کیمرہ، مائک اور اصلاح معاشرہ : ڈاکٹر فرحان کامرانی

0
  • 58
    Shares

ہمارے بچپن میں پی ٹی وی پر ایک پروگرام ہم کو ’’اچنبھے کا بچہ‘‘ معلوم ہوتا تھا۔ اس پروگرام کے بہادر اینکر ایک کیمرہ مین کو لے کر ہر بار کسی نئی جگہ پر چھاپہ مار دیتے۔ 1999ء میں اس پروگرام کی نشر ہوئی ایک قسط ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ جس میں مذکورہ اینکر ایک کان صاف کرنے والے سے بڑی شدت سے الجھ رہے تھے کہ ’’تم تو ایک دھاتی تار سے اس شخص کے کان کی کھدائی کر رہے ہو، تم کو معلوم بھی ہے کہ کان کی ساخت کیا ہے؟ تم جانتے بھی ہو کہ تم اس شخص کو قوت سماعت محروم کر سکتے ہو‘‘۔

اس عہد میں اور میڈیا کی سخت بندش کے ماحول میں یہ بڑی جست معلوم ہوتی تھی۔ پھر 2002ء سے نجی ٹی وی چینلز کی برسات شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نوع کے پروگراموں کی قطار ہی بندھ گئی۔ غیر قانونی، غیر اخلاقی اور چھپے ہوئے چہروں اور حقائق سے پردہ اٹھانا ان پروگراموں کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ ان پروگراموں میں قحبہ خانوں سے عطائی ڈاکٹروں، جعلی فیکٹریوں سے عامل اور جعلی پیروں تک پولیس کے چھوٹے موٹے کارندوں سے لے کر ریلوے کے اہلکاروں تک کوئی محفوظ نہیں۔ لوگ اِس نوع کے پروگرام بڑی تعداد میں دیکھتے ہیں اور ان کے بنانے والوں کو کسی نوع کا سچا عوامی خیر خواہ سمجھے ہوئے ہیں۔

دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے تاہم معصوم عوام اپنی سادہ دلی میں اکثر یہ بھول جاتی ہے کے سنسنی خیزی (Sensationalism) سے بھر ے یہ شوز اکثرکسی اخلاقی مقصد سے نہیں بلکہ ٹی آر پی (TRP) بڑھانے اور پیسہ کمانے کی نیت سے تیار کئے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد اصلاح معاشرہ نہیں ہوتا بلکہ یہ شوز معاشرے کی بدصورتی ’’بیچ‘‘ کر چار پیسہ کمانا چاہتے ہیں۔ اور یہ ساری اخلاقی تلقین جو ان پروگراموں میں کی جاتی ہے دراصل ان پروگراموں کی اخلاقی جواز جوئی کی کوشش ہے۔

ان پروگراموں میں اکثر ایک جانب اخلاقی خدمت کا بلند و بانگ دعویٰ ہوتا ہے مگر طریقہ غیر اخلاقی استعمال کیا جاتا ہے۔ یعنی ایک جانب غیر اخلاقی اور غیر قانونی چیزوں کو پکڑنے کے دعوے کئے جاتے ہیں، دوسری طرف اس کام کے لئے جھوٹ بولے جاتے ہیں، جاسوسی کی جاتی ہے اور غیر اخلاقی یا غیر قانونی اعمال کے مرتکب افراد کو بالکل کسی جانور کی طرح چارہ لگا کر جال میں پھانسا جاتا ہے۔ یہ طریقہ کار اپنے اندر ہی اخلاقی طور پر غلط ہے۔ کسی اخلاقی کام کی ابتداء کبھی کسی بداخلاقی سے ہو ہی نہیں سکتی۔ اس نوع کے پروگراموں کا ہمارے سماج پر جو بدترین نفسیاتی اثر مرتب ہوا ہے وہ یہ کہ اب لوگ خود بھی ان پروگراموں کی دیکھا دیکھی جب سماجی مصلح کا رول اختیار کرتے ہیں تو اسی نوع کے ٹوہ لینے، جاسوسی کرنے اور دھوکے سے پھانس کر بھانڈا پھوڑنے کے طریقے اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ افعال کس قدر قبیح ہیں، اس کے بارے میں تھوڑی سی ہی کاوش سے مذہبی اور اخلاقی رائے معلوم کی جاسکتی ہے۔ ان پروگرامز کے اثر کی وجہ سے اب لوگوں نے یہ فرض کر لیا ہے کہ دوسروں کو بداخلاق ثابت کرنے کے لئے ان کا خود بداخلاق بن جانا جائز ہے۔

تاہم غیر اخلاقی رویوں کے ساتھ ساتھ اِس نوع کے پروگرام اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے ایک طرح کی غلط فہمی بھی عام کر رہے ہیں۔ یہ ذرائع ابلاغ کیوں کہ بڑے مگرمچھوں سے لڑائی کی تاب نہیں لا سکتے اس لئے ان کی زد میں صرف چھوٹی ’’بداخلاق یا غیر قانونی‘‘ مچھلیاں ہی آتی ہیں۔ چھوٹے موٹے عامل، جعلی شربت بنانے والے، کتے کے گوشت کو فروخت کرنے والوں کا شکار کھیل کھیل کر ان پروگراموں نے ایسا تاثر پیدا کر دیا ہے کہ دراصل یہی افراد اس سماج کا کل شر ہیں اور ان کو یوں سماج کے سامنے لاتے رہنے کے عمل سے ہمارا معاشرہ بالکل ویسے ہی صاف ہو جائے گا جیسے کہ اینٹی وائرس کمپیوٹر کو صاف کر دیتا ہے۔ یہ سوچ جس قدر عام ہو گئی ہے اس سے سو گنا زیادہ غلط ہے۔ معاشرے کے کسی بھی ایک ٹکڑے کو علیحدہ سے سدھارا نہیں جا سکتا۔ معاشروں میں عمل تطہیر ہمیشہ کل معاشرے کا ہوتا ہے، کسی جز کا نہیں اور یہ عمل ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتا ہے۔ بڑے ڈکیتوں، بڑے بداخلاقوں کا سدباب ہو جائے تو چھوٹے موٹے چور اچکے خود ہی اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ اس طرح کے پروگرام اگر سو فیصد اخلاص نیت سے بھی آئیں اور ہزار سال تک لگاتار بھی آئیں تو بھی یہ کبھی کسی معاشرے کا وائرس کلین نہیں کر سکتے۔ اس لئے کہ یہ وائرس کے مرکز کو، اس کی جڑ کو کبھی چھوتے بھی نہیں ہیں، اس کے پتے کاٹتے جاتے ہیں جو ہر بار نئے نکل آتے ہیں۔

ان پروگراموں کے اثرات میں سے ایک اور اثر معاشرے کی بداعتمادی میں اضافہ ہے۔ ان پروگراموں کے زیر اثرلوگ اب ہر ہر چیز سے ڈر گئے ہیں اور ہر ہر شے کے خوف کا شکار ہیں، لوگوں میں چیزوں پر عدم اعتماد اس قدر بڑھ گیا ہے کہ وہ بازار کے کھانے سے لے کر اپنے روحانی معالج اور ڈاکٹر کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور بعض صورتوں میں یہ خوف فوبیا کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ مستقل دھوکے کی اِس تصویر کشی نے عمومی طور پر ہمارے سماج میں انسانوں کا اعتبار دوسرے انسانوں سے بڑی حد تک کم کر دیا ہے۔

بعض صورتوں میں یہ پروگرامز زرد صحافت اور جھوٹی رپورٹنگ کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔ بہت سے ایسے پروگرام مبینہ طور پر اسکرپٹڈ ہیں اور اجرتی اداکاروں کی مدد سے کئے جاتے ہیں۔ گو کہ اکثر پروگراموں کے بارے میں یہ شک نہیں کیا جا سکتا، لیکن اگر ایک فیصد پروگرام بھی اسکرپٹڈ ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ کس قدر بڑا مذاق ہے اخلاقیات کے ہر ہر تصور کے ساتھ۔یہ پروگرام بڑی حد تک ایک تجاوز کا درجہ بھی رکھتے ہیں۔ اس لئے کہ غیر قانونی چیزوں کو پکڑنا قانون کا کام ہے نہ کہ صحافت کا۔ صحافت غلطی کی نشاندہی تو کر سکتی ہے مگر ان پروگراموں میں جیسے صحافی پولیس کو لیڈ کر کے آپریشن کرتے نظر آتے ہیں یہ خود تجاوز کی نفسیات کے فروغ کا باعث ہے۔ اس معاشرے میں اب کوئی بھی خودساختہ خدائی فوجدار بن کر دوسروں پر دھونس جما سکتا ہے۔ کوئی بھی اپنی حدود سے تجاوز کو اپنی اخلاقی ذمے داری سمجھ سکتا ہے اور اس کے پاس ذرائع ابلاغ کا فراہم کردہ ماڈل اپنے افعال کی دلیل کے طور پر موجود ہو گا۔

انہی پروگراموں میں ایک سے زائد مرتبہ یہ دکھایا جا چکا ہے کہ جعلی صحافی بھی اب چھاپے مار کر غیر قانونی دھندے چلانے والوں سے اپنے حصے طلب کرنے لگے ہیں۔ اس سے یہ قیاس آسان ہو جاتا ہے کہ اصلی صحافی بھی یہ کام ضرور ہی کر رہے ہوں گے اس لئے کہ اگر ایسا اصل صحافی نہ کر رہے ہوتے تو جعلی صحافیوں کے پاس یوں رشوت طلب کرنے کی کوئی مثال ہی موجود نہ ہوتی جسے وہ جرائم پیشہ افراد سے اپنا حصہ طلب کرنے کے لئے عمومی روش کے طور پر استعمال کرتے۔ تو کیا جن جعل سازوں، غلط کام کرنے والوں کو آپ ٹی وی پر دیکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو یہ رشوت / بھتہ نہیں دے پائے؟ ہم ایسا کہنا تو نہیں چاہتے مگر انہی پروگراموں کی پیدا کردہ ذہنیت ہمیں اِن خطوط پر سوچنے پر بھی اکساتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: