پاکستان میں پے پال کیوں بند ہے؟ —– شہزاد عامر

0
  • 147
    Shares

پے پال ایک ڈیجیٹل والیٹ سروس ہے جو آپ کو کسی بھی شخص یا دنیا بھر میں ایک کمپنی سے رقم بھیجنے یا وصول کرنے کی اجازت دیتا ہے. پے پال ایک بہترین سہولت ہے جو محفوظ ٹرانزیکشنز کو یقینی بناتا ہے. بدقسمتی سے، وہ اپنی خدمات پاکستان کے لئے پیش نہیں کرتے ہیں۔۔

بہت سے سال گزر چکے ہیں کہ فری لانس اور بلاگرز پے پال کو کسی بھی طرح پاکستان کے لئے اپنے ادائیگی کے دروازے کھولنے پر قائل کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں. بہت سی درخواستوں پر دستخط کیے گئے اور جمع کروائے گئے ہیں، لیکن سب بے معنی ہیں. کیونکہ پے پال نے تمام پاکستانی انٹرنیٹ مارکیٹرز کو آن لائن ادائیگیاں بھیجنے اور وصول کرنے کے لئے ابھی تک کی سب سے بنیادی اور اہم سہولت سے محروم کردیا ہوا ہے. 190 سے زائد ممالک ہیں جن میں پے پال خدمات دستیاب ہیں، لیکن اس میں سے کچھ جن میں  پاکستان بھی شامل ہے اس سہولت سے محروم ہیں۔

ایسا کیوں ہے؟

یہ بنیادی طور پر پاکستانی ریاست کے اسٹیٹ بینک کے بے مقصد قواعد و ضوابط کی وجہ سے ہے جسے کچھ انٹرنیٹ فراڈز کا بہانہ بنا کے پیدا کیا گیا ہے۔ ہر کوی جانتا ہے کہ تمام بلاگرز اور فری لانسرز فراڈ ہرگز نہیں ہیں. اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ ہیکرز ہیں جنہوں نے ہمارے ملک کے نام کو بدنام کیا ہے، اور اس وجہ سے گوگل ایڈسینس کی طرح دوسری بڑی بڑی کمپنیوں نے ہمارے ملک کے خلاف سخت پالیسیاں بنائی ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ دوسرے ممالک میں ہم سے بھی بڑے پیمانے پر ہو رہا ہے۔ اس کو تو ابھی تک امریکہ جیسے ممالک بھی روک نہیں پائے ہیں لیکن اس کو بنیاد بنا کر ہمارے ملک میں آنے والے ریونیو کو روکا جا رہا ہے۔ رونا آتا ہے ان پالیسی ساز گدھوں پر جن کو ٹیکنالوجی کا علم تک نہیں اور وہ ایسی فیصلہ ساز سیٹوں پر بیٹھ کر اپنی جان چھڑانے کے لیے بجائے تحقیق کر کے مناسب حل دینے کے آسان حل “مٹی پاؤ اور بند کرو” پیش کر دیتے ہیں۔

اب آئیے ذرا بڑی پکچر کی طرف ،اول تو ہمارے نوجوانوں کو سکلڈ ایجوکیشن نہیں دی گئی اور کمپیوٹر سائنسز کے نام پر سرکاری و غیر سرکاری اداروں نے پیسے کماتے ہوئے ڈگریوں کے جمعہ بازار لگا ئے ہوئے ہیں۔ لیکن اس سب کے باوجود آفرین ہے ان نوجوانوں پر جو اپنے ٹیلنٹ کے بل بوتے پر بین الاقوامی  فری لانس مارکیٹ میں اپنا پازیٹیو مقام بنا چکے ہیں اور بین الاقوامی کمپنیاں انڈیا کی بہ نسبت پاکستانی فری لانسرز کو ترجیح دیتی ہیں۔ اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ جن میں وقت پر ڈلیوری، ایمانداری سے کام، کم ریٹس، اخلاق وغیرہ۔ یہ بچے بغیر کسی حکومتی سرپرستی کے نہ صرف لاکھوں ڈالرز ریونیو پاکستان لا رہے ہیں بلکہ باعزت روزگار بھی کما رہے ہیں۔

دویما ہمارے ارباب  اختیار کا حوصلہ شکن رویہ دیکھیے۔ انہوں نے بجز اس کے کہ ان بچوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی اور ان کو ایسے ادارے بنا کر دیے جاتے جو ان کی آن لائن موجودگی کو محفوظ بناتے اور ان کی ٹرانزیکشنز کی گارنٹی دیتے ہوئے ان کو آسان طریقہ کار فراہم کرتے، انہوں نے روایتی انداز سے مشکلات میں پڑے بغیر جو آسان سہولتیں ان بچوں کو ملی ہوئی تھیں جیسے پے پال اس پر بھی ہزاروں طرح کی سختیاں لگا کر ان کو پاکستان سے بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ بہانہ کیا ہے کہ فراڈز ہو رہے ہیں،، او خدا کے بندو فراڈز تو پوری دنیا میں ہو رہے ہیں تو کیا ہوری دنیا نے ایسی مفید سروسز کو بند کر دیا ہے؟ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ دو چار فیصد فراڈز کی بنا پر آپ 98 فیصد لوگوں کی پریشانی کا سبب بن رہے ہیں اور اپنی ان نام نہاد پالیسیوں کی بنا پر ان بچوں کو مشکلات میں ڈال کر سس کام سے متنفر کر رہے ہیں۔۔۔۔۔اور لاکھوں ڈالرز ریونیو جو اس ملک میں آ رہا تھا اسے روک رہے ہیں۔

اس سب کی وجہ سے آپ نے الٹا چور بازاری اور فراڈز کے نئے ذریعے کھول دیے ہیں۔ اب ہو کیا رہا ہے کہ فراڈیوں نے کچھ نام نہاد کمپینیاں ایسی کھول لی ہیں جو آپ کو پے پال اکاؤنٹ بنانے اور ویریفائی کرنے کے لیے بھاری فیسز لیتی ہیں اور بعد میں بھاگ جاتی ہیں اور ہمارے ہونہار بچے پہلے ہی مرحلے پر ایسے مُنہ کے بل گرتے ہیں کہ پھر اٹھا ہی نہیں جاتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ قابل اعتماد کمپنیاں بھی ہیں لیکن وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں اور ان کو پہچاننا ایک نو آموز بندے کے لئے مشکل ترین کام ہے۔

اب چونکہ ہمارے ان بچوں نے مارکیٹ میں رہنا ہوتا ہے اور پے پال ہی واحد ایسی کمپنی ہے دنیا میں جس پر انٹرنیشنل کمپنیاں بھی اعتماد کرتی ہیں کیونکہ یہ دونوں پارٹیوں کو پے منٹ کا تحفظ فراہم کرتی ہے تو یہ فری لانسرز بے چارے اپنے کسی عزیز رشتے دار یا دوست احباب جو بیرون ممالک ہیں ان سے درخواست کرتے ہیں کہ ان کو پے پال تک اپنے ذریعے رسائی دلائیں۔ کچھ تو ایسا بے لوث کر دیتے ہیں اور کچھ اپنی کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں اور کچھ تو ویسے ہی ان بے چارے فری لانسرز کی محنت کی کمائی لے کر غائب ہی ہو جاتے ہیں۔

تاہم کچھ فری لانس کمپنیوں نے متبادل پے منٹ سسٹمز ضرور متعارف کروائے ہیں لیکن ان کی ساکھ ابھی تک پے پال کے لیول تک نہیں پہنچی۔ اس لیے ہماری چیف جسٹس سے گزارش ہے کہ وہ نوٹس لیں کہ اس ریونیو کی سٹریم کو اپنی نالائقیوں کی بنا پر تباہ نہ کردیا جاے بلکہ ان فری لانسرز کو مناسب سہولتیں فراہم کریں جنہوں نے اپنے ٹیلنٹ کے بل بوتے پر انڈیا جیسی مارکیٹ سے متھا لگایا ہوا ہے اور ان کی پے منٹس کو مناسب طریقے سے ہینڈل کرتے ہوئے پے پال جیسی کمپنیوں کو آسان شرائط پر پاکستان تک رسائی دیں۔ اس میں صرف پے پال کا فائدہ نہیں ہے بلکہ پاکستان کا اور پاکستان کے ٹیلنٹ کو بے پناہ فائدہ ہے۔ خدا را اس ٹیلنٹ کو ضائع ہونے سے بچائیں۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: