جواب آں غزل: انگریزی کی محدودیت —- پروفیسر سلیم ہاشمی

0
  • 13
    Shares

گذشتہ دنوں دانش پہ احمد اقبال صاحب کا مضمون “مجھے اردو سے کوئی محبت نہیں” شایع ہوا۔ اس پر سلیم ہاشمی صاحب نے کچھ بات کی ہے۔ ملاحظہ کیجئے۔


غلام کہتے ہیں انگریزی بہت بڑی زبان ہے۔
پھر وہ ایک لے پر جھومنا شروع کر دیتے ہیں۔
مست ہو کر ناچنا گانا شروع کر دیتے ہیں۔
(اچھا اس گانے میں کوئی لے، تال، سر، راگ، شاعری یا موسیقی تلاش کرنے کی کوشش نہ کریں یہ غلاموں کا گانا ہے)۔

مگر علامہ اقبال فرماتے ہیں

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی

اب غلاموں کا گانا ملاحظہ فرمائیں

(غلاموں کا گانا)
“انگریزی سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان ہے
یہ علم کی زبان ہے
یہ ایک “انٹرنیشنل لینگویج” ہے”۔

اور ایسا کہتے ہوئے ان کی گردن اکڑ جاتی ہے، سینہ پھول جاتا ہے اور سر تن جاتا ہے۔
گویا یہ ان کے والد محترم کی زبان ہے جس کی شان بیان کرنا حق پدری ادا کرنے کے مترادف ہے۔

جہاں تک علم، سائنس اور ٹیکنالوجی اور انگریزی کی بات ہے اس پر میں کئی دفعہ بات کر چکاہوں اور آپ سب کو یہ باور کروا چکا ہوں کہ یہ عقل سے اتنی ہی دور بات ہے جتنا کہ لندن سے نیویارک دور ہے اور اس میں حقیقت کا کوئی شائبہ تک نہیں۔

کئی بار میں ان سائنسدانوں، انجینئروں، ڈاکٹروں اور عالموں کی بات کر چکا ہوں جن کا انگریزوں یا انگریزی سے دور پار کا تعلق بھی نہیں تھا مگر وہ اپنے اپنے شعبے کے امام تھے، نابغہ ہائے روزگار تھے۔ اس ضمن میں ارسطو، سقراط، ہومر، ارشمیدس، جالینوس، بو علی سینا، رازی، غزالی، ابن الہیثم اور بقراط سے لے کر پاسچر، آئن سٹائن، لیون ہک، سٹراسبرگر، لیوازے، بوائل، ٹیگور، اقبال، کانٹ، گوئٹے، ٹالسٹائی، موپاساں، والٹیئر، گورکی، عبدالقدیر خان اور بیشمار دوسرے اشخاص کا نام لیا جا سکتا ہے۔

اب آ جائیے اس بات کی طرف کہ انگریزی ایک” انٹرنیشنل لینگویج “ہے۔

اچھا آئیں دیکھیں یہ انٹرنیشنل لینگویج کہاں کہاں بولی جاتی ہے، لکھی، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے۔
برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، آدھا کینیڈا اور شاید جنوبی افریقہ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ انٹرنیشنل لینگویج پورے یورپ میں صرف برطانیہ میں استعمال ہوتی ہے اور برطانیہ میں بھی ویلز میں ویلش اور اسکاٹ لینڈ میں اسکاٹش استعمال ہوتی ہے۔ برطانیہ کا ایک ہمسایہ ملک آئر لینڈ ہے وہاں آئرش زبان استعمال ہوتی ہے۔

جہاں تک آسٹریلیا کی بات ہے وہاں کی انگریزی اور برطانیہ کی انگریزی میں وہی تعلق ہے جو امیتابھ بچن کی بولی ہوئی ہندی اور اردو میں ہے۔

انگریزی پاکستان، بھارت، فلپائن، زمبابوے، کینیا، نائیجیریا، اور یوگنڈا میں بھی ہے، مگر کتنی ہے یہ آپ سب بخوبی جانتے ہیں۔

اچھا ان ملکوں میں چھدری چھدری انگریزی ہے مگر جہاں جہاں اور جس جس شعبے میں یہ ہے یہ بدعنوانی، بدانتظامی، نوسربازی، دھوکہ دہی، فریب کاری، وطن فروشی اور کئی دیگر گھناؤنے جرائم کے ساتھ گندھی ہوئی ملتی ہے۔ اس کا ان ممالک میں خالص حالت میں پایا جانا ناممکنات میں سے ایک بات ہے۔

اچھا اب اگر آپ انگریزی سیکھ کر فرانس جاتے ہیں تو گونگے اور بہرے،
اگر روس جاتے ہیں تو گونگے اور بہرے
اور یہی حال جرمنی، سویڈن، ڈنمارک، ناروے، سپین، پرتگال، مالٹا، ترکی، ایران، سعودی عرب، چین، ملائیشیا، انڈونیشیا، کوریا، جاپان اور دنیا کے 200 دیگر ممالک میں جانے والوں کا بھی ہوتا ہے۔ ان ملکوں میں جتنے انگریزی بولنے والے ملتے ہیں شاید اس سے کچھ زیادہ ہی اردو بولنے والے بھی مل جائیں۔ اور اس پر طرہ یہ کہ فرانس اور جرمنی جیسے ملکوں میں انگریزی بولنے والوں سے باقاعدہ نفرت کی جاتی ہے اور ان کو سننے، سمجھنے سے انکار کر دیا جاتا ہے۔

اب جب پاکستانی اپنے زعم میں انگریزی سیکھ کر اپنے آپ کو چیمپئن سمجھنا شروع کر دیتے ہیں تو دراصل وہ اپنے آپ کو دنیا کے ان چند ممالک تک محدود کر دیتے ہیں۔ ان کی تعلیم، ان کی ملازمتیں، ان کے کاروبار بھی اسی حوالے سے محدود ہو جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان انہی ممالک کا غلام بن کر رہ گیا ہے حالانکہ دنیا ان ممالک کے دائرے سے بہت زیادہ ان ممالک کے دائرے سے باہر ہے مگر پاکستانیوں کی بدقسمتی ملاحظہ کریں کہ ہمارے غلام حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے ہمیں دنیا کے ایک بہت بڑے حصے سے تعلقات بنانے سے، وہاں جا کر تعلیم حاصل کرنے سے ان کے ساتھ کاروباری تعلقات استوار کرنے سے روک دیا ہے۔

اب جن لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا ایک عالمی گاؤں (یا ایک عالمی کمرے) میں بدل چکی ہے، دنیا سکڑ چکی ہے اور اب یہاں (ان کی دانست میں) انگریزی کا چلن ہے وہ سوائے احمقوں کی جنت کے گٹر میں رہنے اور ڈبکیاں لگانے کے اور کچھ نہیں کر رہے۔ اب بھلا یہ تو بتائیں کہ وہ یورپی یونین جس کی کرنسی ایک ہے، جس کا جھنڈا ایک ہے، جس کی ایک پارلیمنٹ ہے، جس کے رکن ممالک کی سرحدیں ختم ہو چکی ہیں کیا اس یورپی یونین نے کسی ایک زبان کو رابطے کی زبان مان لیا ہے۔ کیا اس یورپی یونین نے انگریزی کی بالادستی کو تسلیم کر لیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔

میں سائنس کا طالب علم ہوں۔ اب سائنس کی دنیا میں یونانی، لاطینی اور فرنچ کو انگریزی سے کہیں زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ (حقیقت یہ ہے کہ سائنسی اصطلاحات اور تشریحات میں انگریزی کا کوئی مقام نہیں ہے)۔ قانون اور طب میں یونانی اور لاطینی کو وہ اہمیت حاصل ہے جس کا انگریزی تصور بھی نہیں کر سکتی۔

فٹبال کی بین الا قوامی تنظیم (فیفا) اور اولمپکس (او آئی سی) کی بین الاقوامی تنظیموں کے نام تک انگریزی میں نہیں ہیں۔

اقوام متحدہ کی چھ سرکاری زبانیں ہیں جن میں سے ایک انگریزی بھی ہے۔ بتانا یہ چاہتا ہوں کہ یہ اقوام متحدہ کی واحد سرکاری زبان تک نہیں ہے۔

اب جب یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک نے، اقوام متحدہ نے انگریزی کو کسی قابل نہیں سمجھا تو پاکستانی بزرجمہر کیا یورپی یونین کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے زیادہ گلوبلیائی ہو گئے ہیں۔ ان کو علم ہونا چاہئیے کہ دنیا کے اندر پاکستانی غلاموں کے سوا انگریزی کو وہ اہمیت دینے کو کوئی ذی ہوش انسان تیار نہیں جو اہمیت یہ اپنے زعم میں انگریزی کو دے رہے ہیں۔

بات صرف غلامی کی ہے اور اس سے نہ نکلنے کی ہے اور غلامی ہی کو طرز حیات اور مقصد حیات سمجھنے کی ہے، ورنہ جب انگریز اس ملک سے دفع دور ہوئے تھے ان کے ساتھ ہی اس زبان کو بھی اس ملک سے دیس نکالا دے دینا چاہئیے تھا۔

کیسی عجیب بات ہے ساری دنیا میں ہر شخص غلامی کو اور اس کی ہر نشانی کو باعث نفرت سمجھتا ہے اس سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے اس سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اور غلامی سے نکلتے ہی غلامی اور اس کی تمام نشانیوں کو مٹا ڈالتا ہے مگر پاکستانی قوم ہے کہ غلام رہنے پر اس کی نشانی کو گلے کا ہار بنائے رکھنے پر اس زنجیر کو پاؤں میں ڈالے رکھنے پر اس طوق کو گردن میں آویزاں کئے رکھنے پر بضد ہے۔

ہے خواب میں ہنوز جو جاگے ہیں خواب سے

جی انگریزی ایک انٹرنیشنل لینگویج ہے۔
جی کیوں کیونکہ ہم اسی طریقے سے اس ملک کے 20 کڑور لوگوں کو بدستور غلام بنائے رکھ سکتے ہیں۔ یہ ہے اس انٹرنیشنل لینگویج کی حقیقت۔

بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اک جوئے کم آب
اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی۔

کیا کیا جائے؟

ذریعہ تعلیم کے طور پر ہمارے نظام تعلیم پر انگریزی کے مسلط ہونے اور اس کی بربادی کے عمل کو فی الفور بند کیا جائے۔
انگریزی کو ایک لازمی مضمون کے طور پرپڑھانا بند کیا جائے۔
ہر شعبہ زندگی سے اس کے عمل دخل کو ختم کیا جائے۔
ہر قسم کے فارم، درخواست اور تعارفی پرچوں کو اردو میں چھاپا جائے۔
اعلیٰ تعلیم، مقابلے کے امتحان اور تمام ملازمتوں کے لئے انٹرویو اردو میں لئے جائیں۔
تمام عدالتی، انتظامی، دفتری اور کاروباری امور سے انگریزی کو بے دخل کر کے اردو کو رائج کیا جائے۔

جہاں تک اہم ملکی اور غیر ملکی زبانوں کی بات ہے 20 زبانوں کا ایک گروہ بنایا جائے جس میں سے طالب علم کسی ایک زبان کو اختیاری مضمون کے طور پر چھٹے سے آٹھویں درجے تک پڑھ کر اس کی مناسب شد بد حاصل کر سکیں۔ اس طرح پاکستان اور پاکستانی صرف چھ (6) ملکوں کے غلام بنے رہنے کے بجائے ساری دنیا سے تعلقات قائم کر سکیں گے، آ جا سکیں گے اور آزاد رہنے کے رنگ ڈھنگ سیکھ سکیں گے۔

کیا ہمارے حکمران، ارباب بست و کشاد، رہنما اور عوام آزادی، ترقی، خوشحالی اور کامیابی کے راستے کا انتخاب کرنا چاہتے ہیں یا بدستور غلامی، ذلت، رسوائی اور ناکامی کے گڑھے میں ہی پڑا رہنا چاہتے ہیں۔

فیصلہ تیرا ترے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: