الیکشن، وعدے اور شعبہ تعلیم کی صورتحال —– ڈاکٹر مریم عرفان

0
  • 7
    Shares

ایک حکایت بڑی پرانی ہے لیکن دل کو لگتی ہے شاید اس کی وجہ حالیہ ملکی صورت حال ہے یا پھر کچھ اور۔ کسی زمانے میں تین ملکوں کے بادشاہ گزرے، جنھوں نے ایک انوکھی شرط رکھ لی۔ جس کے مطابق جس بادشاہ کے امور سلطنت سب سے بہترین ہوں گے وہ نمبر ون کہلائے گا۔ بہتری کے لیے وقت کا دورانیہ ایک سال رکھا گیا اور پھر وہ دن آگیا جب تینوں بادشاہوں کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا۔ دونوں بادشاہان پہلے بادشاہ کے ملک کا دورہ کرنے نکلے۔ ملک کیا تھا گویا فردوس بریں تھی، جس میں ہر طرف سبزہ ہی سبزہ تھا۔ کوئی کیاری اور راہداری سبزے کے بغیر دکھائی ہی نہیں دیتی تھی، لیکن آتے جاتے لوگوں کے چہرے پژمردہ تھے۔ اگلے دن دوسرے بادشاہ کی باری تھی، باقی کے دو بادشاہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں جدید انداز کی سڑکوں کا جال بچھا تھا، کوئی گلی کچی نظر نہیں پڑتی تھی، لیکن وہاں بھی عوام کے چہرے پیلے ہی دکھائی دیے۔ اب باری تھی تیسرے بادشاہ کی، جیسے ہی پہلے دونوں بادشاہ اس کی سلطنت میں داخل ہوئے تو انھیں راستے میں نہ کہیں اعلیٰ سڑک دکھائی دی اور نہ ہی سبزے کی لاٹیں ماری جھلک ملی۔ دونوں بادشاہ جی ہی جی میں بہت خوش اور مطمئن تھے۔ شاید ان کا اطمینان کچھ دیر اور سلامت رہتا اگر وہ یہ نہ دیکھتے کہ اس ملک کے عوام کے چہرے جگمگا رہے تھے۔ کسی کا حلیہ خستگی کا شکار نہیں تھا، مجمع کا مجمع صحت مند، خوش حال اور متوسط لگ رہا تھا۔ دونوں بادشاہوں نے جب میزبان سے پوچھا کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ تمہارے ملک کی عوام اتنی خوشحال کیوں ہے اور تم نے ایسا کون سا کارنامہ سر انجام دیا ہے کہ لوگ تم سے خوش ہیں۔ بادشاہ کا جواب سننے والا تھا، اس کے مطابق ملک کے حالات سبزہ اگانے یا سڑکیں بنانے سے بہتر نہیں ہوئے بلکہ اصل چیز تو یہ لوگ ہیں جن کے دم سے سلطنت کا وقار سلامت ہے۔ اس نے ایک سال میں عوام کی بنیادی سہولتیں پوری کر کے انھیں اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔

یہ تو تھی حکایتی باتیں اصل زندگی اس سے یکسر مختلف ہے کیوں کہ ہم جس ملک کے شہری ہیں وہاں ابھی بنیادی سہولیات تو دور سہولیات ہی سرے سے موجود نہیں۔ ہر پارٹی اپنا منشور طے کرتی ہے، اس کا ایک نظریہ ہوتا ہے جس کے تحت پارٹی کے منتخب نمائندے اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ یہاں پارٹیاں تو بن جاتی ہیں لیکن نظریہ کہیں دفن ہو کر رہ جاتا ہے۔ کبھی آپ سوچیں کہ پیپلز پارٹی کا نعرہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کتنا جاندار تھا جس میں ہر غریب کو اپنی غربت مٹانے کا سگنل ملتا تھا۔ انسان کی بنیاد ہی یہ تینوں چیزیں ہیں اور اس نعرے کو استعمال کرنے والوں کے پاس عوام کی سائیکی کی وہ گرہ ہے جسے جب چاہا باندھ دیا جب چاہا کھول دیا۔ ان دنوں الیکشن کی تیاری جس زور و شور سے جاری ہے اس میں ہمیں ہر طرف نعرے ہی نعرے سنائی دے رہے ہیں۔ سیاسی پارٹیاں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے پر تلی ہوئی ہیں۔ بے وقوف عوام دھڑا دھڑ فیس بک، ٹویٹر اور وٹس ایپ پر آزادنہ گالم گلوچ کر رہے ہیں۔ پانچ سال اپنی مدت پوری کرنے والی جماعت آخر ایسا کون سا تیر مار کر گئی ہے جس کے لیے دوبارہ نشانہ سیدھا کیا جارہا ہے۔

میرا تعلق شعبہ تدریس سے ہے اس لیے میں آج اسی پر اپنی توجہ مرکوز رکھوں گی۔ ن۔ لیگ نے اپنے دور اقتدار میں دو شعبوں کو سب سے زیادہ پس پشت ڈالا ایک شعبہ صحت اور دوسرا تعلیم۔ گزشتہ حکومت یہ واضح ہی نہیں کر سکی کہ اس کی تعلیمی پالیسیاں کیا ہیں۔ سب سے پہلے آتے ہیں سکولوں میں رائج نصاب تعلیم کی طرف، جس میں ہمیں وہی پرانا اردو اور انگریزی میڈیم نظام ملتا ہے۔ ایجوکیٹرز کی بھرتی کے نام پر بھاری فیسوں کے ساتھ ہر سال تقریباً دو مرتبہ آسامیاں پر کی جاتی تھیں۔ صد افسوس ایم۔ فل کی ڈگریاں ہاتھ میں لیے ہوئے امیدوار انٹرویو کے لیے جاتے تو ان میں سے اکثریت کو علم ہوتا کہ انھوں نے جس ضلع کے لیے امتحان دیا تھا وہاں کوئی سیٹ ہے ہی نہیں۔ این۔ ٹی۔ ایس کے نام پر امیداروں نے نجانے کتنے پیسے اجاڑے ہوں گے اور بدلے میں مایوسی ہی ان کا مقدر بنی رہی۔ کچھ ٹیکنکل مضامین ایسے ہیں جنھیں پڑھانے والے ادارے تو ہیں لیکن نوکریاں نہیں ہیں۔ مثلاً، کمپیوٹر، لائبریری سائنس اور جغرافیہ۔ پڑھنے والے قطاردر قطار کھڑے ہیں اور اداروں میں سیٹیں ہی نہیں. اگر کہیں کوئی بھولے بسرے آسامی آ بھی جائے تو صرف ایک یا دو سیٹ ہی ہوتی ہیں۔

خادم اعلیٰ نے سکولوں کا نظام بہتر کرنے کے لیے جو اساتذہ پر سختیاں کیں ان کے کیا نتائج نکلے؟ کیا وہ کہہ سکتے ہیں کہ ان پانچ برسوں میں کوئی فرسودہ نظام بدلا۔ سکول اساتذہ کو ضرورت کے تحت بھی چھٹیاں کرنے کی اجازت نہیں، ہر سرکاری سکول کے اساتذہ کو کچھ بچے داخل کرنے کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے۔ یہ جانے بوجھے کہ کیا تعداد بڑھانے سے نظام تعلیم بدلے گا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ گھر کا سربراہ ہر سال آبادی میں تو اضافہ کر لے لیکن روز رات کو فاقے کاٹے جائیں۔ پرائیویٹ سکولوں کے بچے آکسفورڈ اور کیمبرج کا نصاب پڑھتے ہیں اورسرکاری سکولوں کے بچے ابھی بھی نیلی اور کالی وردیاں پہنے الف انار اور ب بکری کی گردان ہی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: پاکستان کا فرسودہ نظام تعلیم: عماد قریشی

 

اب ذرا کالجز کی طرف آتے ہیں، جہاں بی۔ ایس آنرز کے چلتے ہوئے پروگرامز نے رہی سہی کسر پوری کر دی ہے۔ مغربی نظام تعلیم کا اطلاق اس بھونڈے انداز سے ہمارے اداروں میں رائج ہے کہ جس کے مضمرات ہمیں آئندہ کچھ ہی سالوں میں نظر آنے لگیں گے۔ آنرز پروگرام غیرجانبدارانہ ہو ہی نہیں سکتا خاص طور پر ہمارے ملک میں تو اس کا اطلاق بے وقوفی ہے۔ جی۔ پی۔ اے بڑھانے کے چکر میں طالب علم رٹے لگانے پر مجبور ہیں اور اساتذہ اپنی عزت بچانے کے لیے ان کے نمبر بڑھانے پر اکسائے جاتے ہیں۔ دو سالہ انٹرمیڈیٹ اوردو سالہ بی۔ اے پروگرام میں ایسے کون سے نقائص تھے جس کی بنا پر آنرز پروگرام جاری و ساری ہے۔ ہمارے اداروں میں سچائی اور دیانتداری ہے ہی نہیں کہ یہ نظام چل سکے۔ آنرز کا طالب علم جب کمیشن کا انٹرویو دینے جاتاہے تو اس کے گریڈز پی۔ ایچ۔ ڈی طالب علم سے زیادہ ہو جاتے ہیں۔ گویا نوکری کے لیے بھی کوئی پالیسی بنائی ہی نہیں گئی جس کے تحت یہ چار سالہ اوردوسالہ پروگرام میں تخصیص کی جائے۔ تعلیمی اداروں کی نج کاری کا منصوبہ ن۔ لیگ کی تعلیم دشمن پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ اگر سرکاری کالجز ہی نج کاری کا شکار ہوگئے تو غریب گھر کے بچے کہاں پڑھیں گے؟ جن کے لیے چند ہزار کی فیس میں پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے اور ایک بڑی تعداد پرائیویٹ بھی امتحانات دیتی ہے وہ نجی اداروں کی مہنگی مہنگی فیسیں کیسے ادا کریں گے؟ کیا اس سے تعلیمی بحران پیدا ہونے کا خدشہ نہیں ہے؟؟؟ خادمہ اعلیٰ کو کبھی اکیڈمی کلچر نظر نہیں آیا جو اب مہنگے برانڈز کی طرح ہر شہر میں پنجے گاڑ چکا ہے۔ بچے کالجوں میں داخلہ تو لے لیتے ہیں لیکن ساتھ ہی ایک مہنگی سی اکیڈمی میں داخل ہو کر سارا سال کالج کا منہ نہیں دیکھتے۔ کیا کبھی کسی ذی شعور نے ان خامیوں کو درست کرنے کی قرارداد پیش کی۔

آج کل شہباز شریف جن جلسوں میں لہک لہک کر ’’ آئی لو یو‘‘ گنگنا رہے ہیں کیا وہ دل پر ہاتھ رکھ کر بتا سکتے ہیں کہ انھیں اس عوام سے کتنی محبت ہے۔ کوئی ایسا ثبوت ہی پیش کر دیں کہ ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں ہمیں پرانا پاکستان ہی کافی ہے نیا کیا کرنا ہے۔ ہمیں سڑکیں، باغ باغیچے اور رنگ و سرود کے بجائے بنیادی سہولیات چاہئیں۔ کاش خادم اعلیٰ نے لاہور کو پیرس بنانے کے بجائے غرناطہ اور اندلس بنانے کا ہی خواب دیکھ لیا ہوتاجہاں کبھی اہل علم پیدا ہوتے تھے۔ جہاں علم کا خزانہ دفن تھا اور اہل مغرب کے دلوں پر اس کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ علم دوست بننے کے بجائے سڑک چھاپ بننا ہے تو مرضی ووٹر کی ہے اہل دانش تو گرتے ہوئے ایوانوں کا انبار ہی دیکھتے ہیں۔

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
یہ ووٹر نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: