یہ کہانی  پہلے چھپی نہ کسی نے پڑھی — وقار فانی

0
  • 20
    Shares

گھر سے نکالے جانے کا دکھ لیئے وہ دربدر پھرے، وہ پڑھ لکھ سکتے تھے مگر نہ پڑھنے دیا گیا، تعلیم یافتہ گھرانوں میں پیدا ہوئے مگر ان کیساتھ سلوک جاھلانہ ہوا، وحشیانہ ہوا۔ انہیں دھکے دے کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے، انہیں ’’گرو‘‘ لے جاتے ہیں یا یہ یو نہی دربدر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ ان کی شناخت جو نہیں، یہ ظلم سہتے ہیں، طعنے سنتے ہیں، ان کی مجبوریوں نے انہیں ’’ہنسی مذاق‘‘ کی کوئی عجیب شے بنا دیا ہے۔ ان کے دکھ کوئی جاننا نہیں چاہتا اور یہ سب کی خوشیوں میں شریک نظر آتے ہیں، یہ کبھی جان سے مار دئیے جاتے ہیں اور کبھی تشدد کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یہ وہ کہانی ہے جس کا اختتام نہیں ہے۔ یہ ہر اس زی روح کی کہانی ہے جسے اس دنیا میں ’’ تیسری مخلوق‘‘ کا نام دے دیا جاتا ہے۔ میں یہ جملہ لکھتے ہوئے لرز گیا کہ وہ ماں باپ جو اپنے ٹرانس جینڈر بچوں کو گھر سے نکال دیتے ہیں قیامت کے روز جب یہی بچے ماں کے نام سے پکارے جائیں گے تو کیا ــ ’’مائیں‘‘ منہ چھپا ئیں گی، باپ مکر جائیں گے۔

آج کی یہ میری کہانی ’’حورم‘‘ اور ندیم کے گرد گھومتی ہے۔ ان دونوں نے جینے کا ڈھنگ بدلنے کا عہد کیا، ہاتھ پھیلانے کو عار سمجھا اور عزت کی حیاتی کا عہد کیا تو ہلال احمر پاکستان نے ان دونوں کو روشنی دے دی۔ حورم اور ندیم اب بطور رضا کار ہلال احمر کیساتھ منسلک ہیں۔ حورم اور ندیم دونوں اپنی کمیونٹی کے نمائندہ ہونے کے ناطے اس کمیونٹی کو درپیش مسائل کی ہر فورم پر نشاندہی کرتے ہیں۔ خود کو سماجی بھلائی اور رفاعی کاموں کیلئے پیش پیش رکھتے ہیں۔ ہلال احمر سے وابستگی کو زندگی کی علامت قرار دیتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہمیں بھی عام لوگوں کی طرح مقام، عزت اور برابری ملے۔ حورم اور ندیم نے ہلال احمر کے پلیٹ فارم سے عالمی (Webnor) آن لائن ڈسکشن پروگرام میں اپنی کمیونٹی کی نمائندگی کی۔ اپنے حقوق کی بات کی، تحفظات، مسائل بیان کیئے۔ ہلال احمر کے اقدامات کا احاطہ کرتے ہوئے اسے دوسرا گھر کہنے والے ان دونوں کو ’’ ٹرانس جینڈر ‘‘کے حقوق کی عملی تصویر قرار دے دیا گیا۔ ہلال احمر کے زیراہتمام عوام الناس میں مختلف بیماریوں کے اسباب، بچاؤ، ٹریفک قوانین کی پاسداری، ہیٹ سٹروک، موسمیاتی تبدیلی اور اس کے اثرات اورصفائی مہمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ راول لیک صفائی مہم کے دوران حورم اور ندیم کی کاوشوں کو ذرائع ابلاغ میں سراہا گیا۔ عالمی یوم خواتین کے موقع پر وومن فورم کے زیراہتمام پینل ڈسکشن میں دونوں کی کہانی نے ہر آنکھ اشکبار کردی، تالیوں کی گونج میں ان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ حورم نے روسٹرم پر ببانگ دہل کہا کہ آج جو آپ سب مجھے سن رہے ہیں تو یہ سب ہلال احمر کی وجہ سے ہے۔ ہلال احمر کیساتھ ندیم اور حورم کی وابستگی وہ خوشگوار جھونکا ہے جس سے خوشبو نگر نگر قریہ قریہ پھیلے گی اور نفرت، ہتک کی دیواریں خود بخودگرتی جائیں گی۔ سینٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کا کہنا ہے کہ ’’کسی شخص کیساتھ انکی جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جاسکے گا۔ نہ ہی کسی شخص کو جنس کی بنیاد پر کسی تعلیمی ادارے، کسی مرکز صحت میں علاج اور کسی ادارے میں ملازمت سے محروم رکھا جائے گا‘‘۔

پاکستان کی چھٹی مردم شماری کے مطابق ملک کی مجموعی آبادی 20کروڑ 77 لاکھ 74ہزار 520 نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب مردم شماری میں نظرانداز کی جانے والی خواجہ سرا برادری یا مخنث افراد کو علیحدہ سے شمار کیا گیا۔ اس طرح یہ تعداد محض 10 ہزار 418 بتائی گئی ہے۔ پاکستان میں موجود مخنث آبادی کا سب سے زیادہ 64.4 فیصد حصہ پنجاب میں ہے جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بھی ہے۔ پنجاب میں مخنث برادری کے 6 ہزار 709 افراد موجود ہیں جبکہ سندھ میں 2 ہزار 527 مخنث افراد موجود ہیں اسی طرح خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں بالترتیب 913 اور 109 اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) میں صرف 27 جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ تعداد 133 بتائی گئی ہے۔ ملک بھر میں موجود ان مخنث کی شناخت کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ کونسل کی تیار کردہ سفارشات کو منظوری مل گئی ہے ان سفارشات کے تحت مخنث کے والدین اپنی مخنث اولاد کی شناخت سے آگاہ کر سکتے ہیں اگر ایسا ممکن نہیں بھی ہوتا تو مخنث خود اپنی شناخت کا اعلان کر سکتا ہے۔ اگر وراثت کا معاملہ آتا ہے تو اس ضمن میں معزز عدالت طبی معائنہ کروانے کا حکم دے سکتی ہے۔ انسانی حقوق سے متعلقہ سینیٹ فنکشنل کمیٹی نے مخنث کی شناخت پر اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کی توثیق کر دی ہے۔ اس طبقہ کے حقوق کے تحفظ کے مسودہ قانون کا مجوزہ بل منظور ی پا چکا ہے ہے۔

واضح رہے کہ اس اہم ایشو پر خاتون سینیٹر نسرین جلیل کی زیر صدارت ہونے والے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ اگر شناخت کے لئے ہم خواجہ سراؤں کو ہسپتال اور تھانوں کے حوالے کرتے ہیں تو مزید مسائل پیدا ہوں گے۔ خواجہ سراوں کو سماجی مسائل درپیش ہیں، انکا کہنا تھا کہ جب علیشا نامی خواجہ سرا زخمی ہوا تو ہسپتال میں مرد و خواتین دونوں وارڈز میں اسے منتقل کرنے سے انکار کر دیا گیا تھا۔ یہ طے کرتے کرتے کہ اسے زنانہ وارڈ میں بھیجا جائے یا مردانہ وارڈ میں علیشا نے ہسپتال کے دروازے پر ہی جان دے دی تھی۔ یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ پورا معاشرہ خواجہ سراؤں کی توہین کرتا ہے۔ خواجہ سراؤں کی جرات ہے کہ معاشرے کے توہین آمیز رویوں کے باوجود وہ خودکشی نہیں کرتے۔ ان کی آب بیتیاں سنیں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ سینیٹ فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو منظور کرتے ہوئے خواجہ سراہوں کے تحفظ سے متعلق قانون کے مسودے کو حتمی شکل دینا سال نو کا وہ کارنامہ ہے جو دکھی دلوں کو راحت بخشے گا۔ مغربی دنیا میں خواجہ سرا وں سے ایسا سلوک نہیں ہوتا جو ہمارے ہاں مسلط ہے۔ گھر سے نکالے جانے کا دکھ لیئے دربدر پھرنے والے ان مخنث کو معاشرے پر بوجھ نہ سمجھا جائے۔

یہ کہانی آپ پڑھ چکے ہیں خالق کائنات کی اس تخلیق کو مت دھتکاریں، بھکاری بنانے کی بجائے معاشرے کا کار آمد شہری بنائیں۔ یہ21 کروڑ کی آبادی میں 10ہزار ہی تو ہیں۔ کوئی اور ہے توجہ دینے والا؟

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: