لبرل ازم کیا ہے؟ عمر بنگش

0
  • 35
    Shares

میں اکثر سوچتا ہوں کہ  روشن خیالی کا تصور، کیا یہ صرف ہماری ہم عصر مغربی دنیا کا خاصہ ہے؟   کیا یہ چند گنے چنے،  مخصوص تاریخی حقائق، محدود سماجی اور جغرافیائی سیاق و سباق سے جڑا معاملہ ہے؟ یا کیا  روشن خیالی واقعی ہر ایک
شخص کے لیے ہے۔ یا کیا نظریات واقعی سبھی زمانوں ، تہذیبوں اور ہر طرح کے لوگوں پر فٹ  بیٹھتے ہیں؟  

مجھ سے پوچھیں تو ان میں سے ایک بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم سیاق و سباق کو بیچ میں لاتے ہیں تو پھر  اس طرح تاریخی لحاظ سے زمانے کی دھول کے تحت  تو بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ جا بجا یہ صرف چند کا معاملہ ہے یا ہر دور کی اپنی خاصیت ہے لیکن محدود پیمانے پریعنی انفرادی زندگیوں میں یہ کل وقت،  ہر آدمی کا قصہ ہے۔

روشن خیالی کے تصور کو مخصوص  ملک یا معاشرے سے جوڑ دینا، آج کل عام ہے۔ دنیا پر نظر دوڑائیے، لوگ کس قدر آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ فلاں ملک آزاد خیال ہے یا وہ معاشرہ خاصا لبرل ہے۔ لیکن، ان مخصوص معاشروں میں جب  دوسرے لوگ آن کر بستے ہیں تو پھر طرح طرح کی باتیں اٹھنے لگتی ہیں۔ مثال کے طور پر حالیہ برسوں میں مغربی ممالک کی طرف مسلمانوں کی ہجرت دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ ان ممالک میں دیکھیے تو یہاں ایک طرح کا خوف عام ہے۔ مقامی لوگوں کو یہ بات کھائے جا رہی ہے کہ بھیا، یہ نو وارد تو ہمارے ‘مغربی لبرل اقدار’ کو سرے سے مانتے ہی نہیں ہیں۔ وہ ‘برطانوی’ یا ‘امریکی’ اقدار کو تہہ تیغ ہوتا دیکھ رہے ہیں اور گلہ کرتے ہیں کہ جی، مسلمان ان اقدار کو ماننا تو در کنار، سرے سے برداشت ہی نہیں کرتے۔ اب میں سوچوں کہ تارکین وطن ان معاشروں میں کھبنے کے لیے کیا کریں؟ وہ خود پر زبردستی کیا کریں تا کہ مغرب انہیں قبول کر لے؟ بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ اگر وہ ‘ہمارے ملک’ میں آ کر بسر کرنا چاہتے ہیں تو انہیں ‘ہماری’ اقدار کو قبول کرنا ہو گا، بلکہ اپنانا ہو گا۔  اس طرح آپ کی روشن خیالی تو ہوا ہو گئی، نہیں؟

یوں تو روشن خیالی کی اقدار کا سرے سے  دفاع ہو ہی نہیں سکتا۔ قوم پرستی، مخصوص کلچر یا  ورثے کا پرچار کر کے، آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ میں اپنے مغربی دوستوں سے اکثر یہی کہتا ہوں کہ دیکھیے، آج کا جو روشن خیال مغرب آپ کو نظر آ رہا ہے، یہ یہاں تک کیونکرپہنچا؟ ماضی کے تاریک اور حال کے روشن مغرب کے بیچ میں کئی سو سال تک زور سے چلنی والی تبدیلی کی ہوائیں ہیں۔ تبدیلی کی یہ ہوائیں اصل میں کیا تھیں؟ یہی ناں کہ روایت کو ترک کر دو اور اس بات کو سرے سے چھوڑ دو کہ ہمارے باپ دادا ایسے کرتے آئے تھے یا یہ ہماری روایت ہے؟ آپ تو پھر  واپس اسی زمانے میں جا رہے ہیں جب لوگ ‘ہمارا’ ملک، ‘ہمارا’ معاشرہ اور ‘ہماری’ اقدار کا نام لیتے تھکتے نہیں تھے۔ آزاد خیالی کی اقدار نے تو جنم ہی اس خیال سے لیا تھا کہ ماضی کی بجائے مستقبل کی جانب دیکھا جائے جس میں انسانیت کا بہبود ہے۔ یہ سطور پڑھتے ہوئے، آپ یقیناً سوچتے ہوں گے کہ ایسا صرف مغرب میں تو نہیں ہوا، روایت کو ترک کرنے کا نعرہ مشرق وسطیٰ میں بھی کئی بار اٹھا۔

خیر یہ تو ان دوستوں کا قصہ ہے جو آج کے مغربی روشن خیال معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں یا اس سے متاثر ہیں لیکن دوسری جانب کئی ایسے بھی ہیں جو روشن خیالی کو آفاقی تصور سمجھتے ہیں اور اس کی اقدار کا پرچار کرتے ہیں، وہ بھی اس لحاظ سے اپنی ہی دنیا بسائے بیٹھے ہیں۔ روشن خیال تو وہ ہے جو ان لوگوں کے ساتھ بھی برداشت کا رویہ روا رکھے جو تنگ ذہن ہے یا جس میں برداشت سرے سے موجود ہی نہیں۔ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ بھئی، ‘ان’ کی اپنی اقدار ہیں، ‘ان’ کا کلچر ہے یا ‘ان’ کی تاریخ ہے۔ اس طرح ہوتا کیا ہے کہ اخلاقی لحاظ سے ہر شخص کو کھلی چھٹی مل جاتی ہے، جو چاہے سو کرے، جہاں سینگ سمائیں، پھنسا کر بیٹھ جائیں۔ ظاہر  ہے، یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ ہر طرح کے افعال، چاہے وہ دیکھنے میں کتنے ہی سفاک کیوں نہ محسوس ہوتے ہوں، ان کے پیچھے پس پردہ محرکات کیا ہیں، وجوہات کیا ہیں؟ آپ سیدھا دوڑ کر چڑھائی نہیں کر سکتے ۔ آپ تقابلی جائزے لے کر تنقید کرتے رہیں گے ، اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا بلکہ تناؤ بڑھتا جائے گا۔ اس کی مثال یوں لیجیے کہ مغرب میں  جن لوگوں نے  آزاد خیالی کو ‘ایجاد’ کیا تھا، انہوں نے اپنے زمانے میں عورت سے نفرت کی روایت کو رد کیا تھا۔ ایک زمانے میں، جب مغرب میں تاریکی چھائی تھی، چند لوگوں نے اس جبر اور زبردستی کے خلاف آواز اٹھائی۔ وہ مغرب میں اپنے زمانے کے پہلے آزاد خیال واقع ہوئے تھے۔ ظاہر ہے، ان کو اپنے آباء کو ماننے والے آج کے یہ سپوت کبھی بھی غیرت کے نام پر قتل، لڑکیوں کے ختنے یا سنگساری کو قبول نہیں کریں گے۔ یہ تو ان کا انفرادی معاملہ ہے، لیکن اگر ان کے سامنے پوری دنیا ایک گلوبل ویلج بن کر سامنے آ جائے تو وہ آفاقی لحاظ سے بھی ان افعال کو کسی بھی طرح سے، کسی بھی معاشرے میں، دنیا کے کسی بھی ملک میں قبول نہیں کر سکتے۔ وہ اس مخالفت  کو اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

کہنا یہ ہے کہ در اصل جہاں روشن خیالی مقامی یا تقابلی نہیں ہے، وہیں یہ قطعی اور آفاقی بھی ہر گز نہیں ہے۔ آپ بھلے رٹ لگائے رکھیں کہ مغرب میں پائی جانے والی روشن خیالی در اصل زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہے، یہ آفاقی تصور ہے یا پھر یہ کہ بنیادی طور پر اخلاقی لحاظ سے ایسا ہی ہونا چاہیے۔ لیکن بات یہ ہے کہ لے دے کر آخر میں آپ وہیں پر کھڑے ہو جاتے ہیں جہاں سے آپ نے شروعات کی تھی۔ گول گول چکر کاٹ کر آپ پھر ‘ہماری اقدار’ کا شور مچانے لگتے ہیں۔

یہیں پر بس نہیں ہے بلکہ مطلق آزاد خیالوں سے بات کر کے دیکھیے تو پتہ چلے گا کہ وہ تارکین وطن کے بارے میں بھی عجیب و غریب المیہ سے دوچار ہیں۔ آج مغربی ممالک میں جا کر مستقل بسر کرنے والوں میں سے زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو تعلق داری، رشتے ناطے، غیرت، ایمان اور ریت رواجوں کے تصورات میں پل کر جوان ہوئے ہیں۔ یہی ان کی شناخت ہے۔ لیکن اگر مغربی معاشرے ‘اپنی اقدار’ کو پتھر پر لکیر بنا دیں گے تو پھر ایسی صورتحال میں تارکین وطن اور ان کی شناخت کی تو سرے سے جگہ ہی نہیں بچتی۔ ان سے توقع رکھی جاتی ہے کہ ‘ہماری’ اقدار یا ‘کوئی’ اقدار نہیں۔ ان آر یا پار جیسے حالات میں وہ کیا کریں ؟مجھ سے پوچھیے تو اس طرح مغرب ایک ایسے کنوئیں میں گرتا جا رہا ہے جس کی تہہ میں انتہائی خطرناک سماجی درزیں  ہیں، جس میں سے نفرت کا پانی ابل رہا ہے۔ آپ اپنی نسلوں کو یہی پانی پلا ئیں گے؟ یہ بات مشرق میں اسلامی دنیا  میں عرب اور غیر عرب روایات کی تفریق کے صدیوں پر محیط تجربے سے ثابت ہے۔

اس سوچ کو مزید کھنگالوں تو  بات جا کر اخلاقی اور سیاسی اقدار پر ٹکتی ہے، جو اس سارے قصے کی بنیاد بھی ہے۔ مراد یہ ہے کہ آخر معاشروں کو روشن خیالی کی ضرورت کیوں رہتی ہے؟ آج کل، ہمارے یہاں سیاسی اور شخصی آزادی پر بہت زور دیا جاتا ہے۔  دیکھیے، جیسے اوپر کہا ویسے ہی یہاں بھی کہنا ضروری ہے کہ شخصی اور سیاسی اقدار بارے بھی یہ بات مناسب نہیں کہ فلاں درست ہے اور فلاں غلط ہے۔ اخلاقی اور سیاسی اقدار کوئی فزکس کے  قوانین نہیں ہیں۔ بلکہ کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ اقدار اور اصولوں کو زمان و مکان کی قید سے آزاد سچ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ تو ‘سوشل ٹیکنالوجی’ ہے جس کے تحت یہ اقدار اور اصول معرض وجود میں آتے ہیں۔ ان کا صرف مقصد کسی بھی معاشرے کو درپیش مسائل کا حل تلاشنا ہوتا ہے۔  انسان جب اکٹھے رہتے ہیں تو پھر مسائل جنم لیتے ہیں، ان مسائل سے نبٹنے کے لیے شخصی اور سیاسی اصول/قدریں واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ لیکن یاد رہے جہاں یہ قطعی سچ نہیں وہیں یہ کسی زمانے یا علاقے کے لیے مخصوص بھی نہیں ہے۔ کسی بھی قانون، اصول یا رواج کی مثال ایک نئی ایجاد کی سی ہوتی ہے جس کی بقا اس ایجاد کی افادیت سے جڑی ہوتی ہے۔ کوئی بھی ایجاد ہمیشہ کار گر نہیں رہتی بلکہ اس میں تبدیلی آتی رہتی ہے،  ورنہ وہ جلد ہی اپنی موت آپ مر جاتی ہے۔ پہیے کی مثال لیجیے،  اگر یہ کوئی فضول ایجاد ہوتی تو کب کی متروک ہو چکی ہوتی لیکن یہ آج بھی اپنی افادیت کے سبب ہر جگہ پر استعمال ہوتا ہے۔ مختصر بات یہ ہے کہ معاشروں میں ایجاد کی جانے والی اقدار بھی اسی وقت تک درست اور فائدہ مند ہوتی ہیں جب تک وہ لوگوں کے فائدے اور بہبود کا موجب ہوں، انہیں اکٹھا رکھ سکیں یا ایک ساتھ زندگی بسر کرنے پر مائل کرنے کے قابل ہوں۔ 

اب ذرا مزید غور کریں۔ کوئی بھی ایجاد ہمیشہ ایک سی نہیں رہتی۔ وہی مثال کہ پہیہ کی ایجاد سے آج تک، ہزاروں شکلیں وجود میں آ چکی ہیں۔آج گدھا گاڑی سے لے کر شٹل جہازوں میں  پہیہ ناگزیر ہے۔ اس کو ہر طرح کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ایسے ہی معاشروں اور نظام کی مثال ہے۔ مثال کے طور پر یہ جو   سرمایہ دارانہ نظام ہے، یہ کیسے وجود میں آیا تھا؟ اس کے پیچھے مقصد یہ تھا کہ اس نظام کی مدد سے جاگیرداری نظام کے تحت پیدا ہونے والی محرومی اور افلاس کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ہوا یہ کہ اس نئے نظام کے ساتھ کچھ نئےمسائل نے سر اٹھا لیا، جو اس کے ساتھ مخصوص تھے۔ یوں، جیسے مغرب میں جاگیرداری نظام خاتمے سے دوچار ہوا، ان مسائل کی وجہ سے ایک دن سرمایہ داری نظام اپنی موت خود مر جائے گا۔  جس دن یہ ہو گا، اس روز کوئی نیا نظام سرمایہ داری کی جگہ لے چکے گا۔ یعنی یہ کوئی اخیر نہیں ہے۔ اسی لیے، جب میں خبروں میں سنتا ہوں کہ حتمی فیصلہ کر لیا گیا یا حتمی اقدامات اٹھا لیے گئے، تو سوچتا ہوں کہ یہ کس قدر بودی باتیں ہیں۔ کچھ دن قبل سنا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سینٹ نے بل پاس کر لیا، یوں حتمی طور پر فیصلہ کر لیا گیا۔ لیکن، کیا یہ اخیر ہے؟ کیا اس دن کے بعد خواتین کے حقوق کی پامالی نہیں ہوئی؟ ہاں، اس سے کچھ تحفظ مل گیا مگر قصہ ختم تو نہیں ہوا۔ جد  و جہد تمام  ہو گئی؟ بات کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ بات سے بات نکلتی رہتی ہے۔  یہ بات روشن خیالی کے تصور پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ روشن خیالی کبھی منجمد نہیں ہو سکتی۔  ہٹ دھرمی، چاہے وہ سیاست میں ہو، مذہب میں یا اب اس نئے دور میں روشن خیالی کے پرچار میں، راس نہیں ہے۔ آج کی دنیا میں، نئے تجربات اور در پیش حالات کی روشنی میں مسلسل  جائزہ لیتے رہنے کی اشد ضرورت باقی رہتی ہے۔

بات چل نکلی ہے تو پھر ریاستوں اور ان کو چلانے والی حکومتوں کو بھی دھوئے دیتے ہیں۔ انہیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ آپ دوسرے ملکوں پر بم برسا کر یا اپنے یہاں سخت قوانین وضع کر اور جیسے ٹرمپ صاحب نے کہا، اونچی دیواریں کھڑی کر کے خود کو خول میں بند نہیں کر سکتے، مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔ آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ لوگ اچھی طرح سمجھا کریں کہ ان کے لیے  روشن خیال تصورات اس لیے ضروری نہیں ہیں کہ یہ ملک کا قانون ہے یا کوئی آفاقی حقیقت وغیرہ ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ تصورات صدیوں پر محیط عرصے سے لوگوں کی فلاح کا کام بخوبی سر انجام دیتے آئے ہیں۔ ان ہی خیالات کی وجہ سے دنیا نے کئی ‘سنہری دور’ دیکھے ہیں اور آج کے دور میں مغرب میں لوگوں کو سہولیات میسر ہیں، دنیا میں اس خطے کا مرتبہ ہے اور عمومی طور پر خوشحالی ہے۔ 

جہاں یہ، وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ روشن خیالی کے اس سفر میں ہمہر ممکن تنوع کو جگہ دیں۔ نئی آوازوں کو، خود سے مختلف لوگوں کو سننے کی کوشش کریں۔ وہ اس لیے  کہ ہم اسی طرح کچھ نیا سیکھ سکتے ہیں۔ کسی زمانے میں عورتوں سے نفرت کی انتہا ہوا کرتی تھی، جب ان کو سنا تو آج اس زمانے کے مقابلے میں عورتوں کی عزت، امارت بڑھ کر ہے۔ اگر انہیں سنتے رہیں گے تو مزید بہتری کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسی کئی مثالیں ہیں۔ غلاموں کو سنا تو آج دنیا میں غلامی تقریباً نا پید ہے، ہاں۔۔۔ کہیں نہ کہیں یہ کسی نئی شکل میں موجود ہے مگر حالات پہلے سے بہتر ہیں۔ کسی دن کسی دوسرے مذہب، فرقے یا نسل کے آدمی سے بات کر کے دیکھیے۔ مکالمہ کریں تو پتہ چلا گے کہ وہ ایسے کیوں ہیں؟ کسی دن، ان روایت پسند لوگوں سے بات کر کے دیکھیں جو  عورتوں کی تہہ دل سے عزت کرنے پر یقین رکھتے ہیں تو شاید سینٹ میں ‘عورتوں کے تحفظ کا بل’ جیسے مشینی قانون کی سرے سے کوئی ضرورت ہی باقی نہ رہے۔ کسی چور سے اس کی مجبوری جان لیں اور اس بابت کوئی حل نکال لائیں تو شاید ہاتھ کاٹنے کا تصور خود بخود ہی متروک ہو جائے گا۔ ویسے کیا آج کل دنیا میں کہیں چور کے ہاتھ کاٹنے کا رواج باقی بھی ہے؟ اگر ہے تو ذرا سوچیے، اس کی ضرورت کیوں اور کہاں پیش آتی ہے؟

میں سمجھتا ہوں کہ روشن خیالی تصور ہے، اس کے تحت جب ہم دوسروں کو سننا شروع کریں تو ہمارا جو معاشرہ جس کی میں اور آپ اکائی ہیں اور اس کی حالت وگر گوں ہے، مل کر نہ صرف یہ کہ مثالی بنا سکتے ہیں بلکہ کل کلاں اس کی تشکیل نو میں ہاتھ بھی بٹا سکتے ہیں۔

 

About Author

Daanish webdesk.

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: