میں بھی نواز ہوں ——– زبیر عباسی

0
  • 161
    Shares

مجھے بچپن میں کرکٹ کی ریڈیو کمنٹری سننے کا بہت شوق ہوتا تھا۔ ٹی وی تو تھا نہیں۔ گھر میں ایک عدد ریڈیو ہوتا تھا جس پر سب گھر والوں کا حق ملکیت تھا۔ مجھے پاکٹ سائز ریڈیو کی سوجھی مگر اس ریڈیو نامی اثاثہ رکھنے کی خواہش کی تکمیل میں جائز سرمایہ کا حصول ناممکن تھا۔

بہت دنوں سوچتا رہا آخر ایک دن ایک آئیڈیا ذہن میں آیا۔ ہمارے گھر میں سفید رنگ کا ایک ٹرنک (بکسہ) تھا جو والد صاحب بعد از تکمیل تعلیم کراچی سے لائے تھے۔ اس بکسے میں گھر کے ماہانہ اخراجات کے لئے روپے رکھے ہوتے تھے۔ اول ان پیسوں میں سے روزانہ کی بنیاد پر یا پھر کبھی کبھی جب موقع ملے پیسے نکالنے اور ریڈیو کے لئے سرمایہ جمع کرنے کا خیال آیا۔ مشکل مگر یہ تھی کہ امی پیسے گن گن رکھتی تھیں اور شک پڑنے پر میرے خلاف ریفرنس ابا کی نیب میں فائل کر سکتی تھیں۔ اس ممکنہ خدشہ کے پیش نظر یہ ارادہ ترک کردیا۔ ریڈیو حاصل کرنا تھا اور متبادل خیال کی تلاش میں روزانہ گھنٹوں سوچتا رہا۔ آخر ایک دن ایک خرافاتی آئیڈیا نے جنم لیا۔ اسی باکس میں بارہ بور رائفل کے کارتوس پڑے تھے۔ ایک ڈبہ 4 نمبر کارتوس کا اور ایک ایل جی کارتوس کا۔ کارتوس کا استعمال شاید سال میں ایک آدھ بار ہی ہوتا تھا۔ میں کارتوس بیچ کر ریڈیو کی رقم پوری کر سکتا تھا اور پکڑے جانے کا خطرہ بھی کچھ عرصہ تک ٹل سکتا تھا۔ میں نے سوچا جب تک کسی کو پتہ لگتا تب تک کارتوس واپس خرید کر رکھنے کا بندوبست بھی کیا جا سکتا ہے۔ میں نے کارتوس کا ایک گاہک ڈھونڈا اور ایک ایک دو دو کارتوس کر کے بیچنا شروع کئے۔ چند دنوں بعد میرے پاس ایک پاکٹ سائز ریڈیو کے لئے سرمایہ جمع ہو گیا۔ کافی دن روپے میرے پاس رہے مگر میں پکڑا نہیں گیا۔ اگر براہ راست پیسے پکڑے جاتے تو وہ پیسے میری آمدن جو کہ 5 یا دس روپے جیب خرچ کی صورت ملتی تھی، سے زائد تھے۔ پہلا سوال ہی یہ ہوتا کہ پیسے کہاں سے لائے تو کارتوس کہانی بتانا پڑتی۔ اس صورت میں میں نیب کے قانون زیر دفعہ 9A-4 کا مرتکب پاتا اور کرپٹ پریکٹسز کے زمرے میں آتا۔ میری امی ابا کی نیب میں پکڑی گئی رقم اور کارتوسوں کی گم شدگی کو ثبوت کے طور پر پیش کرتیں۔ مجھے اپنی صفائی کا موقع ملتا مگر کرپٹ پریکٹس ثابت ہونے پر 14 سال قید با مشقت سے مجھے کوئی نہیں بچا سکتا تھا۔ میں بھی مگر بہت سیانا چور تھا۔ 9A-4 کے تحت نیب کو براہ راست ثبوت مہیا کر کے میں شریف چور کہلاتا۔ میں نے ٹھانی کہ جلد از جلد ناجائز کارتوسی ذرائع سے حاصل شدہ سرمایہ کو اثاثے میں بدلوں۔ اور آخر کار میں نے ایک دوست کے ذریعے پیسہ آزاد کشمیر سے پاکستان منی لانڈرنگ کے ذریعے منتقل کر دیا۔ میرے دوست کے ایک اور دوست نے تکنیکی معاونت مہیا کی اور ریڈیو میرے پاس پہنچ گیا۔

میں چند ماہ تک چھپ چھپا کر ریڈیو سنتا رہا مگر ایک دن کرکٹ میچ کی کمنٹری سنتے پکڑا گیا۔ امی نے ریڈیو ضبط کر دیا اور ابتدائی تحقیقات کے بعد ریفرنس دائر کر دیا۔ ابا جمعرات کو گھر آتے تھے اور پہلی تاریخ جمعرات کو ہی پڑی۔ میں نے آئیں بائیں شائیں کی بہت کوشش کی مگر بے سود۔ میں نے تسلیم کیا کہ ریڈیو میرا ہے۔ اب سوال ہوا کہ پیسے کہاں سے لائے۔ میرے پاس جواب نہیں تھا۔ میرے خلاف کیس دائر کرنے کے لئے بنیادی ثبوت مہیا ہو چکے تھے۔ ریڈیو کی قیمت میری پاکٹ منی کی آمدن سے کئی گنا زائد تھی۔ اب میں نیب کے قانون دفعہ 9 کی ذیلی دفعہ 5 کےتحت ملزم تھا اور بار ثبوت مجھ پر آ گیا تھا۔ اب مجھے یہ ثابت کرنا تھا کہ یہ ریڈیو نامی اثاثہ کن جائز ذرائع سے بنایا۔ مجھے 14-C کے مطابق اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنا تھا۔ 14-C کا مفہوم یہ ہے کہ

“اگر ملزم اپنے اثاثوں کے جائز ذرائع ثابت نہ کر سکے تو یہ تصور کیا جائے گا کہ اس نے متذکرہ اثاثے کرپشن سے ہی بنائے ہیں”

میرا ایک دوست گاوں چھتر میں رہتا تھا اسے کہانی سنائی وہ ابا کے نام خط لکھنے پر راضی ہو گیا۔ میں نے “چھتری خط” پیش کیا مگر نیب کو جائز ذرائع آمدن اور منی ٹریل درکار تھی۔ قصہ مختصر میں اپنے اثاثے کے جائز ذرائع آمدن ثابت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔ مجھے 9A-4 یعنی کرپٹ پریکٹسز میں بری کر دیا گیا کیونکہ ابھی تک کی تحقیق میں کسی کو معلوم نہیں ہو سکا کہ میں نے کارتوس بیچے ہیں۔ مگر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے اور ان اثاثوں کے جائیز ذرائع ثابت نہ کر پانے کی پاداش میں مجھے میٹرک تک ریڈیو کے استعمال پر پابندی کا سامنا رہا۔ یہ سزا میرے لئے 10 سال قید با مشقت سے کم نہیں تھی۔

سزا کے بعد جب میں سکول گیا تو سب ہم جماعتوں سے کہا کہ مجھے کرپشن پر سزا نہیں ملی ان سب نے یقین کر لیا۔ میں نے 14C کی پٹواری تشریح کی کہ وہاں لکھا ہے “کرپشن تصور ہو گی”۔ میں نے لفظ تصور سے اپنا بیانیہ دوبارہ مارکیٹ میں بیچا اور حیرت انگیز طور پر یہ بیانیہ بھی بکا۔ کیونکہ میرے ہم جماعتیوں کو نیب کی سیکشن 9 کی ذیلی دفعات 4 اور 5 کے ساتھ ساتھ 14 سی کے بارے میں پتہ تھا نہ ان کی سپرٹ کو سمجھتے تھے۔ میں نے ہم جماعتوں کو تو ضرور بے وقوف بنایا مگر حقیقت یہ ہے کہ میں پرلے درجے کا جھوٹا، بے ایمان، کارتوس چور اور کرپٹ ہوں۔ ہاں مجھے اعتراف ہے کہ میں ایک چور ہوں اور یہ بھی سچ ہے کہ #میں_بھی_نواز_ہوں

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: