میری مورنی جٹی: لالہ صحرائی

0

 (انگریزی ادب و دیسی ماحول سے ماخوذ)

بورڈ کے سالانہ امتحان میں بہت سے اسکولوں کا ایک مشترکہ سینٹر بنتا تھا، امتحان دینے والے کئی اسکولوں کے بچے اور ان کے اساتذہ دو ہفتے کیلئے وہاں ڈیرے ڈالتے تھے، تقریباً ہفتے بعد ہمارے ایک اسکول ٹیچر ملنے آئے تو کلاس انچارج نے ان سے کہا، تم تین دن کیلئے ان بچوں کے پاس ٹھہرو، میں گھر جانا چاہتا ہوں، بیگم بہت اداس ہو رہی ہوگی۔

اشتیاق صاحب بھوری آنکھوں والے گورے چٹے اور سمارٹ آدمی ان دنوں کلین شیو کیا کرتے تھے جب گاؤں میں کلین شیو ہونا اور پینٹ شرٹ پہننا ایک عجوبے سے کم نہیں ہوتا تھا بلکہ ایسے بندے کی مردانگی ہی مشکوک سمجھی جاتی تھی سو اشتیاق صاحب کو بھی ایک طرف زنانہ ہی سمجھا جاتا اور اس پر طرہ یہ کہ انہیں رن۔مرید بھی قرار دیا جا چکا تھا۔

میرے نام کا جب بلاوا آیا تو بلا تاخیر میں اس سین میں داخل ہو گیا جہاں کلاس انچارج ابھی تک اشتیاق صاحب کو کلاس کے ساتھ ٹھہرنے کیلئے منا ہی رہے تھے، بلآخر جب کچھ بحث کے بعد وہ راضی ہو گئے تو انچارج نے مجھے حکم دیا کہ ان کے گاؤں جاؤ، بھابھی کو اطلاع دینا کہ تین دن کیلئے الفراق منائے ویسے بھی یہ کسی کام کا تو ہے نہیں اب منہ دیکھنے سے بھی تین دن کا ناغہ کرلیں تو کیا فرق پڑتا ہے، اور آتے ہوئے ان کیلئے تین چار سوٹ بھی لیتے آنا، اتنا کہہ کے استاد جی نے دستانے چڑھائے، مفلر لپیٹا، عینک لگائی اور چل دئے۔

اشتیاق صاحب سوفٹ سپوکن ضرور تھے، باقی سب باتیں میرے نزدیک ابھی تک محض افواہ اور تضحیک کے سوا کچھ نہ تھیں لیکن جب انہوں نے مجھ سے یہ کہا کہ بیگم سے یوں کہنا کہ اپنی پسند کے تین چار سوٹ دے دیں اور اطلاع دیئے بغیر یہاں چلے آنے کی معذرت بھی کر دینا تو مجھے بھی اس بات پر یقین آگیا کہ وہ واقعی بیوی کے “تھلے” لگے ہوئے ہیں۔

اشتیاق صاحب کافی کیئرنگ انسان تھے، ان کا گاؤں میرا دیکھا ہوا تھا پھر بھی انہوں نے پورا روٹ ڈسکس کیا، رستے میں لگے ایک نلکے پر پانی پینے کی تلقین کی، وقت دیکھا اور کہا کہ مغرب سے پہلے تمہیں ہر حال میں واپس پہنچنا چاہئے اسلئے جاتے ہوئے ایک لمحہ بھی سست روی سے نہ چلنا، پتا نہیں وہاں کتنا وقت لگے البتہ واپسی پر اسپیس نظر آئے تو آرام آرام سے آجانا، ان کی بیگم خوبصورت، سمجھدار اور سگھڑ خاتون ہونے کے علاوہ گاؤں میں اسکول ٹیچر بھی تھیں، سب سے پہلے انہوں نے یہ پوچھا کہ تم جو پیغام لائے ہو اس کی صداقت کا ثبوت کیا ہے؟ جواب میں اپنی سواری یعنی اشتیاق صاحب کی سائیکل کی طرف اشارہ کیا تو خاتون نے باہر جھانک کے دیکھا اور پھر بیٹھک کا دروازہ کھول دیا۔

دس منٹ میں وہ چائے بسکٹ لے آئیں اور میرے چائے ختم کرنے تک کپڑوں کا پیکٹ بنا کے بھی لے آئیں، مغرب کا وقت ہو رہا تھا اور اشتیاق صاحب کچھ بے چین ٹہل رہے تھے لیکن مجھے دیکھتے ہی پرسکون ہوگئے، اشتیاق صاحب نے جب پیکٹ کھولا تو اس میں سے دو شلوار قمیض ایک سویٹر اور دو پینٹ شرٹ مع دیگر لوازمات جن میں پرفیوم، آزار بند، بیلٹ، جرابیں، آزاربند دانی، پیسٹ برش اور سرمہ دانی تک برآمد ہوئے، چیزیں سنبھالتے وقت اشتیاق صاحب کے منہ سے ایک جملہ دوبار سننے میں آیا “بلے نی میری مورنی جٹی اے” جان ای کڈ لیندی ایں۔

اسوقت تک میرے لئے متاثرکن بات صرف اتنی ہی تھی کہ ان کی بیگم نہایت سمجھدار اور سلیقہ شعار ہے، آج یہ بات بھی سمجھ میں آرہی ہے کہ اسی وجہ سے ان کی انڈراسٹینڈنگ بہت اچھی تھی اور بیگم کی پسند کے ڈریس منگوانے اور بغیر اطلاع دئے آنے پر معذرت کرنے میں صرف ایک رومانس پوشیدہ تھا اور کچھ بھی نہیں جبکہ لوگ اسی بات کو تھلے لگنا گردانتے تھے، اس کے علاوہ آج ایک اور سوال بھی ابھر رہا ہے کہ بیس سال قبل گاؤں کے ماحول میں کوئلے والی استری سے تہہ شدہ کپڑے تو کچھ خاص خاص لوگ ضرور پہنا کرتے تھے لیکن اس ماحول میں چار ڈریس ایکدم تیار ملنا ایک اچنبے کی بات تھی یا پھر انتہائی سگھڑپن کی علامت کہ محترمہ شائد ہفتے بھر کا کوٹہ تیار رکھتی تھیں۔

زوجین کی آپس میں ایسی انڈراسٹینڈنگ یا محبت کسی فیمینسٹ تحریک کی ہرگز محتاج نہیں بلکہ یہ چیز صرف ایک ہی طور پیدا ہوتی ہے جب وہ ایکدوسرے کی کسی مخصوص ادا پر فدا ہو رہے ہوں، اس کا ایک دلچسپ جواب کنگ آرتھر کی ایک کہانی سے ملتا ہے لیکن اس سے پہلے ایک اور بات بھی کہتے چلیں جسے آجکل کے فیمینسٹ ماحول میں بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔

پانی کا قطرہ اتنا طاقتور نہیں ہوتا جو کسی چیز کو کاٹ سکے لیکن یہ قطرہ اگر ایک ہی جگہ مسلسل گرتا رہے تو پتھر پر بھی اپنا اثر چھوڑ جاتا ہے، کسی بھی ٹونٹی کے نیچے فرش پر ایسے مناظر اکثر جگہ موجود ہوتے ہیں، سمندر کے مضافات میں بھی ایسی پہاڑیاں دیکھنے کو ملتی ہیں جن کی چوٹیوں پر لہروں سے کٹاؤ کے نشانات پائے جاتے ہیں۔

یہی وہ نقطہ ہے جس کے تحت ماضی قریب کے معاشروں میں جب کسی اڑیل اور لفینٹر انسان کو بندہ بنانے کی سب سکیمیں فیل ہو جاتیں تو آخری حربے کے طور پر اس کی شادی کرا دی جاتی تھی، یہ قدم اٹھانے کا محور لڑکی کو جہنم میں دھکیلنا نہیں بلکہ لڑکے کو نکلیل ڈالنا مقصود ہوا کرتا تھا، عورت اپنی روائیتی نرمی کو اگر پیہم رواں رکھے تو قطرہء شبنم کی طرح کسی نوکِ خار کی پرورش بھی اپنی مرضی کے مطابق کر سکتی ہے یا قطرہء سیل کی طرح کسی پتھر دل انسان کے دل پر اپنا واضع نقش بھی بنا لیتی ہے۔

عورت کا ساتھ صرف رازونیاز کا محور نہیں ہوتا بلکہ انسان میں ایک احساسِ ذمہ داری بھی پیدا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت سے اکھڑ لوگ اس دائرے میں آکر سدھر جاتے اور کچھ کیسز میں واقعی لڑکی کی زندگی جہنم بھی بن جایا کرتی تھی، عورت کی زندگی تو عام شادیوں میں بھی اجیرن ہو جاتی ہے، اس کی بنیادی وجہ مرد کا ہٹ دھرم ہونا یا عورت کا شوہر پر سوار ہونے کی کوشش کرنا ہے، یہ دونوں رویے ہی غلط ہیں۔

رواں آبشار جیسی نرمی سے مرد کو اپنا تو بنایا جا سکتا ہے لیکن رعب کیساتھ اسے زیر کرنا ایک جوکھم سے کم نہیں، مرد ایک طرف صنفِ کرخت ہے تو دوسری طرف معاشرتی رویوں سے ملنے والی تعلیم بھی اسے بیوی کی طرف جھکنا تو درکنار اسے ایک حد سے زیادہ نرمی رکھنے کی اجازت بھی نہیں دیتی، دوسری طرف یہ بھی ہوتا ہے کہ مرد اگر اس آبشار کی رو میں بہنے لگے تو شریکہ اسے رن مرید ہی قرار دیتا ہے اور یہی لقب پھر معاشرے میں بھی اس کی پہچان بن جاتا ہے جیسا کہ سر اشتیاق کیساتھ ہوا تھا۔

شادی کے بعد طرفین کا ایکدوسرے کی پسند میں ڈھل جانا ہی انڈرسٹینڈنگ کا موجب اور پرسکون زندگی کا واحد حل ہے لیکن یہ کام بذات خود کافی مشکل ہے، کنگ آرتھر کی کہانی میں اس مسئلے کا مؤثر حل یہی بتایا گیا ہے، اسے سمجھنا تھوڑا مشکل ہے لیکن ازدواجی دردوں کا شافی علاج بس یہی ہے جس سے فریقین ہر طرح سے مطمئن رہ سکتے ہیں۔

کنگ آرتھر چھٹی صدی میں برطانیہ کا ایک معروف لیجنڈری بادشاہ گزرا ہے جو حرب و ضرب کے علاوہ دیگر امور زیست میں بھی کافی مشاق تھا، یہ آرتھر کی بادشاہت اور جوانی کا ابتدائی دور تھا جب اس کی بڑھتی ہوئی قوت سے خائف ایک مونارچ کے جنگجؤوں نے راستے میں گھات لگا کر اسے دبوچ لیا اور اپنے اسٹرانگ ہولڈ میں لے گئے، مونارچ کا ارادہ تو اچھا نہیں تھا لیکن کچھ بات چیت کے بعد وہ کنگ آرتھر کے خیالات و نظریات سے بہت متاثر ہوا اور کہا کہ تمہاری جان بخشی اس شرط پر کی جا سکتی ہے کہ ہمیں ایک سربستہ راز کا جواب تلاش کرکے دو، ہمیں یقین ہے کہ تم جیسا جینئیس آدمی اس راز کو کھوج نکالے گا، سوال یہ ہے کہ عورت مرد سے کیا چاہتی ہے۔

“عورت مرد سے کیا چاہتی ہے”
یہ ایک مشکل ترین بلکہ ایسا سوال تھا جو اہل علم کیلئے بھی پریشان کن ثابت ہو سکتا تھا کجا یہ کہ نوجوان آرتھر اس کا جواب ڈھونڈ پاتا لیکن عقلمندی کا تقاضا بہرحال یہی تھا کہ موت کے مقابلے میں یہ چتاؤنی قبول کرلی جائے چنانچہ اس نے مونارچ کے ساتھ وعدہ کرلیا کہ سال کے اختتام تک وہ اس بات کا جواب ضرور تلاش کرلے گا۔

خانگی زندگی میں انفرادی طور پہ ہر عورت کی منشاء اور خواہشات ایکدوسری سے مختلف ہوتی ہیں، کسی کو آسائش چاہئے کسی کو محبت، کسی کو احترام چاہئے، کسی کو اجارہ داری، زر و جواہر سے تو کوئی بھی انکاری نہیں ہوتی اور اگر دل کی بات پوچھی جائے تو ہر کسی کو یہ سب کچھ ہی درکار ہوتا ہے۔

کسی چیز کی ضروت، فرمائش اور حکم تین مختلف چیزیں ہیں جن سے صبح و شام انسان کا واسطہ پڑتا ہے، ایکدوسرے کی ضروریات پوری کرنا دونوں کی ذمہ داری ہے، فرمائش پوری کرنا حیثیت یا لگاؤ پر منحصر ہے اور حکم پورا کرنا ایک مشکل کام ہوتا ہے جس میں انسان کی انا پر ایک کاری ضرب لگتی ہے، حکم چلانے میں مرد کو ملکہ حاصل ہے، وہ جب چاہے جو چاہے حکم دے دیتا ہے جسے پورا کرنا عورت پر لازم سمجھا جاتا ہے خواہ اس کی انا کتنی ہی مجروح کیوں نہ ہوتی رہے، یہ مسئلہ آج کے معاشرے میں بھی عورت کیلئے گھریلو مشقت کی چکی میں پسنے کا ایک اہم سبب ہے یا پھر گھریلو ماحول میں تناؤ اور ناآسودگی کا سب سے بڑا باعث ہے۔

مونارچ کا سوال دراصل عورت کے حق میں تھا، ایک طرف وہ مرد کی اکڑ سے واقف تھا تو دوسری طرف عورت کی مجبوری سے اور تیسری طرف اس صورتحال سے پیدا ہونے والے بگاڑ سے بھی آشنا تھا اس لئے وہ کسی ایسی بات کی تلاش میں تھا جس کی موجودگی فریقین کیلئے ہر حال میں آسودگی کی باعث ہو، کوئی ایسی بات جو دونوں کو ہر حال میں ایکدوسرے سے قریب اور مطمئن رکھے، ایسا کوئی لازوال کلیہ جو ہر جگہ مجرب ہو جس میں شوہر کا حکم بیوی کی انا کچلنے کا باعث نہ بنے اور اس کا ہر حکم پورا بھی ہو جائے۔

مونارچ بذات خود ایک ذہین اور اعلٰی ظرف انسان نظر آتا ہے، یہ سوال یوں بھی کیا جاسکتا تھا کہ مرد عورت کو کیسے ٹریٹ کرے لیکن اس صورت میں ہر جواب مرد کی روائیتی انا پر ایک بوجھ کے سوا کچھ نہ ثابت ہوتا اس لئے اس نے سوال کو الٹا کردیا کہ عورت مرد سے کیسے سلوک کی خواہاں ہے، اس کا اصلی جواب کسی جہاندیدہ عورت سے زیادہ اچھا کوئی نہیں دے سکتا تھا۔

“عورت مرد سے کیا چاہتی ہے”
کنگ آرتھر نے واپسی پر اپنی رعایا کے شہزادوں، شہزادیوں، پادریوں، عقلمندوں اور اہل علم حتٰی کہ عدلیہ کے عہدیداروں کو بھی یہ گتھی سلجھانے پر مامور کردیا، بقیہ سال اس پر بحث و مباحث ہوتے رہے لیکن کسی تسلی بخش نتیجے پر کوئی بھی نہ پہنچ سکا، جیسے جیسے آخری دن قریب آتے گئے یہ تشویش بھی مزید گہری ہوتی چلی گئی اس دوران بیشتر لوگوں نے آرتھر کو صلاح دی کہ وہ بوڑھی جادوگرنی سے بھی ایکبار ضرور پوچھ لے، شنید ہے کہ اس کے پاس اس بات کا کوئی معقول جواب ضرور ہوگا۔

بوڑھی جادوگرنی گھمبیر مسائل کے حل کیلئے پوری مملکت میں مشہور تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہر سائل کی حیثیت دیکھ کر فیس وہ اپنی مرضی کی ہی لیتی جو ہر طبقے کو تقریباً بھاری ہی پڑتی تھی اس لئے قوی امکان تھا کہ بادشاہ سے بھی شاہانہ قسم کا تقاضا ہی کرے گی اور کچھ پتا نہیں کتنی بڑی فیس مانگ لے اس لئے اسے نظرانداز کیا جاتا رہا لیکن جب کوئی اور چارہ باقی نہ بچا تو پھر اس بڑھیا سے بھی رجوع کر لیا گیا۔

بوڑھی جادوگرنی نے آرتھر کی بات سن کر اس سوال کا تسلی بخش جواب دینے کا عندیہ تو دے دیا لیکن حسب توقع فیس اسے بہت بھاری پڑگئی، بڑھیا نے اس جواب کے بدلے میں سرلینسیلاٹ سے اپنی شادی کی شرط پیش کر دی۔

سرلینسیلاٹ آرتھریئن ایج کے بہت مشہور کردار ہیں، یہ برطانوی اشرافیہ کے سرکردہ رئیس، زیرک انسان، فنِ حرب میں ماہر جنگجو، معرکۃالاراء نیزہ باز اور کنگ آرتھر کے “نائیٹس آف دی راؤنڈ ٹیبل” میں شامل سب سے اہم رکن تھے، نائیٹس آف دی راؤنڈ ٹیبل وہ امراء تھے جو شہزادی گوئنِیوَر کیساتھ شادی کے موقع پر سسر کی طرف سے کنگ آرتھر کو جہیز میں ملے تھے۔

جادوگرنی کی شرط سن کر کنگ آرتھر سکتے میں آگیا، اس سے قبل ایسی بری مخلوق آرتھر نے کبھی نہیں دیکھی تھی، بڑھیا کا شکن آلود چہرہ، منہ میں صرف ایک دانت، کبڑا وجود اور مشک زدہ لباس دیکھ کر اس میں ہمت نہ رہی کہ ہاں کرے، ایک طرف “سوال کی حرمت کا سوال تھا” تو دوسری طرف اپنے رفیقِ خاص کی زندگی کا سوال تھا، کنگ آرتھر نے یہ مکروہ بوجھ سرلینسیلاٹ پر لادنے سے انکار کر دیا اور واپس چلا آیا۔

سرلینسیلاٹ کو جب اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے کہا، دوست کی زندگی خطرے سے نکالنے کیلئے یہ قربانی کچھ بھی زیادہ نہیں، بیکار میں مملکت پر کوئی آفتاد آن پڑی تو نہ رہے گی راؤنڈ ٹیبل نہ رہے گا یہ عالیشان مرتبہ، باہر کے بڑے خطرے سے بچنے کیلئے ایک چھوٹی سی قربانی بدرجہا بہتر ہے، اگلے دن بڑھیا کی سرلینسیلاٹ سے منگنی ہوگئی اور اسی شام کنگ آرتھر کو اس کی بات کا جواب بھی مل گیا۔

ایک عورت مرد سے کیا چاہتی ہے؟ 
بوڑھی جادوگرنی کے مطابق اس کا جواب تھا کہ
“عورت اپنی زندگی کی مالک صرف خود رہنا چاہتی ہے”

“A woman wants to be incharge of her own life”

مونارچ نے اس جواب پر اطمینان کا اظہار کیا اور کنگ آرتھر کو جان بخشی کا پروانہ بھی جاری کر دیا، اس قبولیت کا پیغام آتے ہی سرلینسیلاٹ اور بڑھیا کی دھوم دھام سے شادی ہوگئی لیکن انہیں یہ احساس بھی دامنگیر تھا کہ وہ ایک خوفناک تجربے سے آشنا ہونے والے ہیں اسلئے خود کو حوصلہ دیتے ہوئے تادیر حجلہءعروسی کے باہر ہی ٹہلتے رہے، بلآخر ہمت کرکے جب خوابگاہ میں داخل ہوئے تو خلاف توقع وہاں عجیب ہی دلکش دیدِنظارہ ان کا منتظر تھا، پلنگ پر بوڑھی جادوگرنی کی بجائے ایک خوبصورت دوشیزہ دلہن بنی بیٹھی تھی، ایسی خوبصورت لڑکی کہ پہلے کبھی دیکھی نہ سنی، ان کی جگہ سراشتیاق ہوتے تو شائد وہی جملہ کہتے “بلے نی میری مورنی جٹی اے، جان ای کڈ لئی اے” لیکن سرلینسیلاٹ نے حیرت اور خوشی کے مارے قدرے بے چینی سے پوچھا، اے مہربان ہستی، اس حسن خیرہ زن کا ماجرا کیا ہے؟

دلہن نے کہا چونکہ تم نے مجھے بوڑھی جادوگرنی کے روپ میں دیکھ کر بھی مہربانی اور اپنائیت کا اظہار کیا تھا اس لئے جواب میں جو التفات مجھ سے بن پڑا وہ میں نے بھی پیش کر دیا ہے لیکن زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ خوبصورت دلہن کا کردار میں صرف ایک حصے میں ہی ادا کر سکتی ہوں جبکہ دوسرے حصے میں واپس مجھے اپنی اصلی حالت میں ہی رہنا ہوگا، اب یہ تمہارے اوپر منحصر ہے کہ تمہیں دن کے وقت دلہن چاہئے یا پھر رات کو…؟

سر لینسیلاٹ نے اس نئی صورتحال پہ پھر سوچنا شروع کر دیا کہ اگر دن کے وقت دلہن مانگ لوں تو عوام الناس کے ترس بھرے نشتروں سے تو بچ جاؤں گا لیکن رات ہمیشہ بوڑھی عورت کیساتھ ہی گزارنا پڑے گی، اور اگر رات کو دلہن مانگ لی جائے تو رات بہت اچھی کٹ جائے گی لیکن دن بھر ایک منحوس شکل دیکھنے کو ملے گی اور لوگ بھی طنز کے تیر چلاتے رہیں گے، آخر کیا کیا جائے؟

آگے بڑھنے سے پہلے یہی سوال قارئین سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ آپ اس صورتحال کا شکار ہوتے تو آپ کا چوائس کیا ہوتا؟ آپ رات میں دلہن کی طلب کرتے یا دن میں؟ اور اگر آپ خاتون ہیں تو ایسی صورت میں آپ کے سامنے آپ کے میاں کا چوائس کیا ہونا چاہئے تھا؟ سرلینسیلاٹ کا جواب جاننے سے پہلے آپ کو بھی اپنا ایک جواب ضرور چن لینا چاہئے تاکہ اصلی جواب جاننے کے بعد یہ پتا چل سکے کہ آپ اس اسٹوری کا مطمع نظر سمجھ بھی پائے ہیں یا نہیں…؟

کافی سوچ بچار کے بعد سرلینسیلاٹ اس نتیجے پر پہنچے کہ بڑھیا نے جو جواب آرتھر کو دیا تھا اس کی صداقت چیک کرنے کا یہی سنہری موقع ہے اس لئے کوئی حکم دینے کی بجائے یہ بات عورت کی منشا پر ہی چھوڑ دینی چاہئے اگر وہ سمجھدار ہوئی تو وہی کرے گی جو اسے کرنا چاہئے، سرلینسیلاٹ نے پھر وہی کچھ کہا جو سر اشتیاق نے مجھے سمجھا کے اپنی بیگم کی طرف روانہ کیا تھا یعنی کہ اپنی پسند کے مطابق جو مناسب سمجھو وہ تیار کرکے بھیج دو۔

یہ جواب سننے کے بعد دلہن نے مسحور کن لہجے میں کہا “پھر دل تھام کے سنو ڈارلنگ میں ہر وقت خوبصورت رہنے پر بھی قادر ہوں” کیونکہ تم نے مجھے میری مرضی پر چھوڑ دیا ہے اور چونکہ “عورت اپنی زندگی کی مالک صرف خود رہنا چاہتی ہے” اس لئے کام ہم تمہاری مرضی کا ہی کریں گی لیکن کریں گی صرف اپنی مرضی سے…

دلہن نے ایک جان لیوا مسکراہٹ سرلینسیلاٹ کی نذر کی اور کہا، اب یہ سوال مت پوچھنا کہ اس اصول میں پوشیدہ رمز کیا ہے؟ پھر اس نے آنکھیں مٹکا کے ایکدوسری مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائی اور کہا،

Actually there remains a ‘witch’ in every woman, no matter how beautiful she is، If you don’t let a woman to go her own way, things would be going too ugly, So, be careful about how you treat a woman and always remember:
“IT IS EITHER “HER WAY” OR IT IS “NO WAY”

محبت بس ایک واردات ہی ہوتی ہے اگر کرنی آجائے تو کام سُدھ ہے، کسی واردات کرنے والے میں ایگو نہیں ہوتی کیونکہ اسے پتا ہوتا ہے کہ میں واردات کر رہا ہوں کوئی احسان نہیں کر رہا، جو محبت کو احسان سمجھ کے کرتے ہیں وہ صرف اپنی مرضی کا سودا چاہتے ہیں جو ہر وقت ملنا محال بھی ہو جاتا ہے اور جو وارداتِ قلبی کا ہنر پاجاتے ہیں وہ سب کچھ یار کی مرضی پر چھوڑ دیتے ہیں پھر بدلے میں جو کچھ ملتا ہے وہ ہمہ وقت اپنی مرضی کا ہی ہوتا ہے۔

کرتے کرتے یہ بحث دونوں بوسہ لے بیٹھے…! 
نہ کیجئے، مت کیجئے، رک جائیے، بس…کیجئے‌.!

اس دن مجھے بلکل بھی سمجھ نہیں آئی تھی کہ سر اشتیاق کی بیگم پیکٹ تھماتے وقت ایسی خوش کیوں تھی جیسے اس نے کوئی کارنامہ کیا ہو لیکن اب سمجھ میں آرہی ہے کہ پیکٹ تھماتے وقت ہی اسے یہ فیل آنے لگ گئی تھی کہ اشتیاق اپنی پسند کی چیزیں دیکھ کر حسب عادت کوئی نہ کوئی رومینٹک جملہ ضرور کہے گا، پتا نہیں محترمہ کے پاس ایسے کتنے جملے جمع پڑے ہوں گے جنہیں سوچ سوچ کے اس کے تین دن کی تنہائی باآسانی کٹ گئی ہوگی، ممکن ہے اسوقت کوئی رسیلا ڈائیلاگ ہی اسے یاد آرہا ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسے پتا ہو وہ یہی کہے گا… بلے نی میری مورنی جٹی اے …

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: