گریڈ 17 کے افسر اور قومی ترقی ———– مدثر احمد

0
  • 79
    Shares

پاکستان کی ترقی کا سفر گریڈ سترہ کے افسر کی خوشحالی سے شروع ہو گا۔ جب تک نوجوان افسر مناسب وسائل اور جائز حقوق سے محروم رہیں گے کوئی بھی انتظامی اصطلاحات یا Good Governance کے شاندار منصوبے شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکیں گے۔ کرپشن اور بد عنوانی کے خاتمے کی کوششیں اس وقت تک کامیابی سے دور رہیں گی جب تک نوجوان افسران کی حکومت یا ریاست کے ساتھ وفاداریاں حقیقی معنوں میں استوار نہیں ہوتیں۔ ایک افسر جب سول سروس میں قدم رکھتا ہے تو ایک توانا، صحت مند اور مثبت سوچ رکھنے والا محنتی کارکن ہوتا ہے۔ اس کی شخصیت سازی میں والدین کی تربیت، سکول کی تعلیم اور دینی علوم سے ضروری واقفیت کی گہری چھاپ ہوتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں اس کو مزید بہتر Exposure ملنے سے ذہنی افق میں اضافہ ہوتا ہے۔ پیشہ ورانہ تعلیم اس نوجوان کو اس کے ترجیحی مضمون کے ہنر میں یکتا کر دیتی ہے۔ مقابلے کے کٹھن امتحان میں سرخرو ہو کر معیاری تربیتی درسگاہ سے فارغ التحصیل ہوتا ہے۔ دانشور اور مفکر لوگوں کی تصانیف سے مستفید ہوتا ہے۔ کامیاب لوگوں کے حالاتِ زندگی اس کی نظر سے گذرتے ہیں۔ مختلف شعبہ ہائے حیات کی اعلیٰ شخصیات کے خیالات سے آگہی حاصل ہوتی ہے۔ یہ تمام عوامل اُس کی ذات کے ارتقاء پر مثبت انداز میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ تبدیلی، بہتری اور اصطلاحات کی مختلف تراکیب پر غور کرتا ہے۔ عوام کی خدمت اور وطنِ عزیز کی بہتری کا بھر پور جذبہ بیدار ہوتا ہے۔

یہ نمایاں خوبیاں لے کر یہ نوجوان افسر سول سروس کی عملی زندگی میں قدم رکھتا ہے۔ اسے اپنے خیالات کے مطابق کام کرنے کے لیے سازگار ماحول میسر نہیں آتا ہے۔ پہلے مرحلے میں اسے مناسب سہولیات کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ اگر یہ تقابلی جائزہ لے تو اسے کچھ دیگر اپنے جیسے افسران بہت بہتر حالت میں نظر آتے ہیں جس سے اس میں Disparity یا Discrimination کی Feeling  پیدا ہوتی ہے۔ وسائل میں کمی Lack of Achievement  یا Dis-satisfaction کے منفی جذبات پیدا کرتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں Material Culture ایک مسلّمہ حقیقت ہے۔ ہم بڑے گھر، بڑے دفتر اور بڑی گاڑی کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اگر ہم غیر مادی معملات پر نظر دوڑائیں تو بھی یہ ننھی جان قدرے مشکل میں دکھائی دیتی ہے۔ اس کی رائے کو خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔ بعض صورتوں میں اس کی آراء پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اعلیٰ افسران میں بعض بڑے شاندار افسران ہوتے ہیں جو اختلافِ رائے کو قبول کرتے ہیں۔ نوجوان افسران کی غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔ ان کی رہنمائی کرنے کے ساتھ ساتھ شخصیت کے نکھار پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی صورتِ حال کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے کہ جہاں یہ ساری اعلیٰ صفات ناپید ہوں بلکہ ان کی بجائے کچھ ایسے لوگوں سے سامنا ہو جائے جو سالانہ رپورٹ لکھنے کے اختیار کو ناجائز استعمال کریں۔ ایک مصنوعی دباو کا ماحول پیدا کر کے نوجوان افسر کی Consent یا رائے کو محدود یا Customise کر لیں۔

اس بات کا امکان موجود ہے کہ گریڈ سترہ کا افسر مالی طور پر نا آسودہ ہو۔ اس کی محرومیوں کے خلا کو ریاست کی بجائے کچھ اور باوسائل لوگ پورا کر کے اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کریں۔ نوکری کا ابتدائی مرحلہ بڑا Vulnerable ہوتا ہے۔ ترغیبات اور اخلاقیات میں سے ٹھیک انتخاب ایک حساس مرحلہ ہے۔ یہ make or break کی صورتِ حال ہوتی ہے۔ اگر اس مرحلے پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا جائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ باقی ماندہ سروس میں افسر کبھی کسی لغزش کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔ اسی طرح اگر اس پہلے امتحان میں قدم لڑکھڑا جائیں تو باقی کا سفر اگر جاری رہتا بھی ہے تو اس کی سمت کا واضح تعیّن نہیں ہوتا۔

سالانہ رپورٹ یا PER کے حوالے سے یہ عرض کرتا چلوں کہ CASES کے FREE EXAMINATION یا DESK OFFICER کی رائے کا غیر متزلزل اور غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔ ایسا صرف اس وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب اس کے سینئر افسران ریاستی مفاد میں فیصلہ سازی کے حق میں ہوں۔ لیکن اُن ناموافق حالات میں جہاں نوجوان افسر اور سینئر افسران کے خیالات میں ہم آہنگی کا فقدان ہو وہاں اعلیٰ نصب العین اور عوامی مفاد کے بلند خیالات شرفِ قبولیت نہیں پاتے۔

ایسی صورتِ حال میں اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں رہتا کہ BOSS IS ALWAYS RIGHT کا تبر بہدف نسخہ استعمال کر کے ابتدائی سالانہ رپورٹ میں اچھی Grading کو Secure کر کے Probation period کو کامیابی سے Terminate کروانے کو ہی عافیت سمجھیں۔

خواتین و حضرات!
یہ وہ ابتدائی مرحلہ ہے جہاں سول سروس کے نووارد شہسواروں کو توجہ، رہنمائی اور آشیر باد کی ضرورت سب سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ اس موقع پر اگر ریاست ایک قدم آگے بڑھا کر ان کو اپنا لے۔ ان کی جائز ضرورتوں کو سمجھے اور انہیں ایک نئے ولولے، بے باکی اور مختلف انداز میں کام کرنے کی آزادی دے تو اُن کی خدمات اور وفاداریوں سے عوام اور ملک فوری اور دور رس فوائد حاصل کریں گے۔ ان افسران کا ایمان مضبوط ہو گا۔ رشوت اور بدعنوانی کے تدارک میں عملی مدد ملے گی۔ مزید یہ کہ بہتر قابلیت رکھنے والے نوجوان دوبارہ سول سروس کو قابلِ رشک نگاہوں سے دیکھیں گے۔

ایک اچھا کامیاب آغاز کرنے والا گریڈ سترہ کا افسر ہر کامیابی کی منزل کے ساتھ اپنے نظریہ اور عہد کے ساتھ اپنا رشتہ مضبوط سے مضبوط تر کرتا چلا جائے گا۔ اس کے خیالات اور خدمات وطنِ عزیز کی تعمیرِ نو اور حقیقی خوشحالی کے سفر میں اہم سنگِ میل ثابت ہوں گے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: