جنوبی وزیرستان وانہ کی سیاست اور پاکستان افغانستان کا تنازع — اختر خان

0
  • 192
    Shares

جنوبی وزیرستان وانہ میں اب تک چار پارلیمانی الیکشن ہوئے ہیں۔ جن میں تین مرتبہ دیو بند سے جڑے مذہبی طبقے نے کامیابی حاصل کی اور ایک دفعہ پچھلے الیکشن میں علی گڑھ کی ذہنئت سے جڑے مسلم لیگ والے کامیاب ہوئے۔ ان چاروں الیکشن میں پشتون قوم پرستوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ لیکن ناکام ہوئے یا بنا دئیے گئے۔ اس کو سمجھنے کے لئے جنوبی وزیرستان وانہ کی سیاست اور اس کے پاکستان اور افغانستان کے سیاست کے ساتھ تاریخی تعلق کو جانچنا ہو گا۔

انگریز سامراج وزیرستان کو افغانستان کی چابی کہتے تھے۔ وزیرستان میں بدامنی یا امن افغانستان مین بدامنی یا امن کے ساتھ گہرا ربط رکھتا تھا اور ہے۔ تاریخی نسلی لسانی ثقافتی مذہبی اقتصادی اور جغرافیائی عوامل وزیرستان اور افغانستان کو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہے۔ جبکہ انہی عوامل نے پہلے ہندوستان میں انگریز سامراج اور افغانستان اور بعد میں پاکستان اور افغانستان کو ایک نہ ختم ہونے والی سیاسی خونی رسہ کشی میں پھنسائے ہوئے ہے۔ وزیرستان میں اگر روایتی قوم پرست مقامی سیاست پر حاوی ہوتے ہیں تو یہ افغانستان میں قوم پرستوں کے لئے خوشی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ افغانستان کے ثور انقلاب کے مرکزی کرداروں کے ساتھ وزیرستان کے قوم پرستوں کے بڑے قریبی تعلقات تھے۔ (یاد رہے افغانستان کی موجودہ حکومت مین وزیر اہم عہدون پر فائز ہین۔ جیمک جس کو طالبان نے وانہ میں 2007 میں سر عام پھانسی دی تھی ڈاکٹر نجیب کا ساتھی تھا۔) جبکہ وزیرستان میں مذہبی طبقے کی اجارہ داری افغانستان میں مذہبی طبقے کے لئے آکسیجن کا کام کرتی ہے۔ افغانستان میں ملا عمر کی حکومت میں وزیرستان کے لوگوں جیسے ملا نزیر نیک محمد اور مولانا محمود الم کا کلیدی کردار تھا اور اب بھی افغان طالبان کے لئے وزیرستان ایک محفوظ مورچہ ہے۔ (جبکہ امریکہ اور افغانستان کسی حد تک پاکستان کے ساتھ ملکر اس مورچے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنا رہے ہین)۔ پاکستان اور افغانستان پشتون قوم کی سیاسی وابستگی کے بارے میں جو سیاسی اختلاف رکھتے ہیں۔ وزیرستان اس کا آئینہ بن جاتا ہے۔ بیرونی طاقتین بھی اس خونی کھیل مین کھود لیتی ہین اور ان طبقات کا ساتھ دے دیتی ہیں جو ان کے مفادات کے حصول کے لئے موزون ہوتی ہیں۔ جنوبی وزیرستان وانہ اس مخمصے اور رسہ کشی میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیرستان میں پچھلے اٹھارہ سال میں ہونے والی خونریزی اس سیاسی کشمکش کی عکاس ہے۔ پاکستانی ریاست اور مذہبی طبقہ نے پشتون قوم پرستوں کے خلاف ایک انتہائی پیچیدہ اور خونی محاذ کھولا ہے۔ جبکہ افغانستان کے قوم پرست امریکہ اور پاکستان فوج کے ایک طبقے(؟) اور قوم پرستوں کے ساتھ ملکر مذہبی طبقے کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ (یاد رہے عوامی نیشنل پارٹی افغانستان میں امریکی فوجی کاروائی کی حامی ہے)۔ اس کھیل میں نہ صرف مذہبی طبقہ اور قوم پرست بلکہ عام پشتون بھی زلیل و خوار ہوا۔ اس تناظر میں علی وزیر کا خاندان وزیرستان میں ایک تاریخی سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔ پچھلے سو ڈیڑھ سو سالوں میں ان کے خاندان کا کردار وزیرستان میں سیاست اور اس کے برطانوی سامراج اور بعد مین پاکستان اور افغانستان کے ریاستوں کے سیاست کے ساتھ تعلق کی نوعیت ایک کلیدی کردار کا حامل ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے قوم پرستوں کے ساتھ علی وزیر کے خاندان کی دیرینہ سیاسی تعلقات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں وانہ میں ہونے والے ریاستی دہشت گردی کے دوران سوشل میڈیا پر اس کے بعض کارکنوں اور دوستوں نے ان کو وزیرستان کے ڈاکٹر نجیب سے تشبیح دی۔ جبکہ مذہبی طبقہ، ریاستی ادارے اور علی گڑھ کی ذہنئت والے علی وزیر اور اس کے خاندان کو پاکستان کے لئے خطرہ تصور کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟

ملک کے باقی علاقوں کی طرح جنوبی وزیرستان وانہ میں بھی مختلف سیاسی نقطہ نظر والے بستے ہیں۔ لیکن تین طبقے وانہ کی سیاسی دنیا میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں:

پہلا طبقہ وہ ہے جن کے سیاسی اثر رسوخ کی نوعیت کا دارومدار حکومتی ادارے سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ لوگ یا تو ملکان کے زمرے میں اتے ہیں یا ان کے خاندان مین سے ایک یا کیئ افراد سرکاری ملازم ہیں اور ریاست کے پالیسیوں کے اہداف کو حاصل کرنے کے الہ کار ہوتے ہیں۔ اور اپنے سیاسی فیصلوں کے لئے ریاست کی طرف سے انے والی سیاسی رجھان کے منتظر ہوتے ہین۔ یوں سمجھئے یہ لوگ ایسٹ انڈیا کمپنی اور علی گڑھ کے ذہنیت کا چورن ہے۔ اور وانہ کے دوسرے طبقے یعنی دیو بند سے جڑے مذہبی طبقے کے ساتھ قوم پرست طبقے کی نسبت زیادہ رغبت رکھتا ہے۔ اور ریاست جس شک اور گمان کی نظر سے قوم پرست طبقے کو دیکھتا ہے۔ دیو بند سے جڑا یہ مزہبی طبقہ قوم پرستوں کے بارے میں ریاست کے اس اندیشے کے ساتھ متفق ہے۔ (گو کہ تاریخ میں ایسے بھی ہوا ہے کہ قوم پرست طبقہ اور مزہبی طبقہ ریاستی ڈھانچے اور ان کی پالیسیوں کے خلاف اکھٹے ہوئے ہیں۔ جیسے کہ فقیر ایپی کی قیادت میں مزاحمت کے دوران۔ مقامی تنازعات کے دوران بھی ایسے پہلو دیکھنے کو ملتی ہیں۔) ان دونوں طبقوں کے قومی سیاسی تصور کا نچوڑ یہ ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ اور پشتون قوم پرست طاغوتی قوتوں جیسے امریکہ اسرائیل اور انڈیا کے الہ کار ہیں۔

تیسرا طبقہ قوم پرستوں پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا ہے پاکستان ریاست اور قوم پرست طبقہ ایک دوسرے کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ قوم پرست طبقہ افغانستان کو اپنا ابایئ وطن مانتی ہے اور سامراج سے پاکستان کو وراثت میں ملے ہوئے پشتون علاقوں اور باشندوں کو قابض اور محکوم سمجھتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ رہنے پر ایک سیاسی تذبذب سے بھرا مبہم رویہ رکھتی ہے۔ یہ قوم پرست طبقہ مزہبی طبقے اور ریاست سے مراعات یافتہ طبقے کی نسبت زیادہ اندرونی تضادات اور اختلافات کا شکار ہے۔ اور اپنے قوم پرستانہ ذہنئت اور اس اندرونی اختلاف کی وجہ سے ریاست اور ریاست کے ساتھ جڑے طبقوں کی غیض و غضب کا شکار ہے۔ جنوبی وزیرستان وانہ کے الیکشن ان تین ذہنیت کے لوگوں کے گرد گھومتی ہے۔

2002 کے الیکشن میں باقی پشتون قوم کی طرح وانہ میں بھی مذہب کا چورن بک گیا اور ایک انتہائی نالائق انسان مولانا عبد الملک کامیاب ہوا۔ جبکہ پچھلے دو الیکشن قوم پرست طبقہ جتنے ریاستی اداروں کی دھاندلی کی وجہ سے ہارے ہیں اتنے ہی آپس کے سیاسی نفاق اور بغض کی وجہ سے ہارے ہیں۔ مثلا علی وزیر اور وانہ میں عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار عزیز الحسن نے 2008 میں ایک دوسرے کے مقابلے میں الیکشن لڑا اور ووٹ تقسیم ہوا نتیجہ یہ نکلا کہ مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والا وہی انتہایئ نالائق اور نااہل انسان مولانا عبد الملک دوبارہ الیکشن جیت گیا۔ اسی طرح پچھلے الیکشن میں علی وزیر اور عوامی نیشنل پارٹی مشترکہ امیدوار لانے میں ناکام رہی۔ مذہبی طبقہ بھی تقسیم کا شکار تھا۔ لوگ مذہبی طبقے کے امیدوار مولانا عبد الملک کی نالائقی سے نالاں تھے۔ جبکہ ریاستی ادارے اور علی گڑھ والے بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ ایسے حالات میں علی وزیر کی جیت یقینی تھی۔ آپ وانہ میں اگر علی وزیر کے مخالف سے بھی پوچھیں گے تو وہ کہے گا کہ علی وزیر کو ہرانے کے لئے فوج اور گڈ طالبان نے خوب دھاندلی کی۔ پچھلے الیکشن میں جہاں علی گڑھ والے اور مزہبی طبقہ متفقہ امیدوار کو کامیاب کرانے پر متفق نہیں تھے وہاں علی وزیر اور باقی قوم پرست بھی الیکشن کے تناظر میں ایک دوسرے کے قریب آنے سے قاصر تھے۔ نتیجتا مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے ایک پر لے درجے کے نالائق اور مبینہ طور پر منشیات کے عادی انسان غالب وزیر کو کامیاب سے ہمکنار کرایا گیا۔

مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والا جمیعت علماء اسلام کا وانہ میں موجودہ الیکشن کا امیدوار مولانا محمود عالم ایک گہرا راز اور عظیم کردار ہے۔ ان کی زندگی وزیرستان کے پچھلے تین دہائوں پر محیط سیاست اور اس کے افغانستان اور پاکستان کے سیاست پر اثرانداز ہونے والے عوامل سے نمٹنے کے لئے علی گڑھ اور دیوبند کی حکمت عملی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے طالبان کا ایک مرکزی کردار ہیں اور پاکستانی ایسٹیبلیشمینٹ کا بااعتماد ساتھی۔ مولانا محمود عالم وزیرستان میں ملا عمر اور دیو بند کے سوچ کے حقیقی ترجمان ہیں۔ ان تمام حالات او واقعات کے تناظر میں علی وزیر اور مولانا محمود عالم کے درمیان سپینے خبرے پر مبنی سیاسی مکالمہ نہ صرف وزیرستان بلکہ پورے پشتون وطن میں پچھلے اٹھارہ سال سے مسلط شدہ قتل و غارت کی اندھیر نگری کی کنجی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: