متحدہ مجلس عمل: اندرونی اختلافات کی کہانی — میر محسن الدین

0
  • 215
    Shares

آنے والے انتخابات میں زیادہ سے زیادہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے حال ہی میں بے حال ایم ایم اے کو بحال کیا گیا اور دو بڑی مذھبی جماعتیں اس پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ ایم ایم اے کی اصل موجودگی اور تگ و تاز کے پی کے میں نظر آتی ہے۔

تازہ ترین صورتحال کے مطابق ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کے کارکنان کی ابتدائی بلند توقعات تیزی سے دم توڑ رہی رہی ہیں اور شدید اندرونی اختلافات کے باعث مایوسی بڑھ رہی ہے۔ بنیادی وجوہات کے علاوہ اسکی فوری وجہ خیبر پختونخوا میں ٹکٹوں کی تقسیم پر ایم ایم اے کی دو بڑی جماعتوں جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے درمیان تقریباً ہر ضلع میں اختلافات کا پیدا ہونا اور پھر بہت سے حلقوں پر دونوں جماعتیں کتاب کا نشان ہونے کے باوجود الگ نشان اور الگ الگ کنڈیڈیٹ کی حمایت کے ساتھ میدان میں اترنا اور ایک دوسرے کی مخالفت میں کمپین چلانا ہے۔

اب حال یہ ہے کہ عملاً ایم ایم اے صرف برائے نام اتحاد ہی رہ گیا ہے لیکن مخالفین کی تنقید اور عوامی جگ ہنسائی سے بچنے کیلئے ایم ایم اے کے مردہ گھوڑے میں ہوا بھر کے سانسیں چلنے کی تسلی دی جارہی ہے۔

جے یو آئی کے وابستگان سے پوچھا جائے تو وہ جماعت اسلامی کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور جماعت اسلامی کے کارکن جے یو آئی کو اس کا الزام دیتے ہیں لیکن عام تاثر یہ ہے کہ ایم ایم اے کی یہ حالت کرنے میں جے یو آئی کی ضد اور اقتدار کیلئے تڑپ کا زیادہ حصہ ہے۔

زیادہ تر حلقوں پر جہاں جے یو آئی کو ایم ایم اے سے ٹکٹ نہیں ملا، انہوں نے جماعت اسلامی کے مقابلے میں اپنے امیدوار سامنے کھڑے کئے اور کہیں پر خاموش اور کہیں کھلے عام ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

حال ہی میں جماعت اسلامی کے مضبوط گڑھ دیر لوئیر میں جے یو آئی کی ضلعی قیادت نے پریس کانفرنس کرکے ایم ایم اے کی طرف سے جماعت اسلامی کے کنڈیڈیٹس کیخلاف اپنے امیدواروں کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا۔
لوئیر دیر جہاں جماعت اسلامی کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری سراج الحق کا حلقہ NA 7 بھی شامل ہے، وہاں پر جماعت اسلامی کو پریشانی کا سامنا ہے۔
اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کیلئے جماعت اسلامی نے اب سراج الحق کیلئے ملی مسلم لیگ سے حمایت مانگ لی ہے۔
اللہ اکبر تحریک، ملی مسلم لیگ (جماعت الدعوہ) کی ملاکنڈ ڈویژن میں اچھی خاصی موجودگی ہے، ماضی میں ان کا ووٹ جماعت اسلامی کو پڑ رہا تھا لیکن اب وہ اپنے امیدوار کے ساتھ میدان میں موجود ہیں جس سے جماعت اسلامی کی پریشانی میں اضافہ ہوا ہے۔

ایم ایم اے مخالفین خصوصاً پی ٹی آئی کو ٹف ٹائم دینے کیلئے بنائی گئی مگر درحقیقت اس نے سب سے زیادہ نقصان جماعت اسلامی کو ہی پہنچایا۔ چترال، نوشہرہ، شانگلہ، مردان اور پشاور میں بات جماعت اسلامی کے ضلعی امراء اور ارکان کے استعفوں تک جاپہنچی جبکہ باقی جگہوں پر بھی بد دلی، بداعتمادی اور کنفیوژن کی فضا ہے۔

ایم ایم اے کی وجہ سے جماعت اسلامی انتخابات سے پہلے ہی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوگئی ہے اور اس اتحاد سے جماعت کے تنظیمی ڈھانچہ کو شکست و ریخت کا سامنا ہے۔

متحدہ مجلس عمل کی اس عجب پریم کی غضب کہانی سے ہٹ کر دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا کے لوگ پیپلزپارٹی، عوامی نیشنل پارٹی اور ن لیگ کی طرح ایم ایم اے والوں سے بھی نالاں نظر آتے ہیں اور ایم ایم اے کو ن لیگ ہی کی بی ٹیم قرار دیتے ہیں۔ اس صورتحال میں تحریک انصاف کا پلڑا بھاری نظر آرہا ہے اور لگ یہ رہا کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔

یہاں جماعت اسلامی کو سوچنا چاہئے کہ اپنا نشان ترک کرکے جے یو آئی کے نشان کو ایم ایم اے کے نام پہ اختیار کرکے کیا کھویا اور کیا پایا؟


یہ بھی ملاحظہ کیجئے: اپنے مرکز سے دور نکلتی ہوئی جماعت : ڈاکٹر صغیر افضل

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: