پاکستان کو جمہوریت کی نہیں، ایک وطن پرست آمر کی ضرورت ہے؟ — احمد اقبال

0
  • 42
    Shares

کیونکہ رائج الوقت پاکستان برانڈ جمہوریت پر فریب اور بے معنی نعروں کے سوا کچھ نہیں۔ میں کوئی ماہر سیاسیات نہیں۔ میں نے بھی ساحل پہ کھڑے رہ کر ہی پاکستانی سیاست کی کشتی کو ڈوبتا دیکھا ہے۔ آج سیاست پر فلسفیانہ خیال آرائی کرنے والوں کی اکثریت نے یہ بھی نہیں دیکھا۔ پاکستان کی سیاست کا میں 70 سالہ تاریخ کے ہر دن کا عینی شاہد ہوں۔ کس نے کب کیا کہا۔ کیا کرنے کا وعدہ کیا اور کیوں نہیں کیا۔ وہ بھی ہیں جو یقین سے کہتے ہیں کہ مسلم لیگ کے پاس سیاسی شعور کا فقدان تھا ورنہ 1940 کی قرارداد آج متنازعہ نہ ہوتی کہ اس میں تو پاکستان کا لفظ ہی نہیں۔

UNITED STATES تھا یا UNITED STATE اور انگریزی میں یہ سوال کرنا بھی لاجیکل تو ہے کہ مسلم لیگ میں سہروردی اور جناح جیسے ماہرینِ آئین و قانون اس قرارداد کے بعد اگلے 7 سال میں ایک آئین کا مسودہ کیوں نہیں بنا سکے۔ جسے خود قائد اعظم پاکستان بن جانے کے بعد نامزد ’’آئین ساز اسمبلی‘‘ کے سامنے رکھتے تو وہ اسی دن منظور ہو جاتا۔ پھر ہم انڈیا سے پہلے قائد اعظم کی زندگی میں انتخابات کرا لیتے۔ لیکن وہ وقت گزر گیا۔ پہلا آئین 1956 میں بنا اور پہلے انتخابات 1970 میں ہوئے۔ میں اس تاریخ کا حوالہ نہیں دیتا جس میں 5 وزیر اعظم برطرف کیے گئے اور 3 قتل بشمول سہروردی اور بھٹو۔ اس تاریخ سے تو آج کوئی واقف ہی نہیں۔

ابا نے انگریزی اخبار کی جو لت لگائی بلوغت سے آج تک نصف بہتر کی طرح ساتھ ہے۔ 1947 میں قائد اعظم کی 7 اگست والی تقریر صرف ڈان نے چھاپی تھی۔ آج بھی ’’ڈان لیکس‘‘ کے معاملے میں حکومت نے عدالت میں جانے کا چیلنج قبول نہیں کیا۔ اردو کے مقابلے میں انگریزی اخبار سچ لکھتے ہیں تو اس کے دو اسباب میری سمجھ میں آتے ہیں۔ انگریزی اخبار پڑھنے والی وہ کلاس ہے جو سچ جان کے بھی سڑکوں پر پتھرائو کرنے اور جلوس نکالنے نہیں آتی۔ اعلیٰ حکام کو مشیر، وزیر اور سیکرٹری ’’سب بہترین ہے‘‘ کی رپورٹ دیتے ہیں۔ ڈائریکٹ سچ وہ یہاں سے لیتے ہیں۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے: جمہوریت: منظم اقلیت کی حکمرانی؟ — داود ظفر ندیم

 

دورِ ضیاع میں جو کچھ ہوا وہ قوم ابھی تک بھگت رہی ہے اور اسکے مضمرات ہمارے موجودہ ووٹر کی یادداشت میں بھی ہے۔ 1986 میں بے نظیر وطن لوٹی۔ وہ بلا شبہ اعلی ٰ تعلیم یافتہ ذہین اور بہت بہادر لڑکی تھی جس نے باپ کے عدالتی قتل مان کے ساتھ قید و بند اور جلا وطنی کی صعوبت برداشت کی تھی۔ اس کے وزیر اعظم بننے کے بعد 5 جنوری 1989 کو بھٹو کی سالگرہ آئی تو میں مخدوم امین فہیم، جاوید جبار، فرحت للہ بابر اور صف اول کی قیادت کے ساتھ لاڑکانہ پہنچا۔ جو کچھ ہم نے دیکھا اس سے اندازہ ہو گیا کہ وہ سمجھوتا کر چکی ہے اور اب بھٹو کی لاش پر پیسے کی سیاست کرے گی جو اس نے کی۔ ہمارے محترم نجم سیٹھی کی اہلیہ جگنو محسن نے جو بے نظیر کی سب سے قریبی سہیلی تھی ٹی وی پر روتے ہوئے بتایا ’’میں نے بے نظیر کو روکا تھا کہ تم پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔ اس نے کہا کہ ضیاء کا مقابلہ اس کے بغیر ممکن نہیں‘‘۔ لیکن اس نے ’’سرے محل‘‘ خریدا اور سوئس بینک میں زرداری کے لیے 45 کروڑ پونڈ کے زیورات چھوڑے۔ اس کے باپ نے تو ایک مکان نہیں بنایا تھا۔ جو تھے سر شاہنواز بھٹو کے تھے۔ خود نواز شریف اسی دور ظلمت (دورِ ضیا) کی پیداوار ہے، اس میں تو انکار کی گنجائش نہیں۔

اگلے دس برسوں میں جو ’’میوزیکل چیئر‘‘ کی سیاست ہوئی اس میں دو دو بار نواز شریف اور بے نظیر وزیر اعظم کی پوسٹ پر ملازم رکھے گئے۔ یہاں تک کہ وہ فلم ٹی وی پر ریلیز ہو گئی جس میں ہماری فوج کو ملک کا سیاسی قلعہ دیواریں پھاند کر تسخیر کرتے دکھایا گیا تھا۔ جنرل ضیاء نے ملک میں کیکر اور ببول بوئے تھے تو عوام سیب کہاں سے کھاتے۔ بم دھماکے اور مذہبی خونریزی نے بالآخر ہمیں وہ دن دکھایا جب آرمی پبلک اسکول میں ہمارے اپنے بچے دہشت گردی کا نشانہ بنے۔ ہم ایٹمی قوت بھی بنے۔ ہم ’’ناکام ریاست‘‘ بننے کے خطرے سے بھی دوچار ہوئے۔ اس انتشار و افتراق میں عوام کی ذہنی تربیت ویسی ہی ہوئی جیسی نظر آتی ہے اور سیاسی شعور رکھنے والی مخلص قیادت کہاں سے آتی۔ پھر بھی دنیاداری کے لیے دو الیکشن کرائے گئے۔ ڈیل سے آنے والی پہلی ’’مسٹر ٹین پرسنٹ‘‘ کی حکومت تھی جس میں ایک وزیر اعظم کرپشن کا جرم ثابت ہونے پر گھر بھیجا گیا دوسرا ’’سوئس بینک اکائونٹ کیس میں عدالت کے حکم کی خلاف ورزی پر‘‘۔ دوسری باری پھر نواز شریف کو ملی۔ دورِ ضیاع کے 11 سال کو چھوڑ کر 37 سال حکمراں دو ہی افراد رہے ہیں۔ اب تیسرا ڈراما ایک نئے چہرے اور نئے وعدوں کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیوں؟ جب کہ صاف الفاظ میں یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ:

1۔ ELECTABLES سب پرانے آزمودہ اور جدی پشتی سیاست پیشہ ہی ہیں۔
2۔ ہر شعبے کے ماہر کتنے ہی مخلص دیانت دار کیوں نہ ہوں منتخب نہیں ہو سکتے۔

اب کیسا منشور اور کہاں کے وعدے جب صاف اور واضح ہے کہ وہی خانوادے پھر حکمرانی کریں گے جو 70 سال سے اے اور بی ٹیم بنا کے باری باری کر رہے ہیں۔ وہ فراڈ اور غبن، جعلسازی اور دھوکا دہی کے ہر وائٹ کالر کرائم کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ انہیں کارپوریٹ لا کے ماہرین اور مشیران انکم ٹیکس کی پوری معاونت حاصل ہے اور وہ ملک کے احتساب یا انصاف کرنے والے اداروں کی تعمیر میں مضمر مقاصد کو بھی جانتے ہیں۔

بقول اپنے شیکسپیئر کے نام میں کیا رکھا ہے۔ وہ آصف زرداری ہو، نواز شریف یا عمران خان۔ بساط بھی وہی ہے، مہرے بھی وہی اور کھیل بھی وہی تو تبدیلی کیا ’’فرشتے‘‘ لائیں گے۔ فرشتے بھی اپنے سامنے انتخابی وعدوں کی لمبی فہرست دیکھیں گے۔ پھرخزانے کا خالی کنواں جس کو ہر طرف سے قرض خواہوں نے محصور کر لیا ہے اور آمدنی کی وہ سوتے بھی جو اس کو بھرتے تھے خشک ہوتے جا رہے ہیں۔ تو وہ بھی استعفےٰ میں عافیت جانیں گے۔

اگر مفکر پاکستان کے فرمودہ کو ہی دلیل لائوں تو علامہ اقبال یہ فرما گئے تھے کہ:

جمہوریت اک طرزحکومت ہےکہ جس میں
بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

جگنو محسن نے جو بے نظیر کی سب سے قریبی سہیلی تھی ٹی وی پر روتے ہوئے بتایا ’’میں نے بے نظیر کو روکا تھا کہ تم پیسے کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔ اس نے کہا کہ ضیاء کا مقابلہ اس کے بغیر ممکن نہیں‘‘۔

ہم ایسا ہی تو کرتے ہیں۔ سارے عالم، فاضل، مخلص، ایماندار ملکی اور بین لاقوامی سیاسی معاملات کو سمجھنے والے ملکی اور علمی معیشت کو جاننے والے جن کی منصوبہ سازی کے بغیر ترقی نہیں ایک پارٹی میں ہوں تو وہ 10 فیصد ووٹ بھی نہیں لے پائے گی۔ باقی 90 فیصد وہی ہوں گے جن پر ’’پاکستان کے دو سو سیاسی خانوادے‘‘ جیسی کتاب اور بہت کچھ لکھا گیا لیکن کیا فرق پڑا؟ اس وقت انتخاب سے پہلے انتشار نے سارے ملک کی فضا کو مسموم کر دیا ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر اس عوامی استصواب رائے نےجھوٹ، منافقت، بد کلامی، گالی گلوچ سے ہم وطنوں کو متحارب دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس حد تک کہ خود مجھے ’’با خبر‘‘ ذرائع نے مرض الموت میں مبتلا عورت کی جس کے لیے شفا کی دعا ہر کلمہ گو پر واجب ہے اس کی وفات کی اور ہسپتال سے جاری ہونے والی ’’وڈیو فلم موصول ہوئی‘‘۔ یہ فون بھی لندن سے موصول ہوا کہ ڈیڈ باڈی روانہ کی جا چکی ہے اور تدفین 20 جون کو ہو گی۔ اب کہاں کا اخلاق اور کیسی انسانیت۔ ہم مخالف سیاسی دھڑوں کے دشمن ہیں۔ نہ انسان، نہ مسلمان، نہ پاکستانی۔ اسی پر بس نہیں مذہب کے نام لیوا پوسٹر لگا رہے ہیں۔ ’’ووٹ دو جنت لو‘‘ یا اللہ مجھے معاف کر۔ کیا تو نے اپنے اختیارات ایک دینی جماعت کے سربراہ کو سونپ دیئے ہیں جو سر عام ماں بہن کی گالیاں بکتا ہے۔ یہ تو بد ترین شرک ہے اور اگر آپ نے گزشتہ دو انتخابات دیکھے ہیں تو اللہ کو حاضر ناظر جان کے کہئے، کیا اس وقت یہ اخلاقی گراوٹ تھی؟ کیا اس انتشار کی سمت ایک خانہ جنگی کی طرف نہیں ہے؟ ایک بم دھماکے میں بلور شہید کا بیٹا بھی شہید ہو گیا۔ آج مستونگ کے بم دھماکے میں 70 سے زائد اور بنوں کے بم دھماکے میں 5 شہید ہو چکے۔ لاہوری کارزار کیا منظر دکھا رہا ہے۔ جن میں ہمت ہے وہ نام بھی لے رہے ہیں ورنہ کیا نہیں کہا جارہا ہے کہ یہ پنجابی فوج ہے۔

کس امید پر آپ ووٹ دیں گے کہ آنے والے وقت میں سارے دلدل دور ہو جائیں گے؟ ایک دم سرمایہ کار جنت نشان پاکستان کا رخ کریں گے؟ خالی خزانہ بھر جائے گا؟ سارے قرضے بے باک ہو جائیں گے؟ ہسپتال مفت علاج کے لیے مریضوں کا انتظار کریں گے؟ ملک میں بے روزگار ڈھونڈے نہ ملے گا اور بجلی گاوں گاوں گلی ہو گی۔ میں برطانیہ فرانس یا جرمنی کی بات نہیں کر سکتا۔ تصدیق کر لیں وہاں ٹیچر کی تنخواہ سب سے زیادہ ہے۔ ہزار سال پرانی یونیورسٹیاں ہیں لیکن بنگلہ دیش سے مقابلہ ضرور کروں گا جو ہمارا سب سے بڑا صوبہ تھا جو 24 سال بعد ایک الگ ملک بن گیا۔ آج ان کا ایک روپیہ ہمارے 1.45 روپے کے برابر ہے۔ وہاں بھی مارشل لا لگا۔ پھر جمہوریت آئیں تو دو خواتین باری باری حکمراں رہیں۔ وہ مسلسل ترقی کر رہے ہیں حالانکہ ان کی آبادی ہم سے زیادہ ہے۔ یہاں انتخاب کے بعد کون سے معاشی انقلاب کی امید ہے اور کس سے؟۔ امید کی ایک کرن کہیں نہیں کہ انتخابات سے فائدہ ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں انتشار خون خرابہ۔ صوبائیت، مذہبی انتہا پسندی سب بڑھے گی۔ ایک سال میں 15 ارب ڈالر ملک سے نکل گئے۔ بیرونی سرمایہ کار کا اعتماد ختم ہو چکا۔ ملک کے 6 ارب ڈالر باہر ہیں۔

انقلاب روس اور چین کی بات تو بہت پرانی ہو گئی۔ اتحاد ثلاثہ میں شامل ہمارے ہمسائے اسلامی ممالک ایران اور ترکی (جو یورپ کا مرد بیمار کہلاتا تھا)۔ انتخابی عمل سے معاشی اور معاشرتی، سیاسی، مذہبی اور عسکری قوت نہیں بنے۔ اصلاح کے لیے اور قانون کے نفاذ کے لیے طاقت چاہئے۔ ایک کرپٹ ترین پولیس فورس اور اس سے زیادہ بد عنوان عدالتی نظام حالات کو مزید خراب کرتے جا رہے ہیں۔ کیا ہمارے پاس کوئی مصطفٰے کمال نہیں؟ پھر یہ کام آپ کریں۔ آپ معطل کر دیں آئین کو۔ گلی گلی،  چوک چوک کھلی عدالت لگائیں، جرم کرنے والے کو سر عام سخت سزائیں دیں۔ کرنسی اسمگلر سے ٹیکس چور کو، وائٹ کالر کرائم کرنے والے کو اور اس کے مددگار کو، ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو، مذہبی انتشار پھیلانے والوں کو، ملاوٹ اور گرانفروشی کے ملزم کو، نقلی دوا فروش اور جعلی ڈاکٹر کو، اشتہاری پیر کو اور عامل کو، شیطان صفت جنسی مجرموں کو، جعلی ڈگریاں دینے والوں کو اور نقل مافیا کو، بجلی چوروں کو اور واٹر ٹینکر مافیا کو، ہم بھی جانتے ہیں اور آپ بھی پہچانتے ہیں ان بے ضمیر مجرموں کو ان کو کوڑے مارئیے اور چوک میں پھانسی دیجئے۔ جب انصاف ہو تو انصاف ہوتا نظر بھی آئے۔ پاکستانی قوم آپ کے ساتھ ہو گی۔


یہ بھی پڑھئے: جمہوریت کی تقدیس پر کچھ چون چرا: عثمان سہیل

About Author

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: