جاپانی کٹانا، دمشقی تلواریں اور ذوالفقار حیدر —- عمیر فاروق

0
  • 138
    Shares

آخر کیا راز تھا ان اساطیری تلواروں کی لافانی شہرت کا کہ صدیاں گزر جانے پہ بھی ماند نہ پڑا؟
یہ سوال پہلی بار سپین کے شہر تولیدو کے بازاروں میں گھومتے ہوئے ذہن میں گونجا تھا جب جابجا دمشقی تلواروں کے سائن بورڈ قدیم اسلحہ کی دوکانوں پہ دیکھے تھے۔

ان تلواروں کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ماہر تلوار باز کا صرف ایک جچا تلا ہاتھ فریق مخالف کے جسم کو ہڈیوں سمیت کاٹ کے دو حصوں میں تقسیم کردینے پہ قادر تھا انکی سامنے کی ضرب تباہ کن تھی جبکہ تلوار اتنی لچک کی حامل تھی کہ اطراف کی ضرب سے اس کا ٹوٹنا قریباً محال تھا۔

حضرت علی کی تلوار ذوالفقار تکنیکی اعتبار سے دمشقی تلوار ہی تھی اور اس کی دو خاصیتیں کافی مشہور ہیں ایک اس کا دو منہ ہونا اور دوسرا اس پہ دائروں کے نشانات۔

کیا ان دائروں کی اہمیت محض آرائشی ہی تھی، ایسا ہونا خارج از امکان ہے کیونکہ جاپانی تلواروں کٹانا کے برعکس، جن پہ منقش کندہ کاری یا آب کی مانند چمکتے پیٹرنز کا مقصد آرائشی ہوتا تھا، دمشقی اسلحہ کے یہ پیٹرنز قطعی طور پہ افادی مقصد لئے ہوئے تھے ان کا حسن اضافی خصوصیت ہوتا تھا اصل مقصد نہیں۔

دمشقی اسلحہ کی تیاری کا فن اٹھارویں صدی کے اواخر میں ختم ہوگیا جب اس کا آخری کاریگر دمشق میں فوت ہوا لیکن جاپانی کٹانا کا فن تسلسل کے ساتھ موجود ہے لہذا موضوع کو سمجھنے کی خاطر کٹانا سے آغاز کرتے ہیں اور ویسے بھی دمشقی کی نسبت کٹانا سازی کی تکنیک سادہ ہے۔

پہلے تو ذہن سے یہ جھٹک دیں کہ یہ تلواریں پگھلے ہوئے فولاد کو براہ راست اس شکل مین ڈھال کے، جسے ڈراپ فورج تکنیک کہا جاتا ہے، سے تیار ہوتی تھیں۔ ڈراپ فورج تکنیک کی کمزوری یہ ہے کہ سختی یا لچک میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے اور دوسرے کی قربانی دینا پڑتی ہے جبکہ ان تلواروں میں بیک وقت دونوں خوبیاں موجود ہوتی ہیں۔
جاپانی تلوار ساز فولاد کے ٹکڑے کو بھٹی میں تپا کر سرخ کرتا ہے اور پھر اسے دہرا کرکے ایک حصہ کی تہہ دوسرے پہ بٹھا دیتا ہے بار بار بھٹی میں سرخ کیا جاتا ہے اور پھر دہرا کرکے اگلی تہہ بٹھائی جاتی ہے۔ روایتی طور پہ کٹانا کی سات تہیں ہوتی ہیں۔ یہ عمل تاؤ دلا کے جوڑنا کہلاتا ہے یہ تہیں آنکھ سے نظر نہین آتیں اور اس طرح تلوار بیک وقت بے پناہ سختی اور لچک کی حامل ہوتی ہے۔

یہ تہہ در یا ملٹی لیئر ساخت پرتوں کی شکل میں پھول اور پچک کر مخالف ضرب کی شدت کو کم کرتی ہے یہ وہی ایفیکٹ ہے جو ماڈرن بلٹ پروف جیکٹ میں ہوتا ہے جہاں میٹیریل کی بہت سی تہیں پھول پچک کر گولی کی ضرب کی شدت کو کم کردیتی ہیں اور ضرب کی شدت سے تلوار باز کا ہاتھ بھی نہیں جھنجھناتا۔

تلوار پر ڈیزائن کے معاملہ میں منقش کندہ کاری کے علاوہ کٹانا میں آب کی تکنیک بھی استعمال ہوتی ہے۔ جس میں کاریگر تلوار پہ مختلف ڈیزائن ڈرائنگ کرکے ان کو مختلف طرح کی گیلی مٹی یا کلے سے ڈھانپ دیتا ہے اور بھٹی میں تپا کر ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ مختلف طرح کی مٹی کی حرارت کو مختلف رفتار سے جذب اور خارج کرنے کی وجہ سے یہ ڈیزائن سطح پہ آب کی طرح چمکتے ہیں اور تلوار کو گھسانے یا صقیل کرتے رہنے کے باوجود معدوم نہیں ہوتے۔

جہاں تک دمشقی کا تعلق ہے تو یاد رہے کہ یہ فن معدوم ہوچکا تھا لیکن ماہرین فن نے دمشقی کا مطالعہ کرکے اس کی تیاری کی تکنیک کو سمجھنے کی کوشش کی اور شائقین شوقیہ طور پہ آج بھی مختلف طرز کا دمشقی اسلحہ تیار کرتے ہیں۔ دمشقی فن جاپانی کے برعکس سات آٹھ تہوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ لامحدود تہوں کے مختلف طرز کی تکنیکیں اس میں کہکشانی وسعت لے آتی ہیں۔ اس طرح جو پیٹرنز ابھرتے ہیں وہ بے حد متنوع اور خوبصورت ہونے کے باوجود بنیادی طور پہ افادی پہلو لئے ہوتے ہیں جنکا اصل مقصد تلوار کی لچک اور سختی کو بڑھانا ہوتا ہے نقوش کا حسن اتفاقی یا ذیلی ہوتا ہے۔

مثلاً ایک مشہور دمشقی تکنیک یہ ہے کہ فولاد کی بے شمار پتلی پتلی تار نما سلاخوں کو اکٹھا کرکے بھٹی میں تپایا جاتا ہے اور سرخ ہونے پہ رسی کی طرح بل دیے جاتے ہیں۔ یہ تکنیک اس میں لوہے کے رسے جیسی لچک پیدا کردیتی ہے جبکہ فولاد کی سختی اسی طرح قائم رہتی ہے۔ بار بار اسے سرخ کرکے مطلوبہ بل دیے جاتے ہیں اور کوٹ پیٹ کر تلوار کی بنیادی شکل بنائی جاتی ہے۔ اس تلوار پہ اس عمل کے نتیجے میں جو پیٹرنز بنتے ہیں بہت باریک جالی دار آب کی طرح ہوتے ہیں جو دیکھنے میں بہت خوبصورت ہیں لیکن انکی اصل اہمیت اس کی افادیت ہے کہ تلوار لامحدود لچک اور سختی کی حامل ہے۔ دمشقی فن جاپانی سے کہیں زیادہ اعلی اور متنوع ہے۔

لیکن ذوالفقار کی نمایاں خصوصیت اس کے دائرہ نما پیٹرنز تھے۔ آخر کیا افادیت تھی ان پیٹرنز کی اور کیا یہ تلوار کی تیاری کی تکنیک پہ بھی کچھ روشنی ڈال سکتے ہیں؟؟

خوش قسمتی سے اس کا جواب ہاں میں ہے یہ دائرہ نما پیٹرنز میں ہی اس اساطیری تلوار کی تیاری کا بھید چھپا ہوا ہے۔ تجسس ہمیں بالاخر فولادی کڑیوں کی تکنیک تک لے آتا ہے اور اغلب گمان ہے کہ یہی تکنیک ذوالفقار کی تیاری میں برتی گئی۔

اس تکنیک میں کاریگر فولاد کی گول کڑیاں تیار کرکے انہیں زنجیر کی شکل میں پرو دیتا ہے۔ تب اسے بھٹی میں پتا کر سرخ کیا جاتا ہے اور کوٹا جاتا ہے۔ بار بار اس عمل سے فولادی کڑیاں پھیل کر دائرہ نما تہیں پیدا کرتی ہیں جو ایک دوسرے کو اوور لیپ کررہے ہوتے ہیں۔ اس طرح تلوار کی سطح پہ دائرہ نما پیٹرنز بن جاتے ہیں جو ذوالفقار کی وجہ شہرت تھے۔
دمشقی کے ضمن میں اس طالب علم نے جتنی تکنیکوں کا مطالعہ کیا دائروی کڑیوں کی تکنیک سب سے سپیریر نظر آئی وجہ ہے دائرہ کی ساخت میں کوئی ایسا کنارہ یا نکتہ نہیں ہوتا جس پہ ضرب کی شدت مرکوز ہوسکے اور اسے توڑ سکے یا ٹوٹنے کے قریب پہنچا سکے۔ تلوار پہ کسی بھی زاویہ سے پڑنی والی کسی بھی ضرب کا دباؤ گول گول دائروں میں گھومتا ہے اور ضرب کی شدت کو جذب کرکے ختم کردیتا ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ذوالفقار دو منہ می تلوار تھی جنکا غالباً مقصد یہ بھی تھا کہ ماہر شمشیر زن سامنے سے مخالف تلوار کی ضرب کو تلوار سے ہی روک لے۔ یہاں بھی جب دونوں حصے ملتے ہیں تو تکون کی بجائے دائرہ بنا ہوا ہے جسکا بعینہ وہی مقصد ہے کہ مخالف تلوار کی ضرب کی شدت مرتکز ہونے کی بجائے دائرہ کی شکل میں گھوم کے پھیل جائے۔

یہ لافانی تلوار واقعتاً دمشقی آرٹ کا اعلی اور نادر نمونہ تھی جسے حضرت علی کی قوت بازو اور مہارت نے اساطیری شہرت عطا کردی جس کی گونج صدیاں گزر جانے پہ آج بھی سنائی دے رہی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: