معاشی طور پہ مضبوط عورت اور طلاق کی بڑھتی شرح —- عمارہ خان

0
  • 46
    Shares

ہمارے معاشرے میں اکثر یہ کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ “عورت معاشی طور پہ مضبوط ہوتے ہی اپنا گھر توڑلیتی ہے یا پڑھی لکھی لڑکیوں میں طلاق کی شرح زیادہ ہے”۔

ہم نے کبھی سوچا اگرایسا ہے تو کیوں ہے اور آخر وہ کیا وجہ ہے کہ ان پڑھ، گنوار اور غریب لڑکیاں/ عورتیں اپنے گھروں میں زیادہ بستی ہیں بانسبت باشعور، آگاہی اور تعلیم کے زیور سے آرستہ لڑکیاں۔ وہ لڑکیاں جن کی ذہانت کا ڈنکا بجتا رہا ہو ان کے گھروں کا شیرازہ بکھر جاتا ہے؟ وہ جو ہزاروں روپے کی تخواہ لیتی ہیں یا تو دنوں میں مرجھاجاتی ہیں یا خلع لے لیتی ہیں جبکہ ان کے برعکس وہ لڑکیاں اور عورتیں جن کے پاس کوئی آپشن ہی نہی ہوتا وہ شوہر سے مار کھا کے، اس کی ذہنی الجھن خود پہ برداشت کر کے، سسرال والوں کے لیئے کچن آباد کرکے اور اپنی ذات کی نفی کرکے گھر شاد و آباد رکھنے پہ “مجبور” ہوتی ہیں۔

بد قسمتی یہ نہیں کہ ہماری بچیاں پڑھ لکھ گئیں، ستم یہ ہے کہ ہمارے بچے یہ شعور نہیں رکھتے کہ بیوی کی ذمہ داری کیاہے اور وہ ایک باندی یا ملازمہ نہیں بلکہ اپنی نسل کو پروان چڑھانے ایک جیتی جاگتی انسان لا رہے ہیں۔

سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ ایک پڑھی لکھی لڑکی شعور حاصل کرکے خود کو انسان سمجھ لیتی ہے، اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ بھی اللہ کی بنائی بلکل ویسی ہی مخلوق ہے جیسا مرد۔ اس لڑکی کو احساس ہو جاتا ہے کہ اگر اولاد نہیں ہو رہی تو یہ اس اکیلے کا قصور نہیں، مرد بھی اس کی وجہ ہوسکتا ہے۔ اور جب وہ یہ بات ڈھکے چھپے انداز میں کہنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کا ریت پہ بناہوا گھر ہلنے لگتا ہے۔

وہ جب شوہر کا اٹھا ہوا ہاتھ اپنی تنخواہ سے روکنا چاہتی ہے تو اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ بی بی ہوش کے ناخن لو، تم عورت ہو اپنے آدمی کی تابعداری کرنا تم پہ فرض ہے۔ اب اس تابعداری میں نجانے کب اور کس طرح شوہر کے اماں ابا اور بہن بھائی کے موڈ کو دیکھ کے زندگی بتانا عورت پہ زبردستی لاگو ہوگیا ہے۔ شادی شدہ زندگی کا دار و مدار کب سے سسرالیوں کی رضا پہ منحصر ہوگیا یہ کسی کو علم نہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: :پاکستانی سماج اورعورت معاشی خود مختاری کاجھانسہ — نجیبہ عارف

 

اخلاقی پہلو اپنی جگہ کہ آپ شوہر کے گھر والوں سے نرمی اور اخلاق سے پیش آئیں لیکن یہ اخلاقی فرض صرف لڑکی پہ لاگو نہیں جو اپنا گھر ماں باپ دوست احباب سب چھوڑ کے انجان لوگوں میں تاحیات رہنے چلی آتی ہے۔

قرآن میں عورتوں کا حاکم مرد کو جوتے مارنے، ماں بہنوں کی چاکری کرنے نہیں بلکہ ان عورتوں یعنی اپنی بیوی کی ذمہ داری اٹھانے اور نرمی کا سلوک کرنے پہ بنایا گیا ہے، ایک بار سورہ النساء کا ترجمہ پڑھیں اور پھر تجزیہ کریں۔

لمحہ بھر کو سوچیں، اگر عورت کی کوئی اوقات ہی نا ہوتی تو، رب کائنات اپنی کتاب کی ایک پوری سورہ کا نام النساء رکھتے؟ وہ مردوں کو مخاطب کرکے فرماتے کہ ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ، حتی کہ جو تحائف تم ان (بیوی) کو دے چکے وہ واپس مت لو۔ حق مہر جس پہ اکثر شادی کی تقریب بد مزہ ہو جاتی ہے وہ بھی عورتوں کا حق بتایا گیا ہے۔ ان کو معاف کرانے سے منع فرمایا گیا ہے، اگر بیوی اپنی رضا سے حق مہر معاف کردے تو الگ بات ہے۔

ہماری پڑھی لکھی بچیوں کے گھر کیوں ٹوٹتے ہیں اور کیا وجہ ہے کہ ان میں طلاق/ خلع کی شرح زیادہ ہے؟ آپ سکون سے قرآن کی ان آیتوں کو پڑھیں اور فیصلہ کریں کہ کیا آپ اپنی بیوی کے حقوق ادا کررہے ہیں جو اللہ نے اپ کو اپنی کتاب کے زریعے حکم دیا ہے یا آپ ماں اور بیوی میں انصاف کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں اور اس کا الزام بھی کمزور عورت یعنی بیوی پہ لگارہے ہیں؟
سورت النساء
آیت 19۔۔۔ 4۔۔۔۔ 24۔۔۔ 34

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: