اقبال اور تہذیبوں کے درمیان مکالمہ — اعجاز الحق اعجاز

0
  • 33
    Shares

اقبال تہذیبی تصادم کے حق میں ہیں یا تہذیبی مکالمے کے کی حمایت کرتے ہیں؟ اس اہم سوال کا جواب اس مضمون میں دینے کی کوشش کی جائے گی مگر اس سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اقبال کا تصور تہذیب کیا ہے؟ جب ہم اقبال کے تصور ِ تہذیب کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے نزدیک تہذیب کی اساس مادی سے زیادہ روحانی اصول و مظاہر پہ قائم ہے،یہ ایک نامیاتی کل ہے اور اس کی ایک بڑی صفت اس کا تحرک ہے۔ یعنی یہ ایک متحرک روحیہ ہے۔ اقبال تہذیب کے ان عناصر کو مرکزی اہمیت دیتے ہیں جو آفاقی حیثیت کے حامل ہیں، جو لا زمانی (Non-Temporal) اور لا مکانی (Non-Spatial) ہیں۔ لہذا اسپنگلر، ٹائن بی، ہنٹنگٹن اور فوکویاما جیسے مغربی دانشوروں نے تہذیب کا جو تصور پیش کیا ہے، اقبال کا تصور تہذیب ان سے بہت مختلف ہے۔ اقبال کے تصور ِ تہذیب کی اساس ابدی اور آفاقی اصولوں پہ قائم ہے۔ سیموئیل پی ہنٹنگٹن نے اپنی کتاب The Clash of Civilizations and the Remaking of World Order میں جو تہذیبوں کے تصادم کی بات کی ہے، اقبال اس قسم کے تصادم کے حق میں نہیں، بلکہ وہ تہذیبوں کے درمیان مصالحت اور مکالمے کے حق میں ہیں۔ اقبال تہذیبوں کے درمیان تصادم کے خطرے کو پوری طرح بھانپ گئے تھے۔ وہ اپنے مضمون ’’قومی زندگی‘‘ ( ۱۹۰۴ء) میں لکھتے ہیں:

’’تہذیبوں اور تمدنوں کی ہنگامہ آرائیوں کا وقت ہے اور یہ جنگ ایک ایسی جنگ ہے جس کے زخم رسیدہ نگاری اور کافوری مرہم سے ہرگز اچھے نہیں ہو سکتے۔ــ‘‘

اقبال تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے لیے جو اصول و مبادی ذہن میں رکھتے ہیں، وہ یہ ہیں:

۱۔ یہ مکالمہ برابری کی سطح پہ ہونا چاہیے۔

۲۔ مکالمے کے لیے ضروری ہے کہ بقائے باہمی کے اصولوں کو مد نظر رکھا جائے اور ایک دوسرے کی تہذیبی روایات کا احترام کیا جائے۔

۳۔ تہذیبوں کے ظواہر کے بجائے اس کے باطنی عناصر کو موضوع بحث بنایا جائے۔

اقبال تہذیبی مکالمے کے ذریعے دنیا میں امن، انصاف اور مساوات کے خواہاں ہیں۔ پروفیسر محمد عثمان کے بقول :

’’اقبال فقط مفکر پاکستان نہیں۔ وہ ان معدودے چند ابنائے آدم میں سے ہیں جنھوں نے عالمی ثقافت اور عالمی برادری کا خواب دیکھا ہے اور اقبال کے دوسرے خوابوں کی طرح یہ خواب بھی پورا ہونے کے لیے دیکھا گیا ہے۔‘‘

۱۹۳۸ء کے نشری پیغام میں علامہ صاحب فرماتے ہیں:

“Remember, man can be maintained on this earth only by honouring mankind, and this world will remain a battle ground of ferocious beasts of prey unless and until the educational forces of the whole world are directed to inculcating in man respect for mankind.”

(انسان کی بقا کا راز انسانیت کے احترام میں ہے  اور جب تک دنیا کی عالمی قوتیں  اپنی توجہ احترام انسانیت کے درس پر مرکوز نہ کر دیں یہ دنیا بدستور درندوں کی بستی رہے گی جب تک کہ دنیا بھر کی تعلیمی قوتوں کو اس کام میں نہ لگایا جائے کہ وہ لوگوں کو انسانیت کا احترام سکھائیں۔ـ)

اقبال کے نزدیک تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی اور اشتراک کے رستے میں جو عناصر مزاحم ہیں وہ ہیں رنگ، نسل، زبان اور سب سے بڑھ کر علاقائی نیشنل ازم۔ اقبال سمجھتے ہیں کہ علاقائی نیشنل ازم Territorial Nationalism نے تہذیبی شکست و ریخت اور دنیا کو تقسیم کرنے اور بنی نوع انسان کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے میں بہت زیادہ کردار ادا کیا ہے۔ ان کے بقول:

’’وحدت صرف ایک ہی معتبر ہے اور وہ بنی نوع انسان کی وحدت ہے جو رنگ،نسل زباں سے بالا تر ہے جب تک اس نام نہاد جمہوریت، اس ناپاک قوم پرستی اور ذلیل ملوکیت کی لعنتوں کو مٹایا نہ جائے گا۔ جب تک انسان اپنے عمل کے اعتبار سے الخلق عیال اللہ کے اصول کا قائل نہ ہوگا، جب تک جغرافیائی وطن پرستی اور رنگ و نسل کے اعتبارات کو نہ مٹایا جائے گا، اس وقت تک انسان اس دنیا میں فلاح و سعادت کی زندگی بسر نہ کر سکے گا۔ اور اخوت، حریت اور مساوات کے شاندار الفاظ شرمندہ تعبیر نہ ہوں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیے: اقبال اور مغرب : جاوید اقبال راؤ

 

اقبال کی رائے میں تہذیبوں کو جس نقطے پہ مرتکز ہونا چاہیے وہ احترام ِ انسانیت کا نقطہ ہے۔ انسانیت ہی وہ نظریہ ہے جس کی خاطر تمام تہذیبوں کو اپنے اختلافات بالائے طاق رکھ دینے چاہییں۔ بہ قول اقبال:

آدمیت  احترام ِ   آدمی
باخبر شو  از  مقام  آدمی

اقبال کاتصور ِ تہذیب بہت وسعت کا حامل ہے۔ وہ تہذیبی ترقی کے قائل ہیں چناں چہ وہ تہذیب کے دائروی تصورات کی نفی کرتے ہیں۔ وہ تہذیبی ترقی کا اطلاق تمام نسل ِ انسانی پہ کرتے ہیں اور تہذیب کے استحکام کے لیے دو چیزوں کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ اول: وحدت، دوم: حرکت و تغیر۔ اقبال اپنے خطبے ’’اسلام میں حرکت کا اصول‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’اسلام ایک ثقافتی تحریک کی حیثیت سے کائنات کے ساکن ہونے کے قدیم تصور کو مسترد کرتا ہے اور اس کے حرکی نظریے کو تسلیم کرتا ہے۔ وحدت کے ایک جذباتی نظام کے طور پر یہ فرد کی اہمیت کا اعتراف کرتا ہے اور خونی رشتے کو انسانی وحدت کے طور پر ردکرتاہے۔خونی رشتے کی پیوند زمین سے ہوتی ہے۔ انسانی وحدت کی خالص نفسیاتی بنیاد کی تلاش اسی وقت ممکن ہے جب ہم انسانی زندگی کے اپنی اصل میں روحانی ہونے کا ادراک حاصل کر لیں۔

تہذیبی مکالمہ اس وقت تک پروان نہیں چڑھ سکتا جب تک مغرب میں اسلامی تہذیب کے بارے میں پائی جانے والی بہت سی غلط فہمیوں کو رفع نہیں کر لیا جاتا۔ اس طرح کی غلط فہمیوں کو پھیلانے میں اسپینگلر، ٹائن بی، برنارڈ لیوس وغیرہ نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اقبال نے اپنے خطبے ’’ مسلم ثقافت کی روح ‘‘ میں سپنگلر کا خاص طور پر حوالہ دیا ہے۔ اقبال اسپینگلر کے اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ یورپی ثقافت کی روح کلاسیکی ثقافت کے خلاف تھی اور یہ کہ یورپی ثقافت کی کلاسیکیت کے منافی روح کا سبب یورپ کی اپنی مخصوص فطانت تھی نہ کہ کوئی ایسا عنصر جو اس نے اسلامی ثقافت سے قبول کیا ہو جو اسپینگلر کے مطابق اپنی روح اور اپنے کردار میں مجوسی ہے۔ اقبال اسپینگلر کے جدید ثقافت کی روح کے نظریے سے تو اتفاق کرتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ جدید دنیا کی کلاسیکیت کے خلاف روح کا ظہور حقیقت میں یونانی فکر سے اسلام کی عقلی بغاوت کا نتیجہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں اسپینگلر کو یہ نقطہ نظر اس لیے قابل قبول نہیں ہوگا کیوں کہ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ کلاسیکیت کی روح کے منافی جدید ثقافت کا اَحیا اس سے ماضی میں قریب تر ثقافت کا نتیجہ ہے تو ثقافتوں کی باہمی خود مختار انہ حیثیت کا اس کا نظریہ باطِل ہوجائے گا۔ اقبال کہتے ہیں کہ ان کی رائے میں اسپینگلر کے اپنے موقف کو ثابت کرنے پر اصرار نے اسلام بحیثیت ایک ثقافتی تحریک کے بارے میں اس کی بصیرت کو مسخ کردیا۔

اقبال کہتے ہیں کہ اسپینگلر کی مسئلہ زمان پر مسلم فکر سے عدم واقفیت اور اس طرح اس ’’میں‘‘ سے لا علمی جس میں تجربے کے ایک آزاد مرکز کی حیثیت سے اسلام کے مذہبی تجربے کا اظہار پایا جاتا ہے، بہت افسوس ناک ہے۔

اقبال اسپینگلر کی اس رائے کی بھی تردید کرتے ہیں کہ اسلام کی اصل مجوسی ہے۔ ان کے خیال میں اسپینگلر اسلام کے ختم نبوت کے تصور کی ثقافتی قدر کا اندازہ کرنے میں بھی ناکام رہا۔

ایڈورڈ سعید کے نزدیک اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے درمیان مکالمے میں سب سے بڑی رکاوٹ خود مغرب کا اسلام کے بارے میں متعصبانہ رویہ اور بعید از حقیقت قیاس آرائیاں ہیں۔ اپنی کتاب  Covering Islam میں اس نے بہت سے مستشرقین اور ذرائع ابلاغ کے انھی غلط فہمیوں پہ مبنی رویوں اور تعصبات کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ہے۔

اقبال مغربی تہذیب کے نقائص گنوانے کے ساتھ ساتھ اس کی علمی ترقیوں کو سراہتے ہیں۔ ان کے بقول مغرب کی ترقی کا راز علوم و فنون کی ترقی میں مضمر ہے

قوت مغرب نہ از چنگ ورباب
نے ز رقص دختران بے حجاب
نے ز سحر ساحران لالہ روست
نے ز عریاں ساق و نے از قطع موست
محکمی او را نہ از لا دینی است
نے فروغش از خط لا طینی است
قوت افرنگ از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
حکمت از قطع و برید جامہ نیست
مانع علم و ہنر عمامہ نیست

اقبال تہذیبی تصادم جو عالمی امن کے لیے خطرے کا باعث بنے کے بجائے ایک عالمگیر اورآفاقی تہذیب کا تصور ذہن میں رکھتے ہیں اور یہ تہذیب اسلام کے زریںاصولوں مساوات، سماجی انصاف،بقائے باہمی و امن آشتی اور احترام ِ انسانیت سے راہنمائی حاصل کرتی ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اقبال کا آفاقی تہذیب کا تصور مغرب کے آفاقی تہذیب کے تصور سے بہت مختلف ہے۔ مغرب کا آفاقی تہذیب کا تصور دراصل سامراجی نوعیت کا ہے اور اس کے پس پردہ محرکات معاشی استحصال پہ مبنی ہیں۔ آفاقی تہذیب کا جو تصور فوکویاما کے ہاں ملتا ہے، اقبال کے ہاں اس سے بھی اختلاف نظر آتا ہے۔ فوکویاما آفاقی تہذیب کے لیے آزاد جمہوریت کو مفید تصور کرتا ہے، جب کہ اقبال کے نزدیک آزاد جمہوریت مسائل کا حل نہیں، اس کے بجائے وہ روحانی جمہوریت کی بات کرتے ہیں۔ جب کہ ہنٹنگٹن نے تہذیبی تکثیریت کا جو تصور پیش کیا ہے، یہ دراصل مغربی تہذیب کو دوسری تہذیبوں پہ مسلط کرنے اور اس کی اجارہ داری قائم کرنے کا تصور ہے۔ اقبال تہذیبی تکثیریت کو تو تسلیم کرتے ہیں، مگر مغربی تہذیب کی اجارہ داری کو نہیں۔ اقبال کے نزدیک تہذیبوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اپنی خودیاں اور شناختیں برقرار رکھتے ہوئے ہی مکالمہ کریں۔فوکویاما اور ہنٹنگٹن جیسے سیاسی نظریہ ساز یہ سمجھتے ہیں کہ مغربی تہذیب ہی انسانیت کی نجات دہندہ ہے جب کہ اقبال ایسا نہیں سمجھتے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام اور مغرب کو مل کر عالمی مسائل کو حل کرنے کی سعی کرنی چاہیے۔ اگر ہم تاریخ کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ اسلامیان برصغیر پر مغربی تہذیب کے اثرات کا ردعمل تین طرح سے ہوا۔ ایک ردعمل زبردست مرعوبیت کا تھا۔ ایک ایسا طبقہ وجود میں آیا جو مغربی تہذیب کی اندھی اور بغیر سوچے سمجھے تقلید اور نقالی پر یقین رکھتا تھا، دوسرا طبقہ وہ تھا جس نے مغربی تہذیب کے اثر و نفوذ کے خلاف سخت ردعمل پیش کیا۔ یہ طبقہ مغربی تہذیب کو تمام برائیوں کی جڑ قرار دیتا تھا اور اپنی تہذیبی اقدار ہی سے وابستہ رہنے کو ترجیح دیتا تھا۔ جب کہ تیسرا طبقہ وہ تھا جو مشرقی و مغربی تہذیب کی خوبیوں اور خامیوں کا بغور جائزہ لیتا تھا۔ اس طبقے نے ایک معتدل راہ اختیا رکی۔ یہ طبقہ نہ اپنی زریں تہذیبی اقدار سے بیزار تھا اور نہ ہی مغرب کو سراسر رد کرتا تھا۔ یہ مغرب کی کورانہ تقلید کے خلاف تھا مگر ساتھ ہی ساتھ اس تہذیب کے مفید عناصر کو قبول کرنے سے نہیں ہچکچاتا تھا۔ اقبال کا تعلق اسی تیسرے طبقے سے تھا۔ اقبال مغرب کی اندھی تقلید کے حق میں ہرگز نہیں۔ وہ ایسے لوگوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جو مغربی تہذیب کی ہر خامی کو بھی خوبی بنا کر پیش کرتے ہیں اور مشرقی تہذیب کی ہر خوبی بھی انھیں خامی نظر آتی ہے۔ اقبال کے خیال میں یہ شدید احساس کمتری کی وجہ سے ہے جس میں مغرب زدہ طبقہ مبتلا ہے۔ مگر دوسری طرف اس تہذیب کے ایسے عناصر جو صحت مند ہیں اور جو بنی نوع انسان کے لیے مفید ہیں اقبال انھیں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لہذا مغرب کے حوالے سے ان کا رویہ یک طرفہ نہیں بلکہ اس میں ایک توازن پایا جاتا ہے جو تہذیبی مکالمے کے لیے بہت ضروری عنصر ہے۔ بقول آل احمد سرور :

’’اقبال نہ خالص مشرقی ہیں اور نہ خالص مغربی۔ وہ نیم مشرقی اور نیم مغربی ہیں ‘‘

اقبال کے ہاں جو مشرقیت ہے وہ روایتی مشرقیت ہرگز نہیں بلکہ ایک قسم کی جدید مشرقیت ہے جسے وجود میں لانے میں مغربیت نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ بہ قول آل احمد سرور:

’’دوسری مشرقیت وہ ہے جو اقبال کے ہاں ملتی ہے۔ یہ نئی مشرقیت ہے اور مغرب کے اثر سے وجود میں آئی ہے۔ یہ ہندوستانی نشاۃ الثانیہ کا عطیہ ہے، اس نے راجہ رام موہن رائے کی قیادت میں بنگال میں جنم لیا۔ اردو میں اس کا آغاز سرسید کی تحریک سے ہوتا ہے۔ اس تحریک میں مذہبی اصلاح ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کے سامنے تہذیب، تعلیم، ادب اور سیاست سب کا ایسا تصور ہے جس میں مغرب کے عقلی اور سائنسی طریقہ کار سے خاصی مدد لی گئی ہے۔‘‘

اقبال اگرچہ اس نئی مشرقیت کے حق میں ہیں جس کا ذکر محولہ بالا اقتباس میں سرور صاحب نے کیا ہے مگر وہ مغرب کے تہذیبی غلبے کے بھی خلاف ہیں۔اقبال کے خیال میں اسلامی تہذیب روحانی بنیادوں پہ استوار ہے البتہ یہ مادے کی نفی نہیں کرتی یعنی یہ بہ طور ایک دین، مذہب اور دنیا کو ایک ساتھ لے کر چلتی ہے۔ یعنی یہ دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح کو پیش نظر رکھتی ہے جب کہ جدید مغربی تہذیب نے خود کو مادی بنیادوں پہ استوار کرنے کی کوشش کی ہے اور آخرت سے منہ موڑ کر اسی دنیا کو اپنا مرکز و محور سمجھ لیا ہے۔

علامہ اقبال نے بہت سی مغربی علمی و فلسفیانہ تحریکوں کو بنظر ِ تحسین دیکھا ہے اور ان کے اثرات بھی قبول کیے ہیں۔ جن فلسفیانہ تحریکوںکے اقبال پہ زیادہ اثرات پائے جاتے ہیں ان میں تصوریت پسندی اور ارادیت پسندی کی تحریکیں نمایاں ہیں۔یہاں اس بات کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے جرمنی کی تصوریت پسندی کی تحریک سے بالواسطہ اور بلا واسطہ بہت سے اثرات قبول کیے۔ اقبال کا فلسفہ و فکر امتزاجی نوعیت کا ہے جس پر مشرق و مغرب کے بہت سے فلسفوں کے اثرات نظر آتے ہیں۔بنیادی طور پر اقبال دانش دوست ہیں اور دانش چاہے مشرق سے ملے یا مغرب سے وہ اسے اپنی متاع سمجھتے ہیں:

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر

اس شعر سے عیاں ہے کہ اقبال تہذیبوں کے درمیان جو مکالمہ چاہتے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے۔ اقبال کا مطمح نظر یہ ہے کہ مشرقی و مغربی تہذیبوں کے بارے میں پائے جانے والے تعصبات کو رفع کیا جائے، دوسری تہذیبوں کے بہترین اور مفید عناصر کو قبول کرنے اور اپنی تہذیب میں شامل کرنے میں پس و پیش سے کام نہ لیا جائے۔ کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسری تہذیبوں سے کٹ کر کوئی تہذیب زندہ نہیں رہ سکتی۔

(یہ مقالہ لاہور میں ہونے والی قومی اقبال کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے تحریر کیا گیا)

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: