ہارڈ ٹاک: جمہوریت اور صحافت —— عابد حسین

0
  • 125
    Shares

ڈان گروپ کے حمید ہارون صاحب کا BBC کو دیا گیا انٹرویو، خوب زیر بحث ہے۔ پروگرام کا نام ہی “ہارڈ ٹالک” ہے۔ جو حمید صاحب کے لیے کچھ زیادہ ہی ہارڈ رہا۔ تحریک انصاف والے بڑے خوش ہیں کہ حمید ہارون صاحب نے ڈان گروپ کے ساتھ ساتھ، میاں صاحب کے “بیانیہ” کو بھی بڑا ڈینٹ لگا دیا۔ حالانکہ اس پر خوش ہوتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دو ہفتے پہلے ہی عمران خان صاحب اسی پروگرام میں اپنے “بیانیہ” کے دفاع میں آئیں، بائیں، شائیں کرتے پائے گئے تھے۔ اس وقت ن لیگی بڑے خوش تھے جو کہ آج خاموش ہیں (سوائے چند ایک کے جو محبت میں “مجنوں” بننے کے قائل ہیں)۔

میرے لیے اس سب میں، قابل اطمینان بات ایک ہی ہے۔ وہ ہے میرے اپنے “بیانیہ” کی تصدیق۔

بی بی سی کے جینوئن صحافی اور جینوئن جمہوریت پسند نے، جہاں حمید ہارون صاحب جیسے سینئیر صحافی کو صحافت کے کچھ “اصول” سمجھائے، وہیں، دیسی لبرلز اور دیسی جمہوریت پسندوں کو بھی جہموریت کے کچھ “اصول” بتائے ہیں۔
یعنی، صحافت کرتے ہوئے، ملکی اداروں پر کیچڑ اچھالنے سے پہلے، اپنی “دراز” میں بھی جھانک لینا چاہیے۔

دوسری طرف، دیسی جمہوریت پسندوں کو سمجھایا ہے کہ جمہوری جدوجہد اور عوامی حقوق و اختیارات کا راستہ، کرپشن کے گند میں سے ہو کر نہیں گزرتا۔ کرپشن کر کے، اس کے خلاف قانونی کاروائی کو، جمہوریت کے خلاف جنگ کے طور پر پیش کرنا غلط ہے۔

یہ نہیں ہو سکتا کہ جتنے کم یا زیادہ، وسائل اور اختیارات آپ کے پاس ہوں، اسے اپنی خاندانی دولت میں اضافے کے لیے استعمال کرو، اسی سے بیوروکریسی کو اپنا ذاتی غلام بناؤ۔ جمہوری، قانونی، ریگولیٹری، صنعتی و کاروباری اداروں کو اختیارات دینے کے بجائے، اپنے دوستوں، رشتہ داروں کی چراگاہوں میں تبدیل کر دو۔ جمہوریت کی بنیاد، پارلیمنٹ کو، جوتی کی نوک پر رکھو، کابینہ کو گھر کی لونڈی بنالو، اور اپنی عددی اکثریت کو، نام نہاد قانون سازی کے لیے بھی، ڈنڈے کے زور پر استعمال کرو۔ قومی یا صوبائی اسمبلی کے ممبران کے سروں پر اپنی اگلی نسل کو بٹھا دو تاکہ وہ حکمرانی کے آداب سیکھ سکیں۔

یاد رکھیں۔ اصل جمہوری جدوجہد، عوام کے حقوق اور حق اختیارات کی جنگ تب ہی شروع ہوگی جب یہ سیاستدان، خود اخلاقی طور پر بہتر ہوں گے۔ زبانی اور عملی دونوں طرح سے دیانتداری کے اصولوں پر پورے اترتے ہوں گے۔ خود ہی نہیں، اپنے ساتھ آنے والے ہر شخص کی دیانت کی قسم اٹھا سکیں گے۔ یہ لوگ ہوں گے جو غیر ریاستی عناصر سے اختیارات بھی لے سکیں گے اور ان کی چیرہ دستیوں کے آگے سینہ سپر بھی ہو سکیں گے۔

اگر یہ نہیں تو سب باتیں ہیں بھیا۔۔۔۔۔۔


عابد حسین بلحاظ پیشہ اسلامک بینکر ہیں۔ اسلامک بینکنگ کے علاوہ سماجی اور سیاسئ حالات حاضرہ سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: