باز ________ ڈاکٹر مریم عرفان کا افسانہ

0
  • 75
    Shares

وہ شاید رات کا آدھا پہر تھا جب کمال نے کمرے کا بلب جلایا۔ اسے پھیکی سی روشنی میں کمرے کا ملگجا سا حلیہ اور بیڈ پر آڑھی ترچھی لیٹی خالدہ میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوا۔

میرے خیال میں اب مجھے چلنا چاہیے۔ کمال نے بوٹوں کے تسمے باندھتے ہوئے کہا۔
پھر کب آؤ گے؟ خالدہ انگڑائی لیتے ہوئے بیڈ پر بیٹھ گئی۔
دیکھوں گا۔ فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتا۔

کمال نے رکھائی سے جواب دیا اور رات کی خاموشی میں چادر کی بکل مارے دروازے سے باہر نکل گیا۔ ساندہ کلاں کا محلہ حکیمہ رات کے سناٹے میں ڈوبا ہوا تھا۔ دور کہیں چوکیدار کی لاٹھی کی ٹک ٹک اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

فکرمعاش مرد کے ساتھ نتھی نہ ہو تو اس جیسا فصلی پرندہ کوئی نہیں، جو ڈال ڈال اڑتا ہے، گھونسلے بناتا ہے اور پھر موسم بدلتے ہی پھر سے غائب۔

کمال کے لیے یہ راستے اجنبی نہیں تھے وہ برسوں پہلے ان گلیوں میں گھومتا پھرتا اس چوکھٹ پر آکر رکتا تھا جہاں کبھی شائستہ رہتی تھی اور اب اس سے آگے جمیلہ رہتی ہے۔ شائستہ کسی زمانے میں کمال کی خواہشوں کی زد میں تھی وہ اس کے ساتھ تانگے کی سواری بننا چاہتا تھا لیکن وقت کا بےلگام گھوڑا اپنے ساتھ تانگہ جوڑنا ہی بھول گیا۔ شائستہ اب یونیورسٹی کیمپس کی یادگار تصویر میں اس کے کمرے کی دیوار پر ٹنگی ہوئی تھی۔

فکرمعاش مرد کے ساتھ نتھی نہ ہو تو اس جیسا فصلی پرندہ کوئی نہیں، جو ڈال ڈال اڑتا ہے، گھونسلے بناتا ہے اور پھر موسم بدلتے ہی پھر سے غائب۔ کمال فصلی پرندہ نہیں تھا سو زندگی کی گاڑی کھینچنے کے لیے اسے بیل بننا پڑا لیکن عورت کا معاملہ کچھ اور ہے۔ وہ ہمیشہ کسی اونچی شاخ پرگھونسلہ بنانے کی خواہش رکھتی ہے۔ یہ اونچی شاخیں اسے منہ کے بل گرانے کا سبب بھی بن جاتی ہیں لیکن پیڑہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ شائستہ بھی اونچی شاخ کے گھونسلے پر بیٹھ چکی تھی اور اس پیڑ کے نیچے کھڑا کمال سانپ کی طرح اپنی دو رخی زبان نکالے اسے دیکھ سکتا تھا۔

کمال کو اپنی خداداد صلاحیتوں پر بڑا مان تھا اس کا خیال تھا کہ ہر پیڑ پر بیٹھی فاختہ اسی کی کھوہ کے گرد چکر لگاتی ہے۔ اس کی زندگی سینما گھر بن چکی تھی جہاں گاہے بگاہے نئی پکچر لگتی رہتی۔ اسے شام پانچ بجے ٹیوشن پڑھانے کے لیے نکلنا تھا۔ اپنی سوچ کی پرواز پر پاؤں رکھتے ہوئے اس نے بائیک کو کک ماری اور نئی منزل کی جانب چل پڑا۔ کینٹ کا پوش ایریا اس کی پھٹ پھٹی کے شور سے ایسے گونج رہا تھا جیسے علاقے کی خاموشی میں دانستہ طور پر مخل ہو رہا ہو۔ کوٹھی نمبر بارہ کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہوئے اس نے اجنبیت کا خول اتار کر پھینکا۔ کوٹھی کے بڑے سے ڈرائنگ روم میں بیٹھے ہوئے ابھی اسے پانچ منٹ ہی ہوئے تھے کہ ایک دھان پان سی لڑکی ہاتھ میں کتابیں پکڑے اندر داخل ہوئی۔

گہری شربتی آنکھوں اور سرخ و سپید رنگت کی مالک فرح اپنے نئے استاد کا انٹرویو لے رہی تھی۔ کمال کو انگریزی میڈیم سکولوں میں پڑھنے والی لڑکیاں بہت پسند تھیں، جو بپھری ہوئی ندی کی طرح نہیں ہوتیں بلکہ ایک ہی رو میں بہنے والا دریا ہوتی ہیں۔ ان میں طلاطم خیزی اور ہیجان، پیمانے میں انڈیلی جانے والی شراب کی طرح ہوتا ہے، پینے والے کو اس کے ذوق کے مطابق جام ملتا ہے۔ فضا پر طاری بوجھل پن اور غیریت تو تقریباً شروع سے ہی اس ملاقات میں مفقود تھی اس پر چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے کمال طائرانہ نظروں سے کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ اتنے میں فرح کی ماں نے کمرے میں داخل ہو کر اسے چونکا دیا۔

پینتالیس سال کی عمر میں بھی وہ اپنی عمر سے دس سال کم لگ رہی تھی۔ کمر پیٹ کے ساتھ لگی ہوئی تھی اور کولہے تاج محل کو سہارا دینے کی کوشش میں ستونوں کا کام دے رہے تھے۔ کاندھوں پر گرے ہوئے گھنگھریالے بالوں کی لٹیں اس کی گردن چوم رہی تھیں، اس کے وجود سے اٹھنے والی مہنگی خوشبو نے کمال کو معطر سا کر دیا اور وہ تصورات کے پانی میں غوطے لگانے لگا۔

ان فیکٹ، فرح کے ڈیڈی امریکہ میں سیٹلڈ ہیں، تین سال میں ایک آدھ چکر لگ ہی جاتا ہے۔ یہاں بس میں اپنے دونوں بچوں کے ساتھ ہوں۔ علی سے تو ابھی آپ کی ملاقات نہیں ہوئی۔ ۔ ہے نا؟

خوشبودار عورت نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

جی۔ جی۔ ابھی ملاقات نہیں ہوئی۔ کیا کرتے ہیں آپ کے برخوردار ۔ میرا مطلب ہے آپ کابیٹا۔

کمال کی آنکھیں تیز نشے میں دھت ہونے لگیں۔

علی انجینئرنگ کے سیکنڈ سمسٹر میں ہے اس لیے اس کا زیادہ وقت یونیورسٹی میں ہی گزرتا ہے۔
کمال کو لگا جیسے آج ہی اسے گھر کے حالات، راہداریاں، کھڑکیاں اورکمروں کے نقشے بھی سمجھا دئیے جائیں گے۔ بے تکلفی کی سرحدیں اتنی آسانی سے پار ہو سکتی ہیں اس کا تجربہ تو اسے پہلے سے تھا لیکن یہاں یہ خوشبودار عورت اس کے حواس پر چھانے لگی تھی۔ گھر میں کتنے نوکر ہیں، کب کام کر کے سرونٹ کوارٹرز میں دبک جاتے ہیں، دن کا آدھا حصہ پارلر میں گزرتا ہے اور آدھا پارٹیوں میں، شام کیسے ڈھلتی ہے اور رات کیسے ہوتی ہے، وہ اپنے شب و روز کی یہ تمام کہانیاں عمروعیار کے سامنے بیٹھی دھراتی رہی۔ شام کا یہ پہر الف لیلوی داستان تھا جس میں رنگ، خوشبو اورآواز نے کمال کو بےخود سا کر دیا۔

فرح کب کتابیں اٹھا کر اٹھی دونوں اس سے بے خبر تھے۔ کوٹھی سے باہر نکلتے ہوئے کمال کو بس یہ یاد رہا کہ اکیلی عورت بھی کٹی پتنگ ہے جس کی چھت پر گر جائے وہی اس کا مالک ہوتا ہے۔ شربتی آنکھوں والی سلمی رات بھر کمال کے اعصاب پر چیونگم کی طرح چپکی رہی۔ نعمت کدے کی یہ شہزادی دو کنال کی کوٹھی میں تنہائی کی قید میں تھی بالکل خالدہ کی طرح جو اپنے پانچ مرلے کے گھر میں پابند سلاسل تھی۔ جس کے سندیسے کویت کی ریت میں پڑے پڑے اس کے شوہر کے جوابوں کے منتظر رہتے تھے۔ کون کہتا ہے کہ دوری قربت کا احساس بڑھاتی ہے۔ کمال کو لگتا تھا جیسے دوری فاصلے اگاتی ہے اور پھر ڈال ڈال اڑنے والے پکھیروان فاصلوں سے قربت کا رس نچوڑ لیتے ہیں۔ کمال کو خود پر ہنسی آتی تھی کہ زندگی میں اسے ہمیشہ بھیڑ میں چلنے والی تنہا عورتیں ہی کیوں ملتی ہیں۔ شائستہ، خالدہ اور سلمی۔ کبھی کبھار کمال ان رنگ برنگی عورتوں کے وجود سے تھک سا جاتا تھا لیکن تھکاوٹ بھی تو زیادہ دیر اعصاب پر سوار نہیں رہ سکتی۔

اس کی زندگی میں آنے والی ہرعورت دوسری سے مختلف تھی، کچھ منہ میں آنے والی ریت کی طرح بھربھری تھیں اور کچھ بند سگنل پرسرخ بتی کی طرح ٹھہری ہوئیں، لیکن سلمی کی شربتی آنکھیں لالٹین تھیں جن کی دھیمی دھیمی روشنی اسے ٹکوریں کرتی تھی۔ ان دنوں پیڑکی کھوہ میں چھپنے والا یہ سانپ اونچی شاخ پر بیٹھی اس فاختہ کو منہ کھولے دیکھتا تھا۔ ملاقاتوں کی یہ شب دیگیں دھیرے دھیرے پک رہی تھیں، دھواں اٹھ رہا تھا اور دونوں ان خوشبوؤں میں نہاتے چلے جا رہے تھے۔ سلمی کی زندگی سے بھرپور آنکھوں میں کمال کے نام کا جہان آباد تھا، وہ دونوں گھنٹوں خاموشی میں گزار دیتے اور کبھی اتنا بولتے کہ وقت تھکنے لگتا۔

نوید کو پانچ سال ہو گئے یہاں آئے ہوئے۔ میں جانتی ہوں وہ وہاں اکیلا نہیں ہے۔ لیکن میں جو یہاں تنہا ہوں وہ۔ ۔ ۔

سلمی کی شربتی آنکھوں میں تیرتا پانی دیکھ کر کمال کو لگا جیسے وہ ان میں ڈوب جائے گا۔ دریا چڑھا ہو تو کنارے ڈوب ہی جاتے ہیں اور پھرسامنے شربتی آنکھوں والا دریا ہو تو کنارے پانی کی موج کا سوچ کر ہی ہاتھ پاؤں چھوڑنے لگتے ہیں۔ سلمی کی طغیانی کمال کو یون ہی ڈبوتی رہی شاید ڈوبنے کا یہ منظرکچھ دن اور چلتا لیکن سامنے فرح جیسا گرداب بھی تو تھا۔ کمال یونہی سلمی کی شربتی آنکھوں میں کب تک ہلکورے لیتا۔ دیواروں کے کان ہی نہیں آنکھیں بھی ہوتی ہیں اور فرح دیوار تو نہ تھی۔ اسے سمجھ آنے لگی تھی کہ کمال کی آنکھیں کمرے سے باہر کس کو جھانکتی رہتی ہیں۔ اس کی ماں بہانے بنا کر ڈرائنگ روم کے چکر کیوں لگاتی ہے۔ وہ اس کے گھر لوٹنے سے پہلے ہی کیوں ڈرائنگ روم میں موجود ہوتا ہے۔ فرح کا جسم چلتی پھرتی آنکھ بن چکا تھا جہاں سے اسے اپنی ماں صاف طور پر دکھائی دیتی تھی۔ اس دن سلمیٰ گھر پر نہیں تھی اور کمال ڈرائنگ روم کے صوفے پرنیم دراز تھا۔ کمرے کی خاموشی میں عجیب سی گھٹن تھی۔ فرح کمرے میں داخل ہوئی تو کمال سیٹ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔

سر! یہ ان دنوں آپ میری ماما کو کون سا سبق پڑھا رہے ہیں۔

فرح نے اچانک کتاب سے سر اٹھاتے ہوئے پوچھا۔ کمال گڑبڑایا، اسے فرح سے ایسے سوال کی قطعاً امید نہیں تھی۔

سبق۔ ۔ ۔ کیا مطلب؟

کمال نے بظاہر پرسکون لہجے میں دریافت کیا۔

آپ مجھے بچی سمجھتے ہیں۔

فرح اپنے ناخن کترتے ہوئے ہزیانی انداز میں بولی۔ کمال خجل سا ہو گیا اس کے پاس سر کھجانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

اگر میں بھی یہی سبق پڑھنا چاہوں تو۔ ۔ ۔  فرح نے صوفے پر ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔
کمال کو لگا جیسے کھانا کھاتے ہوئے نوالہ اس کے حلق میں پھنس گیا ہو۔ زندگی میں آج پہلی مرتبہ الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ لگتا تھا جیسے دشمن نے اس کی چھاؤنی پر شب خون مارا ہو۔ دشمن اسے للکار رہا تھا اور وہ نہتا اپنی چھاتی کے اکڑاؤ کو ڈھیلا محسوس کر رہا تھا۔ فرح کی آنکھوں میں تیرنے والی خاموشی نے اسے سن کر کے رکھ دیا تھا۔ اسے اپنے محلے کا برف خانہ یاد آگیا جہاں نذیر کا سواکس بے دردی سے برف کی سلیں چھیلتا تھا۔ آج وہ برف کی سل بن چکا تھا جہاں فرح سوالیے اسے چھیل رہی تھی۔

آپ ابھی چھوٹی ہیں اس لیے یہ سبق آپ کے لیے نہیں ہے۔

کمال نے حوصلہ باندھتے ہوئے گویا سیز فائر کا اعلان کیا۔ اسے اس دھان پان سی لڑکی پر غصہ آ رہا تھا جس نے بیچ چوراہے میں اسے ننگا کر کے رکھ دیا تھا۔

کیا تھرڈ ائیر کی سٹوڈنٹ بھی بچی ہی ہوتی ہے۔

فرح نے ڈھٹائی سے سوال کیا۔ کمال نے ہاں کہنے کے لیے منہ کھولا تو فرح نے لپک کر بے باکی سے اس کے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا۔

نو سر! ان مائی کیس، یو آر رانگ۔

فرح کی سانسیں تیز ہو رہی تھیں۔ اس سے پہلے کہ اس کی آنکھیں جنگل میں آگ کی طرح بھڑکتیں، کمال نے اٹھنے میں ہی عافیت جانی۔

کہاں چلے سر۔ فرح گڑبڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
میرے خیال میں اب آپ کو مجھ سے ٹیوشن پڑھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ آپ کسی اور ٹیوٹر کا بندوبست کر لیں پلیز۔

کمال نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور صوفہ پھلانگتا ہوا باہر کود وڑا۔ کارپورچ سے اندر داخل ہوتی سلمی نے ٹھٹک کر دونوں کو دیکھا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھتی کمال اپنی بائیک گھسیٹتا ہوا گیٹ پھلانگ گیا۔ اس کی پھٹپھٹی فراٹے بھرتی سڑکیں ناپ رہی تھی۔ کمال زندگی کے مناظر کی کڑیاں ملاتا آ رہا تھا۔ ایک ایک کر کے سب عورتیں اس کی آنکھوں کے سامنے پتلیوں کی طرح چلنے پھرنے لگیں۔ نہر پار کرتے ہی وہ ماڈل ٹاؤن کے پوش علاقے میں داخل ہو چکا تھا جہاں شیبا کب سے اس کی منتظر تھی۔ اپنے جھنڈ سے بچھڑی یہ کونجیں ایسے باز کے ساتھ اڑ رہی تھیں جو شکار کو اپنی چونچ میں نہیں بلکہ نوکیلے پنجوں میں دبوچ کر رکھتا ہے۔ یہ سوچ کر کمال کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: