قومیں جمہوری نظام سے نہیں، احتساب سے بنتی ہیں —- شہزاد حسین

0
  • 86
    Shares

کہا جاتا ہے جمہوری نظام میں گر کوئی خرابی ہے تو اسکا علاج مزید جمہوریت ہے۔

بلکل اسی طرح اگر احتسابی نظام میں کوئی خرابی ہے تو اسکا علاج بھی مزید احتساب ہے، نہ کہ احتساب کو لپیٹ کر سرد خانے میں ڈال دینا۔

لوگ کہتے ہیں کہ احتساب کے نام پر اس قوم کو صرف بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ یہی منطق تو پھر جمہوریت کے خلاف بھی استعمال کی جاسکتی ہے کہ جمہوریت کے نام پر عوام کو ہمیشہ چونا ہی لگایا گیا ہے تو کیا جمہوریت کو بھی کھڈے لائن لگادیا جائے؟

نہیں نا۔۔۔
تو پھر احتسابی عمل سے اتنے الرجک کیوں؟

جان رکھئیے کہ روز آخرت آپ سے جمہوری نظام کا نہیں، احتسابی عمل کا سوال ہوگا اور بڑا سخت ہوگا۔
کیا جواب دیں گے آپ؟

آپ کے حامی یا مخالفین کوئی بھی چالیں چلتے رہے، آپ نے احتسابی عمل کے حق میں کیا قدم اٹھائے، کتنی آواز اٹھائی، یہی سوال ہوگا آپ سے۔

یاد رکھئیے، اللّٰه آپ سے نتیجے کا نہیں، کوشش کا سوال کرے گا۔
کوشش کے ضمن میں کیا عمل پیش کریں گے آپ؟
جو عذر آپ اپنے سیاسی مخالفین کو پیش کرتے ہیں، وہ عذر روز آخرت پیش کرسکیں گے؟

جمہوریت انسانوں کا بنایا ہوا اک نظام ہے جس میں کئی طرح کی خوبیاں و خامیاں ہیں۔ اسکی حمایت کوئی شرعی requirement ہرگز نہیں۔ اس نظام کی، بلکہ انسانی تاریخ میں آزمائے گئے ہر نظام کی جان احتسابی عمل ہے۔ بنا احتساب کے دنیا کا بہترین نظام بھی ایک سڑے ہوئے جوہڑ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

بھارت کی مثال لیجیے۔
وہاں بھی احتسابی عمل آج بھی قدرے کمزور ہے۔ بڑی وجہ ہماری طرح اس معاشرے میں بھی شخصیت پرستی کی گہری جڑیں موجود ہونا ہے۔ آپ جمہوریت کی محبت میں بھارت کو لاکھ ترقی یافتہ ثابت کرلیں، عالمی اداروں کی رپورٹس پیش کرلیں، حقیقت یہی ہے کہ ایک عام بھارتی کی زندگی آج بھی مشکل ہے۔ صاف پانی اسے میسر نہیں، صحت و صفائی کے بدترین انتظامات ہیں۔ دنیا کے غلیظ ترین شہروں کی فہرست میں آج بھی کئی بھارتی شہر شامل ہیں۔ کڑوڑوں لوگ آج بھی کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔ بیت الخلا جیسی انتہائی بنیادی ضرورت آج بھی بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے ایک خواب ہے۔

دنیا کے کسی بھی ملک میں چلے جائیے، آج بھی آپ کو بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد وہاں مستقل سکونت اختیار کیے ہوئے ملے گی۔ ان افراد کی ایک بڑی تعداد دیار غیر میں اپنے خاندانوں سے دور اکیلے رہنے پر مجبور ہے۔ نوکری پیشہ افراد اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارتی شہری سب سے کم اجرت میں کام کرنے کو تیار ہوجاتا ہے۔ وجہ وہی ازلی غربت و افلاس ہے۔

یہ سب بتانے کا مقصد پاکستان کو بھارت سے زیادہ خوشحال ملک ثابت کرنا نہیں تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ کئی شعبوں میں بھارت ہم سے بہت آگے نکل چکا ہے لیکن بحیثیت مجموعی، بھارتی عوام کی ایک بہت بڑی تعداد کی حالت آج بھی انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

ہمیں تو آمروں نے برباد کیا۔ بھارت میں یہ بدحالی کیوں؟
وہاں تو روز اول سے مضبوط جمہوریت قائم ہے پھر ایسے حالات کیوں؟

وجہ صرف اور صرف ایک ہی ہے۔ وہاں جمہوریت، بنا احتساب کے قائم ہے۔ احتسابی عمل وہاں آج بھی کمزور ہے۔ سیاستدانوں پر ہاتھ ڈالنا وہاں آج بھی جان کو مشکل مہں ڈالنے والا امر ہے۔

یہ حقیقت دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے بہت پہلے ہی سمجھ لی تھی کہ قومیں جمہوری نظام سے نہیں، احتساب سے بنتیں ہیں۔

چودہ سو سال پہلے آدھی سے زیادہ دنیا پر حکومت کرنے والی اسلامی حکومت کو دیکھ لیجیے یا آج دنیا پر حکمرانی کرتا ہوا مغربی بلاک، احتسابی عمل نہ صرف دنیا میں ترقی کا فارمولہ ہے بلکہ آخرت میں کامرانی کا ضامن ہے۔

پھر کس چیز نے تمھیں دھوکے میں ڈال رکھا ہے؟

————————————————————-
ہر طرح کی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر صرف احتساب کی بات کیجیے چاہے کسی بھی سیاسی جماعت، کسی بھی ادارے یا کسی بھی آمر کے خلاف ہو۔

اپنے آپ کو ہوشیار سمجھ کر حیلے بہانوں میں پڑنے کی بجائے اللّٰه کے حکم کو ہر چیز پر مقدم رکھئیے۔ اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے والوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ اللّٰه کی مشیت ازل سے ہے، ابد تک رہے گی!

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: