جاپان: کچھ یادیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ مدثر احمد

0
  • 23
    Shares

جاپان میں قیام یادگار رہا۔ ایک جاپانی پروفیسر صاحب جاپان کے سیاسی، ثقافتی اور معاشرتی پہلوئوں پر روشنی ڈال رہے تھے۔ اس دوران جاپان امریکہ تعلقات کا ذکر بھی آیا۔ میں نے دوسری جنگِ عظیم میں امریکہ کی طرف سے ہیروشیمار اور ناگاساکی پر ڈھائی جانے والی قیامت پر پروفیسر صاحب کی رائے مانگی۔ میرا سوال تھا کہ کیا ایسا واقعی سمجھا جا سکتا ہے کہ جاپانیوں کے دل و دماغ سے وہ دلخراش واقعات پوری طرح سے مٹ چکے ہیں اور موجودہ جاپانی نسل امریکہ کو اہم اتحادی اور ہمدرد دوست کے طور پر تسلیم کر چکی ہے۔

پروفیسر صاحب کے ردِّ عمل سے یوں لگا کہ وہ اس سوال کے لیے تیار نہ تھے۔ اُن کے چہرے پر مجھے کرب کے آثار ابھرتے ہوئے دکھائی دیئے۔ ایک لمحہ توقف کے بعد انہوں نے بات شروع کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپانی قیادت عوام میں مقبول نہیں تھی۔ ایک عام جاپانی شہری ملک کے حکمرانوں کی جنگی مہمات کو ملکی مفاد یا وطن پرستی کی لڑائی کے طو رپر نہیں لیتا تھا۔ اس کے باوجود وطن سے محبت اور اس کے باسیوں سے انس کے فطری جذبات موجود تھے۔ امریکہ کے جوہری حملہ کے نتیجے میں دو جاپانی شہر صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ یہ ایک قومی سانحہ تھا۔ ہم صبر اور مضبوط قوّتِ ارادی سے اُس افسوس ناک صورتِ حال سے نکل تو آئے ہیں لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہم اس سانحہ کو اور امریکہ کے اس کردار کو یکسر بھول چکے ہیں۔

مجھے اس وقت اندازہ ہوا کہ یہ موضوع جاپانیوں کے لیے اس قدر حساس ہے کہ وہ عام طو رپر اس پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ جاپانیوں کی ایک حساسیت اُن کے ہاں خودکشی کا رجحان ہے۔ جاپان میں زیادہ اموات خودکشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں Life expectancy کی شرح جاپان میں سب سے زیادہ ہے۔ لوگ لمبی عمر پاتے ہیں۔ اُن کے بچّے جو اُن کی کفالت کر رہے ہوتے ہیں وہ بھی بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ دیتے ہیں۔ یہ بوڑھوں پر مشتمل ایک گھرانا یا معاشرہ بن جاتا ہے۔ جاپانی حکومت نے بوڑھے شہریوں کی خدمت کے لیے شاندار اقدام کئے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی روایتی مشرقی روایات کی پاسداری میں اولاد والدین کی دیکھ بھال کے فرض سے مکمل طور پر بری الذمہ نہیں ہو سکتی۔ خودکشی کا مرتکب ہونے والے افراد عام طور پر بوڑھے والدین ہوتے ہیں جو اولاد کو لمبی آزمائش سے بچانے کے لیے مجبوراً یہ راستہ اختیار کرتے ہیں۔ جاپان میں ’’OLD AGE HOME‘‘ کی بجائے بزرگ شہریوں کے لیے ’’DAY CARE CENTRE‘‘ کا رواج ہے۔ سرکاری آرام دہ گاڑیوں میں ان بزرگ شہریوں کو ان کے گھروں سے وہیل چیئر سمیت ایسے انداز سے سنٹر تک لایا جاتا ہے کہ اُن کو وہیل چیئر سے اُترنا نہیں پڑتا۔ یہ گاڑیاں اُن کی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے خاص طور پر ڈیزائن کی جاتی ہیں۔ ’’DAY CARE CENTRE‘‘ میں ان کے آرام و غسل، علاج اور Socialisation کا پورا اہتمام کیا جاتا ہے۔ عام شہری یا سماجی کارکن باقاعدگی سے ان مراکز کا دورہ کرتے ہیں۔ بزرگ شہریوں سے ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کرنے کے علاوہ مختلف دلچسپ بلکہ اوٹ پٹانگ حرکتیں کر کے اُن کا دل بہلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

جاپان کے ایک صوبہ میں ایک ایسے ہی مرکز میں مجھے دیگر ساتھی مندوبین کے ساتھ دورہ کرنے کا موقع ملا۔ جاپانی حکام کی خواہش تھی کہ ہم بزرگ شہریوں کو محفوظ کرنے کے لیے باقاعدہ ایک پروگرام ترتیب دیں۔ ہماری حوصلہ افزائی کے لیے مختلف اعلیٰ شخصیات کی طرف سے ادا کی گئی ایسی خدمات تصویری شکل میں دکھائی گئیں۔ پاکستانی وفد بوڑھے جاپانیوں کی تفریح کا ذریعہ بننے پر آمادہ ہو گیا۔ ہم نے ٹیبل پر رکھّے غباروں کے ساتھ ٹیبل ٹینس کھیلی۔ اپنے مترجم کی مدد سے ان سے گفتگو کی۔ آخر میں ’’جیوے پاکستان‘‘ گایا اور تھوڑی سی جسمانی مشقت کو ڈانس کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کی۔ جاپانی بزرگ خوش ہو گئے اور ہمارے لیے تالیاں بھی بجائیں۔ ایک بزرگ خاتون نے کہا کہ یہ لوگ بڑے دراز قد ہیں یقیناً خوراک اچھّی کھاتے ہوں گے۔

جاپانیوں کی ایک حساسیت اُن کے بچّے ہیں۔ ہمیں خاص طو رپر منع کیا گیا تھا کہ کسی عوامی جگہ پر کسی عام جاپانی بچّے کے ساتھ تصویر نہ بنوائیں۔ ہمیں بڑی حیرت ہوئی۔ انتظامیہ کا کہنا تھا کہ والدین اپنے بچوں کے معاملے میں غیر معمولی حساس ہیں۔ اُن کے ساتھ بے تکلفی یا تصویر کھنچوانے کو روایتی طو رپر پسند نہیں کرتے۔ جاپانی حکام کی ہدایات اپنی جگہ لیکن ہمیں بچوں سے ملنے یا تصویر کھنچوانے کا تجربہ کرتے ہوئے کوئی دقت درپیش نہیں آئی۔ ہم ایک بچوں کے ڈے کیئر مرکز بھی گئے۔ اس مرکز میں جاپانی مائیں چھوٹے بچوں کو ساتھ لاتی ہیں۔ مائوں کو بچوں کی تربیت بارے آگاہی دی جاتی ہے۔ جاپانی بچے کچھ خاص طو رپر ترتیب دی گئی کھیلیں وغیرہ کھیلتے ہیں۔

جاپان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے کہ جہاں آبادی کی NEGATIVE GROWTH ہے۔ ایک گائوں کے دورے کے دوران مقامی ڈاکٹر نے اپنے تعارف میں بیان کیا کہ جب وہ اس گائوں میں تعینات ہوا تو اس کی آبادی گیارہ سو تھی۔ اب اس کی آبادی آٹھ سو ہے۔ لوگوں کی اکثریت عمر رسیدہ ہے۔ جاپانی حکومت کی بھر پور حوصلہ افزائی کے باوجود افزائشِ آبادی کی کوششوں کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔ آبادی نہ بڑھنے کی وجوہات میں ایک دلچسپ وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ عام جاپانی صبح سویرے اپنے گائوں سے ٹرینوں کے مختلف روٹ اختیار کر کے ٹوکیو کے سفر پر نکل پڑتا ہے۔ سارا دن انتھک کام کرنے کے بعد گھنٹوں واپسی کا سفر کر کے اپنے گھر پہنچتا ہے اور سو جاتا ہے۔

عکسی مفتی صاحب اپنے دورہ جاپان کے احوال میں ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ جاپان میں ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے موجود تھے۔ رات کو اپنے کمرے میں آ کر ٹی وی دیکھا تو اس میں اس کے سرکاری میزبان ایک اعلیٰ جاپانی افسر ایک TALK SHOW میں تشریف فرما تھے۔ تھوڑی دیر میں ایک نوجوان جاپانی لڑکی پروگرام میں شامل ہوتی ہے اور جاپانی افسر سے بہت بے تکلفی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ (یہ واقعہ پوری صحت اور تفصیل سے بیان نہیں کیا جا رہا) جاپانی افسر اس لڑکی کا بھر پور ساتھ دیتے ہیں۔ عکسی مفتی صاحب کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ اگلے دن انہوں نے جاپانی افسر سے رات والے شو کے بارے میں پوچھا تو تصدیق ہو گئی کہ یہ وہی صاحب ہیں۔ اُن صاحب نے اپنے رات والے فعل کے بارے میں بڑے فخر سے بتایا کہ اس پروگرام کے لیے انہوں نے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا ہوا ہے۔ جاپان کی آبادی تشویش ناک حد تک کم ہوتی جا رہی ہے۔ افزائشِ نسل کی حکومت کی روایتی کوششیں زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہیں۔ ایسے میں خاص ٹی وی پروگراموں میں ایسے مناظر پیش کئے جاتے ہیں کہ جن سے لوگ ذرا اس طرف بھی متوجہ ہوں۔ یہ کام رضاکارانہ طور پر قومی فریضہ سمجھ کر کیا جاتا ہے۔

جاپانی وقت کی پابندی کا بہت خیال رکھتے ہیں۔ اگر کوئی ایک بات جس سے آپ کے اُن کے ساتھ تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں تو وہ وقت کی پابندی کا خیال نہ رکھنا ہے۔ اس کے برعکس ہمارے نزدیک چند منٹ کی تاخیر تو کوئی تشویش کی بات نہیں ہے بلکہ ہم تو دانستہ طو رپر اپنی اہمیت کا احساس دلانے کے لیے میٹنگ میں دیر سے پہنچتے ہیں۔ جاپانیوں کی روایتی وضعداری آڑے آ جاتی ہے لیکن مہمانوں کی میٹنگ میں تاخیر سے آمد پر اُن کی مایوسی چہرے پر پڑھی جا سکتی ہے۔

جاپانیوں میں ایک روایت NAKED RELATIONSHIP کی ہے۔ ان کے ہاں اجتماعی طو ر پر نہانے کا تصور موجود ہے۔ صرف مرد اور عورت میں تمیز کی رعایت دی جاتی ہے۔ عام طور پر سردی کا موسم ہوتا ہے۔ گرم پانی کے تالابوں میں مرد اور عورتیں علیحدہ علیحدہ اجتماعی غسل کرتے ہیں۔ اس کو NAKED RELATION بنانے، ایک دوسرے سے بے تکلف ہونے اور دوستی وغیرہ کرنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کپڑے پہننے کی جسارت کی جائے تو اس کو بُری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

جاپانیوں سے ملاقات کا امکان ہو تو اپنے پاس VISITING CARDS لازمی رکھ لیں۔ جاپانی اپنے کارڈ کو بڑے اہتمام سے دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر آپ کو پیش کرتے ہیں۔ بدلے میں وہ توقع رکھتے ہیں کہ آپ بھی اسی انداز میں اپنا کارڈ پیش کریں گے۔ اسی طرح جاپانی لوگ تحفہ دینا اور لینا پسند کرتے ہیں۔ تحفہ پا کر بھر پور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے ایک پاکستانی بھائی سندھی اجرک اچھی تعداد میں ساتھ لے گئے تھے۔ جس جاپانی کے شانوں پر اجرک اور سر پر سندھی ٹوپی رکھی جاتی وہ خوشی سے نہال ہو جاتا۔ Cultural differences اور Sensitivities کو سمجھتے ہوئے جاپانیوں سے معملات کئے جائیں تو جاپان میں قیام کو مزید خوشگوار بنا سکتا ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: