اہل علم پر تبرا بھیجنے والوں کے نام —— محمد حسین ہنرمل

0
  • 19
    Shares

دینی مدارس اور اہل علم پر تبرا بھیجنا تو ہرکَس و ناکَس اپنا استحقاق سمجھتا ہے لیکن اس طبقے کے حق میں کلمہ خیر بھولے سے بھی نہ کہنے پر گویا سب نے اتفاق کیا ہوا ہے۔ اول تو اس طبقے کا سب سے زیادہ استحصال اس ریاست نے کیا ہے جو آڑے وقت میں اسے اپنا قابل فخر سرمایہ بھی قرار دیتی رہی جبکہ ضرورت پوری ہونے پر اس سے برات کرنے کے ساتھ ساتھ مطعون بھی ٹھہرایا۔ قوم کی اس اولاد کے معاشی مستقبل کیلئے اس ریاست کے حاکموں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ کب تلک یہ لوگ اہل خیر حضرات کے صدقات اور بیرون ملک چندوں کے رحم و کرم پر رہیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان مدارس کیلئے بھی ہماری سرکار ایسا سسٹم بنانے کا اہتمام کرتی جس کے وسیلے یہ لوگ عصری لازمی تعلیم سے بھی مستفید ہو کر مستقبل میں اپنے لئے ایک بہتر معاش کے بندوبست کر پاتے۔ کیا کسی کو علم نہیں کہ یہ عالی دماغیں اگر تفسیر، حدیث، فقہ، ابن حاجب کے کافیہ کی مغلق عبارات ور تراکیب اور صرفی و صرفی گردانوں کو ازبر کر سکتے ہیں تو پبلک سروس کمیشن کے مقابلے کے متحانات میں کامیابی حاصل کرن ابھی ان کے لئے کوئی مشکل نہیں۔

میں حلفاً یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ ایسے مفسر علماء اور شیوخ الحدیث اس ملک میں آج بھی سینکڑوں کی تعداد میں ہیں جنہیں بیس سالہ سروس کے باوجود آج بھی آٹھ سے دس ہزار تنخواہ ملتی ہے۔ 

ہر کسی کو یقین ہے کہ جو لوگ صرف ’’اما بعد‘‘ جیسے شش حرفی کلمہ کے اوپر تین سو صفحات پر مشتمل ضخیم تحقیقی کتابیں اور مقالات لکھ سکتے ہیں، اُن کے سامنے پنچ سالہ پی ایچ ڈی اور ایم فل کے کورسز کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ گوناگوں سہولتوں اور وسائل کے اس متقاضی دور میں اس ریاست کو یہ احساس نہیں ہوا ہے کہ ان اداروں کے سینیئر اساتذہ کی تنخواہیں عصری ادارے کے استاد کی تنخواہ کے کنوینس الائونس کے برابر بھی کیوں نہیں؟ میں حلفاً یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ ایسے مفسر علماء اور شیوخ الحدیث اس ملک میں آج بھی سینکڑوں کی تعداد میں ہیں جنہیں بیس سالہ سروس کے باوجود آج بھی آٹھ سے دس ہزار تنخواہ ملتی ہے۔ ریاستی استحصال کے علاوہ علماے کرام کا ایک ایسے بےحس سماج سے پالا پڑا ہے جہاں انکے لیے کوئی مستقل انتظام کا منصوبہ بنانے کا کبھی سوچا بھی نہیں گیا۔ عجیب ستم یہ ہے کہ ایتھلیٹکس، موسیقاروں اور فلمی دنیا کے ستاروں کی خدمات کا کھلے دل سے اعتراف کیا جاتا ہے لیکن آپ کو کبھی بھی کسی عالم دین کے حق میں توصیفی کلمات سننے کو نہیں ملیں گے جنہوں نے ساری زندگی علمی خدمات کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہو۔ حیف میرے آقاﷺ کی امت کے یہ لوگ کتنے بہادر بنے ہوئے ہیں کہ اپنے آقاﷺ کے ورثاء کو انکے شایان شان عزت نہیں دے سکتے ’’ان العلمائہم ورثۃ الابنیاء‘‘۔

ایک اور خود ساختہ دانشوروں کا طبقہ ہے جو تضحیک آمیز تنقید کو اپنا فن گردانتا ہے اور ہر قسم کی فحش حرکات پہ خود کو قادر گردانتا ہے۔ یہ چند ایک نیم مُلاووں کی معمولی اور نادانستہ غلطی کی آڑ لے کر بلا کسی استثناء کے اس پورے طبقے کے لوگوں کو ایک لاٹھی سے ہانک دیتا ہے۔ ممتاز کالم نویس اور ادیب جناب محمد اظہار الحق صاحب حالانکہ وہ اس طبقے سے تعلق نہیں رکھتے مگر انہوں نے بھی اپنے ایک کالم میں نہ صرف علماء کی خوب کلاس لی ہے بلکہ ان کی ہزاروں سال پر محیط دینی خدمات کو بھی صفر سے ضرب دے کر اُن سے برات کا اعلان فرمایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ ان لوگوں پر بھروسہ کیا، انہیں راہنما بنایا۔ انہوں نے مجھ پر ہر وہ شے مسلط کی جس کا شریعت میں وجود نہ تھا کیونکہ وہی شے کچھ عرصہ بعد حرام سے حلال ہو گئی۔ ان ظالموں نے مجھے قرآن کے نزدیک ہی نہیں جانے دیا، اُن کی دیدہ دلیری دیکھیے یہ کہتے ہیں کہ تم خود نہ پڑھو بلکہ یہ علماء کا کام ہے۔ موصوف مزید لکھتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا ( یعنی قرآن کی سمجھ مجھے بھی ملی ) تو ان لوگوں کی اجارہ داری، ان کا تسلط، ان کا کاروبار، ان کی پاپائیت سب خطرے میں پڑ جائیں گے۔ لہٰذا ان سے جان چھڑاو۔ اِن پیران ِ تسمہ پاء سے جان چھڑاو، ان کی ہر لحظہ بدلتی شریعت کا اصل شریعت سے کوئی تعلق نہیں ‘‘۔ موصوف کالم نگار کی یہ باتیں مبالغے اور اتہام کے سوا اور کچھ نہیں ہیں۔ یاللعجب، قرآن پر اگر یہ لوگ فقط اپنا اجارہ داری قائم کرتا تو آج لاکھوں کی تعداد میں حفاظ کرام کے سینوں میں یہ کتاب محفوظ نہ ہوتی بلکہ صرف چند مولویوں کے بیٹے یہ سعادت حاصل کر پاتے۔ اس کتاب کے نزدیک اگر مولوی صاحبان کسی کو نزدیک آنے نہ دیتا تو ہزاروں کی تعداد میں مدارس بنتے نہ ہی لاکھوں کے حساب سے تفسیر، احادیث، فقہ، اصول فقہ اور نحو و صرف کی کتابیں منظر عام پر آتیں۔ یہ لوگ اگر فہم قرآن کی خوشبو کسی دوسری طرف منتقل نہیں ہونے دیتا تو صرف بیسویں صدی میں معارف القرآن، تفہیم القرآن، ترجمان القرآن اور علوم القرآن جیسی ہزاروں صفحات کے ضخیم تفاسیر لکھنے کی زحمت نہ کی جاتی۔ معترض کالم نگار رقمطراز ہیں کہ فہم قرآن کا حصول کونسا مشکل کام ہے کہ خوامخواہ ان لوگوں کا احسان اٹھایا جائے۔ جناب کالم نگار کی خدمت میں عرض ہے کہ قرآن فہمی اور احادیث کی صحیح معرفت ایک خاص تدریجی عمل پر موقوف ہے اور دیگر علوم کی طرح ان علوم کی فہم بھی مرحلہ وار تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ اب اگر کوئی میڈیکل کالج اور ڈاکٹرز کی نگرانی کے بغیر صرف میڈیکل تھیوریز اور کتابیں ازخود پڑھ کر ڈاکٹر بننے کا دعویٰ کرے تو کیا معاشرہ ایسے شخص کو ایک مستند ڈاکٹر کے طور پر قبول کرے گا؟جواب یقیناً نفی میں ہے تو پھر قرآن و حدیث جیسے اعلیٰ روحانی علوم کے ساتھ یہ ستم روا رکھنے پر اصرار کیوں ؟ موصوف کالم نگار نے اپنے کالم کے شروع میں یہ بات بھی مکرر لکھی ہے کہ ہم سے ’’پلے ڈوتا‘‘ بنا کر یہ لوگ ہمارے اوپر روز نت نئے تجربے کر رہے ہیں۔

اسلامی تاریخ سے باخبر کالم نگار صاحب کے حضور عرض ہے کہ دین کے فروعی مسائل میں اختلاف یا مُرور زمانہ کے ساتھ ساتھ کسی شے کے حکم میں تبدیلی کی رعایت (یا کسی عالم دین کا اپنے پہلے قول سے رجوع ) کرنا اگر ایک ناقابل معافی جرم ہے تو پھر ایسے جرائم کا ارتکاب (نعوذ باللہ) خلفائے راشدین کے مبارک دور میں بھی تواتر کے ساتھ ہوتا رہا ہے۔ پیارے آقاﷺ کی حیات مطہرہ کے وقت قرآن ایک کتابی شکل میں جمع نہ ہو سکا۔ کپڑوں، چمڑیوں اور کجھور کے پتوں پر لکھا گیا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے ظاہری دنیا سے پردہ فرما لیا۔ حضرت ابو بکرصدیق ؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے بھی اسے کتابی شکل دینے سے گریز کیا کہ وہ کام میں کیسے کروں جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں نہیں کیا۔ حضرت عمرؓ کی پیہم اصرار پر بعد میں خلیفہ رسول کو اپنی رائے بدلنا پڑی اور کاتب وحی زید بن ثابت انصاری ؓ کو قرآن ایک کتابی شکل میں جمع کرنے کا حکم دے دیا۔ اسی طرح وراثت کے بارے میں نبی اکرم ﷺ اور چاروں خلفائے کے دور میں سنت یہ تھی کہ نہ مسلمان کافر کا وارث ہو سکتا ہے اور نہ ہی کافر مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے‘‘۔ حضرت امیر معاویہ ؓ آئے تو انہوں نے اپنے دور حکومت میں مذکورہ سنت میں اجتہاد کر کے مسلمان کو کافر کا وارث قرار دے دیا لیکن کافر کو محروم رکھا۔ دلیل میں حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت حدیث پیش کیا کہ ’’الاسلام یزید ولا ینقص‘‘۔ پہلی صدی ہجری کے آخری سالوں میں جب حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ حاکم وقت بنے تو انہوں نے دوبارہ خلفائے راشدین کے دور والی حدیث کو لوٹا دیا، علیٰ ھٰذالقیاس۔ موصوف کالم نگار کو تو پھر یہ اعتراض بھی اٹھانا چاہیے تھا کہ ائمہ اربعہ ایک متفق علیہ شریعت پیش کرنے کی بجائے اس کو تقسیم در تقسیم کیوں کیا؟ جس میں حنفیوں کے مسلک میں تو بدن سے خون بہنے سے وضو ٹوٹتا ہے جبکہ شافعی مسلک میں سیلانِ خون کے باوجود وضو باقی رہتا ہے۔ ہاں تو بتانا یہ مقصود تھا کہ جزئی خرابی کی وجہ سے کل کا انکار کرنا یا مُرور زمانہ کے پیش نظر بدلتے فروعی احکامات میں تبدیلی کو بنیاد بنا کر مکمل طبقے کو مطعون ٹھہرانا اور اس سے برات کا اعلان کرنا مسئلے کا حل ہرگز نہیں۔ معترض کالم نگار اگر سب مفسرین، محدثین، فقہاء، نحات، صُراف اور مجتہدین کی خدمات پر سب غلط کا حکم لگاتا ہے تو پھر براہ کرام ! وہ اُن پیرانِ تسمہ پاء کے مقابلے میں بطور متبادل ایسا گُل ِ دستار بھی تو بتا دے جو ہر شرعی مسئلے کا تسلی بخش جواب دینے کی اہلیت رکھتا ہو۔

( رائٹر گورنمنٹ ڈگری کالج ژوب میں بطور لکچرر خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اور ایک آزاد صحافی کے طور پر مختلف اردو اخبارات کے ساتھ کالم بھی لکھتے ہیں )

دارالخلافہ کے راویانِ روایت کا کہنا ہے کہ سرکاری لیگ المعروف بہ حرف “ن” کی حسب توقع و حسب ذائقہ کارپردازانِ سلطنتِ خاکیہ سے با”وقار” معاہدہ بعنوان معافی نامہ بعوض مشاہرہِ سابقہ طے پایا ہے، اور دستخط کردئے کہ روگردانی کی مجال نہ ہووے۔
برادر خرد نے محاورہ کے برعکس “برادر خورد باش” کہتے ہوئے دربار و حکومت کی روایات کے عین مطابق دیدوں کا پانی مارتے ہوئے خون سفید کرلیا ہے۔
معاہدے پہ عمل در آمد یقینی بنانے کے لئے خانِ خاناں کو دربار میں بالعکس مسند پہ جاگزیں کرنے کا اہتمام کرتے ہوئے ایک تیر سے دو شکار کرلئے گئے ہیں۔
ایسی قابلِ ضبطی روایات پہ یقین کرنے والا نتائج کا خود ذمہ دار ہوگا۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: