پے پال کی عدم دستیابی: تجزیہ —– لالہ صحرائی

0
  • 135
    Shares

اس فورم پر ایک دوست نے پے پال کی عدم دستیابی کو موضوع بنایا ہے (وہ تحریر اس لنک پہ پڑھی جاسکتی ہے)، یہ واقعی ایک ضرورت ہے لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر یہ سروس یہاں لانا ممکن نہیں البتہ کچھ اقدامات ایسے کئے جا سکتے ہیں جن سے یہ ممکن ہو سکتی ہے۔

پے پال سے پڑھا لکھا طبقہ واقف تو ضرور ہوگا مگر اس پر آواز اٹھانے سے پہلے اس نظام اور اپنے حالات کو سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ ضرورتمند طبقہ سادہ مطالبہ کرنے کی بجائے درپیش مشکلات کو سمجھ کے انہیں دور کرنے کیلئے اپنی قابل عمل تجاویز مرتب کر سکے اور عام آدمی بھی اس مطالبے کی اہمیت کو سمجھ کے آپ کی آواز میں اپنی آواز ملا سکے۔

پے پال سے پہلے بین الاقوامی ٹریڈ صرف بینکنگ چینل کے ذریعے مکمل ہوتی تھی، مثلاً امریکہ کا مسٹر بیکر اگر پاکستان کے مسٹر زید سے کچھ مال خریدنا چاہتا ہے تو وہ بزنس کی شرائط طے کرنے کے بعد مسٹر زید کو اپنے بینک سے لیٹر آف کریڈٹ بھیجے گا جس میں معاہدے کی تمام تفصیلات شامل ہوں گی، یہ ایل۔سی ایک طرح کی ضمانت ہوتی ہے کہ جب زید کی طرف سے ایکسپورٹ شپمنٹ کے کاغذات موصول ہوں گے تو مسٹر بیکر کا بینک مال کی طے شدہ رقم مسٹر زید کے بینک کو بھیج دے گا۔

جب ساری دنیا میں بین الاقوامی لین دین اسی طرح بینکنگ چینلز سے چلتا تھا تو اب اس نظام کو بائی۔ پاس کرکے پےپال کا ذریعہ اختیار کرنے کا رجحان کیوں پیدا ہو رہا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ دنیا میں آنلائن خریداری کیلئے خریدار اور فروختکار کو ملانے والی ویب سائیٹ eBay نے اپنے کسٹمرز کی سہولت کیلئے یہ پورٹل لانچ کیا تھا تاکہ بزنس۔مین اس پورٹل سے ایل۔سی اور بینک چارجز کے بغیر بھی پےپال کی معمولی سی فیس ادا کرکے اپنا لین دین کر سکیں۔

اس کا پروسیجر یہ ہے کہ پےپال کے پورٹل پہ کوئی بھی، کسی بھی نام سے، اپنا اکاؤنٹ بنا سکتا ہے جو فیس بک کی طرح صرف ایمیل پر بیس کرتا ہے اور ایک آئی۔ڈی، پاسورڈ سے آپریٹ ہوتا ہے۔

یوزر اس چینل کے اندر اپنے بینک اکاؤنٹ کو لنک کر دیتا ہے، اس کے بعد مسٹر زید جب مسٹر بیکر کو شپمنٹ کے ڈاکومنٹس بھیجتا ہے تو مسٹر بیکر اپنی رقم پےپال کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرکے انہیں ایک میسیج بھیجتا ہے کہ یہ رقم فلاں ایمیل ہولڈر کو بھیج دیں کیونکہ زید نام کی تو کئی آئیڈیز ہو سکتی ہیں مگر ایمیل سب کی مختلف ہوں گی لہذا ایمیل کو ہی مرکزی شناخت سمجھا جاتا ہے۔

پےپال زید کو میسیج بھیجتی ہے کہ فلاں ایمیل ہولڈر نے آپ کیلئے اتنی رقم بھیجی ہے، کیا آپ اسے وصول کرنا چاہتے ہیں؟

زید جب اس میسیج کو ایکسیپٹ کرلیتا ہے تو پےپال اگلے چند روز میں مجوزہ رقم اس کی آئیڈی کیساتھ منسلک بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیتا ہے۔

بزنس۔مین چاہیں تو اپنے پےپال اکاؤنٹ کو اپنی اوریجنل شناخت، پاسپورٹ نمبر، یا گھر کے ایڈریس اور دیگر ذاتی تفصیلات کے ساتھ ویریفائی بھی کروا سکتے ہیں لیکن یہ رجحان بہت کم ہے لہذا پےپال اکاونٹس ایک کثیر تعداد میں بے نام ہی ہوتے ہیں۔

پےپال کو امریکہ میں ای۔بے کی بزنس سب۔سڈری کی حیثیت سے رجسٹر کرکے کام کی اجازت اسلئے دی گئی تھی کیونکہ اس میں کسٹمرز کو سہولت تھی اور حکومت کو کوئی ذاتی نقصان نہیں تھا، حکومت اپنا ریونیو بندرگاہوں پر وصول کرلیتی ہے، نقصان صرف بینکوں کو ہوا جن کے کسٹمرز بینک چارجز سے بچنے کیلئے پےپال پر منتقل ہوگئے۔

اب چونکہ بیرونی دنیا کو پےپال سے پیمنٹ کرنا بینکنگ کی نسبت سستا پڑتا ہے اسلئے بیشتر دنیا نے اسے قبول کر رکھا ہے لیکن اس کے سادہ طریقہ کار کی وجہ سے اس کے اندر کالادھن ٹرانسفر کرنیوالے اور جرائم پیشہ عناصر بزنس۔مین سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں کیونکہ بینکنگ کے برعکس پیمنٹ کرنے والے کا اکاونٹ پیمنٹ وصول کرنیوالے کے اکاؤنٹ سے ڈائریکٹ لنک۔اپ نہیں ہوتا بلکہ پیمنٹس پےپال کو جا رہی ہیں اور پےپال سے آرہی ہیں لہذا یہ ٹریس نہیں کیا جا سکتا کہ پیمنٹ ایک شریف آدمی دوسرے شریف آدمی کو بھیج رہا ہے یا ایک جرائم پیشہ فرد دوسرے جرائم پیشہ عناصر کو بھیج رہا ہے۔

پےپال کے پرائیویسی رائیٹس کسی کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ ان کے نظام کے اندر جھانک کے دیکھ سکے لہذا سرکاری جاسوس ادارے اس چینل پر ہونے والی ٹرانزیکشنز کو مانیٹر کرنے سے معذور رہتے ہیں۔

ان حالات میں انٹیلیجنس ادارے زیادہ تر جرائم پیشہ یا مشکوک افراد کے بینک اکاؤنٹس پر ہی نظر رکھتے ہیں، اس پریکٹیس میں بھی امریکہ کے اندر بہت سے پےپال یوزر انڈرورلڈ ڈسکورس میں پکڑے گئے ہیں، خاص طور پہ جب ایک مشکوک بندے کو پےپال سے ایک بڑی رقم ٹرانسمٹ ہوئی تو سرکار سے خصوصی اجازت لیکر پےپال سے رقم بھیجنے والے کی تفصیلات نکلوائی گئیں تو پتا یہ چلا کہ وہ دونوں ناجائز اسلحے کے سوداگر ہیں اور یہ لین دین اسی سلسلے میں تھا۔

ہمارے ہاں بھی دہشت گردی کی فنڈنگ ایک بڑا مسئلہ ہے اسلئے ترسیلات زر کا ایسا کوئی چینل لانچ نہیں کیا جا سکتا جو ٹرانزیکشنز کو مکمل تفصیلات کیساتھ ڈاکومنٹڈ نہ رکھے یا بوقت ضرورت ایف۔آئی۔اے کو اپنے ریکارڈ تک رسائی نہ دے۔

اس کے متوازی ایک مسئلہ کالے دھن والوں کا بھی ہے، پہلے یہ لوگ بوقت ضرورت دو پرسنٹ معاوضے پر باہر سے ریمیٹینس منگوا لیتے تھے اور کالا دھن وائیٹ ہو جاتا تھا، اسی طرح کالا دھن باہر منتقل کرنا بھی آسان تھا مگر جب سے بینکنگ چینل پر ادر۔دین ایل۔سی بڑی ٹرانزیکشنز پر پابندی لگی ہے تب سے یہ کام ٹھپ ہوگیا ہے، پھر بھی اگر کوئی پیمنٹ ان۔فلو یا آؤٹ۔فلو ہوتی ہے تو وہ جلد یا بدیر ایف۔آئی۔اے کو رپورٹ ہو جاتی ہے، اس مانیٹرنگ کے ذریعے یہاں کئی مشکوک لوگ پکڑے جا چکے ہیں، آپ نے حالیہ خبروں میں بھی ایک سیاسی پارٹی کا ایسا ایک سکینڈل سنا ہوگا۔

ان حالات میں جہاں سخت پالیسی کے باوجود بااثر لوگ بینک کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر جاتے ہیں وہاں پےپال کے ذریعے کالے دھن کو وائیٹ کرنے، فرقہ واریت یا دہشت گردی کو فائنانس کرنے کا بھی سو فیصد امکان موجود ہے لہذا جب تک ٹرانزیکشنل ٹرانسپیرینسی کا کوئی معاہدہ نہ ہو جائے تب تک یہ سروس یہاں لانچ کرنا ممکن ہی نہیں۔

پاکستان میں رجسٹرڈ سروس ایکسپورٹرز یعنی جو باقائدہ بزنس کمپنیز بنا کے آئی۔ٹی و دیگر شعبوں میں اپنی ماہرانہ صلاحیتیں ایکسپورٹ کرتے ہیں ان کیلئے بینک الحبیب اچھی سروس دے رہا ہے بشرطیکہ پیمنٹ کرنیوالے بینکنگ چینل سے رقم بھیجنے پہ راضی ہوں لیکن انفرادی سروس پرووائیڈرز کا ایک بڑا طبقہ جو کمپنیز نہیں بنا سکتا لیکن انفرادی سطح پر بیرونی دنیا کو بہت سی آنلائن سروسز دے سکتا ہے وہ پےپال کی عدم دستیابی کی وجہ سے خوامخواہ اس روزگار سے محروم رہ جاتا ہے۔

اس مسئلے کا پہلا حل یہ ہو سکتا ہے کہ پےپال کو ریمیٹر اور ریسیور کا مکمل بائیو ڈیٹا رکھنے، نیچر آف پیمنٹ کو ریکارڈ کرنے اور اپنا سالانہ آڈٹ کرانے پر راضی کر لیا جائے تاکہ ہم اس میں سے مشکوک لوگوں کو شناخت کر سکیں مگر وہ اس بات پر کبھی بھی راضی نہ ہوں گے کیونکہ کارپوریٹ سیکٹر اپنے میمورینڈم اور آرٹیکل آف ایسوسی ایشن کے تحت رجسٹر ہوتا ہے، جب امریکن گورنمنٹ اس کے بائی۔لاز کو قبول کر لیتی ہے تو ہم اسے کسی بات پر مجبور نہیں کر سکتے، پھر ہمارا اپنا قانون بھی فارن انویسٹرز کو کافی زیادہ تحفظ فراہم کرتا ہے اور ہم انویسٹمنٹ کمپنیوں کے عالمی قوانین تحفظ کی پاسداری کرنے پر بھی مجبور ہیں۔

دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ پےپال کو اس کی اپنی شرائط پہ یہاں قبول کرلیا جائے لیکن اسے ایک ہی مرکزی دفتر بنانے کی اجازت دی جائے کیونکہ اسے پبلک ڈیلنگ سے کوئی واسطہ نہیں، اس کا مقصد صرف انٹر۔بینک کلئیرنگ کو ہینڈل کرنا ہے، جو پیسہ اس نے وصول کرنا ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے اور جو پیسہ اس نے ڈسٹریبیوٹ کرنا ہے وہ سب آنلائن کرنا ہے لہذا ایک آؤٹ۔لیٹ ہی اسے کافی ہے۔

اس کے بعد اپنے بینکنگ سیکٹر کو اس بات پر پابند کر دیا جائے کہ وہ پےپال یوزرز کیلئے “کرنٹ اکاؤنٹ” کی بجائے “پےپال اکاؤنٹ” کی نئی کیٹگری وضع کرے اور اس کیٹگری میں صرف این۔ٹی۔این ہولڈرز کو ہی اکاؤنٹ کھول کے دے۔

پھر ان کے اکاونٹس میں اس وقت تک ٹرانزیکشن قبول نہ کرے جب تک کہ وہ ایف۔بی۔آر کی اے۔ٹی۔ایل لسٹ میں ایکٹیو نہ ہوں، ایکٹیو ہونے کا مطلب ہے کہ بندہ ہر سال اپنی انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتا ہے، واضح رہے کہ فارن انکم پر کوئی انکم ٹیکس نہیں لگتا لیکن اس انتظام میں بندہ اپنی آمدنی سمیت ریکارڈ پر ضرور رہے گا، اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جرائم پیشہ افراد اس نظام سے باہر رہنے پر مجبور ہوں گے یا پھر اس مانیٹرنگ میں پکڑے جائیں۔

یہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ “پےپال اکاؤنٹ” کیٹگری میں آنے والی رقوم کی فی کس ایک لمٹ مقرر کر دی جائے تاکہ یہ رقوم اسی مقدار میں آئیں جو ایک حقیقی کام کرنیوالے بندے کی ہو سکتی ہیں، یعنی ایک لاکھ روپے ماہانہ تک۔

یوں بھی کیا جا سکتا ہے کہ ‌صارفین کو اپنے بینک کے “پےپال اکاؤنٹ” میں کسی بھی حد تک رقم وصول کرنے کی اجازت دے دی جائے لیکن بارہ لاکھ روپے سالانہ سے زیادہ رقم وصول کرنیوالوں کا ایف۔بی۔آر کا آڈٹ لازمی قرار دے دیا جائے تاکہ ان کے آمدنی کے سورس اور اخراجات کو ویریفائی کیا جا سکے، یہ کوئی عجیب بات نہیں ایسی ویریفکیشن ہر بزنس۔مین کی آڈٹ کے دوران ہوتی ہے۔

بہت ہی زیادہ احتیاط کرنی ہے تو “پےپال اکاؤنٹ” کھولنے سے پہلے ایپلیکینٹ کی اس کے تھانے سے انٹیلیجنس رپورٹ طلب کرلی جائے، ہر تھانے میں ایک انٹیلیجنس افسر تعینات ہوتا ہے جو اپنے ذرائع سے کسی بھی بندے کا کریکٹر معلوم کرکے بتا دیتا ہے کہ اس کا کسی تنظیم سے، جرائم یا مشکوک رویوں سے کوئی تعلق ہے یا نہیں، یہ کام ایف۔آئی۔اے سے بھی لیا جا سکتا ہے۔

آخری بات یہ کہ اسے صرف آنلائن سروس پروائیڈر طبقے کی سہولت تک محدود رکھا جائے، امپورٹ ایکسپورٹ بزنس کو اس سروس سے فائدہ نہ اٹھانے دیا جائے ورنہ فراڈ ہوں گے اور اسے بند کرنا پڑ جائے گا، یہ فراڈ ہمارے موضوع سے متعلق نہیں اسلئے ان کی تفصیل میں نہیں جاتے۔

ممکن ہے یہ تجاویز ہمارے نوجوان طبقے کو شائد کچھ ناگوار گزریں لیکن یہ سب کچھ ہمارے بزنس۔مین کیلئے نیا نہیں ہے، پھر اوپر بیان کئے گئے حالات میں چونکہ پےپال کی سروس حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے لہ‍ذا مجبوری کے اس عالم میں اگر یہ تجاویز بھی مان لی جائیں تو غنیمت سمجھیں۔

میں نے حالات کی مکمل تصویر کشی کر دی ہے، اسے دیکھتے ہوئے کوئی صاحب اس سے بہتر تجاویز دے سکے تو ضرور دے جس میں صارفین کی مانیٹرنگ اور ٹریکنگ باآسانی ہو جائے، یہ معاملہ اگر بطریق احسن حل ہو جائے تو یہ سروس حاصل کرنا کچھ مشکل کام نہیں بلکہ یہ نوجوان نسل پر ایک احسان ہوگا۔

ان تجاویز کا مقصد حکومت کو قائل کرنا ہے تاکہ فائنانس منسٹری کا کوئی بیوروکریٹ ان پر ہمدردانہ غور کر کے اس مسئلے کو سلجھا دے تو عوام کو روزگار اور ملک کو زرمبادلہ کا ایک نیا سورس میسر آجائے گا۔

About Author

میں، لالہ صحرائی، ایک مدھم آنچ سی آواز، ایک حرفِ دلگداز لفظوں کے لشکر میں اکیلا۔ افسانوی ادب، سماجی فلسفے اور تحقیقی موضوعات پر لیفٹ، رائٹ کی بجائے شستہ پیرائے میں دانش کی بات کہنے کا مکلف ہوں، بجز ادبی و تفریحی شذرات لکھنے کے اور کوئی منشور ہے نہ سنگت۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: