ووٹر کیسے فیصلہ کرتا ہے؟ حلقہ جاتی سطح پر —- عامر منیر

0
  • 39
    Shares

الیکشن میں صرف چار دن رہ گئے ہیں۔ سیاسی صف بندیاں عمومی طور پر تشکیل پا چکی ہیں، بے یقینی اور کنفیوژن کی ایک مسلسل کیفیت کے باوجود سیاسی عمل آگے بڑھ رہا ہے اور سیاست میں دلچسپی یا مفاد رکھنے والے ووٹرز اپنی اپنی آراء، اپنے اپنے امیدواروں کا تعین کر چکے ہیں۔ اب سیاسی سرگرمیوں کا محور وہ ووٹر ہیں جنہیں سیاست اور سیاسی گفتگو میں بہت زیادہ دلچسپی نہیں ہوتی، اپنے گھریلو اور پیشہ ورانہ امور میں خاموشی کے ساتھ جٹے رہنے والے وہ لوگ جن کے سامنے ووٹ دینے کا سوال تبھی اٹھتا ہے جب کوئی ان سے پوچھتا ہے کہ اس مرتبہ کسے ووٹ دے رہے ہو یا کوئی امیدوار، کوئی سیاسی راہنما ان کی گلی میں یا ان کے دروازے پر ووٹ کا سوالی بن کر پہنچتا ہے۔ پاکستانی سیاست کے تناظر میں کسی ووٹر کی رائے چاہے ایک برس پہلے سے طے ہو، چاہے گزشتہ ایک ماہ میں طے ہوئی ہو، چاہے الیکشن کی صبح تک طے نہ ہوپائے، اسے کسی امیدوار کے حق یا مخالفت میں ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے والے عوامل لاتعداد اور گوں ناگوں ہیں۔

ہر الیکشن میں ان عوامل کی حرکیات dynamics بھی مختلف ہوتی ہیں، لیکن انہیں چار عمومی زمروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ان حرکیات کا تعلق صرف اس عمل سے ہے جو ووٹر کی رائے کا تعین کرتا ہے۔ انتخابات میں ووٹر کی رائے بہت سے عوامل میں سے صرف ایک ہے اور دیگر سماجی، معاشی، طبقاتی اور قومی و بین الاقوامی عوامل جو کسی الیکشن میں ایک مخصوص فضاکو اور سیاسی صف بندیوں کو تشکیل دیتے ہیں، الگ امور ہیں جو اس آرٹیکل میں زیربحث نہیں ہیں۔

(۱) شناختی عوامل :
یہ یقین کہ امیدوار ہم میں سے ایک ہے۔ذات، برادری اور فرقہ وارانہ شناخت کی بنیاد پر ڈالے جانے والے ووٹوں سے لے کر ثقافتی، لسانی اور قومی سطح تک شناختی hierarchy کی لاتعداد شاخیں اس عمل میں اپنا اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی اعتبار سے امیدوار کو بھی اپنے حلقے کی demographics کے اعتبار سے اپنی انتخابی حکمت عملی ترتیب دینا پڑتی ہے۔

(۲) کارکردگی اور اہلیت :
یہ یقین کہ امیدوار کچھ ایسا کرنے کی اہلیت رکھتا ہے جس کی ووٹر کو ضرورت ہے۔ اب یہ ضرورت چاہے محلے کی گلیاں پکی کروانے یا سوئی گیس کی فراہمی ہو، اپنے بیٹے کو نوکری دلوانے یا تھانے کچہری کے کسی معاملے میں مدد کی ضرورت ہو، یا امن و امان کی بحالی اورمعیشت کے فروغ کی ہو، اگر ووٹر کو یہ یقین ہے کہ اس کا امیدوار اس حوالے سے کچھ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے تووہ شناختی عوامل کو پس پردہ ڈالنے سے نہیں ہچکچائے گا۔

(۳) نظریاتی عوامل:
ووٹر کی کسی نظریے سے وابستگی اور یہ یقین کہ اس کا امیدوار بھی اسی نظریے سے وابستگی رکھتا ہے، ایک نہایت طاقتور سیاسی امر ہے۔ نظریے کے تحت ووٹ دینے والا ووٹر اپنے آپ کو کسی بڑے مقصد کی تکمیل کی جدو جہد کا حصہ سمجھتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ اس کا ووٹ محض ایک امیدوار کا انتخاب نہیں بلکہ اس کے نظریے کی فتح کا راستہ ہے۔یہ factor شناختی عوامل اور اہلیت ہر دو پر غالب آنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

(۴) انسانی جذبات:
انسانی جذبات تما م انسانی سرگرمیوں کا انجن ہیں۔ ہر انسانی فیصلہ اپنی بنیادی نوعیت میں ایک جذباتی فیصلہ ہوتا ہے اور مندرجہ بالا تینوں عوامل کی بنیاد پر ووٹ دینے کا فیصلہ بھی اپنی حتمی شکل میں ایک جذباتی فیصلہ ہی ہے۔لیکن جذباتی عوامل کو ایک علیحدہ factor کے طور پربیان کرنے کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ کچھ فیصلوں میں سوچوں کا ایک وسیع و عریض تانا بانا کسی ایک نکتے پر مرکوز ہو کر جذبے کی ایک لہر کو جنم دیتا ہے جو فیصلہ بن کر شعور کی سطح پر ابھرتی ہے، کچھ فیصلوں میں جذبے کی ایک طاقتور لہر ابھرتی ہے اور سوچوں کے تانے بانے کوبکھیرتی ہوئی، منطقی سوچ سے پیدا ہونے والے سوالوں کی رکاوٹوں کو ہٹاتی ہوئی براہ راست ایک فیصلے کی شکل میں شعور کی سطح پر ابھرتی ہے اور دیگر تمام عوامل پر ایک سمجھ میں نہ آنے والے inexplicable انداز میں فتح پا سکتی ہے۔ جذبات کی اس طاقت کو دیکھتے ہوئے انہیں ووٹر کی رائے کا تعین کرنے والا سب سے اہم اور سب سے طاقتور factor کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ برا ہ راست انسانی جذبات کو اپیل کرنا امیدواروں کی انتخابی حکمت عملی کا اہم حصہ رہا ہے۔ یہ اپیل شناختی، نظریاتی یا اہلیت کی بنیاد پر تشکیل دی گئی حکمت عملی کو تقویت دینے کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے اور اس حکمت عملی میں موجود خلا، جیسے کارکردگی کے لئے اپنی اہلیت کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنے سابقہ ادوار کی ناکامیوں سے ووٹر کی توجہ ہٹانے کے لئے یا نظریاتی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہوئے اپنی کسی سابقہ نظریاتی وابستگی سے اٹھنے والے سوالات کو ٹالنے کے لئے ہمدرد ی یا خوف یا اپنے مخالف کے لئے نفرت اور حقارت جیسے جذبات کو انگیخت دینے کی کوشش کرتا ہے۔

کسی بھی امیدوار کی حکمت عملی، چاہے وہ صرف ایک صوبائی حلقے کی حد تک اسمبلی کی نشست کا امیدوار ہو، چاہے وزارت عظمیٰ کا، ان چاروں عوامل کا مجموعہ ہوتی ہے۔ ایک امیدوار اگر کسی حلقے میں کثیر تعداد رکھنے والی کسی برادری سے تعلق رکھتا ہے تو اس کی عموماً یہ کوشش ہو گی کہ اپنی برادری کے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حمایت حاصل کی جائے اور ان کے ووٹ تقسیم ہونے سے روکے جائیں، اگر اس کا مخالف اپنی اہلیت جتانے کے کچھ جواز رکھتا ہے تو وہ اس کے مقابلے میں جیسے تیسے اپنی اہلیت جتانے کے ساتھ ساتھ اپنی برادری کے دل میں خوف پیدا کرنے کی کوشش کرے گا کہ اگر یہ امیدوار آ گیا تو ہماری برادری کے لئے فلاں اور فلاں مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔ اگر دونوں امیدوار ایک ہی برادری سے تعلق رکھتے ہیں، یا حلقے میں مختلف برادریاں آبا د ہیں اور مخالف کے پاس اپنی اہلیت جتانے کے جواز نسبتاً زیادہ ہیں تو امیدوار اپنے مخالف پر زیادہ سے زیادہ کیچڑ اچھالنے، اس کے خلاف لوگوں کے دل میں نفرت پیدا کرنے یا ؍ اور اپنے لئے ہمدردی جیتنے کی کوشش کرے گا۔ اگر امیدوار شناختی ؍ اہلیت کی بنیاد پرجیتنے کی توقع رکھتا ہے اور اس کے مقابل کوئی مضبوط نظریاتی ساکھ رکھنے والا شخص کھڑا ہے تواپنے مخالف اور اس کے نظریے کی تحقیر امیدوار کی حکمت عملی کا نمایاں حصہ ہو گی۔ اگر دونوں امیدوار نظریاتی بنیادوں پر مد مقابل ہوں تب مقابلہ اس کتابی اور آئیڈیل شکل میں رونما ہو سکتا ہے جو جمہوریت کے تصور سے ہمارے ذہن میں آتا ہے، لیکن ایسا خالص نظریاتی مقابلہ عملی طور پر تقریباً ناممکن ہے، کتنے ہی نظریاتی اور مخلص امیدوار کیوں نہ ہوں، اپنے حلقے کے عملی حقائق کے تابع اور ان حقائق کو مدنظر رکھ کر اپنی حکمت عملی تشکیل دینے پر مجبور ہیں۔ اس باب میں سب سے دلچسپ امر یہ ہے کہ مقابلہ اگر ایک ہی بنیادوں پر ہو، شناخت بمقابلہ شناخت، اہلیت بمقابلہ اہلیت (واضح رہے یہاں اہلیت سے اخلاقی اہلیت نہیں، بلکہ ووٹر کی نظر میں امیدوار کا اس کے کسی مفاد کے تحفظ یا ضرورت کی تسکین کا اہل ہونا ہے) یا نظریہ بمقابلہ نظریہ تو دونوں فریق براہ راست ووٹر کے جذبات کو اپیل کرنے کی حکمت عملی اپنانے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس میں اپنی اخلاقی برتری کا اظہار اور حریف کی اخلاقی پستی کو نمایاں کرنا سب سے طاقتور چال کی حیثیت رکھتا ہے۔واضح رہے کہ دو امیدواروں کی مثال صرف تجزیے کو سادہ رکھنے کی خاطر دی جا رہی ہے، ورنہ ہر حلقے میں پانچ سات امیدواروں کاکھڑے ہونا تو معمولی بات ہے جن میں سے کوئی کسی برادری کا علم لئے کھڑا ہوتا ہے، کوئی اپنی اہلیت کا، کوئی کسی نظریے کا تو کوئی اپنی اخلاقی برتری کا، مقابلہ عموماً دو تین نمایاں امیدواروں کے درمیان ہی ہوتاہے لیکن پھر بھی باقی امیدواروں کی موجودگی ووٹر کی رائے کی تشکیل کے عمل پر اثر انداز ہو تی ہے۔


عامر منیر کے اس تجزیہ کا اگلا حصہ بعنوان “ووٹر کیسے فیصلہ کرتا ہے؟ سیاسی جماعتوں کی سطح پر” کل ملاحظہ کیجئے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: