ٹی آر پی —- اے وسیم خٹک

1
  • 22
    Shares

سر میں نے نواز شریف اور مریم نواز کے جوتوں کی قیمت معلوم کرلی ہے اور یہ بھی معلوم کیا ہے کہ وہ انہوں نے کہاں سے لی ہے ـ اور کون سا برانڈ ہےـ

اوہ زبردست ـ کسی اور کے پاس تو یہ نیوز نہیں ہے ناں۔

چینل کے سربراہ نے اسپیشل اسائنمنٹ پر مامور رپورٹر سے پوچھا۔

نہیں سر کسی کے پاس بھی نہیں ہے تو جلدی کردو بریکنگ میں چلا دو ایسا نہ ہو کہ کسی اور چینل کی نظر دونوں کے جوتوں پر پڑ جائےـ ۔

چینل کا سربراہ سی ای او کے ساتھ نواز شریف کا موضوع ڈسکس کر رہا تھاـ کہ پالیسی اور میڈیا کے ساتھ یہ اب عوامی ایجنڈا بھی بن گیا ہے ـ نواز مریم کی پل پل کی خبر صرف ہمارے چینل پر۔

ہاں ہاں ہماری ٹی آر پی کافی بڑھ گئی ہے ـ یہ اپ کی محنت کی بدولت ہے ـ سربراہ نے سی ای او اور نیوز انچارچ کی تعریف کی اس دوران رپورٹر بھا گا بھاگا آیا۔

سر مستونگ میں دھماکہ ہوگیا ہے ـ ہلاکتوں کا خدشہ ہےـ ۔

یہ علاقہ کہاں ہے؟ پہلی دفعہ نام سنا ہے سربراہ نے نیوز ایڈیٹر کی جانب دیکھا ـ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ـ سی ای او نے کہا سر لگتا ہے خیبر پختونخوا کا کوئی مضافاتی علاقہ ہےـ۔

رپورٹر نے کہا: سر یہ بلوچستان کا شہر ہے کوئٹہ سے ایک گھنٹے کے فاصلے پر ـ ۔

اوہ ـ پھر ٹھیک ہے ـ باقی چینل کا کیا حال ہے وہ چلا رہے ہیں کہ نہیں۔ ـ نو سر ـ اتنی زیادہ کوریج نہیں دی جارہی ـ نیوز انچارج نے کہا کہ سر بلوچستان ہے نا ـ بیک ورڈ علاقہ ہے ـ اتنی کوریج کوئی بھی نہیں دے گاـ ۔

سربراہ نے کہا کہ ہمارے لئے دھماکہ اہمیت نہیں رکھتا ٹی آر پی نواز اور مریم سے بڑھ رہی ہے ـ وہ جاری رکھو اور ہاں وہ جوتوں کی خبر چلا دی کہ نہیں ـ اب دونوں کے کپڑوں کا برانڈ معلوم کرکے وہ بھی بریکنگ میں ڈال دوـ۔

Leave a Reply

1 تبصرہ

Leave A Reply

%d bloggers like this: