ہی بچتی ہے، یہ ایک خوش کن نعرہ تو ہو سکتا ہے لیکن عملاً تمام پارٹیاں شناخت اور اہلیت کی بنیاد پر ہی انتخابی عمل میں حصہ لیتی ہیں۔ پیپلز پارٹی اگر سیاسی حرکیات کے اعتبار سے نظریاتی جماعت تھی بھی تو محترمہ بینظیر بھٹو کے پہلے دور حکومت کے ساتھ ہی اس نظریاتی تاریخ کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے مد مقابل مسلم لیگ نون ہرگز کوئی نظریاتی جماعت نہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی نظریاتی سیاست سے خائف، حلقہ جاتی اثر و رسوخ کے حامل امیدواروں (آج کی زبان میں الیکٹ ایبلز کہہ لیجئے) کا ایک اکٹھ تھا، جسے اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کی سیاسی ضروریات نے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونے کا موقع فراہم کیا، چونکہ یہ سب امیدوار کسی نظریے کے بل پر نہیں بلکہ اپنے اپنے حلقے میں برادری یا اہلیت ؍ رسوخ کی بنیاد پر جیتنے والے تھے، اس لئے انہوں نے پیپلز پارٹی کی نظریاتی سیاست کا مقابلہ کرنے کے لئے وسیع پیمانے پر تضحیک اور تحقیر کے ہتھیاروں کا استعمال کیا جو آج قومی سیاست کا بالعموم اور پنجاب کی سیاست کا بالخصوص ایک افسوسناک حصہ ہیں۔ تاہم اسٹیبلشمنٹ سیاسی پارٹیاں نہیں تشکیل دے سکتی، یہ اپنی ضرورت کے مطابق سیاستدانوں کے اکٹھ تو تشکیل دے سکتی ہے لیکن انہیں ایک پاپولرسیاسی جماعت نہیں بنا سکتی۔ یہ اکٹھ مسلم لیگ قاف کی مانند اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ ختم ہوتے ہی اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کو سیاسی جماعت بنانے والا امر تحریک نفاذ نظام مصطفی کے نام پر وجود میں آنے والی اینٹی بھٹو لہرکا ضیاء الحق کے توسط سے نواز شریف کی جھولی میں آ گرناتھا، خواہ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، مسلم لیگ نون کا سیاسی اثاثہ ضیاء الحق کی وراثت کے سوا نہ کچھ تھا، نہ کچھ ہے۔ یہ بات بڑی حد تک وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ پیپلز پارٹی کی نظریاتی سیاست کا ۱۹۸۸ میں محترمہ بینظیر بھٹو کی پہلی حکومت کے خاتمے کے ساتھ نہیں تو ۱۹۹۳ کا الیکشن آنے تک خاتمہ ضرور ہو چکا تھا اور پیپلز پارٹی نے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہوئے سیاستدانوں کے ایک اکٹھ کی سی حیثیت اپنا لی تھی، اپنے نظریاتی ماضی اور بھٹو ناسٹلجیا سے پھوٹنے والا ایک وسیع نظریاتی ووٹ بینک میسر تھا اور تب سے لے کر ۲۰۱۳ کے الیکشن تک لگ بھگ بیس برس ملکی سیاست کا محور یہی پرو بھٹو اور اینٹی بھٹو ووٹ کا مقابلہ رہا ہے، یہ تقریباً طے رہا ہے کہ پرو بھٹو ووٹ پیپلز پارٹی کو اور اینٹی بھٹو ووٹ مسلم لیگ کو ملے گا، جبکہ پرو بھٹو؍ اینٹی بھٹو حرکیات سے ہٹ کر فیصلہ کرنے والے اور سوئنگ ووٹر یا عین انتخاب کے قریب آکر امیدوار کا چناؤ کرنے والے ووٹر کو لبھانے کے لئے دونوں پارٹیوں کی سطح پر انتخابی سیاست اہلیت ؍ کارکردگی کی بنیاد پررہی ہے۔ دونوں ہی انفرا سٹرکچر، معیشت اور لبرل ؍ اسلامی زاویہ نگاہ سے سماجی و قانونی اصلاحات کے میدان میں مقابلہ کرتے رہے ہیں، پیپلز پارٹی کے نظریاتی ووٹ کا مقابلہ کرنے اور ان کے خلاف عوام کو جذباتی طور پر موبلائزکرنے کے لئے نون لیگ تحقیر اور تضحیک کے ہتھیاروں سے کام لیتی رہی ہے جن کا نشانہ عموماً بینظیر بھٹو اور ان کے شوہر آصف زرداری رہے۔ جبکہ دائیں بازو کے اینٹی بھٹو ووٹ کا مقابلہ کرنے کے لئے پیپلزپارٹی کے پاس ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کا حوالہ موجود رہا ہے جو ہمدردی کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کے کام آتا رہا ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: