ڈاکٹر سعید اختر درانی: آہ! ایک عاشق اقبال نہ رہا — اعجاز الحق اعجاز

0
  • 109
    Shares

ڈاکٹر سعید اختر درانی، ایک عظیم اقبال شناس اور عاشق اقبال تھے۔ وہ بنیادی طور پہ ایک سائنس دان تھے مگر انھوںنے اپنی زندگی کا آدرش اقبال پہ تحقیق کو بنا لیا۔ اقبال ان کے دل و دماغ پہ چھایا ہوا تھا۔ اقبال پہ ان کی دو کتب نے بہت شہرت حاصل کی: ’’اقبال یورپ میں‘‘ اور ’’نوادر اقبال یورپ میں‘‘۔ ان دونوں کتابوں میں انھوں نے واقعی تحقیق کا حق ادا کر دیا ہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم ان کی کتاب ’’نوادر اقبال یورپ میں‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں: ’’انھیں علامہ اقبال سے عشق تھا۔ انھوں نے اقبال پر ایسا بنیادی کام کیا ہے کہ ایسے لوگ بھی شاید نہ کر پائیں جن کی زندگی کا بڑا حصہ علامہ اقبال پر تحقیق و تنقید کرتے ہوئے گزرا ہےـــ‘‘

کتاب ’’نوادر اقبال یورپ میں‘‘ کا پس منظر یہ ہے کہ ڈاکٹر درانی جب سائنسی کانفرنسوں میں شرکت کے لیے  1984 میں جرمنی تشریف لے گئے تو اقبال کی محبت انھیں کھینچ کر ہائیڈل برگ بھی لے گئی جہاں انھوں نے علامہ اقبال کی استاد اور دوست ایما ویگے ناسٹ کی قبر پہ بھی حاضری دی اور ان کے کئی رشتے داروں سے بھی بات چیت کی اور بہت سی قیمتی معلومات کا سراغ لگایا۔

ڈاکٹر سعید اختر درانی 8  دسمبر 1929  کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ پی ایچ ڈی انھوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے 1958  میں اور ڈاکٹر آف سائنس کی ڈگری 1978 میں برمنگھم یونیورسٹی سے حاصل کی۔ وہ ایک عالمگیر شہرت کے حامل ماہر طبیعیات تھے۔ ان کی دلچسپی کے میدان نیوکلئیر اور خلائی سائنس تھے۔ رائل سوسائٹی آف انگلینڈ نے انھیں ان آٹھ سائنس دانوں پہ مشتمل ٹیم میں شامل کیا جس نے چاند سے حاصل کردہ نمونوں پہ تحقیق کی۔ ڈاکٹر صاحب نے ان نمونوں کی ریڈی ایشن ہسٹری کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔ انھوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیش میں بھی شمولیت حاصل کی اور اس کے لاہور سنٹر کے چئیر مین رہے۔ 1982 میں انھیں حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز سے نوازا۔ ان کے تین سو کے زائد تحقیقی مقالات شائع ہوئے۔ برطانیہ کے نیوکلئیر سنٹر میں بھی کام کیا۔ برمنگھم یونیورسٹی میں پروفیسر رہے۔ اسی شہر میں زندگی کا بیشتر حصہ گزارا اور یہیں فوت ہوئے۔

ڈاکٹر درانی اقبال کے اردو اور فارسی کلام اور ان کے فکر و فلسفہ پہ عبور رکھتے تھے۔ برطانیہ میں فروغ اقبال اور فروغ اردو کے لیے زندگی کی آخری سانسوں تک کام کرتے رہے۔ اقبال اکیڈمی برطانیہ اور انجمن ترقی اردو برطانیہ کے روح رواں تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک سائنس دان کو ایک فلسفی اقبال نے کیسے متاثر کیا تو فرمایا کہ:

’’اقبال ایک نابغہ تھے، انھوں نے اردو اور فارسی میں جو شاعری کی ہے وہ  wisdom poetry ہے جو یقینی طور پر ایک فلسفی اور سائنس دان کو بہت متاثر کرتی ہے۔ اقبال کی شاعری میں جتنا گہرا فلسفیانہ اور سائنسی شعور پایا جاتا ہے کسی اور اردو یا فارسی شاعر کے ہاں نہیں پایا جاتا اسی لیے مجھ جیسے سائنس دان کو یہ شاعری بہت اپیل کرتی ہے۔ اقبال کی شاعری میں محض حسن و عشق کے قصے نہیں جیسا کہ اردو اور فارسی شاعری میں عمومی طور پہ پائے جاتے ہیں۔ بلکہ اقبال خودی اور انسانی شخصیت کی تکمیل کی بات کرتا ہے اور عظمت انسان کو اپنا موضوع بناتا ہے۔ اس کی شاعری کائناتی ہے۔

ڈاکٹر درانی نے اس موقع پہ اقبال کی ایک فارسی نظم ’’محاورہ مابین خدا و انساں‘‘ کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقبال انسان کو خدا کی اس دنیا کو مزید بہتر کرنے والے ایک سرگرم کارکن کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ اقبال ستاروں سے آگے دوسرے جہانوں کی بات کرتا ہے۔ اس کی نگاہ عمیق بھی ہے اور دور رس بھی اور اس کی یہی خصوصیات مجھ جیسے سائنس دانوں کو بہت متاثر کرتی ہیں۔ ڈاکٹر درانی نے مزید کہا کہ اقبال آزادی کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ جب وہ برطانیہ میں تھے تو اپنے آپ کو آزاد محسوس نہیں کرتے تھے۔ مگر جب وہ جرمنی گئے تو اپنے آپ کو پہلی دفعہ برطانوی سلطنت سے باہر جانے کی وجہ سے آزاد محسوس کرنے لگے۔ جرمنی کے مختصر قیام نے اقبال کے ذہن پہ دیرپا اثرات مرتب کیے اور وہ کبھی وہاں گزارے گئے حسیں لمحات کو فراموش نہ کرسکے۔

ڈاکٹر درانی نے برطانیہ میں اقبال اور شیکسپئیر پہ بھی کام کیا ہے۔ انھوں نے اقبال کی نظم ـ’’شیکسپئر‘‘ کا انگریزی ترجمہ کیا اور سٹراٹفورڈ آن ایون میں موجود شیکسپئر کی یادگار میں ایک بڑی تختی پہ کندہ کرا کر رکھوایا۔ جب راقم نے فون پہ انھیں بتا یا کہ اس نے ’’اقبال اور شیکسپئر‘‘ نامی کتاب لکھی ہے جو طباعت کے مراحل سے گزر رہی ہے تو یہ سن کر بہت خوش ہوئے۔ میں نے اپنی کتاب ’’اقبال اور سائنسی تصورات‘‘ انھیں ارسال کی تو اسے پڑھ کر انھوں نے بہت سراہا اور کہا کہ اقبال پہ ایسے ہی کام ہونے چاہییں جس سے ان کی فکری جہات واضح ہوں۔

اللہ تعالی ڈاکٹر سعید اختر درانی کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔ ان جیسی باکمال ہستیاں بہت کم پیدا ہوتی ہیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: