صاف چلی شفاف چلی؟ چل جھوٹی —– آصف محمود

0
  • 55
    Shares

جناب اظہار الحق حیران ہیں کہ عمران خان نے مفتی قوی کو اپنا مذہبی مشیر کیسے بنا لیا۔ عالی جاہ جس جماعت میں ابرار االحق امور خارجہ کا سیکرٹری بن سکتا ہے وہاں مفتی قوی مذہبی امور کا مشیر بن جائے تو حیرت کیسی ؟ پہلی فرصت میں انہیں اُٹھا کر باہر پھینک دیجیے، سپنوں کی کرچیاں گھر میں پڑی رہیں تو تکلیف دیتی ہیں۔

اظہار الحق صاحب کا حکم ہے میں ان روشن ستاروں کی فہرست شائع کر دوں جو الیکشن جیت کر نئے پاکستان کو منور فرمانے پر تلے بیٹھے ہیں۔ کس کس کا ذکر کروں صاحب، یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ ’’ لاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند‘‘۔ داستان ہوشرباکالم کی تنگنائے میں کیسے سمٹ سکتی ہے کہ من کا برہما ہر مطلع پر غزل کہنے کو مچلتا ہے۔ حکم مگر اظہار صاحب کا ہے۔ تعمیل کے سوا چارہ ہی کیا ہے۔ تو آئیے پنجاب سے شروع کرتے ہیں۔

این اے 55 سے پنجاب شروع ہو جاتا ہے۔ یہ اٹک ہے۔ اٹک میں قومی اسمبلی کی 2 نشستیں ہیں۔ این اے 55 اور 56۔ تحریک انصاف نے دونوں نشستوں پر طاہر صادق کو ٹکٹ جاری کر رکھا ہے۔ میجر صاحب مسلم لیگ ق کے ستون تصور ہوتے تھے اور ضلع ناظم تھے۔ نومبر 2017 میں وہ تحریک انصاف میں شامل ہوئے اور اتنے ناگزیر ہو گئے کہ آکسفرڈ یونیورسٹی سے انوائرمنٹل سائنسز میں ماسٹرز اور میک گل یونیورسٹی سے ایم بی اے فنانس کی ڈگری رکھنے والے ورلڈ بنک اور اقوام متحدہ کے ساتھ کام کا تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ شیخ آفتاب سے صرف تین ہزار ووٹوں سے شکست کھانے والے امین اسلم کو فراموش کر دیا گیا اور دونوں ٹکٹ طاہر صادق کی جھولی میں ڈال دیے گئے۔

چکوال میں بھی قومی اسمبلی کی دو نشستیں ہیں۔ این اے 64 پر تحریک انصاف کے امیدوار ذوالفقار دلہا ہیں۔ یہ 2013 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر ایم پی بنے۔ حالیہ انتخابات میں ن لیگ نے انہیں پی پی 23 کا ٹکٹ دیا۔ یہ ن لیگ کے امیدوار تھے۔ شہر میں ان کے بینرز لگ چکے تھے راتوں رات ان کا ضمیر جاگا، انہوں نے ن لیگ کا ٹکٹ واپس کیا اوریہ تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ اب یہ تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ این اے 65 پر چودھری پر ویز الہی کے لیے تحریک انصاف نے اپنا کوئی امیدوار ہی نہیں دیا۔ یاد آیا عمران خان نے مجھے خود بتایا کہ میں مشرف کے ساتھ کیسے چل سکتا تھا جب کہ اس نے چودھریوں کو ساتھ ملا لیا۔ میں کرپٹ لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا۔ تب ساتھ نہیں بیٹھ سکتے تھے۔ اب ان کے احترام میں بیٹھ چکے ہیں۔

آگے چلیے، یہ جہلم ہے۔ جہلم میں بھی قومی اسمبلی کی دو نشستیں ہیں۔ این اے 66 اور این اے 67۔ این اے 66 پر فرخ الطاف صاحب کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ فرخ الطاف صاحب کا تعلق اس سے پہلے ق لیگ سے تھا۔ یہ دو دفعہ مشرف دور میں ضلع ناظم بنے۔ یہاں سے گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار چودھری ثقلین تھے۔ وہ ایم پی اے رہ چکے ہیں مگر انہیں نظر انداز کر کے فواد چودھری کے رشتہ دار کو ٹکٹ دیا گیا۔ این اے 67 سے فواد چودھری امیدوار ہیں۔ مشرف کی اے پی ایم ایل میں بھی رہ چکے اور یوسف رضا گیلانی کے مشیر بھی تھے۔ ضلع کی دونوں نشستیں چچا بھتیجے کو پیش کی گئیں سو کی گئیں تماشا یہ ہوا کہ نیچے صوبائی اسمبلی کی اکلوتی نشست پی پی 27 پر بھی یہی امیدوار ہیں۔ ہو سکتا ہے انہوں نے مل بیٹھ کر سوچا ہو کہ کارکن کو تو کپتان خان دے جلسے اچ نچنے سے ہی فرصت نہیں اس لیے الیکشن لڑنے کی بھاری ذمہ داری ہم ہی ادا کر لیتے ہیں۔

آگے گجرات ہے۔ این اے 68 سے پی ٹی آئی نے امیدوار ہی نہیں دیا۔ کارکنان کو حکم ہے وہ حسین الہی کو ووٹ دے کر ثواب دارین حاصل کریں۔ این اے 69 کی بھی یہی صورت حال ہے۔ یہاں سے چودھری پرویز الہی کا ساتھ دیا جا رہا ہے۔ یعنی پورا ضلع چودھریوں کے قدموں میں ڈال دیا گیا ہے۔

اس کے بعد سیالکوٹ آتا ہے۔ این اے 72 میں فردوس عاشق اعوان کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ فردوس عاشق اعوان 2002 میں ق لیگ کے ٹکٹ سے جیتیں اور 2008 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر اطلاعات تھیں۔ اب وہ قافلہ انقلاب کی سالار ہیں۔ این اے 74 میں غلام عباس کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ جی ہاں وہی پیپلز پارٹی والے غلام عباس۔ این اے 75 میں علی اسجد ملہی امیدوار ہیں۔ 2002 کا الیکشن وہ ق لیگ کے ٹکٹ سے جیتے اور وزیر مملکت بھی رہے۔

این اے 77 نارووال سے میاں محمد رشید کو ٹکٹ ملا ہے۔ میاں محمد رشید نے 2013 کا الیکشن ن لیگ کے ٹکٹ پر لڑا تھا۔ مئی 2018 میں ان کا ضمیر اچانک جاگ گیااور وہ قافلہ انقلاب میں شامل ہو گئے۔ این اے 78 نارووال سے ابرار الحق امیدوار ہیں۔ جی ہاں وہی جنہوں نے یہ اعلان فرمایا تھا کہ کپتان خان دے جلسے اچ نچنے کو دل کردا ہے۔ اور جو امور خارجہ کے سیکرٹری ہے۔ اگر امور سلجھانے کا پیمانہ یہی ہے تو امور داخلہ تو نعیم الحق سے بہتر کوئی نہیں دیکھ سکتا۔

این اے 79 گوجرانوالہ سے محمد احمد چٹھہ کو ٹکٹ ملا ہے۔ یہ حامد ناصر چٹھہ کے صاحبزادے ہیں۔ این اے 80 گوجرانوالہ سے میاں طار ق محمود کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ انہوں نے 2013 کا الیکشن مسلم لیگ ن کے ٹکٹ سے جیتا تھا۔ این اے 81 سے چودھری محمد صدیق امیدوار ہیں جو اس سے قبل پیپلز پارٹی میں تھے۔ این اے 83 گوجرانوالہ سے تحریک انصاف نے رانا نذیر کو ٹکٹ دیا ہے۔ رانا صاحب کا تعلق ن لیگ سے تھا۔ تین دفعہ وفاقی وزیر رہ چکے۔ مسلم لیگ ن پنجاب کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ صرف دو ماہ قبل یعنی مئی 2018 میں یہ تحریک انصاف میں آ گئے۔ این اے 84 سے بلال اعجاز امیدوار ہیں۔ بلال اعجاز 2002 کا الیکشن ق لیگ کے ٹکٹ پر جیتے تھے۔

این اے 85 منڈی بہاولدین سے ق لیگ کے جعلی ڈگری کیس میں نا اہل ہونے والے اعجاز چودھری کے بھائی امتیاز چودھری کو دیا گیا ہے۔ اور این اے 86 منڈی بہاولدین سے پیپلز پارٹی کے دور کے وفاقی وزیر نذر گوندل قافلہ انقلاب کی جانب سے امیدوار ہیں۔ این اے 87 حافظ آباد سے مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے چودھری شوکت بھٹی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

این اے 88 سرگودھا سے ندیم افضل چن ہیں جو پیپلز پارٹی سے لیے گئے ہیں۔ این اے 89 سرگودھا سے اسامہ غیاث میلہ ہیں۔ یہ غیاث میلہ کے صاحبزادے ہیں۔ غیاث میلہ پہلے 2002 میں اور پھر 2008 میں ق لیگ کے ٹکٹ سے جیتے۔ 2013 میں ق لیگ ہی کے ٹکٹ پر الیکشن میں حصہ لیا اور شکست کھائی۔ اب ان کے صاحبزادے نیا پاکستان بنانے نکلے ہیں۔ این اے 90 سرگودھا سے نادیہ عزیز ہیں۔ 2002 میں یہ پیپلز پارٹی میں تھیں اور ایم پی اے بن گئیں۔ 2008 میں ہار گئیں۔ 2013 آیا تو یہ ن لیگ میں چلی گئیں۔ اب دو ماہ پہلے یہ تحریک انصاف میں شامل ہو ئیں اور ان کی خدمت میں ٹکٹ پیش کر دیا گیا۔ این اے 91 سرگودھا سے عامر چیمہ تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ یہ ق لیگ کے تھے۔ ان کے والد 1988 سے 2008 تک آئی جے آئی، ن لیگ اور ق لیگ کے ٹکٹ پر مسلسل جیتتے رہے۔ یہ خود بھی ق لیگ کی حکومت کے صوبائی وزیر لائیو سٹاک تھے۔

این اے 98 بھکر سے نیا پاکستان بنانے کا اعزاز افضل ڈھانڈلا کے حصے میں آ یا ہے۔ یہ 2008 اور 2013 کے الیکشن ن لیگ کے ٹکٹ پر جیتے تھے۔ دو ماہ قبل ان کو بھی اچانک خیال آیا کہ ووٹ کو عزت دینا تو بڑا فضول کام ہے، ان کی منزل تو نیا پاکستان ہے۔

دیکھیے ابھی تو میں نے صرف مطلع کہا اور کالم تمام ہو گیا۔ غزل تو ابھی باقی ہے۔ اظہار صاحب کو خبر ہو کہ پچیس جولائی کی ان کی رخصت اتفاقیہ منظور ہو چکی ہے۔ میں البتہ اب اس کا مقطع کہنے تک یہیں موجود رہوں گا۔ یہ غزل محسوس ہو رہا ہے اب کچھ طویل ہو گی۔


کس ادا سے وہ کہتی تھی صاف چلی شفاف چلی۔ یہ میرے لڑکپن کی محبت ہوتی تو میں اس کے منہ پرہلکی سی چپت لگا کر کہتا : ’’ چل جھوٹی‘‘۔ یہ مگر اب گھاگ سیاست دانوں کا ایک لشکر جرار ہے اور اپنے بالوں میں بھی سفیدی آ گئی ہے۔ دل اب ٹوٹتا ہی نہیں کہ کسی سے شکوہ کیا جائے۔ بس اداسی ہوتی ہے تو میانوالی ہی کے ایک نیازی کو گنگنا لیتے ہیں:

’’ وہ بے حسی ہے مسلسل شکستِ دل سے منیر
کوئی بچھڑ کے چلا جائے، غم نہیں ہوتا‘‘

آئیے آپ کو فیصل آباد لیے چلتے ہیں۔ یہ این اے 101 ہے۔ تحریک انصاف نے یہاں سے ظفر ذوالقرنین ساہی کو ٹکٹ دے کھا ہے۔ ساہی صاحب مسلم لیگ ق کے سابق ایم پی ہیں۔ ان کے والد غلام رسول ساہی 2002 میں ق لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے اور 2013 میں ان کے پاس ن لیگ کا ٹکٹ تھا۔

این اے 102 فیصل آباد سے تحریک انصاف کے امیدوار نواب شیر وسیر ہیں۔ 2008 میں یہ پیپلز پارٹی میں تھے اور اسی کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔ 2013 کا الیکشن بھی انہوں نے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر لڑا۔ ساتھ ہی یہ ایک صوبائی نشست پی پی 53سے آزاد امیدوار کے طور پر بھی کھڑے ہو گئے اور دونوں پر ہار گئے۔ اب یہ قافلہ انقلاب کے روح رواں ہیں۔

این اے 104 سے دلدار چیمہ کو ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔ یہ صاحب 2008 میں ق لیگ کے ٹکٹ پر پی پی 61 سے ایم پی اے منتخب ہوئے۔ 2002 میں یہ ق لیگ کے امیدوار برائے قومی اسمبلی تھے مگر ن لیگ کے رانا آصف توصیف سے ہار گئے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ اب یہی رانا آصف توصیف بھی تحریک انصاف میں شامل ہو چکے ہیں اور یہ این اے 105 سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ 2008 میں یہ ق لیگ میں چلے گئے تھے اور 2011 میں یہ نجکاری کے وزیر مملکت تھے۔

این اے 106 میں قافلہ انقلاب نے نثار جٹ کو ٹکٹ دیا ہے۔ 2002 میں نثار جٹ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے بنے۔ 2008 میں یہ ق لیگ کے امیدوار تھے۔ 2013 میں یہ ن لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن جیتے۔ مارچ 2018 میں یہ قافلہ انقلاب میں شامل ہو گئے۔

این اے 109 سے فیض اللہ کھوکھر کو ٹکٹ جاری کیا گیا۔ کھوکھر صاحب 2002 میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر پی پی 68 سے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے۔ این اے 110 سے راجہ ریاض کو ٹکٹ ملا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کے دور میں پنجاب کے سینیر وزیر تھے، اپوزیشن لیڈر بھی رہے۔

این اے 111 ٹوبہ ٹیک سنگھ سے قافلہ انقلاب کا ٹکٹ اسامہ حمزہ کے پاس ہے۔ یہ مسلم لیگ ن کے سینیٹر ایم حمزہ کے صاحبزادے ہیں۔ حمزہ صاحب مارچ 2018 تک ن لیگ کے سینیٹر تھے۔ ن لیگ کی سی ای سی نے انہیں سینیٹ کا آئندہ ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے کہا اب ووٹ کو عزت دینے کی ضرورت رہی اب بنے گا نیا پاکستان۔

این اے 112 سے تحریک انصاف کے امیدوار جناب ریاض فتیانہ ہیں۔ فتیانہ صاحب ق لیگ کے ایم این رہ چکے اور ن لیگ کے ایم پی اے بھی۔ این اے 113 ٹوبہ ٹیک سنگھ سے بھی ریاض فتیانہ کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بعد جھنگ کو دیکھ لیتے ہیں۔ این اے 114 جھنگ سے محبوب سلطان صاحب تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔ 2008 کا الیکشن انہوں نے ق لیگ کے ٹکٹ سے جیتا۔ 2013میں ان کے ن لیگ کا ٹکٹ تھا مگر یہ ہار گئے۔

این اے 115 میں غلام بی بی بھروانہ کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ یہ2002 میں ق لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئیں۔ وزیر مملکت برائے تعلیم رہیں۔ 2008 میں بھی یہ ق لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئیں۔ 2013 میں ن لیگ میں شامل ہو گئیں اور ایم این اے منتخب ہوئیں۔ مئی 2018میں تحریک انصاف میں شامل ہو گئیں۔

این اے 117 ننکانہ صاحب سے تحریک انصاف کے امیدوار بلال ورک ہیں۔ بلال ورک 2002 میں ق لیگ کے ایم این اے منتخب ہوئے۔ 2008 میں ن لیگ کے ٹکٹ پر جیتے اور 2013 میں بھی ن لیگ کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔

این اے 118 ننکانہ صاحب سے برگیڈیر اعجاز شاہ کو ٹکٹ دیا گیا۔ یہ پرویز مشرف کے قریبی دوست ہیں اور آئی بی کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں۔

این اے 120 شیخوپورہ سے علی اصغر مانڈا کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ یہ 1988میں پی پی 135 سے آئی جے آئی کے امیدوار تھے، ہار گئے۔ 1993میں یہ آزاد تھے، پھر ہار گئے۔ 2002 میں ایک بار کھڑے ہوئے اور ایک بار پھر شکست کھائی۔ 2008میں ن لیگ کے ٹکٹ سے ایم پی اے بنے۔

این اے 121 شیخو پورہ سے تحریک انصاف نے محمد سعید ورک کو ٹکٹ دے رکھا ہے۔ یہ وہی سعید ورک ہیں جو شوکت عزیز کے دور حکومت میں ق لیگ کے ایم این اے تھے اور ان کے پاس پارلیمانی سیکرٹری برائے مقامی حکومت اور دیہی ترقی کا منصب تھا۔

اب آئیے لاہور کی جانب۔ این اے 126 سے تحریک انصاف کے امیدوار کا نام حماد اظہر ہے۔ یہ ق لیگ کے بانی میاں اظہر کے صاحبزادے ہیں۔

این اے 128 سے اعجاز احمد ڈیال کو ٹکٹ دیا گیا ہے جو 2002 میں ق لیگ کے امیدوار تھے۔

این اے 129 سے علیم خان ہیں جو مشرف دور میں ق لیگ کی حکومت میں پنجاب میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر ہوا کرتے تھے۔

این اے 130 سے شفقت محمود ہیں۔ شفقت محمود ق لیگ کے سینیٹر رہ چکے ہیں۔

این اے 132 سے چودھری منشاء سندھو ہیں۔ یہ ق لیگ کے ایم پی اے ہوا کرتے تھے اور وزیر اعلی کے مشیر بھی۔

این اے 134 سے ظہیر عباس کھوکھر ہیں۔ یہ 2002میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے لیکن بعد میں پیٹریاٹ میں چلے گئے۔

انہی کے چچا ملک کرامت علی کھوکھر کو تحریک انصاف نے این اے 135 کا ٹکٹ دے رکھا ہے۔ کرامت علی کھوکھر 2008 میں پیپلز پارٹی کے امیدوار تھے، مگر ہار گئے۔

روایتی سیاست کی تحریک انصاف نے یوں نفی کی ہے کہ این اے 136 سے ملک اسد کھوکھر اس کے امیدوار ہیں۔ سارے فیصلے چونکہ میرٹ پر ہوئے اس لیے اقبال ؒ کے پوتے کو ٹکٹ نہیں مل سکا۔

چلیے قصور چلتے ہیں۔ یہ این اے 137 ہے۔ یہاں سے تحریک انصاف سے سردار احمد علی کو ٹکٹ دے رکھا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی کے دور میں وزیر خارجہ تھے۔ یہ نواز شریف کے ساتھ بھی رہے اور اکنامک افیئرز کے وزیر رہے۔

این اے 138 سے تحریک انصاف نے راشد طفیل کو ٹکٹ دیا ہے، راشد طفیل مسلم لیگ ن کے سابق ایم این اے چودھری طفیل کے صاحبزادے ہیں۔ رائے حسن نواز کے نا اہل ہونے پر
2016 کے ضمنی انتخابات میں چودھری طفیل ن لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے۔

این اے 139 میں ق لیگ کے عظیم الدین لکھوی اس وقت تحریک انصاف کے امیدوار ہیں۔

این اے 140سے سردار طالب حسین نکئی کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ نکئی صاحب 2002میں ق لیگ کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اور 2008 اور 2013 میں بھی ق لیگ ہی کے ٹکٹ سے انتخابات میں ھصہ لیا اور شکست کھائی۔

اب اوکاڑہ کو دیکھ لیتے ہیں۔ این اے 141 اوکاڑہ سے سید صمصام بخاری تحریک انصاف کے امید وار ہیں۔ یہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت مین وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات تھے۔

این اے 142 سے راؤ حسن سکندر کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ یہ پیپلز پارٹی دور کے وزیر دفاع اور وزیر خوراک راؤ سکندر اقبال کے صاحبزادے ہیں۔

این اے 143 سء ق لیگ کے سید سبطین گلزار شاہ کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ 2002 میں ق لیگ کے سبطین شاہ نے پیپلز پارٹی کے صمصام بخاری کو ہرایا، 2008 میں پیپلز پارٹی کے صمصام بخاری نے ق لیگ کے سبطین شاہ کو ہرایا۔ اس الیکشن میں یہ دونوں قافلہ انقلاب کی قیادت فرما رہے ہیں۔

این اے 144 سے تحریک انصاف نے کوئی امیدوار کھڑا۔ منظور وٹو یہاں سے آزاد امیدوار ہیں اور ان کے احترام میں پارٹی نے کوئی امیدوار نہیں دیا۔ یہی نہیں تحریک انصاف نے اس کے نیچے صوبائی نشستوں پر پی پی 186سے منظور وٹو کی صاحبزادی روبینہ شاہین کو اور پی پی 185 سے ان کے صاحبزادے جہانگیر وٹو کو ٹکٹ دے دیا ہے۔ یہ تنیوں گھر میں مل بیٹھتے ہوں گے تو قہقہہ لگا کر کہتے ہوں گے : تبدیلی آ نہیں رہی تبدیلی آ گئی ہے۔

اب آئیے پاک پتن کی طرف۔ یہ این اے 147 ہے۔ یہاں سے قومی اسمبلی کا ٹکٹ محمد شاہ کھگا کو دیا گیا ہے اور صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ ان کے بھائی احمد شاہ کھگا کو دیا گیا ہے۔ محمد شاہ کھگا 2002 میں ق لیگ کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوئے۔ 2008 اور 2013 میں بھی ان کے پاس ق لیگ کا ٹکٹ تھا۔ احمد شاہ کھگا 2013 میں ق لیگ کے ٹکٹ سے ایم اے بنے۔ پاک پتن کے کسی بندے سے پوچھ کر دیکھیے ان دونوں بھائیوں پر ڈکیتی اور ریپ کے مقدمات تھے یا نہیں؟

این اے 146 سے میاں امجد جوئیہ کو ٹکٹ ملا۔ یہ انتہائی تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ یہ پیپلز پارٹی میں بھی رہے۔ ق لیگ میں رہے۔ ن لیگ میں رہے۔ اب عمران خان کی شاخ انقلاب پر چہچہا رہے ہیں۔

آگے چلیے یہ ضلع ساہیوال ہے۔ این اے 147۔ یہاں سے نوریز شکور قافلہ انقلاب کی قیادت فرمانے کو میدان میں ہیں۔ نوریز شکور پیپلز پارٹی میں رہے۔ پی پی سے پیٹریاٹ میں چلے گئے۔ پیٹریاٹ کے سینئر نائب صدر تھے۔ 2002 سے 2004 تک وزیر پٹرولیم رہے۔ 2004 سے 2006 تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر رہے۔

آگے چلیے۔ یہ خانیوال ہے۔ این اے 150 سے رضا حیات ہراج کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ یہ 2002 میں ق لیگ کے ٹکٹ سے جیتے۔ 2008 میں بھی ق لیگ کے ٹکٹ سے کامیاب ہوئے۔ 2013 میں آزاد کھڑے ہوئے۔ اب تحریک انصاف کے مقامی قائد انقلاب کے طور پر قومی ذمہ داریاں ادا فرما رہے ہیں۔

این اے 151 خانیوال سے احمد یار ہراج کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ ان کے بھائی جمالی کی کابینہ میں بھی وزیر تھے اور شوکت عزیز کی کابینہ میں بھی۔

احباب کا اگر مزید کپتان خان دے جلسے اچ نچنے کو دل نہ کر رہا ہو تو وہ ہماری رہنمائی فرمائیں کہ تبدیلی کہاں ہے؟بڑی کہتی تھی صاف چلی شفاف چلی۔
چل جھوٹی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: