خزینئہ ادب۔۔۔۔۔۔۔ رابعہ رحمن

0
  • 9
    Shares

ادب کی خدمت میں ہزارہا ادیب، شاعر، افسانہ نگار، ایڈیٹرز، فیچر رائٹرز، مصنف وغیرہ اپنی محنت شاقہ سے برسر پیکار ہیں اگر جرائد و رسائل کے نام گنوانے پہ آئیں تو ابن الوقت بھی حیران ہو جائے کہ ادب نے کتنی ترقی کی ہے، بے شمار ایسی کرنیں ہیں جن کی روشنی اپنے مخصوص علاقوں سے باہر نہیں نکل سکیں اور لامحدود ایسی اور شخصیات ہیں جو خاموش طبیعت اور پس پردہ رہنے کی وجہ سے آئینے پہ اپنا عکس بھی نہیں چھوڑتیں، ان کیلئے عرض ہے کہ اپنی خوبیوں اور خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کریں اور اپنے ہی جیسی ادب نواز، ادب شناس شخصیات کو ڈھونڈ کر ان کی خوبیوں کو نکھاریں، تراشیں اور ادب کا گوہر نامدار بنائیں اگر وہ خود کو اپنی ذات کے سیپ میں ہی بند رکھیں گے تو ان لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہو گی جن کو ادب کا راستہ تو مل جاتا ہے مگر منزل کیلئے بھٹک بھٹک کر وہ کہیں ریت میں ریت اور پانی میں پانی ہو جاتے ہیں، ہمارے گِردا گرد بے شمار ادب شہر، ادب جزیرے، ادب کے ریگستان، ادب ساحل اور ادب سمندر ہیں۔ ہم قلم دوست لوگوں کو جہاں ٹمٹاتی لو محسوس ہوتی ہے ہم وہاں اپنی ذات کی کرنیں روشن سے روش تر کرنے کیلئے پڑائو کرتے ہیں پھر وہیں کے ہو جاتے ہیں، کیونکہ آگے جانے کی سکت نہیں رہتی اور راستے بھی پائوں کی دھول بن جاتے ہیں۔

لوح میں ادب کی ہر صنف کو جس طرح سے خوبصورت عنوان دیئے گئے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں جس طرح ممتاز شیخ صاحب کی اپنی گفتگو ’’خامہ انگشتِ بدنداں ہیں اسے کیا کہیے

ایسی شخصیات جو دوسروں کیلئے کام کر کے ان کو ایک مقام دلاتی ہیں ہمارے ادب معاشرے کا زیور ہیں ان میں ایک نام ممتاز احمد شیخ کا ہے۔ دھیما مزاج، نرم خو، خوش لباس، باذوق شخصیت کی صلاحیتوں کو اظہر من الشمس کرنے کیلئے ان کی قلم اور کاغذ سے محبت نے اہم کردار ادا کیا۔ ادب کے اس درویش نے اپنے قلم کو اپنی ذات سے آشنائی کرانے کیلئے استعمال نہیں کیا بلکہ گوشہ ادب کے ستاروں کو ماہر فلکیات کی طرح سے ایک ایک کر کے شہپرِ ادب پہ ٹانکتے گئے۔ جس طرح دلہن کے سہاگ کے دوپٹے پہ گوٹہ کناری اور ستارے ٹانکے جاتے ہیں اس میں بوڑھی نانیوں دادیوں کے کانپتے ہاتھوں کے مضبوط ٹانکے اور دو شیزائوں کے جذبات اور اٹھکیلیوں کی گرہیں انہیں مضبوط کرتی اور خوبصورت بناتی ہیں اسی طرح سے ممتاز صاحب کا قلم ادب کو سہاگ کا دوپٹہ اوڑھانے کیلئے انتھک محنت کرتا ہے، لوح2014ء سے ہمارے ہاتھوں میں آ رہا ہے ادب کا بہترین سہ ماہی شمارہ اپنی ضخامت، خوبصورت ٹائٹل، بہترین کاغذ کے علاوہ افسانوں، مقالات اور شاعری میں عاجزانہ، درویشانہ اور پریت مگر کی کہانیوں سے مزین فروغ ادب کیلئے سپہ سالار کام کر رہا ہے، لوح کی حُسنِ ترتیب دیکھ کر ہی آشکار ہو جاتا ہے کہ ممتازصاحب کی شخصیت

بظاہر خوش لباسی ذوق ٹھہری
کوئی درویش اندر ناچتا ہے

لوح میں ادب کی ہر صنف کو جس طرح سے خوبصورت عنوان دیئے گئے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں جس طرح ممتاز شیخ صاحب کی اپنی گفتگو ’’خامہ انگشتِ بدنداں ہیں اسے کیا کہیے‘‘ حمدیہ کلام ’’شامِ شہر حول میں شمعیں جلا دیتا ہے تو‘‘ نعت رسول مقبول کیلئے ’’ کرم اے شہ عرب و عجم‘، ’ تکریمِ رفتگاں اجالتی ہے‘، ’کوچہ و قریہ میں علی تنہا کی منو بھائی کیلئے قلم نوائی‘‘، ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں میں سلمیٰ اعوان آپا کی تحریر ’’اس سے آگے دیکھئے افسانوں میں جیسے گیت و پریت بُن رہے ہیں‘، ’سن تو سہی جہاں میں تیرا افسانہ ہے کیا‘،  ’گوشہ کشور ناہید بھی کمال موتیوں سا پرویا ہے‘‘، پھر نظم لکھے ’’تجھے ایسے کے زمانے وا ہوں‘‘ میں کتنے دیپک جلائے ہیں۔

کافیاں، طنز و مزاح، تراجم، فلم و موسیقی گویا کہ کائنات ادب کے جتنے رنگ ہیں ان رنگوں کے جتنے بھی پھول ہیں ان پھولوں کی جتنی بھی خوشبو ہے وہ تمام کی تمام موج کے ذریعے پھیلا رہے ہیں۔

ایک محبت بھرا خط لوح کے نام جو موصول ہوا لکھتے ہیں لوح کا تیسرا شمارہ پیش نظر، کیا لکھوں ہندی کے شاعر و شنیت کمار کے لفظوں کا سہارا لوں تو بس یہی کو ہنگی یہاں تک آتے آتے سارے الفاظ گم ہو جاتے ہیں، امید کی خستہ حال عمارتوں کے درمیان اچانک روشنی کی ایک کرن نظر آئی، پہلے ان عمارتوں میں ویرانی کا سیہ تھا ایک درویش ہوا کرتا تھا، ڈفلی بجاتا، جو گنگنایا کرتا تھا، کوئی ویرانی سی ویرانی ہے، دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا، دشت اور درویش کی کہانی کو کسی اور دن کیلئے رکھتے ہیں ابھی اردو کی باتیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگ تعداد میں زیادہ تھے۔جو اردو کے ختم ہونے کا ماتم کرتے تھے یہاں ہندوستان میں برا حال تھا اردو کا ادبی رسائل تھے لیکن کوئی رسالہ اپنی چمک کب بکھیرے گا یہ کہنا مشکل تو نکلتے ہی تھے بند ہونے کیلئے پھر ایسا وقت بھی آیا کہ اچھے اچھے رسائل تاریخ کا حصہ بن کر اوجھل ہو گئے، آپ تو شاہ جنات نکلے، جادوئی چراغ ہاتھوں میں لئے میں نے یہ جنوں اور دیوانگی کسی رسالہ کو لے کر کم دیکھی ہے جو آپ میں دیکھی آپ نے رسالہ کیا نکالا ہندوستان سے پاکستان تک قاری کی ایک فوج جمع ہو گئی، بلکہ یہ سلسلہ پھیلتا ہوا ساری دنیا تک چلا گیا آپ تو جادو گر نکلے صاحب اب یہی شمارہ دیکھئے، مشمولات میں اردو کا کون سا بڑا ادیب سے جو شامل نہیں پرانی نسل سے لے کر نئی نسل کی نمائندگی کیلئے لوح نے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں، رشید امجد سے لے کر اقبال خورشید تک فاروقی صاحب سے لے کر ہر دبستان فکر کے ادیب یہاں موجود ہیں اور لوح کا ہر صفحہ ایسا کہ بس مطالعہ کرتے جائے آپ نے نقوش اور نگار کے پرانے دنوںکو زندہ کردیاہے میری دعاہے کہ یہ رسالہ اور ترقی کرے، ایک ایسی مثال قائم ہو کہ آنے والی نسلیں لوح پر اسی طرح فخر کرسکیں جیسے آج نگار اور نقوش جیسے رسائل کو یاد کرتے ہیں۔

لوح جیسے شاہکار رسالے کا سہرا جن کے سر ہے اسی ممتاز شیخ صاحب کے متعلق بھی کچھ بتاتے چلیں ان کا تعلق لاہور سے سو کلومیٹر دور ایک قصبے وار برٹن کے خوشحال گھرانے سے ہے بزنس مین کی حیثیت سے تعلیم سے فراغت کے بعد اپنا ایک مقام بنایا، گورنمنٹ کالج کا طالبعلم ہونے پر فخر کرتے ہیں اور اسے تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ تاریخی تعلیمی ورثے کا نام دیتے ہیں، شہرہ آفاق شخصیات کی شاگردی میں جو ادب کا بیج گورنمنٹ کالج میں بویا گیا تھا آج ایک پھل دار اور سایہ دار شجر بن چکا ہے آج نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ادب کے گمشدہ یادوں کو بھی منظر عام پر لانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: