سویلین بالادستی کی جنگ یا پیسہ بچاؤ مشن؟ — محمد ندیم سرور

0
  • 77
    Shares

پانامہ سکینڈل میں جب سے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے میاں محمد نواز شریف کو نااہل کیا ہے وہ مسلسل فرما رہے ہیں کہ انہیں جمہوری لیڈر ہونے کی سزا دی گئی ہے۔ انہیں ملکی اسٹیبلشمنٹ کے آمرانہ رویوں کے سامنے کھڑا ہونے کی پاداش میں انہیں سب سے بڑے منصب سے محروم کردیا گیا۔ انہوں نے ووٹ کو عزت دو کے نعرے کو بلند کرتے ہوئے جمہوری نظام اور عوام کے حقوق کےلیے طبل جنگ بجادیا۔ میاں صاحب کے حامی انہیں جمہوریت میں مداخلت کے خلاف جنگ کا سپہ سالار اور ان کی دختر محترمہ مریم نواز صاحبہ کو ان کا دست راست مان کر انکے پیچھے صف آراء ہیں جبکہ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ میاں صاحب کی یہ جنگ عوام کے حقوق کے لیے نہیں بلکہ اپنی ناجائز دولت کی حفاظت کےلیے ہے۔ وہ میاں صاحب کی تقریروں کو رنگے ہاتھوں پکڑے جانےوالے چور کی آہ و بکا قراد دیتے ہوئے، ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مخالفین کے پاس میاں صاحب کے ماضی کے حوالے ہیں تو حامیوں کے پاس یہ دلیل کہ انہوں نے اپنے ماضی سے سبق سیکھا اور توبہ کی۔ چونکہ ہر ذی شعور انسان زندگی کے نشیب و فراز سے بہت کچھ سیکھتا ہے جس سے اس کے خیالات و نظریات میں ارتقاء آتا ہے، اس لیے راقم محض میاں صاحب کے ماضی کی بنیاد پر ان کی مخالفت کا قائل نہیں۔ میرے نزدیک لٹمس ٹیسٹ یہ ہے کہ میاں صاحب جمہوری کب ہوئے، پانامہ سے پہلے یا اس کے بعد؟ اس لٹمس ٹیسٹ پر میاں صاحب کی ماضی قریب کی زندگی کو دیکھتے ہوئے ہم باآسانی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ یہ جنگ عوام کے حقوق کی ہے یا اپنے پیسے کی حفاظت کی۔ سب سے پہلے مختصراً دیکھتے ہیں کہ جمہوری نظام حکومت کیا ہے؟ پھر اس کے بنیادی اصولوں کی روشنی میں اس گتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جمہوریت ایسا نظام حکومت ہے جس میں ریاستی طاقت و اختیار کو مختلف اداروں میں ایسے تقسیم کیا جاتا ہے کہ تمام ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی میں خودمختار اوراپنی کارکردگی کے حوالے سے عوام کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ ریاستی اداروں سے جوابدہی کا مینڈیٹ عوام کے منتخب نمائندوں پر مشتمل پارلیمنٹ کے پاس ہوتا ہے جبکہ یہ منتخب نمائندے پارلیمان کے ساتھ ساتھ اپنی کارکردگی اور پالیسی سازی کے حوالے سے عوام کو بھی جواب دہ ہوتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ عوام انتخابات کی صورت میں منتخب نمائندوں کا احتساب صرف ان کی پالیسی و قانون سازی اور گورننس کے میدان میں کارکردگی کے حوالے سے ہی کرتے ہیں۔ نمائندے اگر کرپشن، ٹیکس چوری، بھتہ خوری، لوٹ مار یا کسی اور طرح کی قانون شکنی میں ملوث ہوں تو ان کا احتساب متعلقہ ادارے ہی کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کرپشن پر پکڑے جانے پر یہ جو نعرہ بلند کیا جاتا ہے کہ منتخب نمائندوں کا احتساب صرف عوام کریں گے یہ جمہوریت کے بنیادی اصول و ضوابط کے بالکل خلاف ہے۔ ترقی یافتہ یا ایسے ممالک جہاں جمہوری روایات زیادہ مضبوط ہیں، وہاں عوامی نمائندگان کی قانون شکنی پر ریاستی ادارے زیادہ تیزی سے حرکت میں آتے ہیں اور ایسے نمائندگان سے نسبتاً زیادہ سختی سے نمٹا جاتا ہے۔ اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے پہلا سوال یہ بنتا ہے کہ کیا میاں صاحب خود کو پارلیمان کے آگے جواب دہ سمجھتے رہےہیں؟ دھرنے کے ابتدائی ایام کو چھوڑ کر میاں صاحب کے کل دورِ حکومت کی یہ حالت تھی کہ میاں صاحب کبھی کبھار ماحول کی تبدیلی کےلیے کچھ دیر پارلیمان میں تشریف لاتے تھے، جبکہ کابینہ اجلاس تو مہینوں نہیں ہوتا تھا۔ اگر کبھی کسی اپوزیشن رکن نے پارلیمان میں میاں صاحب سے کسی معاملے میں جواب چاہا تو میاں صاحب کے کاسہ لیس اسے سینگوں لے لیتے تھے، ایسے رکن کو جو جس قدر تضحیک کا نشانہ بناتا، وہ اتنا ہی معتبر ٹھہرتا۔ پنجاب میں براجمان ان کے بھائی، خادم اعلیٰ صاحب اس معاملے میں ان سے بھی دو قدم آگے تھے۔ بجٹ اجلاسوں میں بھی وہ اسمبلی سے غائب رہتے، چند منظورِ نظر پیوروکریٹس کے سوا کسی کو ان کی قربت میسر نہ تھی۔ ایسے میں جواب دہی، پارلیمان کی بالادستی اور ووٹ کی عزت کے کیا معنی؟ چلیں میاں صاحب تو نااہل ہوگئے، کیا ان کے برادرِ عزیز نے بقیہ مدت کے دوران اس نئے نعرے کی روشنی میں اپنی روش تبدیل کی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو کیسے مانا جائے کہ میاں صاحب جمہوریت کے سالار ہیں، ان کی کاوشیں اپنی دولت کی حفاظت کےلیے نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی کےلیے ہیں؟

جمہوریت کا دوسرا بنیادی اصول اختیارات کی عوام تک منتقلی ہوتا ہے جس کی عملی صورت مالی و انتظامی طور پر بااختیار بلدیاتی نظام ہے۔ ادھر یہ حال کہ بلدیاتی انتخابات کرانے کےلیے سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا تو مجبوراً بلدیاتی انتخابات تو کرادیئے مگر ووٹ کی پرچی سے منتخب ہوکر آنے والے ان عوامی نمائندگان کو مالی و انتظامی اختیارات سے محروم رکھا گیا۔ کیا بڑے میاں صاحب نے اپنے بھائی کو سمجھایا کہ میاں فضیحت بننے کی بجائے، پہلے آپ اپنا طرز عمل ووٹ کو عزت دو کے نعرے کے مطابق کرتے ہوئے وہ تمام ترقیاتی فنڈز اور دیگر مالی و قانونی اختیارات ووٹ کی پرچی سے منتخب ہونے والے مقامی نمائندگان کو دیں؟ بادشاہت کے برعکس، جمہوری نظام میں حکومتی و ریاستی اداروں میں سربراہان کا تقرر ان کی قابلیت و صلاحیت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر، حکمرانوں کی بجائے عوام کی بہترین خدمت کریں۔ مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ریاستی اداروں میں تقرریوں کےلیے ذاتی دوستیاں، تعلق اور وفاداریاں میرٹ ٹھہریں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایل این جی ڈیل اور سی پیک منصوبوں کی تفصیلات آج بھی خفیہ ہیں اور اس پر کوئی ادارہ بولنے والا نہیں؟ ماڈل ٹاون قتل سے لےکر پنجاب میں نجی کمپنیوں کے نام پر لوٹ مار تک سب کچھ ہوتا رہا اور کسی ادارے کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ پانامہ سکینڈل نے نہ صرف ایف بی آر، ایس ای سی پی، سٹیٹ بنک اور نیب بلکہ جمہوری نظام کے معتبر ترین ادارے پارلیمان کی حقیقت بھی عوام کے سامنے رکھ دی کہ جس سکینڈل نے دنیا میں بھونچال مچا دیا اس پر یہ سارے ادارے خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے، حتیٰ کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو کہنا پڑا کہ تمام ادارے ناکام ہوئے۔

سوال ہے کہ جمہوریت اگر اداروں کی خود مختاری و مضبوطی کا نام ہے تو میاں صاحب نے کون سے ادارے مضبوط کئے؟ کس ادارے میں میرٹ پر تقرریاں کرکے اسے اپنے فرائض کی انجام دہی میں خودمختاری دی؟ کوئی ایک ایسی مثال ہے کہ کسی ادارے نے عوامی مفاد میں طاقتوروں پر ہاتھ ڈالا ہو اور اس کے افراد کو طارق ملک جیسے انجام سے دوچار نہ ہونا پڑا ہو؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ راولپنڈی میں ون ویلنگ کے جرم میں پکڑے جانے والے نوجوانوں کو جناب حنیف عباسی صاحب تھانے سے چھڑا لےگئے تھے؟ کیا کوئی جمہوری نظام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ عوام کی طرف سے مسترد شدہ تو دور کی بات، ان کا منتخب نمائندہ یوں کھلم کھلا قانون شکنی کا مرتکب ہو؟کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ میاں صاحب کو بے قابو ہوتا دیکھ کر نادیدہ قوتوں نے دھرنے کے ذریعے انہیں قابو کیا مگر وہ احباب بھول جاتے ہیں کہ 2013 کے الیکشن سے قبل میاں صاحب کے برادر حقیقی، جناب محترم شہباز شریف صاحب نے اس وقت کے آرمی چیف جناب جنرل اشفاق کیانی سے کئی خفیہ ملاقاتیں کیں جن میں مبینہ طور پر الیکشن کے متعلقہ معالات طے ہوئے۔ ابتداء میں تردید کے بعد بالاخر بڑے میاں صاحب نے ان ملاقاتوں کی حقیقت کو تسلیم توکرلیا مگر بھائی کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں کی جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ اس سب کو ان کا اعتماد حاصل تھا۔ دھرنوں کے ہنگام میں جب ساری پارلیمنٹ میاں صاحب کی پشت پر کھڑی تھی تو میاں صاحب نے اسی پارلیمان کی طاقت پر عملاً بے اعتمادی ظاہر کرتے ہوئے خود آرمی چیف کے پاس جاکر فریاد کی۔

میاں صاحب کو حقیقی جمہوری لیڈر کے طور پر پیش کرنے والوں کے پاس مفروضوں پر مبنی کہانیاں ہیں جبکہ یہ ملاقاتیں، یہ فریادیں تسلیم شدہ حقیقت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سوال ہے کہ مفروضوں پر یقین کرنا بہتر ہے یا تسلیم شدہ حقیقت کو مدنظر رکھنا اچھا؟ سوال ہے کہ جسے حکومت حاصل کرنے کےلیے اشیرباد کی ضرورت ہو، وہ بعد میں عوام کےلیے انہی قوتوں کے آگے کیسے کھڑا ہوسکتا ہے؟ سوال ہے کہ جس نے عین حکومت میں ملنے والی دو تہائی سے زائد حمایت کے وقت پارلیمنٹ پر خود اعتماد نہیں کیا وہ اب اسی پارلیمان کی حرمت کا نعرہ کس منہ سے لگا رہا ہے؟آج ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے اور جمہوریت کی دہائیاں دینے والے جناب میاں محمد نواز شریف کی سیاسی جانشین اور ان کی معاون و مددگار محترمہ مریم نواز صاحبہ نے چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی اور جیف آف آرمی سٹاف، جناب جنرل راحیل شریف کے ریٹائر ہونے پر اپنے ٹوئیٹر پیغام میں آندھی طوفان گزرنے اور طاقت وروں کے قائم رہنے کی بات کی تھی۔ میاں نواز شریف اور انکی صاحبزادی کی جمہوریت سے وابستگی کی حقیقت آشکار کرنے کو یہی ایک ٹوئیٹ کافی ہے۔

سوال یہ بھی ہے کہ میاں صاحب کو جمہوریت کا استعارہ سمجھنے والوں کو وہ ٹوئیٹ یاد بھی ہے کہ پراپگنڈے اور پیسے کی دھول نے اسے ذہنوں سے اوجھل کردیا؟ میاں صاحب کی دختر محترمہ بتا دیں کہ 2011 میں تو انہوں نے فرمایا تھا کہ لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں تو پھر یہ کیا چکر ہے کہ 2018 کے الیکشن فارم میں انہوں نے 2011 سے بھی پہلے کی کروڑوں کی جائیداد تسلیم کی۔ کیا ان کے حق میں صبح شام بولنے والوں، صفحے سیاہ کرنے والوں نے اس پر ان سے کوئی سوال کیا؟ کیا یہ بھی ووٹ کی حرمت کے ایجنڈے کا حصہ ہے؟

پارٹی صدارت سے محرومی کے بعد نواز شریف صاحب کی حمایت سے منتخب ہونےوالے پارٹی صدر جناب میاں محمد شہباز شریف صاحب نے حال ہی میں اپنے ایک انٹرویو میں کسی خلائی مخلوق کے وجود کو یکسر مسترد کرتے ہوئے، نہ صرف خارجہ بلکہ معاشی امور میں بھی فوج کی مشاورت کی کھلم کھلا حمایت کی۔ میاں صاحب کے حامی فرماتے ہیں کہ بیانیہ نواز شریف کا ہے، پارٹی ان کی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسے میں سوال اٹھتے ہیں کہ یہ کیسا بیانیہ ہے کہ بھائی بھی اس سے متفق نہیں، پارٹی صدر کی زبان پر یکسر مختلف باتیں ہیں؟ اور پارٹی صدر بھی ایسا جسے خود میاں صاحب کی اشیرباد سے عہدہ ملا ہو۔ عمومی تاثر ہے کہ شہباز شریف صاحب اسٹیبلشمنٹ کے قریب ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر بڑے میاں صاحب نے انہیں ہی اس منصب کےلیے نامزد کیوں کیا؟ ایک سیاسی پارٹی کے عہدے کو خاندانی جاگیر کی طرح گھر میں رکھنا تو کوئی ضروری نہ تھا، اگر انہوں نے ماضی میں اسے ایک سیاسی ادارہ نہیں بھی بنایا تھا تو کم از کم اب تو کسی ایسے کے سپرد کرتے جو ان کے نظریئے کے ساتھ اخلاص سے کھڑا ہوتا۔ اگر یہ انتخاب میاں صاحب کا اپنا ہے اور اس بیان سے انہوں نے کوئی اعلانِ لاتعلقی نہیں کیا تو پھر وہ اس سے بری الذمہ کیسے ہوسکتے ہیں؟ اور پھر حقیقی و اصلی بیانیہ کونسا ہے، نواز شریف کا مداخلت کے خلاف والا، یا شہباز شریف کا مل کر چلنے والا؟ عوام کس پر یقین کریں اور کیوں؟

آخر میں جب ہم میاں صاحب کے لشکر پر نظر دوڑاتے ہیں تو میمنہ کی قیادت طلال چودھری، میسرہ کی دانیال عزیز، قلب پر جناب مشاہد حسین سید جبکہ اسلحہ خانہ پر پرویز مشرف کے پستول بدل بھائی جناب امیر مقام صاحب براجمان ہیں۔ ان لشکریوں کے ہوتے ہوئے ووٹ کو عزت دو اور جمہوریت کو عزت دو کا نعرہ کتنا حقیقی لگتا ہے اور کتنا مذاق اس کا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہیں۔

اپنی بات یہ ہے کہ اے کاش! ووٹ کے تقدس پر لمبے لمبے لیکچرز دیتے وقت میاں صاحب پانامہ فلیٹس کی رسیدیں بھی دکھا دیں، وہ بتا دیں کہ کن ذرائع سے یہ رقم حاصل کی اور لندن کیسے منتقل کی، وہ میرٹ سے ہٹ کر کی گئی تقرریوں پر معافی مانگ کر آئندہ ذاتی پسند ناپسند کی دکان کو تالا لگانے کا وعدہ فرمائیں، جمہوریت کی روح کے مطابق خود کو قانون کے آگے جواب دہ بنانے کا وعدہ کریں تاکہ راقم بھی ان کا ماضی بھول کر ان کے شانہ بشانہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑ سکے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: