میرٹ ———– مدثر احمد

0
  • 62
    Shares

میں نے اپنے دوست سے پوچھا تم سرکاری بھرتیوں کے معاملے میں اتنے STRICT، اتنے Uncompromising کیوں ہو۔ دوست، احباب اور بڑوں کی سفارش نہیں مانتے۔ اپنوں کو مایوس کرتے ہو۔ بہت سوں کو ناراض کر لیتے ہو۔ اس Extremism کی وجہ کیا ہے۔ آج کسی کو Oblige کرو گے تو کل کوئی تمھیں کرے گا۔ میرے دوست نے تحمل سے میری بات سنی۔ کچھ دیر خاموش نظر جھکائے کسی گہری سوچ میں گم رہا۔ نظریں اٹھائیں، ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائی اور گویا ہوا۔

’’دیکھو! کہنے کو تو یہ غیر اہم اور محض کتابی یا اخلاقی بات ہو گی۔ میں خالی آسامیوں پہ بھرتی کے مسئلے کو بہت خاص لیتا ہوں۔ میرٹ اور شفافیت کے لیے کوشش کرتا ہوں۔ کسی سفارشی کو Adjust کرنے کی بظاہر عام سی بات کو کسی کی حق تلفی سے تشبیہ دیتا ہوں۔ اور یہ بات محض عمومی انصاف کی نہیں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر اس کا ایک جذباتی پہلو بھی ہے‘‘۔

یہ جذباتی پہلو میں ہرگز Expect نہیں کر رہا تھا۔ ’’What do you mean by جذباتی پہلو‘‘۔ میں نے حیرت سے پوچھا۔ یہ ذرا نازک معاملہ ہے۔ چلو تم سے Share کر لیتا ہوں۔ لیکن ذرا سنجیدگی سے سننا اور مجھے درمیان میں ٹوکنا نہیں۔ This is so special فوجی افسر بننا میری سب سے بڑی خواہش تھی۔ امتحان سے قبل ایک پرائیویٹ ٹریننگ سنٹر میں داخلہ لیا۔ ہم سارا دن مختلف مشقیں کرتے جس میں Physical Test بھی شامل تھا۔ Rope Climbing کے دوران میرے ہاتھو ںمیں چھالے پڑ گئے تھے۔ ایک دن یہ چھالے میری ماں نے دیکھ لیے۔ بچّے کے ہاتھ پر چھالے دیکھ کر ماں کی کیفیت کیا ہو سکتی ہے یہ میں اس دور میں نہیں جان سکتا تھا۔ میری ماں نے میری کامیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ یہ چھالے اپنے رب کو دکھائو۔

میں امتحان میں Not Recommend ہوا۔ ہاتھوں کے چھالے کچھ دن میں صاف ہو گئے۔ فوج کا بخار اُتر گیا۔ میری ماں کو صبر آگیا۔ میرے لڑکپن کا دور تھا۔ نئی دلچسپیوں اور نئی منزلوں میں کھو گیا۔ ’’Boys will be boys‘‘ خیر وہ وقت گذر گیا۔ اب میں اپنے جیسے امیدواروں کو عام یا قدرے بہتر ملازمت کے لیے انٹرویو کے لیے بلاتا ہوں تو مجھے اس کا پس منظر ایک فلم کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

میں چشمِ تصور میں نماز پڑھ کر اولاد کے لیے لمبی دعائیں مانگنے والی ماں کو دیکھتا ہوں۔ ایک ماں جو ایک محدود بجٹ میں جیسے تیسے گھر کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اپنے بڑے بیٹے سے کچھ امیدیں جوڑ چکی ہے۔ رات دیر تک اسے نیند نہیں آتی ہے۔ وسوسے اور اندیشے اسے چار سو گھیرے رکھتے ہیں۔ بچیوں کی شادی شوہر کی بیماری اور سفید پوشی کا بھرم رکھنے کی کوشش میں رہتی ہے۔ آمدن میں اضافے کی اشد ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس پریشان کن ماحول اور بے بسی کی خاموش فضا میں اُس کو امید کی جو واحد کرن دکھائی دیتی ہے وہ اس کے لختِ جگر کی پکّی سرکاری نوکری ہے۔ ایک دفعہ اکرم نوکر ہو جائے تو میں کھیر بنا کر بانٹوں گی۔ اکٹھا راشن خرید لیا کروں گی۔ عابدہ کے لیے دو نئے سوٹ سلوائوں گی۔ ایک کمیٹی ڈال لوں گی۔ اور اور۔۔۔۔۔

انہی سوچوں، فکروں اور خوابوں میں ماں کی طویل رات کٹ جاتی ہے۔ ’’یار تُو Emotional  ہو گیا ہے۔ Sorry مجھے یہ Topic نہیں چھیڑنا چاہیے تھا‘‘۔
نہیں یار۔ It’s ok, It’s normal۔

اچّھا جی۔ تو بات اکرم کی پکی نوکری اور اکرم کی ماں کے خوابوں تک پہنچی ہے۔ بات آگے بڑھاتے ہیں۔ میرا جذباتی دوست مخاطب ہوا۔ ’’اکرم اخبار میں اشتہار دیکھ کر نوکری کے لیے درخواست دیتا ہے۔ امتحان کی تیاری کرتا ہے۔ انٹرویو سے ایک دن پہلے کی رات بڑی خاص ہوتی ہے۔ اکرم کی ماں اس کے بہترین کپڑوں کا انتخاب کرتی ہے۔ احتیاط سے استری کرتی ہے اور حفاظت سے دیوار سے لٹکا دیتی ہے۔ یہ رات بڑی لمبی ہوتی ہے۔ نیند کوسوں دور بھاگ جاتی ہے۔ آس، امید، خوشیاں، رعنائیاں چارپائی کو گھیر لیتی ہیں۔ ہر کروٹ لب سے دُعا نکلتی ہے۔ زندگی باہیں پھیلاتی ہے اور امید کو زور سے بازوئوں میں سمیٹ لیتی ہے۔

اکرم تیّار ہو کر انٹرویو کے لیے گھر سے روانہ ہوتا ہے۔ ماں دعائوں سے رخصت کرتی ہے۔ زندگی گھر کے آنگن میں ایک لمبے وقفے کے بعد پھر سے لوٹ آتی ہے۔ خدا بڑا طاقتور، بہت قریب اور انتہائی مہربان دکھائی دیتا ہے۔ اکرم اس پیار اور امید کے ہیولے سے نکل کر عملی زندگی کے تلخ تجربہ سے گذرنے کے لیے انٹرویو کے لیے پہنچ جاتا ہے۔ ایک خالی سیٹ کے لیے بیسیوں یا سینکڑوں امیدواران ہو سکتے ہیں۔ انٹرویو ہوتا ہے۔ روایتی سوال کئے جاتے ہیں۔ جن لوگوں کا انتخاب کرنا مقصود ہو اُن کی فہرست پہلے سے ترتیب پا چکی ہوتی ہے۔ اکرم کے اُجلے استری شدہ کپڑے کسی کو متاثر نہیں کر پاتے۔ ماں کی دعائیں بے اثر ثابت ہوتی ہیں۔ چہروں پر عارضی رونق غائب ہو جاتی ہے۔ ویرانی اور مایوسی واپس گھر لوٹ آتی ہیں۔ بہتر زندگی کے خواب چکنا چور ہو جاتے ہیں۔ آس امید کے خیال منتشر ہو جاتے ہیں۔ رشوت اور سفارش زندہ حقیقتوں کی طرح دکھائی دیتی ہیں۔ دعائیں، جذبات، عقیدت اور اعتماد سے محروم ہو کر عادت یا رسم کے طور پر رہ جاتی ہیں۔ کسی کے لیے نئے کپڑے نہیں بنتے ہیں نہ ہی گھر میں بڑے دیگچے میں کھیر پکائی جاتی ہے۔

نا انصافی اور اقربا پروری کا مرتکب افسر ایک ہارے ہوئے بیٹے اور ٹوٹی ہوئی ماں کی عدالت میں کیا صفائی پیش کرے گا۔ مجبوری اور بے بسی کا کوئی عذر قبول نہیں ہو گا۔ ایک مفلس گھرانے کی محرومی اور لاچاری کا ذمہ دار ٹھہرایا جائوں گا۔ میں اس عدالت میں رسوا ہو جائوں گا۔ جن لوگوں کو میں نے دوسروں کے حق میں سے دے کر خوش کیا ہو گا وہ نہ تو میرے ممنون ہوں گے اور نہ مدد گار۔ یہ وہ منظر ہے میرے دوست جو مجھے سمجھوتہ کرنے نہیں دیتا۔

میرے دوست کی گفتگو ابھی جاری تھی۔ میں جسمانی طو رپر اس کے سامنے موجود تھا۔ عملی طور پر سوچ کے دھاگے کہیں اُلجھ چکے تھے۔ ایک عدالت کا منظر دماغ میں ابھر رہا تھا۔ کسی کی دعا سنائی دے رہی تھی۔ دراز میں ایک فہرست پڑی نظر آ رہی تھی۔ فون بج رہا تھا۔ نائب قاصد، سیکورٹی گارڈ اور مالی کا انٹرویو دینے والے درختوں کی چھائوں ڈھونڈ رہے تھے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: